سائنس و فلسفہ

مسلم سائنسدانوں کی سائنسی خدمات!

قدیم زمانے میں سائنس کی اصطلاح نہ تھی۔ اس کی جگہ حکیم کے لفظ کا اطلاق کیا جاتا تھا۔ اور حکیم اس شخص کا کہا جاتا تھا جو علم ہیئت، علم نجوم، علم کیمیا اور علم اجسام وابدان کے متعلق جملہ امراض کی تشخیص اور دواؤں ،جڑی بوٹیاں کا علم رکھتا ہو۔ نیز جو ان علوم کا جامع ہوتا اسے بڑا محترم ومعزز سمجھا جاتا ، معاشرے میں اسے قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا، اگر انھیں کسی بادشاہ کا دربار مل جاتا تو ان کی قدر ومنزلت اور بڑھ جاتی، دربار میں علمی مباحثے ہوتے، علم میں نکھار آتا اور انعام واکرام سے نوازا جاتا۔
اس کے بعد یہ اصلاح رائج ہوگئی کہ پڑھے لکھے دانشوروں کو تین حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ اول: حکیم۔ دوم: مولوی ۔ سوم: عالم صاحب۔ یہ سب بھی علم وفن کا کوہ گراں ہوتے تھے۔ علم کیمیا، نجوم، طب، اور علم ہیئت میں خاصا درک رکھتے تھے۔ انھیں ذریعہ معاش کی کوئی فکر نہ ہوتی تھی۔ اس لیے بھی مزید تجربات و تحقیق میں ان کا شوق جوان رہتا۔ اب چوں کہ روزگار کی فکر بھی ہر ایک سے دامن گیر رہتی ہے اس لیے تحصیل علوم وفنون میں وہ کمال حاصل نہیں ہوپاتا، پھر عوام الناس کا ظلم و ستم علما پر بڑھا اور سب دنیاوی فکروں میں ملوث ہوگئے۔
ان علما نے بے شمار چیزیں ایجاد کیں لیکن بد قسمتی سے خلافت عثمانیہ کا تختہ الٹنے کے بعد چھ سو سال کی محققین اطبا اور سائنس دانوں کی سائنسی خدمات پر یہود نے ہاتھ صاف کردیا اور انھیں اپنی زبان میں ترجمے کراکے خوب ترقی کی۔ آج ہر کوئی یہ تصور کرتاہے کہ جتنی تکنیکی چیزیں اس دور میں لوگ استعمال کررہے ہیں سب یہود ونصاری کی ایجاد اور ان کی مرہون منت ہیں۔ جب کہ یہ زعم باطل اور گمان فاسد ہے۔ جدید تکنیک میں مسلمانوں کا بیشتر حصہ ہے۔

