امت مسلمہ کے حالات

مرتد ہوتی اسلامی بہنوں کا ذمہ دار کون؟

ملک عزیز ہندوستان اس وقت جس پر خطر دور سے گزر رہا ہے وہ آپ کے سامنے ہے، ہمارا ملک ہندتوا کے جس ایجنڈے پر عمل پیرا ہے وہ کسی چشم بینا سے مخفی نہیں ،منظم انداز میں مسلم بچیوں کے ذریعہ اسلامی تہذیب پر شب خون مارنے کی زبردست کوشش ہو رہی ہے بلکہ کوشش کامیاب ہوچکی ہے۔(ایک حیرت انگیز واقعہ آگے پیش کرتا ہوں آپ کے پیروں تلے زمین کھسنکنے لگے گی) پیسے اور دیگر وسائل کا بھر پور استعمال کیا جا رہا ہے، مسلم لڑکیوں کو ارتداد کی ناپاک چادر پہنانے کے لیے غیر مسلم لڑکوں کو باضابطہ تیار کیا جا رہا ہے، لو جہاد‘‘ کا جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے بالآخر جو کوششیں ہورہی تھیں اس کے بھیانک نتائج سامنے آنے لگے ہیں، لیکن اب تک جو کچھ بھی اس کے دفاع میں کیا جارہا ہے میرے معلومات کے مطابق مرض کی صحیح علاج نہیں ہو پا رہا ہے۔

واقعہ کیا ہے ؟؟

جی ہاں واقعہ اتر پردیش ریاست کے ضلع مہراج گنج (کولہوئی تھانہ حلقہ) کا ہے چنانچہ ایک ہندو نوجوان مسلم لڑکی سے نکاح کر رہا تھا، اور لڑکی کے گھر والے سمجھ رہے تھے کہ لڑکا مسلم ہے۔لیکِن جب نکاح پڑھانے والے مولانا کو شک ہوا اور انھوں نے جب تحقیق کی تو پتہ چلا کہ دولہا مسلم نہیں بلکہ ہندو ہے۔۔۔۔۔ظاہر ہے اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا-۔۔۔خبروں کے مطابق جب مولانا صاحب نکاح پڑھا رہے تھے تو دولہا کو عربی تلفظ کی ادائیگی میں کافی پریشانی ہو رہی تھی۔ وہ ٹھیک طرح سے عربی کلمات کا تلفظ ادا نہیں کر پا رہا تھا اور اٹک اٹک کر پڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔اس عمل سے مولانا کے ساتھ ساتھ وہاں موجود کچھ لوگوں کو بھی شبہ ہوا۔ جب اس لڑکے کی تلاشی لی گئی تو جیب سے ایک پین کارڈ نکلا جس میں تصویر تو دولہے کی ہی تھی لیکن اس کا نام غیر مسلموں سے مشابہ تھا یہ راز کھلتے ہی وہاں موجود لوگوں نے دولہے کی پٹائی شروع کر دی۔ دولہے کے ساتھ اس کے باراتی دوستوں کو بھی لوگوں نے پکڑ لیا اور سبھی کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

اس واقعہ سے تین سبق : (۱) نکاح سے پہلے دولہے کا خاندانی رشتےداروں کا اچھی طریقے سے تحقیق کریں کہ وہ کون لوگ ہیں ؟ (۲) نکاح پڑھانے والے علماء کی ذمےداری ہے کہ ہر حال میں نکاح پڑھانے سے قبل دولہے کی ڈاکومنٹس کی تفتیش کریں (۳) مولانا سمیت نکاح میں شامل لوگ بھی اُس دولہے کی کلمات پر ضرور توجہ دیں

بہر کیف! اس سلسلے میں سب سے پہلے مرض کی تشخیض ضروری ہے کہ بیماری کیا ہے؟ اور بیماری کہاں سے پیدا ہورہی ہے اور اس کا حل کیا ؟ اگر اس پہلو پرسنجیدہ کوشش نہیں کی گئی تو جلسے جلوس ، مسجد کے ممبر سے وعظ و نصیحت کی کثرت اور تحریروں کا یہ سیلاب اس بھیانک باندھ کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکےگا۔

