انٹرویو

ایک ملاقات کنگ فہد گلوریس قرآن کمپلیکس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وی عبدالرحیم صاحب سے

  • مسلمان قرآن کی زبان ضرور سیکھیں
  • ملت کے دفاع کے لئے ضروری علوم اور مقامی زبان کا علم بھی بے حد ضروری

اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی

انسانی دنیا عجائبات کا مجموعہ ہے، یہاں پیش آنے والے اکثر واقعات کی عقلی توجیہ مشکل ہوتی ہے۔ ایک عجمی کا عربی زبان پر دسترس حاصل کرنا وہ بھی روایتی انداز تعلیم کے بغیر محض شوق و جستجو سے اور پھر عربوں سے اس کا لوہا منوانا اور انہیں کے چوٹی کے درسگاہوں میں انہیں اس کی تعلیم دینا منطقی اعتبار سے ایک ناممکن امر لگتا ہے لیکن ایسا ہوا ہے۔ ڈاکٹر وی عبدالرحیم ایک ایسی ہی شخصیت کا نام ہے جنہوں نے شوق و جستجو، لگن اور محنت سے علم کی دنیا میں وہ کارنامہ انجام دیا ہے کہ عقل حیران ہے۔ شہر وانم باڑی کے ایک عصری تعلیمی مدرسے سے شروع ہوا آپ کا علمی سفر جامعہ الازہر ، خرطوم یونیورسٹی سوڈان، اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ سے ہوتا ہوا آج مدینہ منورہ میں قران مجید کی ترویج کے لئے قائم شہرہ آفاق ادارہ کنگ فہد گلوریس قرآن پرنٹنگ کمپلیکس کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے درخشاں ہے اور اس کے نور سے ایک عالم سیراب ہورہا ہے۔ حال ہی میں وانم باڑی آپ کی تشریف آواری ہوئی تو راقم کو محترم ٹی ما عبدالرؤف خالد صاحب کے وسیلے سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ موقع غنیمت جان کر میں نے مختلف موضوعات پر ان سے سیر حاصل گفتگو کی، میرے ہر سوال کو محترم نے پورے دلجمعی سے سُنا اور مکمل سنجیدگی کے ساتھ جوابات عنایت کئے جو حسب ذیل ہے:

س: عربی زبان کی طرف رجحان کیسے پیدا ہوا؟

ج:یوں پیدا ہوا کہ چونکہ یہ قرآن شریف کی زبان ہے اور اسلامی علوم کی زبان ہے اس لئے اس کا سیکھنا ضروری ہے چونکہ میری تعلیم روایتی عربی مدرسوں میں تو نہیں ہوئی ایسے میں،میں نے مہیا شدہ اردو اور انگریزی کتابوں کے سہارے یہ زبان سیکھی۔ جب کبھی کوئی عرب مدراس آتے تھے خاص کر رمضان میں بہت سارے وفد آتے تھے تو ان سے جا کے ملتا اور یوں میری عربی میں ترقی ہوتی رہی۔

س:تحقیق کے لئے لسانیات کا شعبہ کیوں منتخب کیا؟ کوئی خاص وجہ؟

ج:اصل میں سب دلچسپی کی چیزیں ہوتی ہیں،آدمی کا میلان جدھر ہوتا ہے وہ اس طرف متوجہ ہوتا ہے، اس شعبہ کو منتخب کرنے کی کوئی خاص وجہ تو نہیں تھی لیکن جب میں نے انگریزی سیکھی، میرے پاس ایک ڈکشنری تھی چیمبرس ٹونٹیئٹ سنچری ڈکشنری۔ جن دنوں مجھے یہ ڈکشنری ملی اس وقت میں ہائی اسکول میں ہوا کرتا تھا، اس میں ہر لفظ کے بعد اس کی ایٹامالوجی کا ذکر ہوتا تھا یہ لیٹن ہے یا فرنچ ہے یا اولڈ انگلش ہے تو پہلے میں معنی دیکھتا اور اس کے بعد اس کی ایٹامالوجی دیکھتا تو یوں زبان کی اصل کیا ہے یہ جاننے کی ابتدا ہوئی، اس کے بعد جب دوسری زبان سیکھی جیسے جرمن، جرمن جوانگریزی کی بہن ہے، تو زبانوں کے بیچ میں جو تعلقات ہیں اس کا مطالعہ شروع کیا اور یوں دلچسپی میں اضافہ ہوتا گیا۔

س : قدیم عربی اور جدید عربی میں کیا فرق ہے اور ان کے مابین کتنا بعد پیدا ہوچکا ہے؟

