نبی کریمﷺ

بنے دو جہاں تمھارے لیے

ازقلم: محمد علاؤ الدین قادری رضوی
صدر افتا: محکمہ شرعیہ سنی دارالافتا والقضا میراروڈ ممبئی

اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عطا سے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو شان و عظمت ہے ا س کامکمل بیا ن خلق خدا کی زبان سے ممکن نہیں سرکار علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی مدح و ثنا صاحب قرآن کو ہی زیب ہے کہ وہ خالق حقیقی ہے یہی وجہ ہے کہ اس نے حضرت سیدنا آدم علیہ السلام اور ساری مخلوق کو آپ ہی کے لئے پیدا کیا ہے ۔ (مواھب لدنیہ ،۲؍۲۷۱؍سیر ت حلبیہ ، ۳؍۴۲۲)

اے رضا خو د صاحب قرآں ہے مداح حضور
تجھ سے کب ممکن ہے پھرمد حت رسول اللہ کی
امام شر ف الدین محمد بن سعید بو صیری ر حمتہ اللہ علیہ اپنے مشہو ر زما نہ قصیدہ بر دہ شر یف میں فر ما تے ہیں :
وکیف تدعوا لیٰ الد نیا ضرورۃ من
لو لا ہ لم تخرج الد نیا من العدم

اور دنیا کی ضرورت اس مبا رک ہستی کو اپنی طر ف کیسے بلا سکتی ہیں کہ اگر وہ نہ وہو تے تو دنیا عد م سے وجود میں آتی ہی نہیں ۔
احناف کے جید عالم دین حضرت علامہ سید عمر بن احمد آفندی حنفی علیہ الر حمہ مذکورہ شعر کی شر ح میں لکھتے ہیں :کہ شعر میں اس حد یث قدسی کی طر ف اشارہ ہے :لو لا ک لما خلقت الافلاک ۔یعنی اگر آپ نہ ہو تے تو میں آسمانو ں کو پید ا نہ فر ما تا ۔ یہا ں آسمانو ں سے مراد دنیا کی ہر وہ چیز ہے جو دنیا میں مو جو د ہے یہا ں جز بول کر کل مراد لیا گیا ہے ۔ محدثین میں سے بعض نے رواۃ حد یث کو ضعف سے تعبیر کیا ہے لیکن اس کے معنی کو صحیح قرار دیتے ہیں یعنی مذکورہ حد یث معنا صحیح ہے ۔ شب معراج جب سر کا ر دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر پہنچے تو اللہ سبحا نہ وتعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو گئے اس وقت محبوب ومحب میں جو با ت ہو ئی وہ گفتگو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان فیض ترجمان سے ملا حظہ فر ما ئیں ارشاد رب ہوا :انا وانت وما سویٰ ذالک خلقتہ لاجلک ۔ یعنی اے میرے محبوب !میں ہو ں اور تم ہو ، اس کے سواجو کچھ ہے وہ سب میں نے تمہا رے لئے پیدا کیا ہے ۔جواب میں اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خالق کی بارگاہ میں عرض کیا :انا وانت وما سویٰ ذالک ترکتہ لاجلک ۔یعنی اے میرے مالک ! میں ہوں اور تیری ذات پاک ہے ، اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ سب میں نے تیرے لئے چھوڑ دیا ۔
امام بو صیری ر حمتہ اللہ علیہ کے اس شعر سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ دنیا ر حمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے تا بع ہے ،یہ دنیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ر ضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے لئے بنا ئی گئی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ مبا رک ہستیاں دنیا کے مطیع ہو جا ئیں یا دنیاوی خواہشات ان پر غا لب آجا ئیں ۔
(عصیدۃالشہدۃ شر ح قصیدۃ البر دۃ ، ۱۱۸)
مذکورہ بالا حد یث لولاک کی مختصر تو ضیح اور محد ثین عظام کی روایت کر نے میں جو الفا ظ کے فر ق آئے ہیں وہ یہا ں در ج کئے جا رہے ہیں تا کہ آپ ان تمام مر ویا ت کو بآسانی سمجھ سکیں ،حدیث لو لاک کے اصلی الفا ظ ملا حظہ ہو ں !