اسباب :

کیا صرف غیر مسلم تنظیموں کی کوششوں سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے؟ کیا یہ سب کچھ دانستہ ہو رہا ہے ؟ میرا خیال ہے کہ مطلقاً ایسا نہیں ہے اور نہ ہی یہ چند دنوں یا چند سالوں کی محنت کا نتیجہ ہے؛ بلکہ یہ ہماری دیرپا غفلت اور حالات کی نزاکت سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے ، اب رہی بات اس مسئلے کا آغاز کہاں سے ہوتی ہے ؟ یقین جانیے یہ تعلیم گاہوں سے ہوتا ہے … اس کو آسان انداز میں اس طرح سمجھئے کہ ہماری بچی جب پڑھنے کے قابل ہوئی تو غیر مسلموں کے اسکولوں میں ہم نے اس کا داخلہ کرا دیا، پانچ سال کی عمر میں اس کے جو دوست اور کلاس ساتھی تھے ان کے نام ہیں شیام ، دیال ،رام پرساد، ونود،گنیش وغیرہ انہی ناموں سے ہماری بچی کی دوستی ہوئی اور انہی کے ساتھ اس نے کھیلنا سیکھا، کلاس میں جب اس کو مدد کی ضرورت پیش آئی تو اس نے انہی سے مدد طلب کی، اسی طرح اسکول کی تعلیم کی تکمیل کے ساتھ ہی وہ شعور کی عمر کو پہنچ گئی ، دوستی ، انسیت اور محبت جو انسان کی فطرت میں ودیعت ہے اور انسان جن کے ساتھ اور جن کے درمیان رہتا ہے ان سے غیر فطری طور پر محبت کرنے لگتا ہے

نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری بہن بیٹیاں بھی اسی گنیش/رام/شیام کی محبت میں گرفتار ہو گئی معاذ اللہ۔ پھر اس کی تعلیم اسکول سے کالج تک پہونچی اور انسیت و الفت کا یہ رشتہ دراز ہو کر محبت و مودت میں تبدیل ہو گیا اور اس سے آگے تعلیم کے بعد یہ دونوں ملازمت میں بھی ساتھ رہے اور اس طرح یہ رشتہ مضبوط ہوتا رہا اور بالآخر دونوں رشتہِ ازدواج میں بندھ گئے کبھی ایسا ہوا کہ لڑکی کی محبت غالب ہوئی اور غیر مسلم لڑکے نے اسلام قبول کر لیا اور کبھی ایسا کہ لڑکی نے اسلام کی چوکھٹ کو پھلاند کر ہندو ریتی رواج کے مطابق شادی کر لی۔یہ سب کچھ ایک طویل زمانے سے ہو رہا ہے لیکن اب ہندو انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے منظم انداز پر مسلم لڑکیوں کو ٹارگیٹ کر رہا ہے جیسا کہ مذکورہ بالا واقعہ سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔

علاج کیا ہے ؟؟

(۱) سب سے پہلے ہمیں اپنا تعلیمی نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے ، جہاں کہیں بھی بڑی مسلم آبادی ہو اور مسلمان معیشت میں مضبوط ہوں ان کو اپنے لڑکیوں کا معیاری اسکول یا مدرسہ قائم کرنے چاہیے اس کے ذریعہ ہم بہت آسانی سے اس طرح کے واقعات پر قابو پا سکتے ہیں اور اس طرح کے اسکول سے ہم اسلامی تہذیب و ثقافت کے فروغ کا بڑا کام بھی کر سکتے ہیں۔

