تنقید و تبصرہ

فتاوی رضویہ کی تفہیم

تحریر: محمد شہادت حسین فیضی
کوڈرما، جھارکھنڈ

ابھی ایک ہفتہ پہلے کا واقعہ ہے۔معاملہ ایک گاؤں کے ایک عمردراز شخص سے جڑا ہے، جنکے چھوٹے بیٹے نے ہمارے ادارے یعنی مدرسہ مدینۃ الرسول سے ہی حفظ قرآن مکمل کی ہے اور مرکزی دارالقرات جمشید پور سے دور، اور جامعہ اشرفیہ سے عالمیت کی ہے، اور فی الحال جامعہ ملیہ اسلامیہ میں زیرِ تعلیم ہیں۔ دینی تعلیم سے ان کی محبت ہی کہیے کہ صرف ان کے گھر میں انکے آٹھ دس بھتیجے، بھانجے اور بیٹے عالم، حافظ اور قاری ہیں۔موصوف کئی مرتبہ عرس اعلیٰ حضرت میں بریلی شریف جا چکے ہیں۔ اور حضور تاج الشریعہ سے بیعت بھی ہیں۔ لیکن انکا سسرال جس گاؤں میں ہے وہاں دیوبندی اکثریت میں ہیں، اور اسی بنا پر انکے ہم عمر لوگوں نے اُن سے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا سسرال دیوبندی گاؤں میں ہے اس لیے آپ بھی دیوبندی وہابی ہو گئے ہیں۔ چونکہ وہ ضعیف العمر ہیں، اس لیے اس مذاق کے بعد وہ لفظ وہابی سے چِڑھنے لگے، جیسا کہ اس عمر میں عموماً ہوتا ہے۔لیکن اس کمزوری کا کچھ لوگون نے فائدہ اٹھانا شروع کردیا۔
گاؤں کے امام صاحب سے کسی بات پر ان کی تھوڑی سی ان بن ہوگئی، تو بدلے میں امام صاحب نے جمعہ، تیجہ، چالیسواں، ذکر شہادت، ذکر غوث اعظم وغیرہم جیسی تمام تر محافل و تقریبات میں، so-called مروجہ رد وہابیہ کو اپنا موضوع خاص بنالیا۔ اس میں اتنی شدت بڑھ گئی کہ اس ضعیف العمر شخص کے رشتہ داروں کے علاوہ گاؤں کے دوسرے لوگوں نے بھی امام صاحب سے عرض کی کہ حضرت موقع ومصلحت دیکھ کر کچھ اور موضوع پر بھی گفتگو کریں، لیکن وہ اپنی روش سے باز نہیں آئے۔ نتیجتاً وہ عمردراز شخص اور ان کے خاندان کے لوگوں کے ساتھ بحث و مباحثہ کے بعد جھگڑا، پنچایت، استفتاء اور فتوٰی کا معاملہ چل پڑا۔ اور قریب تھا کہ گاؤں دو حصوں میں بٹ جاتا۔ کہ حافظ صاحب دہلی سے تشریف لائے اور قرب و جوار کے مفتیان عظام و علمائے کرام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر فیصلہ کرنے کی گزارش کی۔ لیکن چونکہ نکاح ٹوٹنے کا معاملہ تھا،اس لیے کوئی مفتی صاحب اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ آخر میں حافظ صاحب نے نا چیز سے رابطہ کیا اور کہا کہ کل ہی فیصلے کی تاریخ ہے اور اس طرح کا معاملہ ہے، میں نے فلاں فلاں مفتی صاحب اور قاضی صاحب سے رابطہ کیا لیکن کوئی آنے کو تیار نہیں ہیں، لہذا آپ سے گزارش ہے کہ آپ انکار نہ کریں۔
دوسرے دن میں وقت پر پہنچ گیا، مسجد کی صحن میں لوگ فیصلہ کے لیے دری وغیرہ بچھانے لگے۔ تو میں نے گزارش کی کہ مسجد میں جائے نماز بچھی ہوئی ہے اس لیے مسجد میں ہی بیٹھتے ہیں۔ اس پر عوام کے ساتھ امام صاحب اور بعض علمائے کرام بھی اعتراض کرنے لگے کہ مسجد میں دنیا کی بات کرنا منع ہے۔ پھر مسجد میں فیصلہ کیوں ہوگا ؟ میں نے عرض کی کہ آقائے کریم صلّی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی شریف میں کفارومشرکین سے ملاقاتیں بھی کرتے تھے، اور عدالت بھی قائم ہوتی اور فیصلے بھی ہوتے تھے۔آئیے ہم لوگ اس سُنت کریمہ کو پھر سے زندہ کرتے ہیں۔ بہر حال بہت کوشش کرنے کے بعد مسجد میں ہم لوگ بیٹھے ، تا ہم کچھ لوگ یہ کہہ کر چلے گئے کہ ہم مسجد میں فیصلہ نہیں کریں گے۔
بات چیت شروع ہونے کے بعد میں نے تمہیداً دو حدیثوں کا مفہوم پیش کیا۔
(1) حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ جب ایمان لانے کے لیے آقائے کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو رہے تھے۔ تو آقائے کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ دیکھو عکرمہ آرہے ہیں۔ خبردار کوئی شخص عکرمہ کے سامنے انکے باپ ابو جہل کا تذکرہ نہ کرے کہ اس سے انکی دل آزاری ہوگی۔ سبحان االلہ