اصطرلاب بنام دوربین مسلم سائنس دان کی ایجاد
١۔ اصطرلاب:(دوربین)یہ آلہ ابراہیم بن جندب متوفی ١٥٧ھ /٧٧٦ء نے ایجاد کیا۔ جس نے اجرام فلکی میں مہارت حاصل کی، علم نجوم کا بھی ماہر تھا اور ایک بہترین صناع اور مکینک بھی تھا۔ بعد میں اس آلۂ اصطرلاب میں اٹلی کے گلیلوجسے دوربین کا موجد کہا جاتاہے اصلاحات کرکے ترقی دے کر اس کا نام دوربین رکھ دیا۔
(مسلم سائنسدان اور ان کی خدمات، ص: ١٨، مطبوعہ : اسلامک پبلیکیشنز، پرائویٹ، لاہور پاکستان)
٢۔ فلٹر،نمکیات، تیزاب، خضاب اور قرع انبیق کی ایجاد!
جابر بن حیان فن کیمیا (Camictry) کا باوا آدم کہا جاتا ہے ان نے ہی قرع انبیق کی ایجاد کی اور بہت سارے اصول وضع کیے۔ کئی ساری چیزوں کی کھوج بین کی، غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا شروع سے ہی اسے سونا بنانے کی لگن تھی لیکن اس میں کامیابی نہ مل سکی کیمائی تجربات کو اہمیت دینے والا یہ دنیا کا سب سے پہلا سائنسداں ہے۔ اس نے تیزاب وغیرہ کی ایجاد کی اس کے علاوہ متعدد سائنسی ایجادات کا سہرا اپنے نام کیا جن کی فہرست درج ذیل ہے:
١۔ عمل تصعید یعنی دواؤں کا جوہر اڑانا۔
٢۔ قلماو یعنی دواؤں کو کیسے قلمایا جاتاہے۔
٣۔ اشیا کو فلٹر کرنے کا طریقہ
٤۔ تین قسم کے نمکیات
٥۔ تیزاب جس کا تجربہ کرتے وقت اس کی انگلی بھی جل گئی
٦۔ دھاتوں کو بھسم کرکے کشتہ کیسے بنایا جاتاہے؟
٧۔ لوہے کی زنگ ختم کرکے اسے فولاد کیسے بنایا جاتاہے
٨۔ لوہے کو زنگ سے کیسے بچایا جاتاہے؟
٩۔ موم جامہ کیسے ہوتاہے جس سے چیزوں پانی کے اثر سے محفوظ رکھا جاسکے
١٠۔ چمڑے کو رنگنے کا طریقہ
١١۔ جابر کی سب سے بڑی ایجاد قرع انبیق ہے جس سے جڑی بوٹیوں سے عرق کشید کیا جاتا ہے آج بھی دواؤں کے استعمال میں آتا ہے در اصل اس سے جڑی بوٹیوں کے باریک اجزا عرق کے ساتھ کھنچے چلے آتے ہیں جو بہت مؤثر ہوتے ہیں۔ (مسلم سائنسدان اور ان کی خدمات، ص:٢٤/ مطبوعہ اسلامک پبلیکیشنز لاہور پاکستان)

٣۔دھوپ گھڑی کی ایجاد
دھوپ گھڑی بھی مسلم سائنس دان ابو عباس احمد بن محمد کثیر فرغانی متوفی ٢٤٣ھ/٨٦٣ء نے ایجاد کی۔ ترکستان میں پیدائش ہوئی، مامون رشید کے زمانے میں بغداد آگیا، علم ہیئت کا ماہر، کامیاب سول انجینئر اور صناع تھا اس نے اپنے تجربات کی روشنی میں دیوار گھڑی بنائی، زمین کی پیمائش کا طریقہ بھی اسی نے ایجاد کیا ، سمندر کی طغیانی ناپنے کا آلہ بھی اسی نے ایجاد کیا۔ (مسلم سائنسدان اور ان کی خدمات، ص:٤١)

٤۔ ورنیر (virnier scal) سے قبل سدس (sextant) ایجاد ہوگیا تھا
علی بن عیسی اصطرلابی متوفی ٢٢٤ھ/٨٦٤ء ایک بہت بڑا سائنس داں ، علم ہیئت کا ماہر تھا ، علم ہندسہ (جا میٹری )کا بہت شوقین تھا۔ اس شخص نے ہی سب سے پہلے ورنیر ایجاد کیا، اس کی خواہش یہ تھی کہ سیاروں کی بیچ کی معرفت کا پتا لگایا جاۓاور یہ بھی کہ ستاروں کے اجرام فلکی کی زمین سے کتنی دوری اور مسافت ہے۔ اسی کام کے لیے ورنیر ایجاد کیا گیا۔
سدس کمپاس کی شکل کا دائرہ نماز ایک آلہ ہوتا ہے جس پر نمبر چڑھے ہوتے ہیں۔ (مسلم سائنسدان اور ان کی خدمات، ص:٤٤/ اسلامک پبلیکیشنز، لاہور، پاکستان)

٥۔ کیمیائی ترازو (Chemcial balance) کیسے ایجاد ہوئی؟
یہ وہ ترازو ہے جس میں دھاتوں کا وزن کیا جاتا ہے اس کی ایجاد ١٢٥٣ھ/٨٧٢ء میں ابوجعفر محمد بن شاکر نے کی یہ علم ہیئت میں کمال تام رکھتا تھا، فلسفہ اور نجوم پر بھی اس کی خاصی پکڑ تھی بچپن سے پڑھنے کا شوق تھا، دو چیزوں کے درمیان تناسب معلوم کرنے کا طریقہ اسی نے بتایا اور ایک کیمیائی ترازو بھی بنایا جس سے دھاتوں کا وزن بآسانی کیا جاسکے اس نے اپنے ہی گھر میں بھٹی کھودی اور پورا پورا دن جڑی بوٹیوں کو پکانے میں ہوجاتا اس اثنا میں کئی ایک عطر فروشوں اور اطبا سے ملاقات بھی ہوئی۔ (مسلم سائنسدان اور ان کی خدمات، ص:٤٦/ مطبوعہ اسلامک پبلیکیشنز لاہور، پاکستان)