ج:اصل میں زبان ہمیشہ بدلتی رہتی ہے، زمانے کے لحاظ سے اور عربی بھی بدلی ہے۔آج کل کی عربی کی دو قسمیں ہیں، ایک جو لوگ بولتے ہیں، عام بول چال کی زبان، اس کا زیادہ خیال کرنا نہیں چاہئے اس لئے کےوہ عوام کی زبان ہے لکھی نہیں جاتی، مصر میں یورپ سے آئے ہوئے بعض لوگوں نے اور انگریزوں نے کوشش کی کہ عربی کو چھوڑ کر اسی کو رائج کردیا جائے لیکن وہ تحریک کامیاب نہیں ہوئی۔ جیسے دوسری زبانیں بدلتی ہیں عربی بھی بدلی ہے، نئے الفاظ اس میں داخل ہوئے ہیں لیکن ٹریکشن نہیں بدلا ہے،صرفی ترکیب اور نحوی ترکیب میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، کچھ پرانے الفاظ کونئے معنیٰ پہنائے گئے ہیں اس طریقے سے بہت سارے الفاظ وہی ہیں جو پرانی زبان میں تھے جیسے شریبا اکلا، کھا نا پینا وغیرہ لیکن بعض الفاظ ہیں جیسے ہاتف، قدیم زمانے میں کہتے تھے کہ ایک آواز سنائی دیتی تھی جس کا بولنے ولا نظر نہیں آتا، اسی کو آج کل ٹیلیفون کے لئے استعمال کرتے ہیں، ٹیلفون میں آواز سنائی دیتی ہے لیکن بولنے ولا نظر نہیں آتاحالانکہ آج کل بولنے والا بھی نظر آتا ہے تو اس طریقے سے سیارہ ہے، سیارہ کے معنی زیادہ چلنے والی چیز جیسے گاڑی اور کار کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ آج کل کی زبان اور یہ الفاظ اگر ہمارے آباو اجداد سنتے تو سمجھ ہی نہیں پاتے، ہر زبان میں ایسا ہوتا ہے، الحمد اللہ جیسے میں نے ابھی بتایا عربی کی صرفی اور نحوی ترکیب وہی ہے جو قدیم زمانے کی تھی اور الفاظ بھی وہی ہیں، بعض الفاظ کے معنی بدل گئے ہیں اور نئے الفاظ انگریزی، فرنچ اور ترکی وغیرہ سے اس میں داخل ہوگئے ہیں۔ کیونکہ ترکوں کی ایک زمانے تک عرب ممالک پر حکومت رہی ان کے زمانے میں ترکی کے بہت سارے الفاظ اور چونکہ انہوں نے بھی بہت سارے نئے الفاظ اٹالین سے لئے تھےوہ بھی عربی زبان میں داخل ہوگئے۔ اس طریقے سے عربی زبان میں دوسری زبان کے لاتعداد الفاظ داخل ہوئے ہیں اور پرانے الفاظ کو نئے معنی پہنائے گئے ہیں لیکن ان سب تبدیلی کے باوجود پرانے زمانے کے الفاظ کا ذخیرہ باقی ہے۔

س: دنیا کی ایک قدیم زبان ٹمل جو آپ کی ریاستی زبان ہے، عربی جو ایک مقدس اور مقبول عام زبان جس میں آپ نے ڈاکٹریٹ حاصل کی، انگریزی جس میں گریجویشن کیا عالمی زبان اور اردو آپ کی مادری زبان، ان چاروں زبانوں میں انسانی جذبات کے اظہار کے حوالے سے کون سی زبان آپ کی نظرمیں سب سے بہتر ہے؟

ج: ہر زبان میں یہ چیزیں پائی جاتی ہیں لیکن انسانی جذبات کے سلسلے میں زیادہ چیزیں اردو زبان میں ہی پائی جاتی ہیں خاص کر انسانی تعلقات وغیرہ کے الفاظ ۔عربی اور انگریزی زبان میں بھی اظہار موجود ہے لیکن اس قسم کے گرم جوشی سے جو اظہار خیال کیا جاتا ہے وہ زیادہ اردو میں ہی ہے۔

س:کئی دہائیاں آپ اسلام کے ایک ایسے مرکزی شہر میں گذار چکے ہیں جہاں جانے کی ہر مسلمان تمنا کرتا ہےاور اس مبارک شہر میں آپ کی خدمات قابل رشک ہیں۔ عربی زبان اور خاص کر قرآن کی ترویج میں آپ کا کردار موجودہ دور میں ایک تاریخی حقیقیت بن چکا ہے۔ کیا آپ اپنے اس کردار سے مطمئن ہیں یا آپ کو لگتا ہے کہ اور بہت سارا کام باقی ہے اور اگر ہے تو وہ کیا؟

