سبق آموز کہانیعجیب و غریب

حضرت امام زفر علیہ الرحمہ کا ایک دلچسپ واقعہ


امام زفر بڑے تیز ذہن کے مالک تھے اور وہ جانتے تھے کہ کسی فقہی مسئلہ کی اصل کیا ہے اور وہ مزاج شریعت سے کتنا قریب یا کتنا دور ہے ۔اس سلسلے میں ایک واقعہ بڑا دلچسپ ہے جو اس دور کی علمی فضا اور پھر امام زفر کا تینوں فقہا ئے کرام کے جوابوں کے مابین تقابل ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود کتنے فقہ شناس تھے ۔
ایک شخص امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے پاس آیا اور کہا کل رات میں نے نبیذ پی اور میں نہیں جانتا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی یا نہیں، امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے کہا وہ تمہاری بیوی ہے جب تک کہ تمہیں طلاق کا یقین نہ ہوجائے ۔پھر وہ شخص سفیان ثوری علیہ الرحمہ کے پاس آیا اور کہا اے عبد اللہ میں کل رات نبیذ پی اور میں نہیں جانتا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی یا نہیں ۔حضرت سفیان ثوری علیہ الرحمہ نے کہا اپنی بیوی سے رجوع کرلو اگر تم نے طلاق دی ہے تو اب وہ دوبارہ تمہاری بیوی ہوجائے گی اور اگر تم نے طلاق نہیں دی ہے تو تمہارے اس رجوع سے کچھ بگڑنے والا نہیں ہے ۔پھر وہ شخص شریک بن عبد اللہ علیہ الرحمہ کے پاس آیا اور وہی سوال دوہرایا آپ نے کہا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو اور پھر رجوع کرلو وہ شخص پھر امام زفر کے پاس آیا اور یہی مسئلہ دریافت کیا ۔
امام زفر علیہ الرحمہ نے پوچھا کیا تم کسی اور سے یہ مسئلہ پو چھا اس نے کہا ہاں امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ سے ۔امام زفر نےکہا پھر انہوں نے کیا بتایا ۔ اس شخص نے امام ابوحنیفہ کی بات دوہرادی ۔امام زفر نے کہا کہ انہوں نے صحیح بات بتائی پھر اس شخص سے پوچھا کہ اور کسی سے بھی پوچھا ہے اس نے حضرت سفیاں ثوری کا نام لیا ۔امام زفرنے پوچھا انہوں نے کیاکہا ہے ؟ اس نے ان کا جواب بتایا امام زفر نے کہا بہت اچھی بات کہی ۔انہوں نے پھر پوچھا کسی اورسے بھی مسئلہ دریافت کیا ہے ۔اس نے کہا ہاں شریک بن عبد اللہ سے ۔امام زفر نےکہا کہ انہوں نے کیا کہا ۔ اس نے ان کا قول دوہرایا ۔شریک بن عبد اللہ کا جواب سن کر امام زفر ہنس پڑے اور فرمایا میں تمہیں اس کی ایک مثال بتاتا ہوں ایک شخص کہیں سے گزر رہا تھا کہ نالے کا کچھ پانی اس کے کپڑے میں لگ گیا اور یہ معلوم نہیں کہ پانی پاک ہے یا ناپاک ۔تو اس صورت میں امام ابو حنیفہ تو کہتے ہیں کہ تمہارا کپڑا پاک ہے اور تمہاری نماز درست ہے جب تک کہ تمہیں یقین نہ ہوجائے کہ پانی ناپاک ہے ،حضرت سفیان ثوری کہتے ہیں کہ کپڑے کو دھولو اگر پانی ناپاک تھا تو اب کپڑا پاک ہوگیا اور اگر پہلے پاک تھا تو مزید پاک اور صاف ہوگیا اور شریک بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ اس کپڑے پر پیشاب کردو تاکہ نجاست کا یقین ہوجائے پھر اس کو دھو ۔
(لمحات النظر بحوالہ فیوضات رضویہ جلد اول ص۸۱ )

فقہائے کرام کے جوابات پر امام زفر علیہ الرحمہ کا دلچسپ تبصرہ بار بار پڑھئے اور لطف لیجئے اور یہ بھی سمجھئے کہ ہمارے بزرگان کے جوابات کی علمی گہرائی کس پیمانے کی رہی ہے۔ سبحان اللہ

پیشکش: محمد منصور عالم نوری مصباحی
دارالعلوم عظمت غریب نواز پوسد مہاراشٹرا

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button