حد یث آدم علیہ السلام کے الفا ظ یو ں ہیں :لولا محمد ما خلقتک ۔
تر جمہ :اے آدم ! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا نہ کر تا تو میں تمہیں پیدا نہ کر تا ۔
حد یث عیسیٰ علیہ السلام کے الفا ظ یو ں ہیں :لو لا محمد ما خلقت الجنۃ ولا لنار۔
تر جمہ :اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا نہ کر تا تو میں جنت و دوزخ کو پیدا نہ کر تا۔
حد یث جبر ئیل علیہ السلام کے الفا ظ یو ں ہیں : لو لا ک ما خلقت الدنیا ۔
تر جمہ :اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !اگر آپ کو پیدا کر نا مقصود نہ ہو تا تو میں دنیا کو پیدا نہ کر تا ۔
حد یث ابن عبا س ر ضی اللہ عنہ کے الفاظ یو ں ہیں :لو لا ک ما خلقت الجنۃ ولولاک ما خلقت الدنیا والنار ۔
تر جمہ : اے محبوب ! اگر آپ کو پیدا نہ کر تا تو میں جنت کو پید نہ کر تا اور اگر آپ کو پیدا کر نا مقصود نہ ہو تا تو میں دنیا اور دوزخ کو پیدا نہ کر تا ۔
حدیث علی رضی اللہ عنہ کے الفا ظ یو ں ہیں :لولا ک ما خلقت ارضی ولا سمائی ، ولا رفعت ھذہ الخضراء ،بسطت ھذہ الغبراء ۔
تر جمہ: اے محبوب ! اگر آپ کو پیدا کر نا مقصود نہ ہو تا تو میں اپنی زمین وآسمان کوپیدا نہ کر تا اور نہ میں آسمان کو بلند کر تا اور نہ زمین کو پھیلا تا ۔
و ضا حت : متن حدیث میں کہیں بھی افلاک کا لفظ نہیں ہے اسی لئے بعض محد ثین نے اسے مو ضو ع کہا ہے لیکن محد ثین کی ایک بڑی جما عت نے اس حد یث کے معانی کو صحیح قرار دیا ہے گو معلوم ہوا کہ حد یث کا مفہو م ومقصود اپنے صحیح معنیٰ پر ہے ۔
ذیل میں حد یث لو لاک کے قائلین محد ثین اور علما کے نو ر اعلی نور اقوال نقل کئے جا رہے ہیں جسے پڑ ھ کر آپ شاد کام ضرور ہوں گے ۔
امام اعظم سیدنا ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمتہ اللہ علیہ اپنے قصیدہ نعتیہ میں حضور کی مدح سرائی ان الفاظ میں کرتے ہیں :
انت الذی لولاک ماخلق امرء
کلا ولا خلق الوریٰ لو لاک

ترجمہ : اے محبوب !آپ کی ذات وہ ذات ہے کہ اگر آپ نہ ہو تے کو ئی شخص پیدا نہ کیا جاتا ،ہاں ہاں ! اگر آپ نہ ہو تے تو تمام مخلوق پیدا نہ ہوتی ۔ (شعر نمبر:۴ )
امام ابن جوزی اپنی کتا ب مولدالعروس میں لکھتے ہیں :فقال اللہ تعالیٰ :تأدب یا قلم او عزتی وجلالی لا لو محمد ما خلقت احدا من خلقی
تر جمہ : اللہ تعالیٰ نے فر ما یا :اے قلم ! ادب کر ، مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )نہ ہو تے تو میں اپنی مخلوق سے کسی کو پیدا نہ کر تا ۔
(مولد العروس ،ص۱۶)
مو لا نا روم علیہ الرحمۃ حدیث لو لاک کی تشریح میں لکھتے ہیں :
با محمد بودعشق پاک جفت
بہر عشق اورا خدا لولاک گفت
منتہی در عشق چوں اوبود فرد
پس مراوراازانبیا تخصیص کرد
گر نبود ے بہر عشق پاک را
کے وجود ے دادمے افلاک را
تر جمہ :یہ محمد سے مقدس عشق ہی ہے کہ اللہ نے آپ کے بار ے میں لولاک فر مایا ۔
آپ منتہائے عشق اور یکتہ تھے تو جماعت انبیا میں سے آپ کو خا ص کر لیا گیا۔
اگر آپ پاک عشق کے لئے نہ ہو تے تو میں آسمان کو وجود کب عطا کر تا ۔
(مثنوی شریف ، دفتر پنجم ، ص ۲۷۷)
امام ربا نی مجدد الف ثانی حضر ت شیخ احمد سر ہندی رحمتہ اللہ علیہ فر ما تے ہیں :