ج: ہر مسلمان کے دل میں تمنا ہوتی ہے کہ حرمین کی زیارت کریے، شعرا ء مدینے کی گلیوں پر لکھتے ہیں تو الحمد اللہ میں پچپن سال سے وہاں رہ رہا ہوں اور خدمت بھی کر رہا ہوں۔ پہلے میں عربی زبان کی خدمت کررہا تھا، جامعہ اسلامیہ میں 26 سال تک رہا،وہاں میں نے عربی پڑھانے کے لئے جو کتاب لکھی وہ اللہ کا فضل ہے کہ آج پوری دنیا میں پڑھائی جاتی ہے اور پھر یہاں کنگ فہد قران پرنٹنگ کامپلکس میں 28 سال سے کام کرر ہا ہوں۔ یہاں میرے ذمے قران شریف کا ترجمہ ہے، ترجمہ کی نگرانی ہے اشاعت ہے،اب تک 75 زبانوں میں قران شریف کا ترجمہ مکمل ہو چکا ہے۔الحمد اللہ میں نے جو کام کیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے جس کام پر لگایا وہ دلی سکون اور تسلی کی بات ہے یہاں مجھے کبھی کسی قسم کی وحشت نہیں ہوئی اور ویسے بھی حرمین میں وحشت کا تصور ہی نہیں ہے ۔ جب میری صحت اچھی تھی میں نے حج بھی بہت کئے۔

قران شریف کے ترجمے کے سلسلے میں جو کچھ ہوا ہے اور جو ہورہا ہے الحمد اللہ، کام اور زیادہ ہوسکتا تھا لیکن ریڈ ٹیپزم (رسمی طریقہ کار جو حد سے زیادہ تاخیر کا سبب بنے) کی وجہ سے اور اس قسم کی دوسری چیزوں کی وجہ سے کام زیادہ نہیں ہو پارہا ہے اور ہمارے یہاں مترجمین نہیں ہوتے، مترجمین کے لئے دنیا بھر کے لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں اور اس میں وقت لگتا ہے، اگر مترجمین یہیں ہوں اورکام تیزی سے ہو تواور زبانوں میں بھی ترجمہ ہوسکتا تھا۔ بہر حال دنیا کا ایک نظام ہے ایسے میں جتنا بھی کام ہوا ہے اچھا ہی ہوا الحمد اللہ۔ میں نے عربی سیکھنے والوں کے لئے قران شریف کے بعض سورتوں کے جیسے العادیات کی پوری سورت ہے اور الحجرات کی پوری سورت ہے اور دوسری سورتوں کے مجموعے شائع کئے ہیں، اس میں بھی اور کام ہوسکتا تھا اور یہ خیال مجھے بار بار آتا ہے کہ اور بھی کام ہوجائے تو اچھا ہوگا۔ کوشش کروں گا کہ قرآنِ شریف کا ترجمہ،نحوی ترکیب وغیرہ کے ساتھ کرسکوں ان شاءاللہ۔

س: آنے والے زمانے میں عربی زبان ، قرآن اور اسلام کے مستقبل کو لے کر آپ کیا سوچتے ہیں؟

ج: عربی زبان الحمداللہ ترقی کر رہی ہے اور دنیا بھر کے لوگ اسے سیکھ رہے ہیں، مجھے اندازہ ہے کیونکہ میری کتاب لوگ پڑھ رہے ہیں اور مجھے اطلاعات ملتی رہتی ہیں کہ یہ کتاب کہاں کہاں پڑھائی جاتی ہے اور بہت سارے لوگ آن لائن کلاسس بھی لیتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں میں عربی سیکھنے کی ایک تڑپ ہے، قدیم زمانے میں یہ بات نہیں تھی اور جس طرح سے زبان سیکھنے کا طریقہ میں نے ایجاد کیا اللہ کے فضل وکرم سے اس سے بہت سارے لوگ مستفید ہورہے ہیں۔ مجھے بہت سارے لوگ لکھتے ہیں کہ "ہم ان کتابوں کو شائع کرنا چاہتےہیں، اجازت مرحمت فرمائیں”، تو میں ان کو اس کی مفت اجازت بھی دیتا ہوں۔ اس طریقے سے دنیا بھر میں مختلف ملکوں میں اس کے الگ الگ اڈیشن شائع ہوئے ہیں۔

قران مجید کے تعلق سے، جو لوگ عربی سیکھ رہے ہیں وہ قران شریف سے براہ راست استفادہ کرسکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں اس کے ترجمے شائع ہورہے ہیں اور مختلف ملکوں میں اس پر ریسرچ بھی ہورہے ہیں۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اسلام بھی دنیا بھر میں پھیل رہا ہے، بڑے بڑے مشہور لوگ، علماء اور سائنسدان وغیرہ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ اسلام کا مستقبل روشن ہے ، اللہ نے اس کی ذمہ داری لی ہے تو یہ ضرور پھیلے گا۔

