امت مسلمہ کے حالاتسماج و معاشرہ

سوشل میڈیا میں ہماری شبیہ کیسی ہے؟

صحیح راہ عمل کی تلاش

سوشل میڈیا کی فہرست میں بالخصوص فیسبوک اور وا ٹس ایپ، یہ دو ایسے پلیٹ فارم ہیں جہاں آپ چاہیں تو اپنی قوم و ملت کی نقل و حمل، حرکت وعمل، فکر و نظر، شخصیت و کردار اور منفی و مثبت تخلیقات سے ہر لمحہ خاطر خواہ واقفیت حاصل کر سکتے ہیں ۔ یا یہ کہیں کہ اگر آپ چاہیں تو اپنی ہرکارکردگی سے پوری دنیا کو واقف کرا سکتے ہیں ۔ اس الیکٹرونک میڈیا کے دور میں کسی بھی ملک و ملت کی کوئی بھی خصوصیات محفوظ نہیں ہے، بلکہ سب کچھ پبلک ڈومین میں عیاں ہے۔اسی ضمن میں تمام مسالک و مشارب کی تنظیموں، تحریکوں، اداروں، اسکولوں،کالجوں، اور مدرسوں، کی کار کردگیاں بھی آج سب کے سامنے واضح اور عیاں ہیں۔اسی کے ساتھ ہی ہر مسلک و مشرب کے اکابرین کی مصروفیات اور روزمرہ کی کارکردگیاں بھی عیاں ہیں۔
مسلک اہل سنت والجماعت کا اگر ہم جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ 2014 ء کے بعد جب سے مودی شاہ کا عروج ہوا،نوٹ بندی، جی ایس ٹی کا نفاذ ہوا،اسی وقت سے اور دوبارہ کووڈ19 کے گزر جانے کے بعد سے ہر قوم، برادری اور ہر مذہب و مسلک کے لوگوں میں ایک قسم کی خاص بیداری دیکھی گئی،‌مانوں ان میں چستی کی رمق دوڑ گئی ہو۔ بہتوں کی آنکھیں کھلی اور ان میں شعوروآگاہی کا دور دورہ ہوا۔ اس بیچ دیگر سبھی مسالک کے لوگوں کو یہ دیکھا گیا کہ وہ بڑی خاموشی کے ساتھ نئے نئے تعلیمی ادارے قائم کر رہے ہیں اور قدیم اداروں کو جدید حالات کے تقاضوں سے ہم آہنگ کررہے ہیں۔مختلف سماجی و فلاحی پروجیکٹ اور پروگرام پر کام کر رہے ہیں، جوکہ آج سب کے سامنے ہے۔ ایسے ماحول میں کیا مسلک اہلسنت کی تنظیمیں، ادارے، مدارس، اور اکابرین و قائدین قوم و ملت بھی کچھ کر رہے ہیں؟ یہ ہمارے لیے آج بہت ہی قابل غور ہے۔ محض تعلیمی کارکردگی کی بات کریں تو سوال یہ ہے کہ کتنے اسکول، کالج، کوچنگ سینٹر اور تعلیمی بیداری کے لیے تحریکیں اور نئے پلان و پروگرام چلائے گئے یا چلائے جا رہے ہیں؟ جبکہ آج ہم تعلیم میں ہریجنوں اور آدیواسیوں سے بھی پیچھے ہوچکے ہیں۔ کیا اس جانب بھی کوئی پیش رفت ہو رہی ہے؟ ان سب سوالوں کے جواب جاننے کے لیے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ بریلوی مکتبۂ فکر کے علمائے کرام اور عوام کے فیس بک اور واٹس ایپ کے جتنے گروپس ہیں، آپ صرف ان کا جائزہ لے لیں، آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ہمارے یہاں جہاں ایک طرف کثرت سے جلسے، میٹنگیں اور کانفرنس ہو رہے ہیں وہیں ہمارے لوگ محض بڑے بڑے اعلانات، دعوے اور نام و نمود اور ذاتی تشہیر و مارکیٹنگ کے کاموں میں لگے ہیں۔ شوشل میڈیا میں جلسے، عرس اور چہلم کے اشتہارات،چادروں کے جلوس، بے عمل خطباء وشعراء کے مختلف رنگوں کے ویڈیوز، بیل بوٹے والی ٹوپیاں ،رومال، جبے، اور بس یہی سب چیزیں نظر آئیں گی۔ مزید براں ہر دو چار دن بعد کوئی نہ کوئی متشدد ظاہر ہوتے ہیں (جن کی تعداد بہت تھوڑی ہے اور وہ بہت ہی چھوٹے لوگ ہیں) اور وہ بڑے بڑوں کو بھی صلح کلی، گمراہ، ضال، اور مضل کہتے نظر آتے ہیں۔

ہمارے یہاں تعلیم گاہ کے نام پر صرف وہ مدارس ہیں،جہاں سے فراغت کے بعد پانچ ہزار سے دس ہزار ماہانہ تک کی نوکریاں مدارس و مساجد میں مل جاتیں ہیں۔ اور اگر کچھ لوگ ان مدارس سے نکل کر اے ایم یو، جے این یو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، مولانا آزاد یونیورسٹی، یا دیگر مسلم تعلیمی اداروں میں داخلہ لیتے ہیں، تو ہم انکی حوصلہ افزائی نہیں کرتےہیں۔ اور نہ ہی انہیں گمراہ کہتے ہیں لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ ان اداروں میں پڑھنے سے گمراہ ہونے کا خدشہ زیادہ ہے کیونکہ وہ ادارے بریلوی مکتبۂ فکر کے نہیں ہیں ۔ اور چونکہ ایمان و عقیدہ سب سے زیادہ قیمتی ہے اس لیے اس کی حفاظت کے لیے ان اداروں میں جا کر پڑھنے کے بجائے جاہل رہنا بہتر ہے۔
یہ وہ فکر اور بندشیں ہیں جس سے متاثر ہو کر اکثر تعلیم یافتہ لوگ ہم سے دور ہو رہے ہیں ۔ نتیجتاً ہماری جماعت میں زیادہ تر لوگ جاہل ہیں۔ میری یہ حقیقت بیانی سے اگر کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں ،لیکن یہ التجا کرتا ہوں کہ ہمارے قائدین، علماء کرام ،و مفتیان عظام، اور قاضیان اسلام ہمت کرکے آگے آئیں۔ جدید تعلیمی ادارے قائم کریں۔ اور متشددین پر لگام لگائیں۔ نیز غلط روی کو چھوڑ کر پھر سے آ قاۓ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وعلی وسلم کی سنتوں اور نمونوں کو اپنا مشعل راہ بنائیں۔ ان شاء اللہ صحیح عقیدہ کے ساتھ صحیح راہ عمل پر بھی ہم گاہ مزن رہیں گے۔ اور شاہ راہِ ترقی ہمارا مقدر ہوگا۔

غلط روی سے منازل کے بُعد پڑھتے ہیں
قافلے والو روش کارواں بدل ڈالو

تحریر: محمد شہادت حسین فیضی
کوڈرما، جھارکھنڈ انڈیا
9431538584

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button