٦۔طبی امداد (first aid) میزان طبعی، چیچک کی تحقیق، الکحل اور آلۂ جراحت نشتر کی ایجاد:

ابو بکر محمد زکریا رازی متوفی ٣٠٨ھ مطابق ٩٣٢ء نے مذکورہ تمام اشیا کی تحقیقات و ایجادات اور اصلاحات کی۔ جن کا مختصر ذکر آرہاہے۔ رازی ایک روشن خیال، عالی دماغ، ماہر طبعیات وطبیات وکیمیا تھا ابتداءً رازی کی زندگی جہالت سے بھرپور گزری، علم کا کوئی تصور نہ تھا، بچوں کے ساتھ عود بجانا مشغلہ تھا، کسی بات پر کھیل کود سب ختم کردی۔ شادی کے بعد گھریلو اخراجات کا بار جب بڑھا تو کیما گری کا خیال آیا اور سونا بنانا شروع کیا۔لیکن اس میں کوئی کامیابی نہ مل سکی۔ بلکہ بھٹی پھوکنےاور اس سے بخارات اٹھنے کی وجہ سے آنکھیں خراب ہوگئیں۔ پڑوس کے ایک طبیب سے صلاح لی تو وہ ۵۰۰/اشرفیوں کے عوض علاج کے لیے تیار ہوا۔ مرتا کیا نہ کرتا! رازی نے علاج کرایا۔ خیر! آشوب چشم سے راحت ملی اور آنکھیں صحت یاب ہوئیں۔ معالج طبیب نے کہا: "سونا ایسے نہیں بنتا، پہلے فن سیکھنا پڑتا ہے، ہنر ہوگا تبھی سونا بنا سکتے ہو، جیسے: میں نے تمھیں ٹھیک کردیا۔” اس جملے نے رازی کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ رازی نے بیوی بچوں کو چھوڑ کر علم وفن کے مرکز بغداد جانے کا ارادہ کیا۔ وہاں پہونچ کرعلی بن سہل کے حلقۂ درس میں شامل ہوگیا اور جلد ہی تعلیم مکمل کرکے مطالعہ میں مشغول ہوگیا۔
اتفاق سے ان دنوں رازی کے اپنے آبائی وطن "رے” میں کسی ہسپتال میں بڑے ڈاکٹر کی جگہ خالی ہوئی رازی کو بغداد سے ہی تیار کرکے بھیجا گیا۔ رازی نے ہسپتال کا نظم و نسق میں موزوں تبدیلیاں کیں اور ہسپتال کو ترقی کی شاہراہ پر لاکھڑا کیا۔
[١] طبی امداد کا طریقہ سب سے پہلے رازی نے ہی ایجاد کیا۔ واقعہ یہ ہے :حکومت کسی مناسب جگہ ہسپتال بنانا چاہتی تھی۔ رازی نے مشورہ دیا کہ اس کا پتا ایسے لگے کا کہ گوشت کا ایک ایک ٹکڑا شہر کے مختلف علاقوں میں آویزاں کردیا جائے اور ہر روز اس کی رپورٹ دی جائے ۔ کئی دن کے بعد رپورٹ دیکھنے کے بعد اس جگہ ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا جہاں گوشت کا ٹکڑا باقی تمام ٹکڑوں کے بالمقابل کم متغیر اور اثر پذیر ہوا۔
[٢]رازی نے ہی میزان طبعی ایجاد کی جو دواؤں کا صحیح وزن کرنے اور چھوٹی سے چھوٹی کیمائی چیز تولنے کے لیے کام آتی ہے جو آج بھی ہر طبی لیب میں دستیاب رہتی ہے۔
[٣]رازی نے ہی "چیچک” کے مرض کی سب سے پہلے تحقیق کی اور اس کے لیے علاج تجویز کیا، فارمولے وضع کیے اور باقاعدہ مرض "چیچک” پر کتاب بھی لکھی جو آج بھی تقریبا ہر میڈیکل کالج میں شامل نصاب رہتی ہے۔
[٤] "الکحل” کی ایجاد بھی سب سے پہلے رازی نے ہی کی۔
[٥]آلۂ جراحت یعنی نشتر بھی رازی کی ہی ایجاد ہے۔
رازی کو فن طب میں کامل درک حاصل تھا دواؤں اور ان کے علاج میں بہت سے اضافے کیے
رازی فن طب میں اپنی نظیر آپ تھا اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ بین الاقوامی طبی کانگریس کا اجلاس ١٩١٣ء کو لندن میں ہوا جس میں رازی کی تحقیقات، کام، اور نظریات پر مضامین پیش کیے گئے اور آپ کو فن طب کا امام تسلیم کیا گیا۔
دوسرا اجلاس ١٩٣٠ء میں فرانس کے شہر پیرس میں رازی کی ہزار سالہ برسی پر منعقد کیا گیا۔ اس میں عالی دماغ رازی کی تحقیقات پر تقریریں ہوئی اور اس کی تحقیقات پر کافی بحث ومباحثہ ہوا ۔(مسلم سائنسدان اور ان کی خدمات، ص: ٨٣)