س:عربی ادب کے تعلق سے کچھ بتائیے؟عربی مدرسوں میں جو عربی ادب پڑھایا جاتا ہے اور فارسی پڑھائی جاتی ہے اس پر آپ کیا سوچتے ہیں؟

ج: میرا تعلق زبان سے ہے، ادب سے نہیں ہے۔ مجھے یہ شکایت ہے کہ ہمارے مدرسوں میں آدھے سے زیادہ نصاب عربی ادب پر مشتمل ہیں ۔ اگر فیکلٹی آف عربک لینگویج کے تحت عربی زبان ہو تو ٹھیک ہے لیکن فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز ہوں تو اس میں عربی ادب پڑھانا نا مناسب ہے۔ دنیا میں کہیں بھی ایسا ہوتا نہیں ہے۔ یہ اپنے زمانے میں انگریزوں کی چال رہی ہے جو یہاں کے مدارس میں آج رائج ہے۔ کلکتہ میں انگریزوں نے ایک مدرسہ قائم کیا تھا مدرسہ عالیہ ، مدرسہ عالیہ آج کل کی طرح کا ایک دینی درس گاہ تھا لیکن فرق یہ تھا کہ اس کا جو مہتمم ہوتا تھا وہ ایک انگریز ہوتاتھا۔غدر کے بعد انگریزوں نے محسوس کیا کہ ان کے طلبہ ان سے نفرت کرنے لگے ہیں تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جو دینی مضامین ہیں ان کو گھٹا کر ان کی جگہ ادبی مضامین رکھے جائیں۔ اس طریقے سے انہوں نے المعلقات اور دیوان متنبی وغیرہ قسم کی چیزیں بڑھا دیں اور دینی مضامین کم کردئے۔ وہیں سے انگریزوں کی یہ سازش چل پڑی اور تمام مدارس میں نصاب کا آدھا حصہ عربی ادب کا ہوگیا،حالانکہ قدیم زمانے میں یہ نظام نہیں تھا بلکہ بعد میں آٰیا ہے۔ ہمارے یہاں مسلمانوں کے ایسے بہت سارے مسائل ہیں جن کو پڑھانے کی ضرور ت ہے، ان کے لئے وقت نہیں ملتا کیوں کہ آدھا حصہ عربی ادب پڑھانے میں سرف ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ مدارس میں فارسی زبان پڑھائی جاتی ہے۔ فارسی زبان مغلیہ دور میں سرکاری زبان تھی، اس وقت اس کی ضرورت پڑتی تھی، ہندو مسلمان سب جو سرکار میں کام کرنا چاہتے تھے وہ فارسی پڑھ کر کے کام کرتے تھے۔ مغلیہ دور کے بعد بھی ایک عرصے تک ہندوستان میں فارسی ہی چلتی رہی، اس وقت جو مدارس قائم ہوئے ان کی اکثر کتابیں فارسی میں ہوتی تھیں لیکن اب وہ معاملہ ختم ہوچکا ہے۔ فارسی کی اب کوئی ضرورت نہیں رہی ہے۔ نصاب کی تمام کتابیں یا تو عربی میں ہیں یا اردو میں، ایسے میں فارسی کا نہ دینی فائدہ ہے نہ دنیا وی فائدہ، لیکن پھر بھی فارسی پڑھائی جارہی ہے۔ جس کام میں دین کا فائدہ ہو، جس سے دعوت کا کام ہوسکے، جیسے انگریزی زبان ہے اور مقامی زبانیں ہیں ان کی طرف بلکل توجہ نہیں ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ اکثر مدارس دینیہ میں دعوت کا تصور ہی نہیں ہے۔ دعوت کے کام کے لئے انگریزی زبان اور مقامی زبانوں کی ضرورت پڑتی ہے اس کی جگہ فارسی پڑھانے کاکوئی جواز ہی نہیں ہے، جو ضروری چیز ہے اس کو چھوڑ کر کے غیر ضروری چیز کو پڑھانا بیکار ہے، کار عبث ہے۔

س: سائنسی ایجادات سے لسانیات یعنی زبان و بیان کے شعبے میں جو ترقی ہوئی ہے جیسے لکھنے پڑھنے کا معاملہ کتاب و قلم سے ہٹ کر کمپیوٹر اور کی بورڈ پر آگیا ہےاور جو باتیں پہلے حافظے میں رکھی جاتی تھیں وہ آج چھوٹے سے چپ میں رکھی جانے لگی ہیں، اُسے آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ کیا اس سے انسانی صلاحیتیں زنگ آلود ہوئی ہیں؟

ج: جہاں اس کے فوائد ہیں اس کے نقصانات بھی ہیں، ایسے میں عاقل آدمی یہ کریں کہ اس کے جو فوائد ہیں اس سے فائدہ اٹھائے اور جو نقصانات ہیں اس سے پرہیز کریں۔

