علما و مشائخ

فسادیوں کی سچی توبہ

ازقلم: محمد عارف رضا نعیمی مرادآبادی بانی ہمدرد مسلم نعیمی کمیٹی وپیش امام نوری جامع مسجد شیخان نگرپنچایت ڈھکیا مرادآباد
8191927658

مفسر قرآن، صدرالافاضل، فخرالاماثل سید نعیم الدین مرادآبادی رحمته اللّٰه تعالیٰ علیه (بانی جامعه نعيميه مرادآباد) كو ویسے تو ﷲعزوجل نے بہت سے کمالات و خوبیاں عطا فرمائی تھی، ان خوبیوں میں ایک یہ بھی خوبی تهی کہ آپ رحمته اللّٰه علیه کا بیان بہت عمدہ اور پر اثر ہوا کرتا تھا، اس كا اندازه اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے:
آپ رحمته اللّٰه تعالیٰ علیه کا انداز بیان ایسا مسحور کن تھا کہ اپنے تو داد دیتے ہی تھے لیکن مخالفین بھی دم بخود (يعنی چپ چاپ، خاموش) رہ جاتے تھے – ایک مرتبہ (رانا دھول پور) کے علاقے میں آپ رحمته الله تعالیٰ علیه کا بیان تھا، لوگوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے جوق در جوق شرکت کی –
جب بیان شروع ہوا تو شر پسندوں کا ایک ٹولا آیا اور بیٹھ گیا – جب انہوں نے حضور صدرالافاضل رحمته اللّٰه تعالیٰ علیہ کا خطاب سنا تو وہ مسحور ہو کر رہ گئے، ان کی تُرکی تمام ہوگئی اور انہیں اپنے تہی دامن ہونے کا احساس ہوگیا – حضور صدرالافاضل، فخرالاماثل سيد نعيم الدين مرادآبادی رحمته اللّٰه تعالیٰ علیه نے بیان کے بعد عام اعلان فرمایا:
اگر کسی کو میری تقریر پر کوئی اشکال (يعنی اعتراض) ہو تو بیان کرے، اس کو مطمئن کیا جائے گا – تو یہ پوری جماعت کھڑی ہوگئی اور کہا:
حضور ! اشکال (يعنی اعتراض) تو کوئی نہیں پر اتنی عرض ہے کہ ہم فساد کے لیے آئے تھے، لیکن آپ (رحمته اللّٰه علیه) کی تقریر نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں، اب اتنا کرم فرمائیے کہ ہمیں توبہ کرائیں اور آج شام اسی موضوع پر ہمارے محلے میں بھی بیان فرمائیں –

خلاصه: وہ سب فسادی لوگ جو جلسے میں فساد پیدا کرنے کیلئے آئے تھے صدرالافاضل علیه الرحمه کے اس بیان کو سن کر ان کے دل کی دنیا بدل گئی اور ان سب نے جلسے كے بعد وہی پر حضرت کی موجودگی میں سچی توبہ کی اور نیک مسلمان بن گئے – یہ تھی شان صدرالافاضل سید نعیم الدین مرادآبادی علیه الرحمه کی –
دعا ہے:
ﷲعزوجل کی ان پر لاکھوں رحمتیں ہو اور ان کے صدقے ہماری اور ہمارے والدین کی بے حساب مغفرت ہو آمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰه تعالیٰ علیه واله وسلم.

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button