تاریخ کے دریچوں سے

محمود غزنوی کے ہمراہ بنو عباس کی ہندوستان و کشمیر آمد

سپہ سالار غیاث الدین ضراب شاہ المعروف ضراب خان عباسی

ازقلم: اسامہ علی عباسی
(اسامہ علی عباسی کی تصنیف عباسی الخراسانی سے ماخوذ)

سپہ سالار غیاث الدین ضراب شاہ المعروف ضراب خان عباسی، عباسی خلیفہ القادر باللہ کے دور خلافت میں محمود غزنوی کے ہمراہ 1020ء کو علاقہ ہرات، افغانستان سے دہلی، ہندوستان وارد ہوئے تھے۔ تاریخی کتب میں یہ بات درج ملتی ہے کہ سلطان محمود غزنوی نے ریاست کشمیر پر 1016ء اور 1020ء عیسوی کو دو بار حملہ کیا۔ غیاث الدین ضراب شاہ، سلطان محمود غزنوی کے کشمیر پر دوسرے حملے بمطابق 1020ء عیسوی میں عرب قبائل کے سپہ سالار کی حیثیت سے شامل تھے۔ یہ بات تاریخ کی کتب میں درج ملتی ہے کہ 1020ء عیسوی میں سلطان محمود غزنوی کے لشکر میں عرب قبائل کا ایک لشکر اس فوجی مہم میں شامل تھا جس نے قدیم ریاست کشمیر پر حملہ کیا تھا، جسکی قیادت عربی النسل بنو عباس کے غیاث الدین ضراب شاہ کررہے تھے۔ غیاث الدین ضراب شاہ کی پیدائش بمطابق 998ء میں سلطنت غزنویہ کے صوبہ ہرات، خراسان (موجودہ افغانستان و ایران کا سرحدی علاقہ) میں ہوئی۔ آپکے والد کا نام طائف شاہ تھا جو کہ محمود غزنوی کے والد سبکتگین کے ہمراہ بغداد، عراق سے خراسان چلے آئے تھے اور اسکے فوجی لشکر میں بطور کمانڈر تعینات ہوئے۔

مراۃ السلاطین فی سیر المتاخرین 1836ء جلد اول اور آئینہ قریش 1916ء میں درج یے کہ جب والئی ہرات قطب شاہ کو مقرر کیا گیا تو انکے دور میں ضراب خان، صوبیدار صوبہ (گورنر جنرل آف فورسز) کے بلند مقام پر فائر ہوئے۔ ایک فوجی مہم میں انکی آمد کشمیر ہوئی اور شاہ کشمیر کی دختر سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوکر یہیں آباد ہوئے۔

تاریخ طاہری جو کہ 1600ء کو تحریر کی گئی اس میں درج ہے کہ عرب قبائل کی قیادت بنو عباس سے ایک نوجوان لڑکا ضراب خان کررہا تھا جسکی والدہ ترک تھی، یہ عرب لشکر محمود غزنوی کی فوج میں شامل تھا اور یہ کشمیر پہ دوسرے حملہ بمطابق 1020ء کی بات ہے۔ تاریخ کی کتاب ھبیرۃ العرب میں اس واقعے کی تفصیل یوں درج ہے کہ سلطان محمود غزنوی کے کشمیر پر دوسرے حملے کے وقت عرب قریش قبیلے سے ایک نوجوان لڑکا تھا جو عرب قبائل کی سپہ سالاری کررہا تھا اور یہ کشمیر کی باجگزار ریاست پر حملہ آور ہوا۔ تاریخ موسم بہار جلد سوم میں یہ لکھا ہے وہ عربی النسل نوجوان پنجاڑ (موجودہ کہوٹہ کا مضافاتی علاقہ) پر قابض ہوگیا تھا اور راجہ قلعہ چھوڑ کر کشتواڑ (موجودہ مقبوضہ کشمیر کا ایک ضلع) بھاگ گیا تھا۔

تاریخ عباسیان ہند از مفتی نجم الدین ثمرقندی سن اشاعت 1819ء بمقام ہند، اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ غیاث الدین ضراب شاہ المعروف ضراب خان، محمود غزنوی کی فوجی مہم کے دوران ہندوستان دہلی تشریف لائے۔ محمود غزنوی کے عرب لشکر کی سپہ سالاری غیاث الدین ضراب شاہ کے سپرد تھی۔

