اولیا و صوفیا

سرکار مجاھد ملت علامہ نظامی کی نظر میں

تحریر: محمد عباس رضوی، ممبئی

حضور مجاھد ملت علامہ حبیب الرحمٰن عباسی قدس سرہ دھام نگر اڑیسہ ہندوستان خود بے پنہاہ خوبیوں کے مالک عظیم شیخ طریقت شریعت وطریقت حقیقت ومعرفت زھدوتقوی علم وحکمت اور اپنے وقت کے مجاد اعظم تھے ملت کا درد برداشت نہ پاتے ہر اٹھنے والے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوجاتے وہ انجام کی پرواہ نہ کرتے
بس اپ اتنا سمجھ لیں وہ مرد قلندر
بے خطر خود پڑا اتش نمرود میں عشق
ایسے عظیم دینی ومذھبی پیشوا اور سرخیل سواد اعظم کے بارے میں میں کیا لکھ سکتا ہوں
ہاں البتہ کچھ یادیں باتیں ہیں صفحہ قرطاس پر اگیے ہیں امید ہے کہ میرا بھی شمار ان کے وفاداروں کی فہرست میں اجاۓ
یہ اس دور کی بات ہے جب عروس البلاد ممبئی سمیت پورے بھارت میں خطیب مشرق پاسبان ملت حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی علیہ الرحمہ کی خطابت کا ڈنکا بج رہا تھا چہار جانب بڑے بڑے پوسٹر بینر علامہ نظامی کے بڑے بڑے القابات کے ساتھ دیوارں پر چسپاں اور اویزاں ہوتے ایسا بھی نہیں ہے کہ بھارت میں اور خطیب نہ تھے اس وقت عظیم المرتبت خطباء شعلہ بار مقرریں کی بہت تعداد موجود تھی مگر جو شان خطابت عشق کی چاشنی اردوۓ معلی کےشیریں جملےفرقہاے باطلہ بر گرجنے برسنے جوفن علامہ نظامی کے پایا جاتا وہ کہیں اور نظر نہیں اتا گویا اپ یوں سجھ لیں ان تمام خطیبوں کے درمیان پاسبان ملت علامہ مشتاق احمد نظامی مقرر خصوصی کی حثیت کے حامل تھے
بات ہےمیرے دوران طالب علمی کے دور کی ممبئ عظمی کی مرکزی درسگاہ دارلعلوم محبوب سبحانی کرلا کا کوئی بھی اجلاس علامہ نظامی کے بغیر نہیں ہوتا خطیب مشرق کی تاریخ مل جانے کے بعد ادارہ کے سربراہ اعلی حضرت علامہ عبدالرحیم صاحب قبلہ پوسٹر چھاپنے کا حکم دیتے
ایک دفعہ نظامی صاحب قبلہ عین وقت پر جلسہ میں نہ انے کی اطلاع امام صاحب قبلہ حضرت علامہ عبدالرحیم صاحب قبلہ کو دی چناچہ ایک دوسرے مقرر کو مدعو کیا گیا یہ وہ دور تھا جب موصلات کی دنیامیں اتنی سہولت نہ تھی خط وکتابت ہی ذریعہ تھا مگر اج برقی سہولت اور تیز رفتار میڈیا کا دور ہے
ایک بات اور واضح کردوں کہ مولانا عبدالرحیم صاحب قبلہ کو پورا کرلا ہی نہیں بلکہ ممبئ میں علماء ومدرسین اور طلباء کے درمیان امام صاحب کےہی ذریعہ ملقب تھے اسی لیے میں بھی وہی لکھ رہا ہوں
توبات نظامی صاحب کے تاریخ نہ ملنے کی چل رہی تھی
پوسٹر چھپا ایک شہرت یافطہ خطیب اۓ جلسے کا ایک دو روز گزر گیا حسن اتفاق اسی درمیان خطیب مشرق پاسبان ملت حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی صاحب قبلہ ممبئی تشریف لے اۓ جیسے ہی اطلاع ادارے میں امام صاحب قبلہ کو ہویی حضرت علامہ عبدالرحیم امام صاحب ال انڈیا سنی جمعیت العلماء کے دفتر مدنپورہ ممبئی پونہچ گیے یاد رہے یہ محرم شریف کے بارہ روڑہ اجلاس کی محفل کا واقعہ ہے امام صاحب قبلہ نے جلسے میں انے کی دعوت دی نظامی صاحب نے قبول بھی کرلی
ادھر انا فانا دوسرے پوسٹرکی تیاری شروع ہوگئی چنانچہ دوسرا پوسٹر نہایت جلی حروف کے ساتھ علامہ نظامی صاحب کے نام کے ساتھ بھارت پریس سے چھپ کر اگیا ہم لوگوں نے خوشی خوشی راتوں رات پوری ممبئی میں چسپاں کرڈالے