(۲) جہاں مسلمان اپنے اسکول قائم نہیں کرسکتے ہیں وہاں اسکول کے ٹائم ٹیبل کو سامنے رکھ کر کم از کم دو گھنٹے کے لیے اسلامی کورس مرتب کرکے اسلامک اسکول قائم کیاجائے ،جس میں لازمی طور پر اسکول میں پڑھنے والی بچیوں کو داخلہ دلایا جائے ، بعض لوگ اپنے گھروں میں کسی حافظ یا عالم کو ٹیوشن کے لیے رکھتے ہیں اور اس کے ذریعہ اپنی بچی کو دینی تعلیم دلانے کی کوشش کرتے ہیں ظاہر ہے کہ یہ متبادل نہیں ہو سکتا ہے ، ماحول کا مقابلہ ماحول کے ذریعہ ہو سکتا ہے جس طرح اہتمام کے ساتھ لڑکیاں اسکول میں جاتی ہیں اسی طرح اہتمام کے ساتھ اسلامک مکتب یا اسلامک اسکول میں بھی جائیں تاکہ اسکول کی تعلیم کے ذریعہ ان کے دل و دماغ پر جو بے دینی کا غبار چھا گیا ہے اسلامک اسکول کے ماحول سے اس غبار کو ختم کیا جاسکے۔

(۳) اندر یہ احساس پیدا ہونا چاہیے کہ اپنی بچیوں کی تعلیم کے ذریعہ کچھ حاصل کرنے کے ساتھ بہت کچھ کھو رہے ہیں جب تک یہ احساس نہیں ہوگا اس وقت تک ہم کھوئے ہوئے احوال کا تدارک نہیں کر پائیں گے-

تمام والدین کو پیغام :

(۱) آپ اپنے بچوں کی دینی تعلیم کا انتظام کریں، لڑکوں اور لڑکیوں کے موبائل وغیرہ پر گہری نظر رکھیں اور بالخصوص لڑکیوں کو اسلامک گرلس اسکول (مدارس) میں پڑھانے کی کوشش کریں۔

(۲) اس بات کا اہتمام کریں کہ اسکول کے سوا اُن کے اوقات گھر سے باہر نہ گزریں، اور اُن کو سمجھائیں کہ ایک مسلمان کے لئے مسلمان ہی زندگی کا ساتھی ہو سکتا ہے اس کے برخلاف ناکامی ہے-

(۳) اس بات کی فکر کریں کہ لڑکیوں کی شادی میں تاخیر نہ ہو، بر وقت شادی ہو جائے، کیوں کہ شادی میں تاخیر بھی ایسے واقعات کا ایک بڑا سبب ہے۔ سادگی کے ساتھ نکاح کی تقریبات انجام دیں، اس میں برکت بھی ہے، نسل کی حفاظت بھی ہے اور اپنی قیمتی دولت کو برباد ہونے سے بچانا بھی ہے۔

علماء کرام کو پیغام :

(۱) گزارش کی جاتی ہے کہ علماء کرام عوامی جلسوں میں کثرت سے اس موضوع پر خطاب کریں اور لوگوں کو اس کے دنیوی واُخروی نقصانات سے آگاہ کریں۔

(۲) ائمہ مساجد جمعہ کے خطبات اور قرآن وحدیث کے دروس میں اس موضوع پر گفتگو کریں، اور لوگوں کو بتائیں کہ انہیں کس طرح اپنی لڑکیوں کی تربیت کرنی چاہئے کہ ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔

(۳) خواتین کے اجتماعات (آنلائن اور آف لائن) رکھے جائیں، اور اُن میں دوسرے اصلاحی موضوعات کے ساتھ ساتھ اس پہلو پر خصوصیت سے گفتگو کی جائے-

(۴) نکاح پڑھاتے وقت خصوصاً دولہے کا ضروری ڈاکومنٹس مثلاً آدھار کارڈ، پین کارڈ وغیرہ ضرور چیک کر لیں کہ کہیں وہ دولہا دھوکے سے شادی نہ کر رہے ہوں، گھر واپسی کے نام پر کہیں وہ ہندو نہ نکل آئیں۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اسلام اور احکام اسلام کے شجر ہائے سایہ دار کی پناہ کو لازم پکڑنے کی توفیق عطا فرمائے، اس کی پناہ کو عزیر از جان، مال و عیال سمجھنے کی توفیق بخشے اور بالخصوص ہماری بہن بیٹیوں کو اس بلا سے محفوظ فرمائے۔آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

از قلم :
محمد توصیف رضا قادری علیمی
الغزالی اکیڈمی واعلیٰحضرت مشن
شائع کردہ: 29/نومبر/2022

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button