لو لا ہ لما خلق اللہ سبحا نہ الخلق ولما اظہر الر بوبیۃ ۔
تر جمہ :اگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات نہ ہو تی تو حق سبحانہ وتعالیٰ خلقت کو کبھی پیدا نہ فر ما تا اور اپنی ربو بیت کو ظاہر نہ فر ما تا ۔ (مکتوب ،۴۴:دفتر اول )
شیخ اکمل بہقی وقت قاضی محمد ثنا ء اللہ عثمانی حنفی لکھتے ہیں :
لو لا ک لما خلقت الافلاک ولما اظہر ت الربوبیۃ خص النبی صلی اللہ علیہ وسلم
تر جمہ : حد یث قد سی میں ہے کہ اے محبوب ! اگر تم کو پیدا کر نا نہ ہو تا تو میں افلاک کو پیدا نہ کر تا اپنے ربوبیت کا اظہار نہ کر تا ۔
(التفسیر المظہری ، ج ۱۰، ۳۰۳)
حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
تو اصل وجود آمدی از نہ نخست
دیگر ہر چہ مو جو د شد فر ع تست
ندانم کدا مے سخن گویمت
کہ والا تری زانچہ من گویمت
ترا عز لولاک تمکین بس است
نثائے تو طہٰ و یسین بس است
ترجمہ : تو سب سے پہلے مخلوق کی جڑ تھی ، اور دوسرا جو کچھ موجود ہے وہ تیری شاخ ہے ،میں نہیں جانتا کہ آپ کی شان میں کیا کہوں،کیونکہ جو کچھ میں کہوں آپ اس سے بالا تر ہیں ، آپ کے واسطے لولاک کی عزت و قعت ، اور آپ کی تعریف طہٰ و یاسین کافی ہے ۔ (بوستا ن، در نعت سر کا ر علیہ افضل الصلوٰۃ ، ص۷)
حضرت شاہ محد ث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ حدیث لولاک کے بارے میں تئیسواں مشاہدہ میں فرماتے ہیں :
میں دیکھا کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طر ف اللہ تعالیٰ کی ایک خا ص نظر ہے ، اور گو یا یہی وہ نظر جو حاصل مقصود ہے ، آپ کے حق میں اللہ تعالیٰ کے اس قول کا فرمانا ’’لو لاک لما خلقت الافلاک ‘‘ (اگر آپ نہ ہو تے تو میں افلاک کو پید اہی نہ کر تا )یہ معلوم کر نے کے لئے میر ے دل میں اس نظر کے لئے بڑا شتیاق پیدا ہوا ، اور مجھے اس نظر سے محبت ہو گئی ، چنا نچہ اس سے یہ ہوا کہ میں آپ کی ذات اقدس سے متصل ہوا ، اور آپ کا اس طرح سے طفیلی بن گیا جیسے جو ہر کا عرض طفیلی ہو تا ہے ، غر ضیکہ میں اس نظر کی طرف متو جہ ہوا ، اور میں نے اس کی حقیقت معلوم کرنی چاہی ، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں خو د اس نظر کا محل توجہ اور مرکز بن گیا ، اس کے بعد میں نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ نظر خا ص اس کے ارادۂ ظہور سے عبارت ہے ، اور اس سلسلے میں ہو تا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی شان کو ظاہر کر نے کا ارادہ کر تا ہے وہ اس شان کو پسند کر تا ہے اور اس پر اپنی نظر ڈالتا ہے ۔ اب صورت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ایک فر د واحد کی شان نہیں ، بلکہ آپ کی شان عبارت ہے ایک عام مبد أ ظہور سے جو عام بنی نوع انسان کے قوالب پر پھیلا ہوا ہے، اور اس طر ح بنی نوع کی حیثیت ایک اور مبدأ ظہور کی ہے جو تمام موجودات پر حاوی ہے ، اس سے ثا بت ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کل مو جودات کی غا یت الغایت اور ظہور وجود کے نقاط کا آخری نقطہ ہیں ، چنا نچہ سمند رکی ہر مو ج کی حر کت اسی لئے ہے کہ آپ تک پہنچے ، اور ہر سیلا ب کو یہی شو ق سمایا ہوا ہے کہ آپ تک اس کی رسائی ہو ، تمہیں چا ہئے کہ اس مسئلہ میں خو ب غورو تدبر کرو ، واقعہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ بڑا ہی دقیق ہے ۔