جو دوسرے خطیب تھے میں نام نہیں لکھو گا تھوڑے ناراض ہوگیے کہ میرا نام بعد میں کیوں لکھا گیا اصل میں معاملہ نام کا نہ تھا خطاب کی جمنے کا تھا چناچہ ایک روز وہ جلسے میں نہ اۓ نظامی صاحب نے تنہا خطاب فرمایا محفل والے اپنے پسندیدہ مقرر کو پاکر باغ باغ ہوگیے لکھنے کا مطلب ہے کہ کیا مقام ومرتبہ تھا علامہ نظامی صاحب قبلہ کا اتنی مختصر تمہید کے بعد امدم بر سر مقصد ایک دفعہ علامہ نظامی کے پاس اکیلے بیٹھا تھا جب نظامی صاحب تنہا ہوتے توکوئی نہ کوئی بات میں پوچھ لیتا تنہائی کا فایدہ اٹھاتے ہوۓ میں نے پوچھ لیا کہ اپ بہت بڑے مقرر کب سے بن گیے چھوٹی عمر تھی اتنا سوالات کے اداب سے واقف نہ تھا مگر نظامی صاحب ناراض نہ میرے بچکانہ سوال سے خوش ہوتے مسکرادیتے اور واقعہ بیان کرنے لگے کہ ایک دفعہ میں ہندوستان کی مرکزی درسگاہ الجامعہ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ یوپی کے جشن دستار فضیلت کے جلسے کا خصوصی مقرر کے طور پر مدعو ہوا اور یہ وہ دور تھاجب اشرفیہ کے اسٹیج پر بڑے بڑے علماء فضلاء کی موجودگی ہوتی تھی چناچہ مضمون کی طوالت کے خدشے سے چند نام تحریر کرہاہوں
جلالت العلم سرکار حافظ ملت حضرت علامہ الشاہ عبدالعزیز محدث مرادابادی ۔ عظیم فکروفن کے مالک قاضی شمس الدین صاحب صاحب قانون شریعت جونپوری ۔علم وفضل کے انجمن حضرت علامہ مفتی عبدالروف بلیاوی شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی صاحب قبلہ ۔ بحرالعلوم مفتی عبدالمنان صاحب قبلہ تودوسری طرف تھوڑی سی چوک پر زبردست گرفت کرنےوالے اشرفیہ کے ظلبہ یہ تمام باتیں سونچ کر میں قدرے تشویش میں تھاچنانچہ میں استاد گرامی وقار سلطان التارکین امام المناظرین سرکار مجاہد ملت حضرت علامہ حبیب الرحمن رئیس اعظم اڑیسہ کے ہمراہ الجامعہ الشرفیہ کے لیے روانہ ہوگیا میرے جوانی کا دور تھا مجھے صرف مونچھ ائی تھی سرکار مجاھد اگے اگے اور میں انکی پیچھے پیچھے دپکا رہتا سرکار مجاد ملت نے محسوس کیاتو فرمایا مشتاق ذرہ بھی ڈرنا نہیں اور خوب جم کر تقریر کرنا میں خوڈ موجود رہوں گا یہ سمجھ لو کہ تمھارے سوا کسی کو کچھ نہیں معلوم سب سے زیادہ تم جانتے ہو سرکار مجاھد ملت نے میری ڈھارس بندھائی تو میں نڈر ہوگیا اور دل ہی دل نیں خیال کیا کہ جب حضرت رہیں گے تو کیا خوف اب جلسے کااغاز ہوگیا اشرفیہ کا اسٹیج بڑے بڑے خطباء علماء اور صاحبان فکروفن ارباب علم ودانش سی کچھا کچھ بھرا ہوا تھا سرکار مجاھد ملت رونق اسٹیج ہونے کے لیے روانہ ہوے پیچھے پچھے حضرت مجاھد ملت کے میں بھی چلا ہر طرف ایک شور اٹھا سرکار مجاھد ملت اگیے ان کے ہمراہ نوجوان خطیب علامہ مشتاق احمد نظانی بھی اگیے استقبالیہ نعروں سے اشرفیہ کے درور دیوار جھوم رہے تھے میرے نام کا اعلان ہوا حضرت کا جملہ میرے کانوں میں گونج رہا تھا جم کر بولنا میں نے بھی ساری توانائی اور خطابت کا جوہر اشرفیہ کے اسٹیج پر انڈیل دیا عہد تو میں نے بھی کرلیا تھا کہ اج حضور مجاھد ملت سے جو میں حاصل کیا ہوں وہ سب جوہر اج سارے علماء وفضلاء کے درمیان دکھلاکے رہوں گا چناچہ ہرطرف سے مبارکباد سبحان اللہ اور جوشیلے نعروں سے میری ڈھارس بندھ گئی اور خوب جم کے تقریر کی وہ طلباء جو بات بات ہوڈنگ کرتے تھے ہو خود نعرہ لگارہے تھے
