اولیا و صوفیا

مختصر تعارف غوث الوقت حضرت بابا عبدالصمد تاجی رحمۃ اللہ علیہ

خلیفۂ ارشد شہنشاہ ہفت اقلیم حضرت سید محمد بابا تاج الدین ناگپوری رضی اللہ عنہ

اللہ تعالی نے انسان کو طرح طرح کی نعمتیں عطا کی ہیں جن کا شمار بھی نہیں کیا جا سکتا، ان بے شمار نعمتوں میں ”ہدایت“ بھی ایک عظیم نعمت ہے. تاریخ اسلامی کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے مخلوق خدا کی ہدایت کے لیے انبیاے کرام کو مبعوث فرمایا، انبیاے کرام نے اپنے اپنے عہد میں مخلوق خدا کی ہدایت و رہنمائی فرمائی اور ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دیا۔ ہمارے آقا ومولا حضور شافع یوم النشور سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم چوں کہ خاتم النبین ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا، اس لیے امت کی ہدایت و رہبری کے لیے حضور کے حیات ظاہری کے بعد اولیائے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھیجا گیا اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔
اللہ رب العزت کے وہ مقبول و محبوب بندے جو اس کی اطاعت و عبادت کو دل و جان سے عزیز رکھتے ہیں، اللہ رب العزت اپنے فضل و کرم سے انہیں اپنا قرب خاص عطا فرماکر "ولایت” کے درجے سے سرفراز فرماتا ہے، ان خوش نصیب حضرات کو نہ کسی چیز کا خوف ہوتا ہے اور نہ کسی بات کا غم۔
اللہ پاک کے ایسے ہی مقرب بندوں میں سے ایک عارف باللہ غوث الوقت حضرت شاہ بابا ”عبدالصمد صدیقی تاجی“ علیہ الرحمہ بھی ہیں جن کو اللہ رب العزت نے بہت سے فضائل و کمالات عطا فرمائے اور انہوں نے بھی اللہ کے بندوں کو خوب نوازا۔

تاریخ ولادت :
آپ کی ولادت شعبان 1299ھ مطابق 2؍ جولائی 1882ء کو دوشنبہ کےدن، صبح صادق کے وقت بھیکی پور، ضلع رائے بریلی (امیٹھی) میں ہوئی ۔

سلسلہ نسب یہ ہے:

علی رضا معروف بہ بابا عبد الصمد بن چودھری عابد علی بن چودھری حسین علی بن چودھری حیدر علی بن چودھری ظہر علی بن چودھری فیض علی صدیقی بن شیخ جان محمد بن شیخ خان محمد بن شیخ دوست محمد بن شیخ محمد حسین بن شیخ محمد ناصر بن شیخ محمد فیروز بن شیخ حشمت اللہ بن شیخ کمال الدین بن قاضی شیخ خیرات علی بن شیخ نظام الدین بن شیخ حسام الدین بن قاضی شیخ بدرالدین ۔
آپ کے خاندان کے افراد عہد شاہی میں عہدہ نیابت و قضا پر فائز تھے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتا ہے ۔

آپ کے جد اعلی حضرت قاضی بدرالدین علیہ الرحمہ اپنے بھائی شیخ شہاب الدین کے ہمراہ جہاد کے لیے حضرت سیدنا سالار مسعود غازی علیہ الرحمہ کے ساتھ ہندوستان تشریف لائے، انہونا اور کٹھورا کے علاقے پر قابض ہو کر یہیں سکونت اختیار کر لی ۔

تعلیم و تربیت :
بابا عبد الصمد علیہ الرحمہ ایک دین دار علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ،ابتدائی تعلیم گھر ہی پر والد گرامی سے حاصل فرمائی اور سات سال کی عمر میں مزید تحصیل علم کے لیے اپنے والد کے پیر و مرشد عارف ربانی حضرت شاہ عبداللطیف ستھنوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے انھیں سے علوم دینیہ کی تکمیل کی اور حافظ عبدالرحمن ستھنوی سے قرآن مجید کے کچھ پارے بھی حفظ کیے۔

ابتدا ہی سے انتہائی ذہین وفطین تھے ، شاہ صاحب آپ سے بڑی محبت فرما تے تھے، ان کی صحبت نےآپ کو با فیض بنا دیا تھا، بچپن ہی سے آپ میں بزرگی کے آثار نمایاں تھے، شاہ صاحب نےآپ کے والد سے فرمایا تھا کہ ”آپ کا یہ بچہ اپنے وقت کا ولی کامل ہوگا“ آپ شاہ صاحب کی خدمت میں 18 برس رہے

دینی تعلیم سے فراغت کے بعد فتح پور کے ایک اسکول میں ریاضی حساب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔

کسب معاش اور دربار تاج الاولیاء علیہ الرحمہ میں حاضری مع فیوض وبرکات :
کسب معاش کے لیے مختلف شہروں کا دورہ کیا، بالآخر ”ناگ پور“ میں محکمۂ پیمائش میں ملازمت اختیار کی اور وہیں تاج الاولیاء شہنشاہِ ہفت اقلیم حضرت سید محمد بابا تاج الدین علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت نےآپ کو دیکھ کر فرمایا: ” آگئے ہو حضرت بڑا انتظار تھا“ ، پھر ایک نگاہ ولایت ڈالی جس نےآپ کی زندگی کی کایہ پلٹ دی اور آپ تاج الاولیاء کے ایسے شیدا ہوئے کہ کچھ دنوں بعد ملازمت چھوڑ دی اور انھیں کی بارگاہ میں رہنے لگے۔
دوسال تک ریاضت ومجاہدہ کرانے کے بعد روحانیت وتصرف کے بلند منصب پر فائز کر دیا۔ پھر حکم ہوا نوکری چھوڑ کر گھر جاؤ ، وہاں لوگوں کو فیض پہنچاؤ ، وطن آۓ ، قبولیت بلندیوں پر پہنچی، اس کے بعد جو بھی حضرت تاج الاولیاء کی خدمت میں جاتا اسے ”بھیکی پور شریف“ بھیج دیا جاتا ، پھر تو دیکھتے دیکھتے پروانوں اور حاجت مندوں کا ہجوم و قافلہ آندھی طوفان بن گیا، باباعبدالصمد صاحب رحمة اللہ تعالیٰ علیہ کے دست مبارک کی چٹکی کی خاک اور دم کیا ہوا پانی اکسیر کا حکم رکھتی تھی، گورنمنٹ نے جائس کے اسٹیشن پر ریل گاڑی کے ٹھہر نے کا حکم جاری کیا، سڑک پختہ بن گئی، 4؍5 بیل گاڑی مٹی روزانہ صبح سے عشاء تک چٹکی چٹکی تقسیم ہو جاتی، لوگ اتنی کثرت سے آنے لگے کہ فرداً فرداً دم کرنے کا وقت ہی نہ ملتا، پھر آپ پانی میں انگلی ڈالنے لگے اور دم کیا ہوا پانی ایک کنوئیں میں ڈالوا دیا وہ جس پانی میں ہاتھ ڈالتے، وہ جاں بلب مریض کو بھی بیماری کے منہ سے کھینچ لاتا۔
بابا صاحب رحمة الله عليه کی شہرت ہندوستان سے نکل کر یورپ اور عرب تک جاپہنچی۔ ایک اندازے کے مطابق پندرہ بیس ہزار کا مجمع روز آتا اور جاتا تھا یہ سلسلہ دیڑھ سال تک جاری رہا پھر آپ نے اپنے پیرو مرشد کی بارگاہ میں عریضہ پیش کیا کہ حضور اب یہ سلسلہ بند کردیں تاکہ آپ سے ملاقات کرسکوں تو حکم ہوا کہ پریشان نہ ہوں بند ہوجائے گا پھر یکایک طاعون کی وبا پھیل گئی اور لوگوں کا آنا بند ہوگیا پھر آپ مرشد کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کچھ دن وہاں قیام فرمایا، میلے کی ساری سرگزشت سنائی، حضور تاج الاولیاء بہت خوش ہوۓ اور خرقۂ خلافت اور تبرکات سے نوازکروطن واپسی کی اجازت دی ۔
پھر آپ وطن واپس ہوئے اور خدمت خلق میں مصروف ہوگئے بے شمار کرامات کا ظہور ہوا، درجنوں مساجد اورمدارس کا قیام کرایا اور مختلف علاقوں کا تبلیغی دورہ فرمایا، جائس کا مشہور و معروف مدرسہ ”مدرسہ محمدیہ تاج المدارس“ آپ ہی کی سعی کا نتیجہ تھا جس میں اپنے وقت کے جن نامور علمائے کرام نے تدریسی خدمات انجام دیا ان کے أسماء حسب ذیل ہیں.
(1) امام النحو صدر العلماء سید غلام جیلانی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ
(2) محدث اعظم پاکستان علامہ سردار احمد لائل پوری علیہ الرحمہ
(3) امین شریعت علامہ رفاقت حسین صاحب مفتی اعظم کان پور
(4) حضرت مولانا محمد سلیمان صاحب اشرفی بھاگلپوری علیہ الرحمہ
(5) استاذ العلما مولانا حکیم غلام یزدانی اعظمی صاحب علیہ الرحمہ
وغیرہم۔
یہ حضرات کس پایہ کے عالم اور مدرس ہوئے، زمانہ کو اس کا اعتراف واقرار ہے۔
اس کے علاوہ اور مدارس ہیں جو ابھی بھی حسب استطاعت دین حنیف کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
الغرض آپ نے دین وسنیت کی بڑی خدمات انجام دیں اور سیکڑوں کرامتوں کا آپ سے ظہور ہوا۔
آپ ولایت کے بہت بلند مقام پر فائز تھے ۔ اس دور کے اکابر علماء نے آپ کی مدح و ثنا بیان کی اور ملاقات کا شرف حاصل کیا ۔
.
وصال :
14؍ رمضان المبارک 1385ھ مطابق 7؍ جنوری 1966ء بروز جمعہ، عین خطبہ کے وقت ایک بجے اس دار فانی کو الوداع کہا اور جان جاں آفریں کے سپرد کردی۔
آپ کا مزار مبارک بھیکی پور، پوسٹ فتح پور ضلع رائے بریلی (امیٹھی) میں مرجع خاص و عام ہے۔

ازقلم: عثمان رضا شفیق تاجی مصباحی جائسی
مدرسہ تاج العلوم صمدیہ گاندھی نگر، قاسم پور، جائس، امیٹھی۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button