(فیوض الحرمین اردو ، تئیسواں مشاہدہ ، ص ۱۸۷؍۱۸۸)
قا طع شر ک وبد عت رئیس الاسلام والمسلمین اما م اہل سنت اعلیٰ حضرت الحا ج الشاہ مفتی احمد ر ضا خا ں فا ضل بر یلو ی ر حمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں :یہ ضرور صحیح ہے کہ اللہ عز وجل نے تما م جہا ن حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے بنا یا اگر حضور نہ ہو تے تو کچھ نہ ہو تا ۔یہ مضمون احا دیث کثیر ہ سے ثا بت ہے جن کا بیا ن ہما رے رسالہ ’’ تلأ لؤالافلاک بجلال احادیث لو لاک ‘‘ میں ہے ۔خدائی (یعنی مخلوق)کی پیدا ئش بطفیل حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہے ۔حضور نہ ہو تے تو کچھ نہ ہو تا ، حضور تخم وجو د و اصل مو جو د ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔حضرت حق عزجلالہ نے تمام جہا ن کو حضور پر نو ر محبوب اکر م صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے واسطے ، حضور کے صدقے ، حضور کے طفیل میں ہا ں ہا ں لا واللہ ثم باللہ ایک دفع بلا و حصول عطا کیا تما م جہا ن اور اس کا قیا م سب انہیں کے دم قدم سے ہے ۔عالم جس طر ح ابتدائے آفرینش میں ان کا محتا ج تھا ، یو نہی بقا میں بھی ان کا محتا ج ہے ۔آج اگر ان کاقدم درمیان سے نکال لے ابھی ابھی فنا ئے مطلق ہو جا ئے ۔
اس میں اہل ایما ن کو ہر گز ہر گز ترددنہیں کہ حضور نبی اکرم نور مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وجہہ تخلیق کا ئنا ت ہیں جن لو گو ں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ’’قلم‘‘ کو تخلیق اول قرار دیتے ہیں اور حدیث قلم و عر ش پر صحیح اسناد کو دلیل بناتے ہیں انہیں محد ثین سے اگر پو چھ لیا جا ئے کہ خلق خدا میں سب سے افضل و اعلیٰ ذات کو ن ہے ۔؟تو یقین جا نے وہ بغلیں جھانکنا شر وع کر دیں گے ۔وہ بعض علما جو قلم اور عر ش کو خلق خدا میں اول مانتے ہیں وہ شاید اس با ت کو بھو ل جا تے ہیں کہ’’ انوار‘‘ میں سب سے پہلے اگر کسی کے نو ر کا ظہور ہوا ہے تو وہ نو ر محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہے یہ با ت ہر کس و ناکس پر واضح ہے کہ جسماً نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام انبیا ئے کرام علیہم السلام کے بعد عالم فانی میں حضرت عبد اللہ کے گھر پید ا ہو ئے لیکن نو ر محمدی کا ظہور تما م خلق سے پہلے ہے ۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولیت پر اگر سب سے زیادہ کسی کے پیٹ میں درد ہو تا ہے تو وہ علما ئے اہل حد یث (غیر مقلد ین)کی جما عت ہے اور وہ اس مسئلہ میں تنہا نہیں ہے بلکہ ان کے ہم نوا علما ئے دیوبند بھی کم نہیں کہ ان حضرات کا منشا ہی یہ ہو تا ہے کہ کسی طر ح نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کی کما لا ت و صفات میں تنقیص کا کو ئی پہلو ڈھو نڈ نکالا جا ئے اور وہ اس کو شش میں کبھی تو فرنگیو ں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں لیکن میں یہا ں انہیں کے علما کی کتا بو ں سے ثا بت