تاریخ عباسیان ہند میں مصنف نجم الدین ثمرقندی لکھتے ہیں کہ ہندوستانی تاریخ دان اجت ناگ نے اپنی کتاب تاریخ دہلی کے صفحہ نمبر 126 میں لکھا ہے کہ جب محمود غزنوی افغانستان سے ہندوستان پر حملہ آور ہوا تو عرب لشکر کا نائب غیاث الدین عبیدی نامی نوجوان تھا، یہ نوجوان بہادر جنگجو تھا۔ یہ دشمن کے لشکر پر ایسے حملہ کرتا تھا جس طرح بکریوں کے ریوڑ پر شیر حملہ آور ہوتا ہے اس وجہ سے اسے ضراب کہتے تھے کہ عرب کا سب سے زیادہ مارنے والا شیر اور اس نوجوان کا شجرہ نسب عبید اللہ ابن عباس ابن عبدالمطلب رض سے جاملتا ہے اور یہ بنوعباس سے تھا۔
دوسری روایت میں درج ہے ضراب کا لفظ عربی لفِظ ضرب سے نکلا ہے جسکے معانی ہیں "بہت مارنے والا”. دشمنوں کے لشکر پر زبردست حملے اور انتہائی جنگجو ہونے کے سبب غیاث الدین ضراب شاہ کو ضراب کا خطاب دیا گیا اور آپ اسی نام سے زیادہ مشہور و معروف ہوئے۔ علاوہ ازیں عرب میں ضراب اس شیر کو کہا جاتا ہے جو بہت مارنے والا ہو، باویں وجہ غیاث الدین ضراب شاہ، ضراب خان کے نام سے زیادہ مشہور و معروف ہوئے۔ آپکے نام کیساتھ ‘عبیدی’ کا لاحقہ سے یہ ثابت ہے کہ آپ عبیداللہ ابن عباس کی اولاد سے تھے اور آپ کا شجرہ نسب سعید بن محمد بن عبیداللہ بن عباس بن عبدالمطلب رض سے جاملتا ہے، جسکا اندراج عرب کی مشہور کتاب ‘جذواۃ الاقتباس فی نسب بنو عباس’ میں درج ملتا ہے۔

اس حوالے یہ غیاث الدین ضراب شاہ المعروف ضراب خان عباسی کا شجرہ نسب یہ ہے
غیاث الدین ضراب شاہ ابن طائف شاہ ابن نوح ابن عباس ابن رفیع ابن فضل ابن اسحاق ابن عادل ابن یافث ابن سعید ابن محمد ابن عبیداللہ ابن عباس ابن عبدالمطلب

(بحوالہ؛ عباسیان ہند 1819ء ، انساب ظفرآباد اعظم گڑھ ہندوستان سن اشاعت 1800ء، جزوۃ الاقتباس فی نسب بنو عباس، بنو ہاشم از الدکتور حسن الحسینی، شھادت النسب و تصدیق النقابۃ الاشراف الحسنیہ الکیلانیہ، عراق – الدکتور الشریف الفرید الکیلانی)

مفتی نجم الدین ثمرقندی نے عباسیان ہند 1819ء میں صفحہ نمبر 38 میں یہ لکھا ہے کہ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ غیاث الدین ضراب شاہ، حضرت عباس رض کے فرزند عبیداللہ ابن عباس کی اولاد سے تھے تبھی انکے نام کیساتھ عبیدی درج ہے جبکہ بعض کہتے کہ غیاث الدین ضراب شاہ، عبداللہ السفاح کی نسل سے تھے۔ مفتی نجم الدین ثمرقندی لکھتے ہیں کہ بعض مؤرخین نے ضراب خان کے جدامجد السید سعید عباسی کو محمد بن عبیداللہ کی بجائے محمد بن عبداللہ السفاح کا بیٹا لکھا ہے اور کہا ہے کہ غیاث الدین ضراب شاہ ، محمد بن عبداللہ السفاح کی نسل سے حضرت عباس کے فرزند حضرت عبداللہ ابن عباس رض کی اولاد سے تھے جبکہ عرب مؤرخین نے یہ لکھا ہے کہ عبداللہ السفاح کا حقیقی بیٹا محمد لاولد گزرا ہے، جسکی وجہ سے ابو عباس عبداللہ السفاح کی نسل نہیں چلی اور اسکا سعید نام کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ اس حوالے سے عرب تاریخ کی مشہور کتب البلازری 850ء، تاریخ طبری، الانساب الاشراف، جمہرات الانساب 1022ء، الاساس فی نسب بنی عباس، جزواۃ الاقتباس، بنو ہاشم از الدکتور حسن الحسینی، تاریخ یعقوبی، تاریخ ابن حزم، تاریخ الخلفاء از امام جلال الدین سیوطی رح نے یہ لکھا ہے کہ پہلے عباسی خلیفہ عبداللہ سفاح کا بیٹا محمد بن عبداللہ سفاح لاولد گزرا ہے جسکی وجہ سے عبداللہ السفاح کی نسل نہیں چلی۔ اس حوالے سے غیاث الدین ضراب شاہ سے منسوب عبداللہ السفاح کی روایت من گھڑت اور غیر مستند ہے۔

