علما و مشائخ

خواجہ گوھر الدین اویسی رحمہ اللہ؛ شخصیت و کردار و تعلیمات

حضرت خواجہ گوہر الدین اویسی رحمتہ اللہ تعالی علیہ جیندڑ شریف نزد کڑیانوالہ۔ بلند پایہ عالم دین،عالی المرتبت شیخ کامل اور فن طریقت کے شہسوار تھے۔افق ولایت کے مہر تاباں ،رشدو ھدایت کےنیر تاباں ۔مادر زاد ولی اللہ تھے۔ ظاہری طور پر تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ علم لدنی کے حامل تھے۔ آ پ فرماتے تھے کہ نبوت میری استاد ہے ۔اپ کی علمی و روحانی تربیت حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی ارواح مبارکہ نے فرمائی تھی ۔ آپ کو بلند پایہ نسبت اویسی حاصل تھی۔ آپ گجر برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ بچپن سے ہی والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا شفقت پدری و مدری سے محروم ہونے کی ایک حکمت یہ نظر آ تی ہے کہ بچپن سے ہی توکل علی اللہ کا سبق قدرت کی جانب سے سکھا دیا گیا تھا۔۔پاکیزہ بچپن سے ہی طبعیت میں غور وفکر ،خلوت پسندی،شرم وحیاو،غریب پروری،جودوسخاوالے اوصاف غالب تھے ۔بچپن میں زمینداری کے ساتھ ساتھ مویشی بھی چرایا کرتے تھے ۔

آپ فرماتے ہیں کہ”میں بچپن میں مویشیوں کو چرنے کے لیے چھوڑ دیتا تھا اور خود اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کرتا کہ یا اللہ تعالیٰ تو نے عبادت کے لئے مختلف مقامات پر عبادت خانے اور مساجد تیار کروائی ہیں میں تجھے ان سب عبادت خانوں اور مسجدوں کا واسطہ دے کر التجا کرتا ہوں کہ تو مجھے اپنی محبت سے سرشار فرمادے۔میرے دل میں تیری محبت کے سوا کسی چیز کی طلب نہ رہے۔جب تک زندہ رہوں میں تیرا ہی شیدا رہوں” عہد طفولیت،لڑکپن ،،عہد جوانی ،عہد پیری میں آ پ کی یہی کیفیت رہی ۔۔بچپن و لڑکپن آپ نماز پنج وقتہ کے پانبد تھے نیز تہجد،اشراق و چاشت اور اوابین کی نماز بھی باقاعدگی سے ادا فرماتے ۔اپ سے اگر نفلی نماز رہ جاتی تو اس کو بھی دوبارہ دوہراتے تھے ۔

آپ زیادہ وقت مساجد میں ہی گزارتے تھے۔شب بیداری اور نفلی روزوں کا بھی اہتمام فرماتے تھے۔ آپ خود قلیل الغذا بزرگ تھے مگر دوسروں کو عمدہ اور نفیس کھانے کھلاتے ۔اپ بہت زیادہ سخاوت اور مہمان نوازی فرماتے تھے ۔صالحین و مقبولان بارگاہِ الٰہی کے مزارات پر باقاعدگی سے حاضری دیتے تھے۔اپ فرماتے تھے میں بجز فاتحہ خوانی وہاں پر نہیں جاتا ۔ صرف مقبولان بارگاہِ الٰہی کے مزارات پر جاتا ہوں اس خیال سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور رحمت کے دروازے ہیں اور شاید مجھے بھی اس رحمت و معرفت سے کچھ حصہ مل جائے۔جس کی بارش ان مزارات پر ہوتی رہتی ہے” آپ صاحب کشف بزرگ تھے ۔گجرات کے علاقے میں انبیاء کرام علیہم السلام کے مزارات کی نہ صرف نشاندھی فرمائی بلکہ اپنی ذاتی گرہ سے عالی شان اور خوبصورت مزارات تعمیر کروائے ہر مزار شریف کے ساتھ ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر کروائی ۔

۔ سنت رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر لحاظ سے خیال رکھتے تھے ۔ہمیشہ باوضو رہتے تھے۔کسی چیز سے کھانے سے قبل اگر سر ننگا ہوتا تو ڈھانپ لیتے تھے ۔مسکینوں اور غریب لوگوں میں بیٹھ کر بہت خوشی محسوس کرتے تھے۔تھے۔قبلہ خواجہ صاحب ایک علم دوست شخصیت تھے جیندڑ شریف میں آ پ نے اپنی حیات میں جامعہ قائم کیا تھا میں حضرت علامہ قاضی محب النبی رحمۃ اللہ علیہ شیخ الجامعہ تھے حضرت علامہ مفتی عبدالقیوم ہزاروی بانی جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور رحمتہ اللہ علیہ۔حضرت سید غلام محی الدین شاہ صاحب سلطانپوری رحمۃ اللہ علیہ جامعہ رضویہ یہ راولپنڈی مولانا محبوب الرحمن مولانا محمد داؤد ٹیکسلا مولانا مقبول احمد مانسہرہ وغیرہ جیندڑشریف میں آپ کے قائم کردہ مدرسہ جیندڑ شریف میں تعلیم پاتے رہے۔ ۔شیخ القرآن حضرت علامہ مولانا عبدالغفور ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ اور سید عبدالشکور شاہ صاحب (سید زاھد صدیق شاہ صاحب بوکن شریف کےوالد محترم)بھی حضرت خواجہ گوہر الدین اویسی رحمتہ اللہ علیہ کے فیض یافتہ تھے