کروں گا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق خلق میں سب سے پہلے اور مقدم ہے ۔
غیر مقلد کے بڑے عالم مو لوی سید ممتاز علی ولد سید محمد اعجاز علی صا حب بھو پالی سر رشتدار محکمہ مجسٹریٹی ر یاست بھو پا ل لکھتے ہیں :
زمین و زما ں ، میکن و مکا ں شمس وقمر و اختر و شام و سحر ،کو ہ کاہ از ما ہی تاماہ بطفیل وجود با وجود حضور طہٰ و یس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہور میں آئے ۔وللہ الحمد
(معجزۂ راز تحفہ ممتاز ، ص ۱۶)
یہی صا حب نظم میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خلقت اول کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
وہ ہے کون، یعنی رسول کریم
اشارے سے جس کے ہوامہ دونیم
اگر اس کو پیدا نہ کرتا خدا
نہ ہوتا وجود زمین وسما
اس کے لئے ہے نزول قرآن
اسی کے سبب خلقت انس و جان
(معجزۂ راز تحفہ ممتاز ، ص ۱۴)
غیر مقلد کے مشہور مولوی جناب وحیدالزماں صاحب کے بھی چند اشعار یہاں نقل کئے دیتا ہوں کہ آپ قارئین غیر مقلدوں کے بیان و تحریر میں کس طرح تضاد ہے اس سے بخوبی واقف ہو جائیں کہ ان کے اسناد کے امام اعظم مولوی ناصر الدین البانی ’’حد یث لو لا ک ‘‘کو ضعیف قرار دیتے ہیں لیکن ان کے متبع حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’شہ لولاک ‘‘سے یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
رات دن یہ التجا ہے اس دل غمناک کی
دے مجھے اپنی محبت اور شہ لو لاک کی
یا الہٰی مجھ کو پہنچادے مدینہ پاک میں
خاک ہوکے جاپڑوں کوئے شہ لولاک میں
(وظیفہ نبی با ورادالوحید ، ص ۹۴؍۹۵)
غیر مقلد کے بہت ہی مشہور عالم جسے دنیا نواب صدیق حسن خان بھو پالی کے نا م سے جانتی ہے انہیں بھی یہ اعتراف ہے کہ یوم میثاق سب سے پہلے ’’الست بربکم ‘‘کے جواب میں بلیٰ کہنے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں جمیع مخلوقات کی تخلیق آپ ہی کے لئے ہو ئی عر ش پر آپ ہی کانام کندہ ہے آسمان اور جنت میں جتنے ملائکہ ہیں وہ ہر ساعت آپ ہی کا ذکر کرتے ہیں مگر یہی وہ تمام با تیں مسلمانو ں کی عام مجلسوں میں بتاتے ہو ئے غیر مقلد کے مولویو ں کو شر م آتی ہے یہا ں ان کی ہی کتاب سے یہ عبا رت نقل کی جارہی ہے پڑ ھیں اور حضورکی اولیت کا نو ر ہر سو عام کریں ! وہ لکھتے ہیں :
سب سے پہلے آپ ہی سے میثا ق لیا گیا اور سب سے پہلے آپ ہی نے الست بر بکم کے جواب میں بلیٰ کہا اور آدم وہ جمیع مخلو قات آپ کے لئے پیداہوئے اور آپ کا نام عر ش پر لکھا گیا اور ہر آسمان و جنت میں بلکہ سائرے ملکوت میں اور ملا ئکہ ہر ساعت آپ کا ذکر کرتے ہیں ۔ (الشما مۃ العنبریہ ، ص ۴۰)
سلفی گروہ کے ایک بڑے اور نامور شاعرو ادیب مو لوی ظفر علی خان حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے تما م مخلوقات کی تخلیق کا قائل ہیں جن کے یہا ں آج بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا مانگنا شر ک اعظم ہے اب قارئین ہی فیصلہ کر یں کہ ’’واسطے اور وسیلے ‘‘میں کیا فر ق ہے جنا ب نے اپنے حواریو ں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔وہ لکھتے ہیں :