(2) مدینہ طیبہ میں ابو لہب کی نواسی یا پوتی رہتی تھی ۔ جسے چڑھانے کے لیے کچھ لوگ اسے دیکھ کر سورہ لہب پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن وہ صحابیہ رضی اللہ عنہا آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض گزار ہوئیں کہ یا رسول اللہ صلی االلہ علیہ وسلم مجھے ابو لہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس سے کوئی ہمدردی ہے۔ لیکن کچھ لوگ ہیں جو مجھے دیکھ کر سورہ لہب پڑھتے ہیں۔ جس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو انکے سامنے سورہ لہب پڑھنے سے منع فرمایا۔
ان دونوں حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ایسا صحیح کام جس سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہو تو بغیر اشد ضرورت کے وہ کام نہ کیا جائے۔ ان حدیثوں کے مفہوم کو سن کر امام صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے فتاویٰ رضویہ کے جلد نمبر اور صفحہ نمبر کے حوالے سے فرمایا کہ اعلٰی حضرت رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہابیوں کی خوب خوب برائی کیا کرو اس لیے ہمیں وہابیوں کی خوب خوب برائی کرنی چاہیے اور اگر اس سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو اعلی حضرت کے فتوے کے مطابق وہ بھی اسی میں سے ہے۔
چونکہ اس مجلس میں دس پندرہ علمائے کرام کے ساتھ کافی تعداد میں عوام بھی موجود تھی اس لیے مجھے پھر سے کھڑا ہونا پڑا اور میں نے عرض کی کہ
الحمدللہ یہاں ہم لوگ سب کے سب اہل سنت سے ہیں۔ اور ابھی میں نے دو حدیثوں کا مفہوم پیش کیا جس میں آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان عالیشان اور اُسوۂ حسنہ کے عمدہ نمونے تھے۔امام صاحب نے اس کے مقابلے میں اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ پیش فرمایا ہے جس سے بظاہر حدیث پاک اور فتاوی رضویہ میں تضاد نظر آتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان اور اخلاق کریمہ صبح قیامت تک تمام مسلمانوں کے لیے ہر طرح کے حالات میں یکساں طور پر مفید و کارآمد ہے۔ جب کہ اعلی حضرت کا فتوی یقینی طور پر کسی خاص موقع و محل کے لیے ہوگا۔ مثلا کسی گاؤں میں سنی اور وہابی ساتھ ساتھ رہتے ہوں یا کوئی ایسی محفل جہاں سنی اور وہابی ایک ساتھ بیٹھے ہیں، تو یقینی طور پر برے لوگوں کی برائی کر کے اچھے لوگوں کو ان سے بچانا چاہیے۔اللہ تعالی کا شکرو احسان ہے کہ علمائے کرام کے ساتھ عوام نے بھی اس کو سمجھا اور تھوڑی سی گفتگو کے بعد فیصلہ بھی ہو گیا۔ الحمدللہ علی ذالک
اس دن اس حقیر کو اندازہ ہوا کہ کس طرح کم پڑھے لکھے ائمہ حضرات اور علمائے کرام جو اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے شدید محبت کرتے ہیں اور اس میں غلو کرتے ہوئے انجانے میں اہل سنت و جماعت کو کیسے نقصان پہنچا رہے ہیں۔ قارئین بھی ہماری اس دعاء میں شامل ہو جائیں۔
اللہ تعالی ہمیں اور تمام اہل ایمان کو اعلی حضرت سے سچی محبت اور فتاوی رضویہ کو پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق کے ساتھ صحیح فکر و تدبیر میں اضافہ فرمائے آمین۔ اور پھر اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کا جذبہ عطا فرمائے آمین۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button