۔حضرت خواجہ گوھر الدین اویسی رحمتہ اللہ علیہ صاحب کشف بزرگ تھے۔ایک دفعہ حضرت علامہ عبدالغفور ہزاروی رحمۃاللہ علیہ نے حضرت خواجہ گوہر الدین اویسی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ حضور مجھے بھی کشف کی دولت دے دیں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا مولانا کشف کی دولت لے کر کیا کرو گے عرض کی حضور مردوں سے کلام کیا کروں گا آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا مولانا کسی کے عیب دیکھنے سے بہتر ہے کہ بندہ اپنے عیب دیکھے ۔میں آپ کو وہ طریقہ بتاتا ہوں کہ جس سے آپ اللہ تعالی سے کلام کیا کریں ۔حضرت شیخ القرآن عبدالغفور ہزاروی رحمۃاللہ علیہ بہت خوش ہوئے اور عرض کی کہ مجھے وہ طریقہ بتائیں کہ میں اللہ تعالی سے کلام کیا کروں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا مولانا جس وقت اللہ تعالی سے کلام کرنے کا ارادہ ہو وضو کرکے قرآن پاک کی تلاوت کر لیا کریں اللہ تعالی سے کلام ہو جائے گا۔جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کلام کرنے کا ارادہ ہو تو ہو تو حدیث مبارکہ پڑھ لیا کریں۔یو حضور نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے کلام کرنے کی سعادت مل جائے گی

۔ایک دفعہ سفر حج میں حضرت علامہ عبدالغفور ہزاروی صاحب رحمۃ اللہ علیہ حضرت خواجہ گو ہر الدین حمتہ اللہ تعالی علیہ کی معیت میں حرمین شریفین کی حاضری سے مشرف ہوئے۔مکہ شریف میں حاضری کا انداز بڑا نرالا تھا تھا جتنی دیر مکہ مکرمہ میں قیام رہا حضرت خواجہ گوہر الدین اویسی رحمتہ اللہ علیہ کی زبان اقدس پر درود وسلام کا وظیفہ جاری رہا۔اور جب مدینہ طیبہ حاضر ہوئے تو زبان پر اللہ تبارک و تعالی کی حمد وثنا اور تسبیح جاری رہی۔حضرت شیخ القران عبدالغفور ہزاروی رحمۃاللہ علیہ نے اس عمل کی وجہ پوچھی؟ تو حضرت خواجہ گوہر الدین اویسی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔یہ محبت کا معاملہ ہے۔ دونوں ذاتیں ایک دوسرے سے بہت زیادہ محبت کرتی ہیں اللہ تبارک و تعالی کےسامنے اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے تو اللہ پاک راضی ہوتا ہے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اللہ تعالی کا ذکر کیا جائے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوتے ہیں۔

حضرت خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالی اور اس کے رسول علیہ الصلاۃ والسلام کی اطاعت اور فرماں برداری میں گزرا آپ کے ارشادات کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں۔۔۔
1۔بیماری علاج سے چلی جاتی ہے لیکن عادت مرتے دم تک ساتھ رہتی ہے تمام اشیاء کی جڑیں گہری ہیں لیکن عادت کی جڑیں سب سے زیادہ گہری ہیں جب تک اللہ تعالی نہ اکھیڑ دیں۔
2۔آپ اکثر فرمایا کرتے تھے لوگوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہوش ہے جوش نہیں۔
3۔افسوس ہم ایسے دور میں پیدا ہوئے جس میں ہر مرید اپنے پیر کو وہ مقام دے رہا ہے جو مقام محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔۔
4۔معرفت الہی کو حاصل کرنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی سنت ہے۔
5۔جیسے وہ ہر لحاظ سے تیرا خدا ہے اسی طرح تو بھی ہر لحاظ سے اور ہر طرح سے اس کا بندہ ہوجا یہ عبودیت ہے ہے۔
6۔مقبولان بارگاہ الہی بڑے ہی خیرخواہ اور باوفا ہوتے ہیں جو شخص ان کی خدمت اقدس میں حاضر ہو وہ ہر طرح سے اس کی دلجوئی کرتے ہیں اور اللہ تعالی اپنے مقبول بندوں کی خدمت میں آنے والوں کی حاجت روائی کرتا ہے۔
7۔آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میری قبر کی مٹی سے بھی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی توحید کا درس ملے گا
۔8 ۔دنیا کا کوئی بھی انسان ان ان تین حالتوں سے نہیں بچ سکتا بیماری بڑھاپا اور موت اس لیے ہر انسان پر لازمی ہے کہ ان چیزوں کے آنے سے پہلے وہ کام کرے جس کے لئے اس سے بہشت کا وعدہ کیا گیا ہے ۔

  1. لوگوں کی تکلیفوں پر صبر کرنا مردوں کا طریقہ ہے اور لوگوں کی تکلیف کے بدلے ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا جواں مردوں کا طریقہ ہے۔
    10۔

آپ کا عرس مبارک ہر سال 5جمادی الاول کو جیندڑ شریف میں پورے تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوتا ہے ۔ پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ قبلہ حضرت خواجہ گوہر الدین احمد اویسی رحمتہ اللہ علیہ کی روح مبارکہ کو فاتحہ شریف پڑھ کر ایصال ثواب کردیں ۔
نوٹ یہ مضمون ۔میاں کاشف محمود گوہر صاحب اور میاں ارشد محمود گوہر صاحب کی بیان کردہ معلومات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے یہ دونوں بھائی حضرت خواجہ گوہر الدین احمد اویسی رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد مجاد میں سے ہیں۔ اور حیات ہیں خداوند متعال ان کو درازی عمر بالخیر عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔

ازقلم: ڈاکٹر محمد رضا المصطفی قادری، کڑیانوالہ
00923444650892-واٹس۔ اپ نمبر

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button