٧۔موتیا بند کے علاج کا موجد عمار موصلی!
ابو القاسم عمار موصلی فن طب کا ماہر، امراض چشم کا ایکسپرٹ، ماہر سائنسداں اور طبیب حاذق ہے۔ اس کا زمانہ مشہور طبیب”الحاکم” متوفی ٩٩٦ء کا زمانہ ہے اور اس کے بیٹے کے زمانے میں کام کیا۔ موتیا بند ایک تکلیف دہ مرض ہے انسان آنکھیں ہونے کے باوجود بھی اندھا ہے کہ اس کی وجہ سے کچھ دیکھ نہیں سکتا۔ موتیا بند کی وجہ سے آنکھ کی پتلی پر ایک پردہ نما جھلی آجاتی ہے جس کی وجہ سے نظر آنا بند ہوجاتاہے۔ عمار موصلی نے نہ صرف اس کا علاج بتایا بلکہ اس کے آپریشن کا طریقہ بھی تجویز فرمایا ۔آپریشن میں احتیاط کی تدابیر بھی بتائیں ۔ مزید برآں علاج کے درمیان جو تجربات ہوتے انھیں ایک کاپی میں لکھ لیتا انھیں تجربات کی "کتاب العین” کے نام سے طباعت کرائی۔ اس کا ترجمہ پہلے دفعہ یوروپ میںہوا، پھر جرمنی میں بڑے اہتمام سے اس کی اشاعت و طباعت ہوئی اور یہ کتاب کافی مقبول ہوئی۔ (ملخصا: از مسلم سائنسدان اور ان کی خدمات، ص:٨٦/ مطبوعہ اسلامک پبلیکیشنز، لاہور،پاکستان)

٨۔ آپریشن، جراحت (surgeory)ٹونسل اور کینسر کے علاج کی ایجاد و آغاز!

ان تمام چیزوں کی ایجاد مسلم سائنسدان ابو القاسم بن عباس نے کی جو فن طب میں مہارت رکھنے والا دنیا کا سب سے پہلا سرجن گزرا ہے اس سے پہلے علاج بالدوا کا طریقہ رائج تھا اس نے آپریشن اور سرجری کا طریقہ ایجاد کیا، گلے کے گدود یعنی ٹو نسل کا علاج کیا ہے؟ اسی نے بتایا۔ کینسر کے بارے میں اس کا نظریہ یہ تھا کہ اس کا آپریشن کرکے اسے چھیڑنا نہیں چاہیے بلکہ اس کا علاج دواؤں سے کرنا چاہیے۔ ٣٩٥ھ/١٠٠٩ء میں اس کا انتقال ہوا۔
(مسلم سائنسدان اور ان کی خدمات، ص٨٧/مطبوعہ اسلامک پبلیکیشنز،لاہور پاکستان)

ازقلم: محمد ایوب مصباحی، پرنسپل وناظم تعلیمات دار العلوم گلشن مصطفی بہادرگنج، ٹھاکر دوارہ، مراداباد، یو۔پی۔ انڈیا۔
رابطہ: 8279422079

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button