سب کچھ تمہا رے واسطے پیدا کیا گیا
سب غائتوں کی غائت اولیٰ تم ہی تو ہو
(کلیا ت ، حسیات ، ص ۱۰)
عقیدتاًسلفیو ں کے بڑے بھا ئی علما ئے دیوبند کے آرا بھی جا نتے ہیں کہ انہو ں نے ہما رے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مقصود کا ئنا ت اور خلق خد ا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق ہو نے میں اولیت کے قائل ہیں یا نہیں تو دیوبند کے کچھ علما حضور نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کو اول ، آخر ، ظاہر و با طن تسلیم کر تے ہیں بلکہ آپ کی اولیت کو تمام مخلوقات کی تخلیق سے پہلے لکھتے ہیں یہی نہیں لو ح و قلم کا وجود بھی تخلیق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہی مانتے ہیں دیوبند کے مشہو ر خطیب مو لوی منیر احمد معاویہ لکھتے ہیں :
ہما رے نبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سید ولد آدم فخر رسل افضل الرسل امام الانبیا خا تم الانبیا حضر ت محمد ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقصود کا ئنا ت ہیں ۔ کیو ں ؟ لو لاک لما خلقت الافلاک ۔اس حد یث کا معنی صحیح ہے ۔(خیر الفتاویٰ)
اگر آپ کو پیدا کر نا مقصود نہ ہو تا تو کا ئنا ت کی کو ئی چیز نہ ہوتی ، نہ زمین ہو تی ، نہ آسما ن ہو تے ، نہ ستارے ہو تے ، ،نہ چاند ہو تا، نہ سورج ہو تا ، نہ ہوا ہو تی ، نہ فضا ہو تی ، نہ دریا ہو تے ، نہ سمندر ہو تے ، نہ پہاڑ ہو تے ، نہ پرندے ہو تے ، نہ چر ند ے ہو تے ، نہ درندے ہو تے ،نہ ذر ے ہوتے ، نہ قطر ے ہو تے ، نہ نبا تا ت ہو تے ، نہ جمادات ہو تے ، نہ عر ش ہو تا ، نہ کر سی ہو تی ،نہ لو ح ہو تا ، نہ قلم ہو تا ، نہ آدم ہو تے ، نہ شیش ہو تے ، نہ نو ح ہو تے ، نہ ہو د ہو تے ، نہ صالح ہو تے ، نہ یو نس ہو تے ، نہ ایوب ہو تے ، نہ یعقوب ہو تے ، نہ یو سف ہو تے ، نہ ادریس ہو تے ، نہ ابراہیم ہو تے ، نہ اسمعیل ہو تے ، نہ اسحا ق ہو تے ، نہ موسیٰ ہو تے ، اور نہ زمین و آسمان کی کوئی چیز ہو تی۔
کتاب فطرت کے سر ورق پر جو نا م احمد رقم نہ ہو تا
تو نقش ہستی ابھر نہ سکتا وجود لو ح و قلم نہ ہو تا
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات : ھوالاول والآخر والظاہر والباطن ۔(سورۃ الحدید ، ۳ )
جس طر ح اول ، آخر ، ظاہر و باطن ، یہ اللہ تعالیٰ کی صفتیں ہیں اسی طر ح اول آخر ظاہر ، با طن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی صفتیں ہیںاس لئے کہ حضور اول ہیں اور بعثت میں آخر ہیں ، حضور ظاہر ہیں کہ ہر چیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتی ہے ، حضور با طن ہیں کہ باطن میں کمالات رکھنے والے ہیں ۔ (مدراج النبوۃ )
(خطبات منیر ،ص۱۳۷؍۱۳۸)
کراچی پاکستان کے مشہو ر دیوبندی عالم مفتی محمد شفیع کے بیٹے جناب محمد زکی کیفی حدیث لولاک کا ذکر واقعہ معراج کے اشعار میں یوں کر تے ہیں :
سانس لینے کی فر شتوں کو جہاں تاب نہیں
کون یہ محو تکلم ہے وہاں آج کی رات
آج ہے مثردۂ لولاک لما کی تفسیر
قربت خاص میں ہیں سرور جہاں آج کی رات
(کیفیات ، ص ، ۴۷؍از محمد زکی کیفی، مطبوعہ ، ادارۂ اسلامیات نار کلی لاہور )
دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتمم قاری محمد طیب صاحب دیوبندی لکھتے ہیں :
طبعی طور پر آفتاب کے سلسلہ میں سب سے پہلے اس کا وجود اور خلقت ہے جس سے اسے اپنے سے متعلقہ مقاصد کی تکمیل کا موقع ملتا ہے ۔ اگر وہ پیدا نہ کیا جا تا تو عالم میں چاندنی اور روشنی کا وجود ہی نہ ہو تا اور کو ئی بھی دنیا کو نہ پہچانتا ، گو یا اس کے نہ آنے کی صورت میں نہ صرف یہی کہ وہ خو د ہی نہ پہچا نا جا تا بلکہ دنیا کی کو ئی چیز بھی نہ پہچانی جا تی ۔ ٹھیک اسی طر ح اس روحا نی آفتا ب (آفتاب نبو ت )کے سلسلہ میں بھی اولاً حضور کی پیدائش ہے اور آپ کا اس نا سوتی عالم میں تشریف لانا ہے ۔اس کو ہم اصطلاحاً ولادت با سعادت یا میلاد شر یف کہتے ہیں ۔اگر آپ دنیا میں تشریف نہ لا تے تو صرف یہی کہ آپ نہ پہچانے جا تے بلکہ عالم کی کو ئی چیز بھی اپنی غر ض و غایت کے لحا ظ سے نہ پہچانی جا تی ۔ محمد نہ ہو تے تو کچھ بھی نہ ہو تا ۔ پس جو در جہ علوی آفتا ب میں خلقت کہلاتا ہے اسی کو ہم نے رو حانی آفتاب میں ولادت کہا ہے ۔
(آفتاب نبوت ، ص ۴ ۱۲؍۱۲۵)
یہاں قاری محمد طیب صاحب اپنی بات کہنے میں تھوڑی لچک ، تردد اور خوف سے کام لیا ہے اور حدیث لو لاک کی توضیح و تشریح کر نے میں وہ تیزی نہ لاسکے جو ان کے بڑوں نے حد یث لولاک کی تشریح کر گئے کہا ں آفتا ب سماوی اور کہا ں آفتا ب نبوی ان دونو ں میں تمثیل کی گنجائش کہا ں گو دو نو ں نو ری ہیں لیکن آفتا ب سما وی کا جو نو ر ہے وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے واسطے سے ہے ۔دیوبند کے ہی نا شر و مبلغ جناب حمید صدیقی لکھنوی حد یث لولاک پر معنی خیز شعر کہتے ہیں کہ :
شاہ لولاک و خواجہ کونین
محترم محتشم سلام علیک
(نعت نمبر :ص ۷۳۲، حصہ اول ، ماہنامہ الرشید لاہور )
فر قہ دیوبند کے بہت بڑے محد ث و مفتی مو لانا سید حسین احمد مدنی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جملہ کمالات عالم عالمیان ، حدیث لولاک اور اول ما خلق اللہ نوری کا اعتراف ان الفاظ میں کر تے ہیں :
ہمارے حضرات اکابر کے اقوال عقائد کو ملاحظہ فر ما ئیے ۔ یہ جملہ حضرات ذات حضور پر نور علیہ السلام کو ہمیشہ سے اور ہمیشہ تک واسطہ فیو ضات الٰہیہ و میزاب ر حمت غیر متنا ہیہ اعتقاد کئے ہو ئے بیٹھے ہیں ، ان کا عقیدہ یہ ہے ازل سے ابد تک جو جورحمتیں عالم پر ہو ئی ہیں اور ہو ں گی عام ہے کہ وہ نعمت وجو د کی ہو یا اور کسی قسم کی ان سب میں آپ کی ذات پاک ایسی طر ح پر واقع ہو ئی ہے کہ جسیے آفتاب سے نو ر چاند میںآیا ہو اور چاند سے نو ر ہزاروں آئینوں میں ، غر ض کہ حقیقت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام والتحیتہ واسطہ جملہ کمالات عالم و عالمیان ہیں ۔ یہی معنی لولاک لما خلقت الافلاک اور اول ما خلق اللہ نوری اور انا نبی الانبیاء وغیرہ کے ہیں ۔ (الشہاب الثاقب ، ص ۲۳۶)
حدیث لولاک کی صحت پر سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے دو شعر ملاحظہ فرمائیں :
لولا ک ذرہ زجہاں محمد است
سبحان من یرا ہ چہ شا ن محمد است
سیپا رۂ کلا م الٰہی خدا گواہ !
