ایڈیٹر کے قلم سےتنقید و تبصرہ

اتنی جلدی بھی کیا تھی جناب۔۔۔۔۔۔۔

آج ہمارے پاس ایک مولوی کا بیان شائع کرنے کے لیے آیا جسے دیکھ بڑا افسوس ہوا۔ موصوف نے پی۔ایف۔آئی۔ نامی تنظیم پر حکومت کے ذریعہ لگائی جانے والی پابندی کو درست قرار دیا تھا۔ اب پی۔ایف۔آئی۔ ہے کیا اس کے بارے میں مجھے تو بہت زیادہ نہیں معلوم سواے اس کے کہ اس کے کارکنان کچھ مسلمان تھے، واقعی وہ تنظیم دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہی ہے تھی یا نہیں اس بات سے قطع نظر مجھے حیرانی اس لیے ہورہی تھی کہ موصوف کو آخر اتنی جلدی کیا ہے حمایت و مخالفت میں بیان دینے کی۔ امکان تو اس بات کا بھی ہے کہ شرپسندوں نے اس کے خلاف سازش رچی ہو جس کی اس ملک میں ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ کیا ان سازشوں کی خبر نہیں؟ یا پھر موصوف بی۔جے۔پی۔ اور آر۔ایس۔ایس۔ کے تئیں فرماں برداری دکھا کر خود بچنے کی فراق میں ہیں؟ لیکن جان لیں کہ ؏
لگے گی آگ تو آئیں گے کئی گھر زد میں
موصوف کی جلدبازی دیکھ کر مجھے ایسا لگا کہ جیسے آج کل تمام سیکولر پارٹیاں خود کو بڑا ہندو دکھانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں ویسے ہی موصوف حکومت وقت کے سب سے بڑا چاپلوس بننے کی فراق میں ہیں۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ مجھ سے پہلے کوئی اور(مسلمان) حمایتی بیان دے کر حکومت وقت کا محبوب نظر بن جائے!!!!
جبکہ ابھی ایک دوسری خبر موصول ہوئی کہ کچھ سنگھیوں نے رضا اکیڈمی پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے؟؟؟؟؟؟ اللہ اکبر
سو اب موصوف کا ردعمل کیا ہوگا؟؟؟؟ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ رضا اکیڈمی پر آئی اس مصیبت سے بچنے کے لیے موصوف کے پاس کوئی حکمت عملی ہے کیا؟؟؟؟
خیر میں نے موصوف کا بیان اپنے پورٹل پہ شائع تو نہیں کیا مگر دوسرے اخبارات اور سوشل میڈیا پر موصوف سستی شہرت حاصل کررہے ہیں۔

محمد شعیب رضا نظامی فیضی
چیف ایڈیٹر: ہماری آواز

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button