س: آج کی نوجوان نسل لسانیات کے شعبے کی طرف کم ہی مائل ہو رہی ہے، ایسا کیوں ہے؟

ج: اس لئے کہ اس کی کوئی خاص ترویج نہیں ہورہی ہے اور بہت کم مدارس میں اس کا شعبہ ہوتا ہے۔ لوگوں کو اس کی اہمیت اور افادیت کا تصور ظاہر نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگوں کو ایسا ایک مضمون ہے اس کا خیال بھی نہیں ہے۔ لیکن بعض مدارس میں اور یورپ وغیرہ میں اس کی اہمیت ہے اور یہ پڑھائی جاتی ہے۔ برصغیر میں بھی بعض مدارس میں اس کے شعبے ہوں گے لیکن عام طور پر یہ مضمون پڑھایا نہیں جاتا لیکن یورپ میں اس کا رواج آج بھی ہے۔

س:وطن عزیز میں مسلمانوں کے ماضی، حال اور مستقبل کو لے کر آپ کے نظریات کیا ہیں؟ کیا آپ ان کے مستقبل کو محفوظ سمجھتے ہیں؟

ج: مسلمانوں کا رشتہ چونکہ اسلام اور قرآن سے ہے اور قران شریف کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے ذمہ لیا ہے تو جب تک قرآن ہے مسلمان موجود رہیں گے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی۔ لیکن مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے دفاع کے لئے جن علوم کی ضرورت ہے ان پر توجہ دیں۔ دینی درسگاہوں میں انگریزی زبان اب پڑھائی جانے لگی ہے جو پہلے نہیں پڑھائی جاتی تھی، یہ ایک خوش آئند بات ہے لیکن اس کے ساتھ ہی مقامی زبانوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے کچھ مدرسوں میں عورتوں کو بھی فارسی پڑھاتے ہیں لیکن مقامی زبان ہندی اور ٹمل وغیرہ نہیں پڑھاتے۔ مقامی زبان کا سیکھنا دعوت کے کام کے لئے بھی ضروری ہے اور اپنے دفاع کے لئے بھی،خاص کرعورتیں کے لئے کیونکہ اگر یہ مقامی زبان نہ جانتی ہوں تو دھوکہ ہوسکتا ہے جیسے کوئی بھی آکر کہے کہ اس پہ دستخط کردو تو یہ کردیں گی، ایسے واقعات ہوئے بھی ہیں۔ ایسے میں جو علم ہمارے لئے ضروری ہے ان کو پڑھائیں۔ آج کل شمالی ہند میں اور خاص کر یو پی میں غیر اپنے مذہب کی ترویج میں لگے ہیں، مسلمانوں کو چاہئے کہ دینی درسگاہوں میں یا کہیں بھی بعض طلبہ کو تیار کریں جو دوسرے مذاہب کا مطالعہ کر کے ان کو جواب دے سکیں اور یہ بے حد ضروری ہے کیونکہ شمالی ہند میں وہ بہت شدت کے ساتھ اپنے مذہب کی تبلیغ میں لگے ہیں اور اس کی وجہ سے ارتداد کا فتنہ پھیل رہا ہے۔

دوسری بات صحافت کا شعبہ ہے، اس میں بعض مسلمان ہیں لیکن جن کو اسلامی علوم پر دسترس حاصل ہے ویسے لوگ نہیں ہیں۔ ہمارے دینی درسگاہوں کے فارغین اگر صحافت پڑھ کر اس میدان میں آئیں ، انہیں بولنے پر قدرت ہو لکھنے پر قدرت ہو، عام طور پر جو لکھتے ہیں وہ الگ ہے، صحافت کےکچھ اصول ہوتے ہیں ان اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے بولنا اور لکھنا ضروری ہے۔ ابھی قریب میں میں نے کہیں پڑھا کسی نے ایک قدیم دینی ادارے سےسوال کیا کہ ہمارے ہندو پڑوسی دیوالی وغیرہ کے موقعے پر مٹھائی دیتے ہیں کیا ان کا کھانا صحیح ہے؟ تو جواب آیا کہ اگر اس مٹھائی کی نسبت بتوں سے نہیں ہے تو کھا سکتے ہیں، یہاں تک تو بات ٹھیک ہے لیکن اس کے بعد انہوں نے جواب میں یہ بھی لکھا کہ ہمارے عیدوں میں ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرنا چاہئے اور غیر مذاہب کے ماننے والوں سے نفرت ہونی چاہئے۔ ہم ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں ہماری ہر چیز دیکھی اور پرکھی جاتی ہے ایسے میں مصلحت برائے دعوت بھی توایک چیز ہے۔ دعوت کا ذہن میں خیال رکھیں ایسی چیزوں کو عام نہ کریں اس کو اپنے ویب سائٹ میں ڈال کر اس کی تشہیر نہ کریں۔ میرا خیال ہے کہ ہر مدرسے کے اندر صحافت جاننے والےاور اس کی باریکیاں سمجھنے والے لوگ بھی موجود رہیں جو عالم دین کو پہلے ہی سےسمجھا دیں کہ جو سوال آرہا ہے اس کا جواب کس طریقے سے ہونا چاہئے۔ اس قسم کے غلط جوابات جو آرہے ہیں اس کی وجہ سے ہماری بڑی رسوائی ہورہی ہے۔