اسٹیج پر موجود سارے علماے کرام کے چہرے دمک رہے تھے کبھی کنکھیوں سے میں اسٹیج اور سرکار مجاھد ملت کو دیکھ لیتا حضرت بہت مسرور نظر اتے تو میری ہمت اور بڑھ جاتی جناچہ اشرفیہ کے اسٹیج پر میرے خطابت کی دھوم مچ گئی اور میں نے بھی یقین جانا کہ میں بہت کامیاپ ہوں خطیب مشرق علامہ نظامی نے کہا کہ اسی دن سے میرے خطاب کا شہرہ پورے بھارت میں ہوگیا دوران خطاب نظامی صاحب اکثر فرمایا کرتے دیوبندی بولتا ہے مگر سمجھتا نہیں
تقریر کرتے کرتے جب کوئی اہم جملہ بولنا ہوتا تو نظامی صاحب محفل کی توجہ یکسو کرنے کے لیے فرماتے کہ توجہ ہے نا جی لگاؤ تو ایک جملہ بولنے جارہا ہوں پھر اپ وہ جملہ بیان فرماتے نظامی صاحب قبلہ کبھی ابنے بیان میں چٹکلہ یا لایعنی افسانہ سے پرہیز فرماتے اور کبھی بھی لطیفہ بیان فرماکر لوگوں کی توجہ مبذول نہ فرماتے بلکہ علمی نقطہ سے محفل کی توجہ حاصل کرتے بیان فرماتے ہوۓ علامہ مشتاق نظامی صاحب نے فرمایا کہ مجھے الگ الگ عنوان پر چالیس تقرریں ازبر ہیں
حضورمجاھد ملت کا ذکر کرتے فرمایا کہ میں نے جوکچھ پڑھا حضور مجاھد ملت سے پڑھا بیان کرنے لگے کہ سرکار مجاھد ملت نے مجھے نحومیر ۔پنج گنج۔ شرح میأت عامل ۔ ھدایت النحو ۔کافیہ ۔شرجامی ۔اصول الشاشی ۔نورالانوار وغیرہ کتابیں زبانی یاد کراے تھے حتی کہ کافیہ ۔ شرجامی سات سات مرتبہ پڑھاۓ
نظامی صاحب قبلہ فرمانے لگے کہ میں اپنی زندگی میں دو شخصیتوں سے بہت متاثر ہوا ایک تاجدار اہلسنت شہزادۀ اعلی حضرت سیدنا سرکار مفتئ اعظم قدس سرہ اور سلطان المناظرین سیدی سرکار مجاھد ملت قدس سرہ اور بیان کرتے ہوۓ انکھیں ڈبڈباگئیں انہیں دونوں بزرگوں کاذکر کرتے پاسبان ملت خطیب مشرق علامہ مشتاق احمد نظامی صاحب قبلہ ابدیدہ ہوجاتے
سرکار مجاھد ملت کی بارے میں فرماتے کہ اپ رئیس اعظم اڑیسہ تھے اپ کے پاس بہت زمینیں تھیں اکثر تو باہر ہی رشدوھدایات تبلیغ دین اور ترویج مسلک اعلی حضرت کے لیے سرگرعمل رہتے مگر جب اڑیسہ تشریف لے جاتے تو اپ گھوڑے پر سوار ہوکر اپنی زمینوں کا معاینہ فرمانے تشریف لے جاتے نظامی صاحب فرماتے ہیں کہ بسا اوقات سایکل سے زمین دیکھنے جاتے اور دیکھتا کہ پکڈنڈیوں پتلی میڑھوں پر بہت تیز سایکل چلاتے
جب دھام نگر بھدرک اور قرب جوار میں یہ خبر پھیلتی کہ سرکار مجاھد ملت تشریف لا چکے ہیں تو سارے فریادی اپنی اپنی حاجتیں لے کے پہونچتے حضور مجاھد ملت سب کی باتیں سنتے اور کی مدد فرماتے
کیا ذات تھی سرکار مجاھد ملت کی جہاں پہونچ گیۓ انجمن سج گیی جہاں بیٹھ گیے جلسہ کی شکل اختیار کرگیا چل دیے کاواں بن گیا اپ کی بزم میں بڑے علماء وفضلاء زانوۓ ادب تہ کیے ہوے دامن پھیلاے سوالی نظر اتے جہاں وہ سلسلۀ قادریہ کے عظیم شیخ طریقت ۔مرشد کامل ۔ولئ کامل باکرامت شیخ اکبر تھے وہیں وہ ملکی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے دین وسنیت پر ہونے والے ہر حملے کا جواب دینے عظیم مجاھد تھے مذہب وملت پر ہونے والے چھوٹے سےچھوٹے مسلہ پر گہری نگاہ رکھتے فورا علمائے کرام کی میٹنگ طلب کرتے اس کا جواپ لکھواتے اور مناسب محکمہ کو متنبہ فرماتے ڈر اورخوف سے بے نیاز ہوکر قوم ملت کی فلاح وبہبود کی خاطر حکومت وقت سے مرعوب ہوے بغیر ٹھوس فیصلہ لیتے یہی وجہ ہے کہ اپ اکٹر جیل میں ہوتے مگر اپ کے مجاھدانہ کردار وعمل سے حکوت تو خایف رہتی مگر مجاھد ملت کی ہمت وجرات میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا اپ اسی شان مجاھدانہ کے ساتھ جیل جاتے اور فاتح زمانہ بن جیل سے واپس اتے مجاھد ملت عظیم درویش صفت بزرگ ولئ کامل تھے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button