تعلیم

نصاب تعلیم اور نظام تعلیم میں تبدیلی کی ضرورت

گزشتہ سے پیوستہ

سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے چار(4) فیصد بچے مدارس میں پڑھتے ہیں یعنی ہر پچیس (25) مسلمان میں سے ایک عالم یا حافظ ہے – اور عموما دو سو کی آبادی پر ایک مسجد ہے، جس میں ایک امام کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور تقریبا پانچ ہزار کی آبادی پر ایک مدرسہ ہے، جس میں کم و بیش پانچ اساتذہ ہوتے ہیں ۔ اس تناسب سے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ فارغین مدارس کی تعداد ضرورت سے سات گنا زیادہ ہے ۔
مدارس کا پروڈکشن ضرورت سے زیادہ بھی ہے اور امید سے کم بھی!
یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی چیز کی زیادتی اُسکی قدرو قیمت کو گھٹا تی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ علماء کی کثرت تو خیر ہے؟ اور خیر کی کثرت تو نیک فال ہے؟. ہماری اسلامی سوچ اور دینی مزاج تو یہ چاہتا ہے کہ پچاس نہیں ہماری پوری مسلم دنیا سوفیصد عالم و فاضل اور حافظ و قاری، دین و شریعت کا ماہر ہو۔ یہ تو خیر ہی خیرہے، اور اس خیر کا کوئی انکار بھی نہیں کرسکتا۔ تو یہ صاف کردوں کہ آج بھی ایسے علماء و فقہاء و حفاظ و قراء کی بہت کمی ہے ،جن کی دینی تعلیم، صرف اصلاح ذات کے ہے نہ کہ ذریعہ معاش کے لیے۔ ان کا مدارس میں جانا اور دینی تعلیم کا حصول، صرف رضائے الٰہی کے لیے ہو، اور ان کا دور دور تک کسب و معاش سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اور سچ ہے کہ ایسے بے لوث اور مخلص گروہ علماء و فقہاء کی کمی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اور ایسے پروڈکشن ہم اپنے مروجہ مدارس سے نہ کل سوفیصدی دے پارہے تھے اور نہ آج دے پا رہے ہیں۔ ایسے فارغین مدارس کی کثرت یقناً خیر ہی خیر اور نور ہی نور ہے۔ جو صرف احیاء کلمۂ حق کے لیے اور رضائے الٰہی کے لیے ہوں۔ اور اس کثرت کا کبھی کوئی شاکی ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ اس کی قلت کا ہمیشہ قلق ہی رہتا ہے۔ بلکہ ہر مسلمان کو عالم دین ہونا چاہیے اور اگر ایسا ہوگیا تو ہر طرح کے جرائم اور کرپشن کا سماج و معاشرہ سے خاتمہ ہوجائے گا۔
موجودہ مساجد و مدارس کی نوکری کی سماجی حیثیت
ہم سے پہلے غلطی تو یہ ہوچکی ہے کہ ہم نے دینی تعلیم کو حصول رزق کے ذرائع میں شامل کردیا ہے۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ اس کے لیے کوئی معیار طئے نہیں کیا۔ اور اگر کیا تو یہ کیا کہ سلکیشن چیپ اینڈ بیسٹ پر کھرا اترے، اور بیسٹ کا معیار بھی تقوی نہیں بلکہ شعلہ بیانی کو بنایا ہے۔ اور عوام ومنتظمین مدارس تو ماشاء اللہ ایک کو سستا سے سستا امام چاہیے اور دوسرے کو سستا سے سستا معلّم۔ کیوں کہ دونوں کو بس اپنا کام نکالنا ہے اور اس گھسا پٹا سِسٹم کو کسی طرح زندہ رکھنا ہے، جس میں اس کے پیٹ کا بھی تھوڑا بہت کام چلتا رہے۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں یہ دونوں محتشم بالشان کام جو کبھی وجہ افتخار ہوتا تھا ۔ ذلت کی نوکری سمجھی جانے لگی ہے۔ الا ما شاء اللہ۔
۔۔۔۔۔۔ انکی حیثیت بقول اقبال
قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے؟
اسکو کیا جانیں بیچارے یہ دو رکعت کے امام!
اصل بیماری کی تلاش
۔۔۔۔۔۔۔۔یہ جو خرابی درآئی ہے اسے ہم دو طرح سے سمجھتے ہیں:
(1) یہ جو ضرورت سے زیادہ فارغین ہیں جب انہیں کم تنخواہ پر بھی مدارس و مساجد میں نوکری نہیں ملتی ۔ تو وہ جھاڑ ، پُھوک، تعویذ ، گنڈا، چیخم، چلا، گرج، دھاڑ اور موضوع روایات کی تقریریں کرکے ضروریات زندگی کا انتظام کرتے ہیں اورکچھ حضرات شروع سے آخر تک کذب بیانی کرنے والی نقابت، نظامت اور نعت و منقبت کے نام پر اشعار کی چوری اور دیدہ دلیری کے ساتھ فلمی گانوں کے طرز پر نغمہ سرائی وغیرہ جیسے کام کرکے شكم پروری کا جگاڑ لگاتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو صلاحیت دی تھی کہ اگر انہیں صحیح موقع ملتا اور وہ اپنی صلاحیت کا صحیح استعمال کرتے تو وہ قوم و ملت کے اچھے قائد بن سکتے تھے۔ اور قوم و ملت کے لیے کافی مفید ثابت ہوتے۔