س:اردو زبان کے حوالے سے آپ کیا سوچتے ہیں ، موجودہ اردو زبان کے حوالے سے؟

ج:اردو زبان کی اشاعت و ترویج میں الحمد اللہ کتابت کا جو بڑا مسئلہ تھا وہ کمپیوٹر کے آنے کے بعد حل ہوگیا ہے ورنہ اس کی تمام کتابیں ہاتھ سے ہی لکھی جاتی تھیں، اب وہ دور ختم ہوگیا ہے۔ لیکن اب بھی کمپیوٹر کے اردو تحریر میں بہت سارے سروسز نہیں آتے ہیں۔ سرچ وٖغیرہ میں اردو تحریر سے دقت پیش آتی ہے یہ سب خط نستعلیق کی وجہ سے ہے۔ نستعلیق ایرانیوں نے ایجاد کیا لیکن مشینی طباعت کا دور آیا تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور نص میں لکھنا شروع کر دیا جس طرح عربی لکھتے ہیں اس طرح کیونکہ اس میں ہر چیز ممکن ہے، لیکن نستعلق جو لکھنے میں کبھی اونچا جاتا ہے کبھی نیچا جاتا ہے، یہ خط مشینی طباعت کے لئے مناسب نہیں ہے، پھر بھی کوشش کرکے آج کل اسے مناسب بنایا گیا ہے لیکن ایسی کوشش ہونی چاہیے کہ تمام کمپیوٹر کے جو سروسز ہیں اس میں مہیا ہوسکیں، اگر کسی وجہ سے ایسا ناممکن ہے تو اس کو چھوڑ دیں، کیونکہ یہ خط کوئی منزل من عند اللہ نہیں ہے، اس خط کو انسانوں نے ایجاد کیا ہے ، جس خط سے فائدہ ہو اس خط کولینا چاہیئے۔بہت زمانے سے لوگ اس خط کے ساتھ لگے ہوئے ہیں، اب وقت آگیا ہے اس کی ترقی ہونی چاہئے اور اگر ترقی میں کوئی چیز مانع ہے تو اسے چھوڑ دیں۔

س:اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بتائیے ، جیسے آپ کے تعلیمی سفر کی شروعات کہاں سے ہوئی وغیرہ؟

