عقائد و نظریات

کفر سے بچو اور ایمان بچاؤ

ازقلم: محمد نعیم امجدی اسمٰعیلی بہرائچی مقیمِ حال شہر لکھنؤ یوپی
9984896902

دنیا کی زندگی میں ایمان کی حفاظت ہر فرض سے اہم فرض ہے مگر افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آج علمِ شریعت سے ایسی دوری اور دین متین سے ایسی لاتعلقی ہے کہ بعض لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ ایمان کی حفاظت کیسے ہوگی بسا اوقات ایسے جملے یا کلمے بول جاتے ہیں یا ایسے اعمال کر گزرتے ہیں کہ ان کا ایمان رخصت ہو جاتا ہے اور انہیں احساس تک نہیں ہوتا
معاذاللہ اگر توبہ اور تجدید ایمان نہ کیا گیا اور اسی حالت میں موت آگئی تو انجام بُرا ہوگا کیونکہ اعتبار خاتمہ ہی کا ہے اس لئے یہاں ایسے اقوال اور اعمال لکھے جاتے ہیں جس کی وجہ سے آدمی کافر ہوجاتا ہے مسلمانوں کو چاہئے کہ ان اقوال(باتوں) اوراعمال ( کاموں)سے بچیں،اگر غلطی سے سرزد ہوچکے ہوں تو توبہ تجدیدِایمان اور تجدیدِنکاح کریں۔
(1)اللہ تبارک و تعالی کو گالی دینا کفر اور گالی دینے والا کافر ہے ۔(فتاویٰ عالمگیری)
(2) یہ کہنا کہ اللہ اپنے دل میں سوچتا ہوگا کفر ہے اور یہ کہنا کہ جو رب ہے وہی رام اور بھگوان ہے، کفر ہے۔بارش دیکھ کر یہ کہنا کہ اللہ آرہےہیں ، کفر ہے ۔یہ کہنا کہ جب میں ڈوب رہا تھا تو اللہ کہاں تھا،یہ کفر ہے۔( فتاویٰ شارح بخاری ،ج:1،ص:162)
(3) "آیات واحادیث کچھ نہیں” یہ کہنے والا کافر ومرتد ہے ۔( فتاویٰ رضویہ)
(4) جو شخص یہ کہے کہ میں نہ بریلوی ہوں اور نہ دیوبندی بلکہ ایک سیدھا سادھا مسلمان ہوں وہ اسلام سے خارج کافر ہے۔(فتاویٰ شارح بخاری)
(5) کسی کا بیٹا فوت ہو گیا اس نے کہا:اللہ تعالی کو اس کی حاجت ہوگی یہ قول کفر ہے کیونکہ کہنے والے نے اللہ کو محتاج قرار دیا۔( بزازیہ)
(6)دشمن ومبغوض (جس سے بغض ہو)کو دیکھ کر یہ کہنا ملک الموت آگئے یا کہا اسے ویسا ہی دشمن جانتا ہوں جیسا ملک الموت کو، اس میں اگر ملک الموت کو برا کہنا ہے تو کفر ہے اور موت کی ناپسندیدگی کی بنا پر ہے تو کفر نہیں۔ یوہیں جبرئیل یا میکائیل یا کسی فرشتہ کو جو شخص عیب لگائے یا توہین کرے کافر ہے۔(بہار شریعت)
(7) دنیاوی تعلیم حاصل کرو گے تو عیش کرو گے علم دین سیکھ کر مولوی بنو گے تو بھوکے مرو گے اس جملے میں علمِ دین کی توہین نُمایاں ہے اس لئے کفر ہے۔
(8) نماز پڑھنے سے کیا ہوتا ہے؟ یہ کہنے والا کافر ومرتد ہے۔( فتاویٰ شارح بخاری)
(9) مشرکانہ مذہبی تیہواروں پر ہنودوں کو مبارکباد دینا اشد حرام، بلکہ مجنر الی الکفر ہے جو ایسا کرتے ہیں ان پر توبہ وتجدید ایمان ونکاح لازم ہے۔ ظاہر ہے کہ مبارکباد دینا ہدیہ دینے سے کم نہیں۔( فتاویٰ شارح بخاری)
(10)قشقہ(ٹیکا) خوشی سے لگوانا یہ کفر پر رضا ہے اور رضا بالکفر کفر ہے ۔(فتاویٰ شارح بخاری)
(11) یہ کہنا کہ حضور ہماری ہی طرح ہیں، تخفیفِ شانِ رسالت ہے جو بلاشبہ کفر ہے۔
(12) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کی خبر نہیں ایسا عقیدہ رکھنے والا شخص کافر ہے۔
