تعلیمگوشہ خواتین

تعلیم نسواں کی اہمیت و ضرورت

تحریر: شمس تبریز علیمی(رڑوریا ایس نگر)پرنسپل:جامعہ فاطمۃ الزہرہ للبنات ریواڑی916307233087

موجودہ دور میں تعلیمِ نسواں کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیاجا سکتا کیوں کہ خواتین معاشرے کا نصف حصہ ہیں، لہٰذاان کی تعلیم و تربیت قوم اور معاشرے دونوں کی ترقی ا ور بھلائی کے لیے ضروری ہے ۔

اسلام کا نظریہِ تعلیم و تربیت ہی ہے

اسلام کی نظر میں تعلیم کا مقصد خالص رضائے الٰہی کا حصول ہے جس کے لیے تعلیم و تربیت دونوں ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظامِ تعلیم دوسرے نظامِ تعلیم سے منفرد ہے کیوں کہ اس میں تربیت کا بھی تصور پایا جاتا ہے۔ یہ طلبہ و طالبات کو صرف معلومات ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ نفس کی تربیت کا بھی اہتمام کرتا ہے اورساتھ ہی انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی کرتا ہے۔
دیگر نظامِ تعلیم صرف ’ایک اچھا شہری‘ بنانا چاہتے ہیں، جب کہ اسلامی نظام تعلیم ’ایک اچھاانسان‘ بنانا چاہتا ہے جس میں تمام اعلیٰ اقدار موجود ہوں، جو کسی ایک مخصوص جغرافیائی خطہ کا نہ ہو،بلکہ’ ایک عالمی شہری‘ ہو کیوں کہ قرآن تمام انسانوں کو مخاطب کرتا ہے نہ کہ کسی ایک خطہ کو۔ (قرآن کریم:30:30 )

یہی وجہ ہے کہ اسلام نے تعلیم و تربیت کو ابتدا ہی سے بنیادی اہمیت دی اور حصولِ علم کو مرداورعورت دونوں کے لیے یکساں ولازمی قرار دیا ۔قرآن و حدیث میں علم کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں حصولِ علم سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے ۔خودنبی کریم ﷺ پر جو پہلی وحی نازل ہوئی اس کا آغاز بھی لفظ اقراء(پڑھو) سے ہوا۔ایک اورجگہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :
قل ھل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون
( سورۃ الزمر:09 )
’’ان سے پوچھو! کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہوسکتے ہیں؟‘‘

احادیث میں بھی علم کی فضیلت کثرت سے بیان کی گئی ہے ۔ آپؐ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم
(ابن ماجہ:224 )
’’ ہر مسلمان پر خواہ وہ مرد یاعورت علم حاصل کرنا فرض ہے‘

مگر یاد رہے کہ علم کے ساتھ ساتھ عمل بھی ضروری ہے ورنہ علم بغیر عمل کے وبالِ جان بن جائے گا۔

اسلام میں تعلیمِ نسواں کی بڑی فضیلت ہے

اسلام میں تعلیمِ نسواں کا مقصد ایسی تعلیم ہے جو نسوانی زندگی اور نسوانی مقاصدِ حیات سے ہم آہنگ ہواورجو عورت کو ایک باکردار وہمدردماں،صالح و نیک بیٹی،و باشعور بہن اور فرمابردار بیوی بنائے۔ قرآن کریم نے اسی کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے:
فالصٰلحٰت قٰنتٰت حٰفظٰت للغیب بما حفظ اللہ (سورۃ النساء:34)
’’جو نیک عورتیں ہیں وہ فرمانبردار ہوتی ہیں، مردوں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت اورنگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں‘‘۔

ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’سنو! تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور اس سے (روزِقیامت) اپنی اپنی رعیت کے بارے میں سوال کیاجائے گا۔ ایک مرد اپنے گھر والوں کا نگراں ہے۔ اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگراں ہے، اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا۔ غلام اپنے آقا کے مال کا نگراں ہے وہ اس کے بارے میں جواب دہ ہے۔ سنو! تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور اس سے اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘( بخاری شریف:398)

اسلام نے عورتوں کو مردوں کے برابر کیوں فرض قرار دیا

ا سلام نے عورتوں کو تعلیم و تربیت میں مردوں کے برابر فرض قرار دیتے ہوئے ان کے لیے تعلیم لازمی اس وجہ سے قرار دیا کہ وہ بھی شریعت کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں، البتہ پردہ اور مرد و زن کے اختلاط کے قوانین بھی ان کوبتا دیئے کہ معاشرے میں بگاڑ اور بے راہ روی پیدا نہ ہو۔اسی وجہ سے اپنے خواتین کی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ فرمائی