ج:میں نے ہائی اسکول کی تعلیم اسلامیہ بائز ہائر سکینڈری اسکول وانمباڑی سے حاصل کی، اس سے پہلے مسجد قلعہ کے سامنےموجود مدرسہ اعظم میں پڑھتا تھا، اصل میں بچپن میں، میں اپنے ننھیال میں رہتا تھا، محلہ قلعہ میں، یوں میری ابتدائی تعلیم مدرسہ اعظم قلعہ میں ہوئی۔ مڈل اسکول اور ہائی اسکول میں نے اسلامیہ ہائر سکینڈری اسکول سے ہی کیا۔ ہائی اسکول کے بعد اس زمانے میں دو سال کا انٹر میڈیٹ ہوتا تھا جو میں نے اسلامیہ کالج سے مکمل کیا اور اس کے بعد وہیں دو سال پڑھایا۔ اس کے بعد مدراس کے پریسڈنسی کالج میں بے اے آنرز کا کورس انگریزی لٹریچر میں مکمل کیا۔ اس زمانے میں کالج میں پڑھانے کے لئے بی اے آنرز کو ترجیح دیتے تھے کیونکہ وہ تین سال کا اسپشلائزیشن کورس ہوتا تھا تو اس کے بعد میں نے ایک سال اسلامیہ ہائی اسکول میں بحیثیت انگریزی استاد کے پڑھاتا رہا۔ اس کے بعد بحیثیت انگلش لکچرر اسلا میہ کالج منتقل ہوگیا ، 1960 میں اسلامیہ کالج میں عربک کورس شروع ہوا اور عربک ڈپارٹمنٹ قائم ہوا، فارسی پہلے سے تھی، میں نے انٹر میڈیت میں فارسی پڑھی تھی۔ اس دوران مدراس یونیورسٹی سے میں افضل العلماء کی ڈگری حاصل کر چکا تھا، اس زمانے میں مدراس یونیورسٹی سے عربک میں افضل العلماء فارسی میں منشی فاضل اور اردو میں ادیب کامل کی ڈگریاں بھی حاصل ہوتی تھیں ، اس کے بعد علی گڑھ سے عربک میں ایم اے کی ڈگری مکمل کی۔ عربک میں نے کتابوں کے ذریعے سیکھی اس کے لئےباقاعدہ کسی استاد کی شاگردی حاصل نہیں کی۔ عربی سیکھنے کی شروعات اردو کتاب مرقات العربیہ سے ہوئی جس کے تین حصے ہوا کرتے تھے ، بہت پرانی اور بہت اچھی کتاب تھی۔ اس کے بعد علی گڑھ میں ایک انگریز استاد پڑھاتے تھے ان کی ایک کتاب ٹیچرس سلف عربک پڑھی اوراخبار وغیرہ پڑھنے لگا، دہلی میں موجود مصری سفارت خانہ کو لکھتا تھا تو وہ ایک دو ہفتے کا اخبار جمع کر کے بھیج دیتے تھے پھر ریڈیو وغیرہ سے بھی عربی پروگرام سنتا تھا تو اس طریقے سے مجھ میں الحمداللہ استعداد پیدا ہوتی گئی کہ میں افضل العلماء کا امتحان آسانی سے پاس کر سکوں۔ یہ 59-1958 کی بات ہے، علی گڑھ میں پرائیویٹ کینڈیڈیٹ کی حیثیت سے دو سال کا ایم اے عربک کورس میں داخلہ لے کر اسے مکمل کیا، دوبار امتحانات کے لئے وہاں جانا پڑا اور میں فرسٹ کلاس میں پاس ہوا تھا ۔ جب اسلامیہ کالج میں عربک شعبہ قائم ہوا اس کی ذمہ داری میرے سپرد کی گئی۔ یہاں میں نے بی اے عربک چار سال پڑھایا ، آج کل کا تو پتہ نہیں لیکن اس زمانے میں عربی کا جو کورس ہوتا تھا بلکل بے کار تھا۔ طلبہ جن کو عربی کا ایک حرف نہیں معلوم ان کو بڑی بڑی کتابیں دے کر پڑھاتے تھے، قران شریف، سورت الحجرات اس زمانے کے نصاب میں تھے۔ سبل السلام نامی ایک حدیث کی کتاب اور معلقات یعنی جاہلی دور کاادب ،جس کا ایک حرف بھی کوئی طالب علم نہیں سمجھ سکتا تھا۔ اس لئے کہ طالب علم بنیادی عربی سے ہی نا بلد ہوتے تھے۔ اس سے کوئی اطمینان بخش علم حاصل نہیں ہوتا تھا، کالج اور یونیورسٹی میں ایسا ہی نظام اس زمانے سے جاری ہے آج کل کا تو علم نہیں۔ 1964 میں میں نےاس وقت کے مصر کے فرماں روا جمال عبدالناصر کو لکھا کہ میں جامعہ الازہر میں پڑھنا چاہتا ہوں تو ان کا جواب آیا کہ تمھارا داخلہ ہوچکا ہے، یہ میرا خط دکھا کر ایمبسی سے ویزا حاصل کرلو۔ 1964 میں ، میں جامعہ الازہر چلا گیا وہاں عربی زبان میں ایم فل کیا جو 1966 میں ختم ہوا ۔ اس زمانے میں سوڈان میں ایک یونیورسٹی قائم ہوئی ، ایک قدیم مدرسے کو ترقی دے کر یونیورسٹی بنا دیا گیا تھا جامعہ اسلامیہ ام درمان کے نام سے۔ ام درمان سوڈان کا ایک قدیم شہر ہے، سوڈان کا دارالخلافہ دو شہروں سے مل کر بنا ہے ایک خرطوم اور دوسرا ام درمان ہے۔ چونکہ جامعہ ام درمان اسلامیہ نئی نئی یونیورسٹی بنی تھی، انہیں اساتذہ کی سخت ضرورت تھی وہ مصریوں کو لیتے تھے، سوڈان کےسفارت خانے کے دفتر میں ہی جامعہ کا دفتر بھی تھا وہ وہیں سے اساتذہ بھرتی کرتے تھے۔ اس زمانے میں میرے والد بیمار تھے ایسے میں میں نے سوچا کہ اگر یہاں نوکری مل جائے تو مجھے فائدہ ہوجائے گا اور درخواست دی،الحمداللہ انگریزی پڑھانے کے لئے میرا انتخاب ہوگیا۔کیونکہ وہ چاہتے تھے انگریزی پڑھانے کے لے ایسا شخص ہو جو عربی بھی جانتا ہو۔ اور یوں میں مصر سے سوڈان چلا گیا۔ 1966 سے 1969 تک میں وہیں رہا ، اس زمانے میں میں نے جامعہ الازہر میں پی ہیچ ڈی کے لئے اپنے آپ کو رجسٹر کروالیا ۔ 1969میں سوڈان سے میں نے جامعہ اسلامیہ کے رئیس الجامعہ شیخ بن باز کو درخواست بھیجی تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ اجائیں تو میں چھٹیوں میں مدینہ منورہ حاضر ہوا اور کانٹریکٹ پر دستخط کر دی۔ یوں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں 26 سال کام کرتا رہا، جامعہ الازہر سے ڈاکٹریٹ کی ڈگڑی بھی وہیں سے مکمل کی۔ اس کے بعد کنگ فہد پرنٹنگ کامپلکس میں آگیا، جامعہ اسلامیہ نے خود مجھ سمیت پانچ افراد کو وزارت شعبہ ء اسلامیہ کے حکم پر ادھر بھیج دیا تھا۔ گزشتہ 28 سالوں سے وہیں خدمت انجام دیتا آرہا ہوں ۔ اب میری عمر کچھ مہینوں بعد نوے ہوجائے گی، عام طور پر سعودیہ میں نوے کے بعد کسی کو کام پر نہیں رکھتے، اندازہ ہے کہ شاید 90 کے بعد مجھے سبکدوش کر دیں۔

