عقائد و نظریات

سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے!!!

ازقلم: خلیل احمد فیضانی

عقیدہ ایک بنیادی چیز ہے جس کے لیے تصلب نہایت لازم اور ضروری ہے
مگر آج ہماری جماعت میں کچھ ایسے افراد بھی پاۓ جارہے ہیں کہ جو اس تصلب کو ختم
کرنا چاہتے ہیں-
اگر ہمیں اپنے ایمان کی سلامتی منظور ہے تو جتنا جلد ہوسکے ایسے لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کریں
ورنہ بہت بڑا نقصان جھیلنا پڑسکتا ہے-
چند ماہ پہلے علامہ طارق انور صاحب مصباحی نے اپنے کسی مضمون میں ذکر کیا تھا کہ بعض فارغین اشرفیہ کی سندیں منسوخ کردی گئی ہیں اور "مصباحی” کا لاحقہ لگانے سے انھیں سختی کے ساتھ منع کردیا گیا ہے-
یہ نوبت اس لیے پیش آئی کہ ان فارغین نے "حسام الحرمین” کی تصدیق سے انکار کرتے ہوۓ دیوبند کے عناصر اربعہ کی تکفیر سے چپی سادھ لی-
غالب گمان ہے کہ اس صلح کل مزاج کی وجہ یہی رہی ہوگی کہ یہ لوگ بعد فراغت غلط لوگوں کی صحبت میں پھنس گئے ہوں گے۔۔یا کسی صلح کل مزاج کے شیخ سے مراسم رہے ہوں گے۔
جس کا انھیں یہ خمیازہ بھگتنا پڑا کہ ان کو اس عظیم نسبت سے ہاتھ دھونا پڑا۔۔
آج یہ بلاے بے درماں ہمارے ادھر بھی دھیرے دھیرے پیر پسار رہی ہے
نو فارغین کہ جنھیں بنیادی عقائد کی زیادہ سوجھ بوجھ نہیں ہوتی
یہ لوگ تحقیق سے زیادہ جذبات کی رو پر بہہ رہے ہوتے ہیں
یہ لوگ یعنی کہ نو فارغین طلبہ دوران تعلیم علم نا ہونے کی وجہ سے کسی مشکوک پیر وغیرہ سے مرید ہوجاتے ہیں
اور شومٔی قسمت!کہ وہ پیر صاحب صلح کل مزاج کے داعی ہوتے ہیں۔۔بین المسالک ہم آہنگی ان کی مساعی کا ایک اہم حصہ ہوتی ہے-
حالاں کہ بزرگوں نے منع فرمایا ہے کہ طلبہ کو دوران تعلیم پیری مریدی کی باتوں میں نہیں پڑنا چاہیے-
خیر!جب کسی ایسے پیرگزیدہ مرید کی فہمائش کی جاتی ہے تو الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والے محاورے کی یاددہانی ہوجاتی ہے-
اپنے شیخ کے ان سب حالات سے واقف ہونے کے باوجود بھی اب یہ پڑھا لکھا مرید ایسے پیر سے دوری نہیں بناتا بلکہ الٹا اس کی طرف داری کرتے ہوۓ جدل پر اتر آتا ہے

یہ نوبت اس لیے پیش آئی کہ ان فارغین کو عقیدے کے اعتبار سے مضبوط نہیں بنایا گیا۔۔
شروع سے ہی انھیں اگر یہ تعلیم دی جاتی کہ اگر تمھارے والدین،احباب ،اقربا اور پیر صاحبان کسے باشد!
اگر اسلام کے بنیادی عقائد سے سرمو انحراف کرتے ہیں تو انھیں دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکو۔اور کسی کی بھی پرواہ مت کرو،
تو حالات یہ نہیں بنتے-
مگر آج حالات نہایت دگرگوں ہیں-
جاہل کو تو چھوڑیے!
کسی پڑھے لکھے شخص کے سامنے بھی یہ بات اگر رکھی جاۓ تو تلملا کر بے جا تاویلات کا سہارا لینے لگتا ہے
اہل مدارس کو چاہیے کہ بوقت فراغت دوسری اہم باتوں کی ہدایات کے ساتھ انھیں سختی کے ساتھ یہ ہدایت بھی کرے کہ ایسے شخص کی صحبت سے دور رہنا جو تمہارے ایمان کی کمزوری کا سبب بنے اور ایسے کی بےجا حمایت کبھی مت کرنا جو دوسرے فرقوں کے ساتھ دلی اور مجلسی تعلقات بنانے کو روا رکھتا ہو۔
اب چاہے وہ تمہارا پیر ہو۔مرشد ہو۔والدین ہی کیوں نا ہو۔!

آخری بات!
میرا ہلکا سا تجربہ ہے کہ آج یہ جو ہمارے لوگوں کے اندر پلپلاپن آرہا ہے
اس کا ایک سبب اتحاد مذاھب کے داعی یا غیر متصلب پیروں کی صحبت بھی ہے۔۔
اہل سراواں کی مثال سب کے سامنے ہے-
عرض یہی کہ آج کے دور میں کسی کو پیر بنانے میں عجلت سے ہرگز کام نا لیں،پیر منتخب کرنے میں سوچ بچار کریں۔اور ہر ایسے سے دور رہے جو عقیدے کی کسوٹی پر کھرا نہیں اترتا۔
ورنہ شیطان راہ مارتے دیر نہیں لگاۓ گا اور پھر کف افسوس کے سوا ہاتھ کچھ بھی نہیں آۓ گا

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
(اعلی حضرت)

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button