تعلیم

جاہل کیا اور جاہل کا دل کیا

پیشکش: خلیل احمد فیضانی

رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

استفت قلبك وإن افتاك المفتون.
یعنی : اپنے دل سے فتوی لو خواہ تمہیں مفتی کچھ بھی فتوٰی دیں۔
(مسند احمد بن حنبل ، ۴ /۲۲۸)

محدث بریلوی سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
قرآن عظیم نے غیر عالم کےلئے یہ حکم دیا کہ عالم سے پوچھو نہ یہ کہ جس پر تمھارا دل گواہی دے عمل کرو۔
قال اللہ تعالٰی: فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ۔
ترجمه: علم والوں سے پوچھ لیا کرو اگر تمھیں علم نہ ہو۔
جاہل کیا اور جاہل کا دل کیا۔
نعم من كان عالما فقيها مبصرا ماهرا فهو مامور بقوله صلي الله تعالي عليه وسلم "استفت قلبك و ان افتاك المفتون”
ہاں اگر وہ عالم، فقیہ بصیرت رکھنے والا ، علم میں مہارت اور تجربہ رکھنے والا اور علم کا سمندر ہو تو اسے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا کہ اپنے دل سے فتوٰی پوچھئے اگرچہ تمھیں مفتیان کرام کچھ فتوٰی دیں۔(فتاوی رضویہ)
دل سے فتوی طلب کرنے کی اجازت کسے ہے, امید ہے مذکورہ سطروں سے خوب واضح ہوگیا ہوگا-
دیگر خرافات کے ساتھ ساتھ یہ بدبلا بھی چل پڑی ہے کہ جب کسی نیم عالم کے سامنے کسی مسئلہ کی نوعیت کو خوب واضح تر کردیا جاتا ہے
تب بھی وہ ماننے کو تیار نہیں ہوتا ہے..
اور اخیر میں یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں مفتیوں کی کیوں مانوں..
میرا دل تو اس پر جارہا ہے..
اور استدلال مذکورہ حدیث:(استفت—الخ)سے کرتا ہے..-
فانا للہ وانا الیہ راجعون

سبب یہ ہے کہ جب کویٔی چیز بہ کثرت وجود میں آجاتی ہے تو اس کی اہمیت کم ہوکر رہ جاتی ہے..-
پہلے انگلیوں پر گننے کے "دار الافتاء ہوا” کرتے تھے
مگر اب تو یوٹیوب,فیس بک پر
ہر بندہ مفتی بنا بیٹھا ہے-

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے دور مسعود میں تقریبًا ایک لاکھ صحابہ کرام علیھم الرحمۃ والرضوان بقید حیات تھے مگر فتوی دینے کی اجازت صرف چار صحابہ کرام ہی کو تھی..
حالاں سب کے سب ماہر شریعت اور عدول تھے مگر یہ ان کا حزم و احتیاط تھا..کہ انھوں نے فتوی جیسے عظیم کام کو ان چار پانچ تک ہی محدود رکھا.-
آج جاہل محض یوٹیوب پر بیٹھ کر فتوی دے رہے ہوتے ہیں…
کہ جنھوں نے ڈھنگ سے "رسم المفتی” اور دیگر کتب اصول افتا تک کو بھی نہیں پڑھا ہوتا ہے چہ جائیکہ وہ اس میدان کے ماہر ہو..اور بہ کثرت فتوی نویسی کی ممارست کی ہو-

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button