آں ہم عبارتے ز زبان محمد است
تر جمہ : یہ حدیث ’’لولاک ‘‘ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جہا ن کا ایک ذرہ ہے ،اللہ ہی کی وہ ذات پا ک ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو جانتی ہے ،کہ آپ کی شان کیا ہے ۔
خدا گواہ ہے کہ کلام الٰہی کے تیسوں سپا رے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نطق اقدس سے ہی ظاہر ہر نے والی عبا رت ہیں ۔
(نعت نمبر : حصہ اول ، ص ۴۱۳، ماہنامہ الرشید لاہور )
دارالعلوم دیوبند کے بانی مو لا نا قاسم نا ناتوی لکھتے ہیں :
جو تو اسے نہ بناتا تو سارے عالم کو
نصیب ہو تی نہ دولت وجود کی زنہار
طفیل آپ کے ہیں کا ئنا ت کی ہستی
بجا ہے کہیے اگر تم کو مبد أ الآثا ر
لگاتا ہاتھ نہ پتلا کو ابو البشر کے خدا
اگر ظہور نہ ہوتا تمہارا آخر کار
(قصیدۂ بہاریہ ، ص ۱۲)
دوسری جگہ قصائد قاسمی میں مولانا محمد قاسم ناناتوی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو’’ نور خدا ‘‘ لکھتے ہیں :
رہا جمال پہ تیرے حجاب بشریت
نجانا کو ن ہے کچھ بھی کسی نے بجز ستار
کہا ں وہ رتبہ کہا ں عقل نارسااپنی
کہا ں وہ نور خدا اور کہاں یہ دیدہ زار
(قصائد قاسمی ، بحوالہ تبلیغی نصاب ، فضائل درود شر یف ،ص۱۲۴)
آخرمیں اس پرنور موضوع پر دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ بھی ملاحظہ کرلیں !
یہ بات قر آن میں نہیں ہے ، البتہ حدیث قدسی میں اس طرح کی بات ملتی ہے کہ آپ نہ ہو تے تو زمین و آسمان کو اور اس پوری کائنات کو پیدا نہ کرتا ، ساری کائنات آپ ہی کی وجہ سے اللہ نے پیدا فرمائی ہے ، ظاہری الفاظ کے متعلق بعض حضرات نے حد یث کو موضوع بتایا ہے مگر بالمعنی یہ حدیث صحیح ہے ۔ (فتویٰ دارالعلوم دیوبند ،جواب نمبر :۱۵۹۸۰۸)
حضرت ابو ہریرہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فیصلہ کن خبر :
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
کنت اول النبیین فی الخق وآخرھم فی البعث
میں پیدا ئش کے اعتبار سے تمام نبیوں میں اول ہوں اور بعثت کے لحاظ سے تمام نبیوں میں آخر ہوں ۔
(ابن کثیر ، جلد ۸ ، ص، ۴۸)
اسی مفہوم کی ایک روایت حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرسلا مر وی ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا:
انما بعثت فاتحا خا تما ۔یقینا میں دریا ئے رحمت واکر نے اور سلسلہ نبو ت و ر سالت کو ختم کر نے کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں ۔ (وروی احمد فی مسندہ ، ج ۳، ص ۳۸۷)
جہاں آپ خلقت و نبو ت کے اعتبار سے اول ہیں اسی طر ح سلسلہ نبوت و رسالت کے خاتم بھی ہیں مفصل بیان آگے آئے گا ۔
نبوت ختم ہے تجھ پر ، رسالت ختم ہے تجھ پر
تیرادیں ارفع و اعلیٰ ، شر یعت ختم ہے تجھ پر
(ارشاد عر شی)
ترسیل: صاحبزادہ محمد مستجاب رضا قادری رضوی پپرادادنوی
رکن : افکار اہل سنت اکیڈمی میراروڈ ممبئی

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button