اسکے علاوہ عباسیان ہند میں مفتی نجم الدین ثمرقندی مزید بیان کرتے ہیں کہ تاریخ اجمیر میں مولوی لطف اللہ الہ آبادی نے لکھا ہے غیاث الدین ضراب شاہ، بنو عباس ابن عبدالمطلب سے تھے۔ دہلی سے اجمیر حاظری دربار کے لیے آئے تھے۔ وہاں حضرت رکن مسند شاہ عرب سے تشریف لائے ہوئے تھے تو غیاث الدین انہی کے ہاں مہمان ٹھہرے۔ غیاث الدین کا لباس عربی تھا، کمر میں تلوار تھی جیسے مجاہد ہو، بڑا بارعب نوجوان تھا۔ چند دن ٹھہرنے کے بعد حضرت رکن شاہ کے حکم پر سرینگر، کشمیر گیا اور وہیں قیام کیا، سلوگن میں اسکی اولاد آباد ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ سرینگر تھوڑے عرصہ قیام کے بعد وہ پونچھ کشمیر چلا گیا جہاں سرینگر کے راجہ نے اسے جاگیر عطا کی تھی۔

تاریخ کشمیر کے مصنف الپیال رتن لکھتے ہیں کہ غیاث الدین ضراب شاہ کو شالاوجن، مقبوضہ کشمیر میں جاگیر دی گئی تھی اور یہ بنو عباس سے تھا اور غزنوی لشکر کیساتھ دہلی سے سرینگر آیا تب اسکو پونچھ میں یہ جاگیرسرینگر کے راجہ نے دی تھی۔ الپیال رتن کی یہ کتب 1725ء میں سرینگر کشمیر سے شائع ہوئی تھی۔

مولوی الف دین راجوری کشمیری اپنی کتاب ہجرت کے سفر میں یہ لکھتے ہیں کہ ہم یہ بات تواتر سے سنتے آرہے ہیں کہ غزنوی لشکر میں عرب لشکر کی سپاہ گری عربی بنو عباس کی نسل سے غیاث الدین ضراب شاہ کے پاس تھی اور اس لشکر کی سپاہ گری کرتے ہوئے وہ سرینگر آئے تھے جہاں ایک معرکے میں کامیابی کے بعد انہیں سرینگر کے راجہ کی طرف سے کافی جاگیر عطا کی گئی تھی۔

مفتی نجم الدین ثمرقندی بیان کرتے ہیں کہ ثقافت کشمیر از محب اللہ نے صفحہ نمبر 68 میں لکھا ہے کہ غیاث الدین ضراب شاہ کی شادی کشمیر کے راجہ شاخ مل کے خاندان میں ہوئی اور اسکے فرزند اکبر غئی خان کا نھنیال کشمیر کے راجہ شاخ مل کا خاندان تھا۔

مفتی نجم الدین ثمرقندی اپنی کتاب عباسیان ہند 1819ء میں مزید لکھتے ہیں کہ یہ بات مصدقہ ہے کہ یہ بنو عباس ابن عبدالمطلب رض ہی ہیں۔ غیاث الدین ضراب شاہ کی اولاد میں مذہب کا رجحان دیگر قبائل سے زیادہ ہے، یہ اپنے نسب پر فخر کرتے ہیں۔ مہمان نواز، غم خوار ، کشادہ دل اور حیا کرنے والے ہیں۔ یہ شفیق اور مہربان ہیں۔ سادہ لباس ہیں مگر غیرت مند اور انتہا کے جنگجو ہیں۔ انکا جدامجد غیاث الدین ضراب شاہ المعروف ضراب خان، محمود غزنوی کے ہمراہ خراسان سے دہلی آیا اور دہلی سے سرینگر، کشمیر عرب کندی کے حکم پر وارد ہوا۔ سرینگر کے راجہ نے اسے علاقہ پونچھ میں جاگیر عطا کی اور اس نے وہیں مستقل سکونت اختیار کی اور اسکی قبر کہوٹہ میں واقع ہے۔ مری، کہوٹہ، ہزارہ و آزاد کشمیر میں آباد عباسی اسی کی اولاد ہیں۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button