خود میرے آقا صل اللہ تعالیٰ علیہ نے ہفتہ میں ایک دن صرف خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے مخصوص کیاتھا۔ اس دن خواتین آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتیں اور آپ صل اللہ علیہ وسلم سے مختلف قسم کے سوالات اور روزمرہ مسائل کا حل پوچھتیں۔ اس کے علاوہ آپ نے امہات المؤمنین کو بھی حکم دے رکھا تھا کہ وہ خواتین کو دینی مسائل سے آگاہ کیا کریں۔

ابتدائی دورِ اسلام میں پانچ خواتین لکھنا پڑھنا جانتی تھیں

ابتدائی دور اسلام میں :حضرت امّ کلثم رضی اللہ عنہا، حضرت عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہا ، حضرت مریم بنت مقداد رضی اللہ عنہا ،حضرت شفاء بنت عبد اللہ رضی اللہ عنہااورامّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ۔حضرت شفاء اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کو کتابت سکھاتی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ انہیں خوش خطی بھی سکھاؤ۔نبی کریم کی اس توجہات کا نتیجہ تھا کہ تمام اسلامی علوم و فنون مثلاً تفسیر،حدیث ، فقہ و فتاویٰ ، خطابت میں بے شمار صحابیات نے کمال حاصل کیا

ماں کی گود بچے کے لئے اولین درسگاہ ہوتی ہے

افسوس کا مقام ہے کہ قرآن و سنت کی اتنی تاکید کے باوجود بھی آج ہم لوگ لڑکیوں کی تعلیم کی طرف سے غافل ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی بچیوں سے نوکری نہیں کرانی ہے یا اپنی بیویوں کی کمائی نہیں کھانی ہے ،لہٰذا ان کو تھوڑی بہت تعلیم دلانا کافی ہے لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک عورت کو تعلیم دلانا پورے خاندان کو تعلیم دلانا ہے کیوں کہ ماں کی گود ہی بچے کی اولین درس گاہ ہوتی ہے ۔اگر وہ تعلیم یافتہ ہو گی تبھی اپنے بچوں کی صحیح تربیت کر سکے گی ۔

علم حاصل کر کے عورت اپنے بچوں کی بآسانی پرورش کر سکتی ہے

بعض لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اس سے لڑکیاں بگڑ جاتی ہیں لیکن اس کا یہ حل نہیں کہ سرے سے تعلیم ہی نہ دلائی جائے بلکہ ان کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ کہیں بھی جائیں لیکن وہ تبدیل نہ ہوں اور پھر یہ بھی کہ تعلیم کے بعض شعبوں میں مسلم خواتین کا آنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جیسے اگر خاتون ڈاکٹر نہ ہوں تو مسلم خواتین کو لامحالہ مرد ڈاکٹروں سے علاج کرانا ہوگا اور نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے سامنے قابلِ ستر اعضاء کھولنے پڑیں گے ۔ایسے ہی تعلیم یافتہ عورت شوہر کے انتقال کے بعدنوکری کر کے اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کی گاڑی آسانی سے کھینچ سکتی ہے۔

علم سے آراستہ اور غیر آراستہ میں فرق

خواتین کا اسلامی تعلیمات سے غفلت کا نتیجہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی شان میں گستاخی ،مختلف شرک و بدعات ،والدین اور دوسرے لوگوں کے حقوق سے ناواقفیت، شوہر کی عدم اطاعت ، اس سے غیر ضروری مطالبات کرکے ناک میں دم کرنا ،اولاد کے لیے جادو ٹونا،ایک دوسرے پر لعن طعن ، غیبت ،فیشن و عریانیت،بے حجابی اور فضول رسم و رواج کی مرتکب ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس ایک تعلیم یافتہ عورت صحیح غلط، حق و ناحق اور جائز و ناجائز کی نہ صرف تمیز کرتی ہے بلکہ اپنی زندگی میں آنے والے تمام مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرتی ہے۔

رسمی تعلیم پر خصوصی توجہ

ہر مسلم والدین کی کوشش ہو کہ وہ اپنی لڑکیوں کو ہر حال میں تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں خواہ وہ مدرسوں میں پڑھیں یا اسکول ،کالج اور یونیورسٹی یا اوپن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کریں،تاکہ وہ ملت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں۔
لڑکیاں ایسے شعبوں میں آئیں جو ان کے لیے جسمانی اور دماغی لحاظ سے موزوں ہومثلاً درس و تدریس،طب، ، تصنیف و تالیف وغیرہ۔اسلام نے ان سب کی اجازت دی ہے حتیٰ کہ ان میدانوں میں چند پابندیوں کے ساتھ ملازمت کی بھی اجازت دی۔یہ پابندیاں اس لیے کہ خاندانی نظام میں کوئی خلل و انتشار پیدانہ ہواور عورت عفت و عصمت کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button