تعلیم

غیر منظم مدارس اور ناموزوں نصاب تعلیم کے برے نتائج


جس طرح آج کا بھارت بے ہنگم ہے۔ غیر مساوی اور اونچ نیچ میں بٹا ہوا نظر آتا ہے ،جہاں کچھ لوگ بہت امیر ہیں تو کچھ بہت ہی غریب۔ جہاں کچھ کو یہ چھوٹ ہے کہ جتنی دولت چاہیں جمع کریں، کوئی روک ٹوک نہیں، تو دوسری طرف وہ غریب بھی ہیں جو اپنی مرضی سے اپنی زندگی بھی نہیں جی سکتے۔ اسی طرح علاقے کے اعتبار سے بھی بھارت دو طرح کا نظر آتا ہے۔ ایک مغربی دکھنی حصے کا بھارت، جہاں ہر طرح کے کل کارخانے ہیں۔تو دوسرا پوربی اتری حصے کا بھارت، جہاں لوگوں کو غریب بناکر رکھا گیا ہے تاکہ کارخانوں کو چلانے کے لیے مزدور مل سکیں۔ اس بے ہنگم اور عدم مساوات کی وجہ سے بھارت ایک مضبوط ملک بننے کی دوڑ میں ہمیشہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ جسم صحتمند ہو ہی نہیں سکتا جس کے کل پرزے بے ترتیب ہوں ، اور جس کا آدھا دھڑ تندرست اور آدھا بیمار ہو۔
تقریباً یہی صورت حال بھارت کے مدارس کا بھی ہے۔ جو آپس میں متفرق، غیر منظم ، بے ترتیب ،بلکہ کہیں بلاوجہ بھی ہیں، اسی طرح پروڈکشن کے معاملے میں کچھ مفید ، کچھ کم مفید اور کچھ بالکل مفید نہیں تو بعض مضر بھی ہیں۔ اسی طرح ان کے نصاب تعلیم کا معاملہ بھی ہے کہ کہیں کوئی معقول نصاب ہے، اور کہیں نصاب ہی نہیں ہے، اور کہیں نصاب تو ہے لیکن اس پر کماحقہ عمل نہیں ہے۔ اسی طرح نصابی مواد کا معاملہ ہے کہ نہ وہ حالات و تقاضے پر کھرے اترتے ہیں اور نہ ہی وہ بچوں کے ذہنی معیار کے حساب سے مرتب ہیں۔ کہیں نصاب کا مستوی زیادہ بلند ہے تو کہیں نصاب اور ذہنی معیار میں بڑا فرق ہے۔ کچھ ذہین بچے اسی نصاب سے بہت دور نکل جاتے ہیں تو کچھ متوسط بچوں کو وہی کتاب پلے نہیں پڑتی۔ یعنی نصاب ایک اور نتائج میں بہت زیادہ نشیب و فراز ہے۔ مطلب نصاب اور عمری صلاحیت میں توازن نہیں ہے۔اور کافی حد تک غیر مناسب ہے۔ اسی نصاب تعلیم سے اور انہیں اداروں سے پڑھ کر کوئی یورپ، امریکہ، برطانیہ، یا یوں کہیں کہ بیرون ممالک میں جاکر دین و سنت کی خدمت کر رہے ہیں اور لاکھوں روپے ماہانہ کمانے قابل ہیں۔کچھ بڑی بڑی کمپنیوں میں جاب کر رہے ہیں۔کچھ سرکاری محکمہ جات کے امتحانات میں شریک ہوکراور کامیاب ہوکر باوقار زندگی گزار رہے ہیں۔کچھ ایسے بھی ہیں جو بڑے بڑے اسکول، کالج اور مدارس کے منتظم یا مہتمم یا قائد قوم و ملت ہیں ۔ایسے خوش نصیب فارغین مدارس کی تعداد صرف پانچ فیصد ہے ۔
اور دوسرا گروپ ان پنچانوے فیصد علمائے کرام، مفتیان عظام، حفاظ کرام، اور قاریان قرآن کی جماعت ہے۔ جو انہی مدارس میں اسی نصاب تعلیم سے پڑھ کر مدارس و مساجد میں پانچ ہزار سے دس ہزار کی نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔ یا مدارس و مساجد کی خدمت کو چھوڑ کر ڈرائیوری، راج مستری، ماربل و ٹائلس مستری وغیرہ جیسے کام کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اور ہر خاص و عام پر ہ ظاہر و عیاں بھی ہے۔اور اس واضح تفریق کا کہیں نا کہیں بہت گہرا رشتہ مدارس اور نظام مدارس اور نصاب مدارس سے سیدھا سیدھا ہے۔
ان ناگفتہ بہ حالات کے وجوہات کیا ہیں؟ اورتدارک کی کیا صورتیں ہو سکتی ہیں ، ہمارے قائدین و تعلیمی ماہرین کو اس پر ہمہ جہت غورو فکر کرنے کی ضرورت ہے اور ایک طویل مدتی تعلیمی نصاب اور طریقۂ تعلیم وضع کرکے بہتر متبادل اور موزوں نظام تعلیم پیش کرنا وقت کا جبری تقاضا ہے۔
(جاری ہے)
محمد شہادت حسین فیضی
9431538584

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button