س: سبکدوشی کے بعد آپ کے کیا ارادے ہیں کیا وطن واپس آجائیں گے؟

ج: ہاں میرا یہی ارادہ ہے کہ وطن واپس آجاؤں اور انشاءاللہ کتابوں کے لکھنے کا جو سلسلہ ہے وہ توچلتا رہے گا۔

س: آپ کے اپنوں کے لئے، اپنے شہر کے لوگوں کے لئے کوئی پیغام؟

ج: شہر میں ماشاءاللہ ہمارے آباء و اجداد نے مدرسے قائم کئے، کالج قائم کئے، دین کی بہت خدمت کی، مساجد کا نظام قائم کیا۔ ہمارے زمانے میں مساجد کانظام بہت قوی ہوتا تھا۔ اسلام کے خلاف اگر کوئی کام کرتا تو اسے جماعت سے خارج کردیتے تھے، مسجد کی طاقت سے لوگ ڈرتے تھے، وہ بات اب باقی نہیں رہی میں چاہتا ہوں کہ وہ طاقت اور احترام واپس آئے۔ میں نےسنا ہے کہ یہاں مسجدوں سے غریبوں کو ماہانہ راشن دیا جارہا ہے اور اسی طرح خدمت اور فلاح کے دوسرے کام بھی مسجدوں سے ہی ہورہے ہیں ماشاءاللہ یہ بہت اچھی بات ہے۔ اسی طرح جہیز کا مسئلہ ہے، اس پر بھی کام ہوا تھا لیکن اب تعطل پیدا ہوگیا ہے، میں چاہتا ہوں اس پر اور کام ہو اور نئے طریقے سے دلچسپی کے ساتھ ہو تاکہ اس برائی کا مکمل اور ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوسکے۔ آج کل غربت کی وجہ لوگ ویسے ہی پریشان ہیں ایسے میں جہیز کا مسئلہ شادیوں میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ دیکھئے شمالی ہند میں لاکھوں مسلمان عورتیں اور بچیاں غیروں سے شادی رچا رہی ہیں کیونکہ ان کے خاندان کے اندر ان کی شادی نہیں ہوپاتی، وہاں برادری واد زیادہ ہے اور ساتھ میں جہیز کا مسئلہ بھی۔ پڑوسی ملک میں، میں نے سنا کہ ایک شادی ہورہی تھی وہاں کچھ علماء گئے تو دیکھا موسیقی کی محفل سجی ہوئی ہے اور زور زور سے گانے بج رہے ہیں، علماء حضرات نے منتظمیں کو بلا کر کہا کہ اس کو فوراً بند کرو، اگر آپ لوگ اس قسم کا کام کرتے رہیں گے اور جہاں جہاں بھی اس قسم کے خرافات ہوں گے، وہاں نہ ہم شادی میں آئیں گے، نہ نکاح پڑھائیں گے، نہ جنازہ ۔ یہاں بھی جہیز کے سلسلے میں ایسا ہی سخت رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔

بہت خوشی ہو رہی کہ شہر میں عورتوں کے لئے کالج قائم ہو گیا ہے، اور ہماری لڑکیاں بھی پڑھ رہی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ شہر میں عربی کے کریک کلاسس بھی شروع ہوں، جامعہ دارالسلام عمر آباد کے اُستاد سعید صاحب نے اس میں پہل کی ہے، میری خواہش ہے کہ یہ سلسلہ قائم رہے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہوں۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button