نبی کریمﷺ

پیارے نبی کی پیاری ادائیں

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیه وآله وسلم کا گہوارہ یعنی جھولا فرشتوں کے ہلانے سے ہلتا تھا اور آپ بچپن میں چاند کی طرف انگلی اٹھا کر اشارہ فرماتے تھے تو چاند آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی انگلی کے اشاروں پر حرکت کرتا تھا۔ جب آپ کی زبان کھلی تو سب سے اول جو کلام آپ کی زبان مبارک سے نکلا وہ یہ تھا۔ اللہ اکبر اللہ اکبر الحمد للہ رب العالمین وسبحان اللہ بکرۃ واصیلا۔ بچوں کی عادت کے مطابق کبھی بھی آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کپڑوں میں بول و براز نہیں فرمایا۔ بلکہ ہمیشہ ایک معین وقت پر رفع حاجت فرماتے۔ اگر کبھی آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شرم گاہ کھل جاتی تو آپ رو رو کر اشاره کرتے۔ اور جب تک شرم گاہ نہ چھپ جاتی آپ کو چین اور قرار نہیں آتا تھا اور اگر شرم گاہ چھپانے میں مجھ سے کچھ تاخیر ہو جاتی تو غیب سے کوئی آپ کی شرم گاہ چھپا دیتا۔ جب آپ اپنے پاؤں پر چلنے کے قابل ہوئے تو باہر نکل کر بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے مگر خود کھیل کود میں شریک نہیں ہوتے تھے لڑکے آپ کو کھیلنے کے لئے بلاتے تو آپ فرماتے کہ میں کھیلنے کے لئے نہیں پیدا کیا گیا ہوں۔ جب حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور اپنی والدہ محترمہ کے پاس رہنے لگے تو حضرت ”ام ایمن” جو آپکے والد ماجد کی باندی تھیں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خاطر داری اور خدمت گزاری میں دن رات جی جان سے مصروف رہنے لگیں۔ ام ایمن کا نام ”برکۃ” ہے یہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو آپ کے والد رضی اللہ تعالی عنہ سے میراث میں ملی تھیں۔ یہی آپ کو کھانا کھلاتی تھیں کپڑے پہناتی تھیں آپ کے کپڑے دھویا کرتی تھیں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ان کا نکاح کر دیا تھا جن سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے۔ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی عمر شریف جب چھ برس کی ہو گئی تو آپ کی والدہ ماجدہ رضی اللہ تعالی عنہا آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ آپ کے دادا کے نانھیال بنو عدی بن نجار میں رشتہ داروں کی ملاقات یا اپنے شوہر کی قبر کی زیارت کے لئے تشریف لے گئیں۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے والد ماجد کی باندی ام ایمن بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ تھیں وہاں سے واپسی پر ”ابواء” نامی گاؤں میں حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا کی وفات ہو گئی اور وہ وہیں مدفون ہوئیں۔ والد ماجد کا سایہ تو ولادت سے پہلے ہی اٹھ چکا تھا اب والدہ ماجدہ کی آغوش شفقت کا خاتمہ بھی ہو گیا۔ لیکن حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ در یتیم جس آغوش رحمت میں پرورش پا کر پروان چڑھنے والا ہے وہ ان سب ظاہری اسباب تربیت سے بے نیاز ہے۔ حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا کی وفات کے بعد حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مکہ مکرمہ لائیں اور آپ کے دادا عبدالمطلب کے سپرد کیا اور دادا نے آپ کو اپنی آغوش تربیت میں انتہائی شفقت و محبت کے ساتھ پرورش کیا اور حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا آپ کی خدمت کرتی رہیں۔ جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عمر شریف آٹھ برس کی ہو گئی تو آپ کے دادا عبدالمطلب کا بھی انتقال ہو گیا۔ عبدالمطلب کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے چچا ابوطالب نے آپ کو اپنی آغوش تربیت میں لے لیا اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نیک خصلتوں اور دل لبھا دینے والی بچپن کی پیاری پیاری اداؤں نے ابو طالب کو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ایسا گرویدہ بنا دیا کہ مکان کے اندر اور باہر ہر وقت آپ کو اپنے ساتھ ہی رکھتے۔ اپنے ساتھ کھلاتے پلاتے، اپنے پاس ہی آپ کا بستر بچھاتے اور ایک لمحہ کے لئے بھی کبھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے تھے۔ ابو طالب کا بیان ہے کہ میں نے کبھی بھی نہیں دیکھا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کسی وقت بھی کوئی جھوٹ بولے ہوں یا کبھی کسی کو دھوکہ دیا ہو، یا کبھی کسی کو کوئی ایذا پہنچائی ہو، یا بیہودہ لڑکوں کے پاس کھیلنے کے لئے گئے ہوں یا کبھی کوئی خلاف تہذیب بات کی ہو۔ ہمیشہ انتہائی خوش اخلاق، نیک اطوار، نرم گفتار، بلند کردار اور اعلی درجہ کے پارسا اور پرہیز گار رہے۔ (سیرت مصطفیٰ)

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button