(2) اور وہ فارغین جو مذکورہ بالا کاموں میں بھی ایڈجسٹ نہیں کر پاتے اور ان کے پاس چوں کہ دوسرا کوئی علم و ہنر بھی نہیں ہوتا ہے ۔ اس لیے ایسے فارغین خود کو بالکل بدل لیتے ہیں۔ محنت و مزدوری کرتے ہیں، ڈرائیونگ، ماربل مستری، راج مستری، سلائی وغیرہ جیسے کام کرتے ہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کہ اکثر مسلمان یہی سب کام کرتے ہیں۔ لیکن دس بارہ سال مدارس میں پڑھنے کے بعد بھی انہیں وہی کام کرنا پڑ رہا ہے اور وہ بھی اس طرح کرنا پڑ رہا ہے کہ جو پڑھا تھا وہ بھلا دیا۔ نہ عمل میں یاد رکھا اور نہ معاملات میں، کیوں کہ پڑھنے کا مقصد ہی خود کی اصلاح نہیں تھی بلکہ پیٹ کا حیلہ تھا۔ سو جب وہ بدلے تو مکمل بدل گئے۔ اور اب وہ عام مزدور ہیں۔ جوان کے رشتے دار جاھل رہ کر پہلے سے ہی کر رہے ہیں۔ حرج اور افسوس اس بات کا ہے۔ اور اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ موجودہ مروجہ مدارس میں پڑھنے والوں میں سے اکثریت ان لوگوں کی ہے جو دنیا کے اعتبار سے بھی خسارے میں ہیں اور اللہ نہ کرے ایسا ہو ۔ لیکن خدشہ ہے کہ آخرت میں بھی خسارہ ہو۔
اس لیے اکثر دانشوروں کا کہنا ہے کہ نصاب تعلیم اور نظام تعلیم میں اصلاح کی سخت ضرورت ہے اور یہ کام ہمارے جیسے کم علم طالب علم کا نہیں ہے، بلکہ ہمارے اکابرین اور تعلیم و تعلم کی دنیا کے ماہرین ہی کر سکتے ہیں، لیکن ناچیز کی ناقص و نامکمل دو تجویزیں ہدیۂ ناظرین ہیں ،جس میں حذف و اضافے کی مکمل گنجائش ہے۔
(1) اسکول کالج یونیورسٹی کے طرز پر مدارس کی بھی درجہ بندی ہونی چاہیے ۔ پھر مدارس، درس نظامی کی سند کو ملحقہ مدارس اور یونیورسٹی کی طرح میٹرک، انٹر، گریجویشن، پوسٹ گریجویش اور پی ایچ ڈی وغیرہ کے مساوی بنانا ہوگا اور دورانیہ بھی ہر ادارے کا مساوی ہونا چاہئے۔
(2) میٹرک کی سطح تک کا نصاب ایسا ہونا چاہیے کہ فرض علوم اسلامیہ میں مہارت ہوجائے۔
انٹر کی سطح کے نصاب میں قدر تخصص ہو اور پھر گریجویشن کی سطح سے مکمل طور پر نصاب تعلیم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے
(1) دینیات:
اس میں فقه، علوم قرآن ،تفسیر قرآن، حدیث، اصول حدیث، وغیرہ کو اس طرح شامل کیا جائے کہ مثلا فقہ میں فضیلت کرنے والے کے لیے تفسیر قرآن اور حدیث اُسکا معاون سبجیکٹ ہو ۔ کوئی تفسیر قرآن میں فضیلت کرے تو فقہ اور حدیث اس کا معاون سبجیکٹ ہو۔ وعلى هذا القياس..
(2) زبان وادب
اس میں عربی فارسی اور انگلش کو رکھا جائے اور طالب علم کسی ایک زبان میں فضیلت کرے اور دو اس کے معاون سبجیکٹ ہوں۔
زبان وادب کی درسی کتابوں میں قرآن و حدیث کو بھی شامل رکھا جائے۔
گریجویشن میں داخلے کا طریقہ کار
گریجویشن میں داخلے کے خواہش مند طلباء میں سے سخت مقابلہ جاتی امتحان کے ذریعے صرف 25/ فیصد بچوں کا داخلہ دینیات کے شعبہ جات میں لیا جائے اور انہیں ہی مدارس و مساجد کے لیے موزون سمجھا جائے اور بقیہ بچوں کو زبان و ادب میں رکھا جائے اور
گریجویشن کی سطح سے ہی انہیں ٹیچنگ اور گورنمنٹ جاب حاصل کرنے کی رغبت دی جائے۔
اگر ہم ایسا کر سکے کے تو ان شاء اللہ العزیز قوم و ملت کو ضرورت کے مطابق علمائے کرام بھی دستیاب ہوں گے اور علماء کرام کی قدر و منزلت میں بھی اضافہ ہوگا ۔ پھر انشاء اللہ ذوق و شوق سے لوگ اپنے بچوں کا داخلہ بھی مدارس میں کرائیں گے اور فارغین مدارس بھی زکات دینے والے بنیں گے ان شاء اللہ عزوجل!

تحریر: محمد شہادت حسین فیضی 9431538584

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button