(13) ” کاش بدفعلی جائز ہوتی” یہ تمنا کرنا کفر ہے۔
(14)شراب پیتے وقت یا زنا کرتے وقت یا جوا کھیلتے وقت یا چوری کرتے وقت ’’ بِسْمِ اللہ ‘‘کہنا کفر ہے۔( بہار شریعت)
(15)خدا کے لیے مکان ثابت کرنا کفر ہے کہ وہ مکان سے پاک ہے یہ کہنا کہ اوپر خدا ہے نیچے تم یہ کلمۂ کفرہے۔(خانیہ)
(16)جس شخص کو اپنے ایمان میں شک ہو یعنی کہتاہے کہ مجھے اپنے مومن ہونے کا یقین نہیں یا کہتا ہے معلوم نہیں میں مومن ہوں یا کافر وہ کافر ہے ۔ہاں اگر اُس کا مطلب یہ ہو کہ معلوم نہیں میرا خاتمہ ایمان پر ہوگا یا نہیں تو کافر نہیں ۔ جو شخص ایمان و کفر کو ایک سمجھے یعنی کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے خدا کو سب پسند ہے وہ کافر ہے۔ یوہیں جو شخص ایمان پر راضی نہیں یا کفر پر راضی ہے وہ بھی کافر ہے۔ (عالمگیری)
(17) جس نے یہ کہا کہ دیوبندی بریلوی اختلاف فالتو بات ہے وہ اسلام سے خارج ہے، وہابی دیوبندی مودودی نے شانِ الوہیت اور رسالت میں گستاخی کی ، شانِ الوہیت ورسالت میں گستاخی کرنے والا باجماع مسلمین کافر ہے ۔اسے فالتو بات کہنا گستاخانِ رسول کی حمایت ہے ، اس لئے کفر ہے ۔( شارح بخاری)
(18) ایک نے دوسرے سے کہا اپنی عورت کو قابو میں نہیں رکھتا، اس نے کہا عورتوں پر خدا کو تو قدرت ہے نہیں،مجھ کو کہاں سے ہوگی یہ کہنا کفر ہے۔( بہار شریعت)
(19)داڑھی بڑھانا، مونچھیں کم کرنا، عمامہ باندھنا یا شملہ لٹکانا، ان کی اہانت(توہین کرنا) کفر ہے جبکہ سنت کی توہین مقصود ہو۔( بہار شریعت)
(20) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کسی طرح کی گالی بکنے والا یا ادنیٰ سی بھی گستاخی کرنے والا کافر ومرتد ہے ۔
(21)اگر معاذ اللہ کلمۂ کفر جاری کرنے پر کوئی شخص مجبور کیا گیا، یعنی اُسے مار ڈالنے یا اُس کا عضو کاٹ ڈالنے کی صحیح دھمکی دی گئی کہ یہ دھمکانے والے کو اس بات کے کرنے پر قادر سمجھے تو ایسی حالت میں اس کو رخصت دی گئی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ دل میں وہی اطمینانِ ایمانی ہو جو پیشتر تھا ، مگر افضل جب بھی یہی ہے کہ قتل ہو جائے اور کلمۂ کفر نہ کہے۔(بہار شریعت)
(22)ایمان و کفر میں واسطہ نہیں یعنی آدمی یا مسلمان ہوگا یا کافر، تیسری صورت کوئی نہیں کہ نہ مسلمان ہو نہ کافر۔( بہار شریعت)
(23)کافر کو کافر ہی کہنا چاہئے، بلکہ کافر کو کافر کہنا ضروری ہے ، جو یہ کہتا ہے کہ کافر کو کافر نہ کہو ،یہ باطل اور جاہلانہ باتیں ہیں، ان سے پوچھو کافر کو کافر نہ کہیں تو کیا مسلمان کہیں، خود اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ کافروں کو اے کافر کہہ کر پکارو ۔ارشاد ہے: "قل یا ایھا الکٰفرون” تم فرمادو اے کافرو!۔(فتاویٰ شارح بخاری)

دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے کفریہ کلمات اور اعمال سے بچائے اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button