اولیا و صوفیا

قطب الاقطاب حضرت شاہ عبد اللطیف چشتی علیہ الرحمہ احوال و آثار

ازقلم: محمد دلشاد خان چشتی لطیفی
خانقاہ عالیہ لطیفیہ ستھن شریف ضلع امیٹھی یوپی۔

برصغیر میں دین اسلام کی ترویج و اشاعت میں بزرگان دین ، صوفیائے کرام اور مشائخ عظام کا بڑا اہم رول رہا ہے ہر دور میں کچھ ایسی عظیم ہستیاں جلوہ گر ہوتی رہی ہیں، جنہوں نے شریعت و طریقت کی بیش بہا اور نمایاں خدمات انجام دیں ۔ انہیں اللہ کے برگزیدہ بندوں میں ایک نام تاج الاولیاء، سراج الاصفیا، قطب الاقطاب، قدوۃالسالکین، ذبدۃالعارفین، خواجہ نور محمد المعروف حضرت شاہ عبداللطیف چشتی ستھنوی علیہ الرحمہ کا ہے جن سے ایک عالم نے فیض حاصل کیا اور آج بھی ان سے فیض جاری ساری ہے
نسب و وطن:
آپ دہلی کے شاہی خاندان مغلیہ سلطنت کے آخری چشم و چراغ بہادر شاہ ظفر کے شہزادے تھے۔ لیکن آپ نے کبھی اپنے حسب و نسب کو کھلے لفظوں میں ظاہر نہ فرمایا کیوں کہ آپ جس منزل عشق کے مسافر تھے اس میں ان باتوں کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے دین کی خدمات کے خاطر تخت و تاج اور عالیشان زندگی کو تبلیغِ اسلام کے خاطر ترک کر دِیا۔اور پوری زندگی فقرودرویشی میں گزاردی۔
غوثِ زماں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ کے خلفاء حضرت شاہ محمد بلال اور حضرت شاہ عبدالکریم کے فیض صحبت سے صاحب عرفان و مقام ہوئے۔
(حدوث الفتن و جھاد اعیان السنن صفحہ ۱۷۴ "تصنیف” خیر الاذکیاء استاد العلماء حضرت علامہ و مولانا محمد احمد مصباحی قدس سرہ العزیز)

آپ ہندوستان کے مختلف خطوں میں دین و سنیت کی بے لوث خدمات انجام دیتے ہوئے،” اودھ “ کے علاقے میں تشریف لے آئے ۔ضلع بارہ بنکی کے مواضعات سے ہوتے ہوئے” ستھن شریف“ تشریف لے آئے
آپ کی آمد سے پہلے ستھن کے قرب و جوار کا دینی ماحول بہت ہی تاریک اور بڑا وحشت ناک تھا، مسلمانوں کو صحیح طور سے کلمہ پڑھنے کا شعور تک نہ تھا ہندؤں کی طرح چوٹی رکھتے،جینیوں پہنتے اور یاترا کرتے تھے۔البتہ گاؤں میں ایک تکیہ داران کی مذہبی ضروریات کو انجام دیتا۔مسلمانوں کی یہ جہالت سے بھری ہوئی نا گفتہ بہ حالت دیکھ کر آپ نے ان میں تبلیغ دین کا سلسلہ شروع کیا۔ان کو کلمہ سکھایا،مشرکانہ رسموں سے نفرت دلائی،وضو و غسل کا صحیح طریقہ بتایا اور نماز، روزہ وغیرہ کے احکام و مسائل بتائے۔اپنی قیام گاہ پراکثر میلاد شریف کی محفلیں منعقد کر کے حاضرین کو بہترین انداز میں وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔یہاں تک کہ حضرت شاہ عبداللطیف علیہِ الرحمہ اپنے فطری حُسنِ اخلاق کے پیش نظر مریضوں کو دوا بتاتے جس کو ایک دو بار استعمال کرنے سے مکمل فائدہ ہوجاتا۔اس کے ساتھ دعاؤں کا سلسلہ بھی جاری تھا غرض کہ آپ نے بگڑے ہوئے لوگوں کی اصلاح وتربیت کے لئے دوا اور دعا وغیرہ کا ہر وه طریقہ اختیار فرمایا جو موجودہ حالات کے تحت نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا تھا، اس سلسلے میں آپ نے حسب ضرورت سخت تنبیہ اور زجرو توبیخ سے بھی کام لیا۔
استقامت علی الدین:
یہ وہ کٹھن منزل ہے جو ہاتھوں میں چنگاری پکڑنے کے مانند ہے۔ صوفیائے کرام فرما تے ہیں استقامت کرامت سے بڑھ کر ہے استقامت تصلب فی الدین میں
حضرت شاہ عبداللطیف چشتی ستھنوی علیہ الرحمہ ممتاز نظر آتے ہیں۔
آپ نے ہندوستان کے کئی علاقوں میں دین اسلام کی بہت خدمتیں انجام دیں ہیں بالخصوص ستھن کے علاقے گمراہیت و بے دینی کے گڑھے میں تقریبا غرقاب ہونے والے تھے
اللہ کے عطا کردہ فضائل و کمالات سے اس مرد حق آگاہ نے تنہا صرف اپنی روحانیت سے اس علاقے میں وہ کمال پیدا کیا کہ آج ہر چہار جانب اس کا اثر مدرسوں اور مسجدوں کی شکل میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ شاہ صاحب نے خود کئی مساجد اور مدارس کی تعمیر کرائی اور اپنے مریدوں کو بھی اس کی طرف مائل کیا یہی وجہ ہے کہ آپ کے مریدوں نے بھی کئی مدارس تعمیر کئے اور اس کی نسبت شاہ صاحب رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کی طرف کی، جن میں دنیا ۓ اہل سنت کی عظیم درس گاہ الجامعۃالاشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ بھی شامل ہے جیسا کہ
رئیس القلم علامه یاسین اختر مصباحی دام ظلہ العالی جامعہ اشرفیہ کے تعارف میں لکھتے ہیں
۳۰؍۱۳۲۹ھ/ ۱۹۱۱ء میں اہل سنت وجماعت نے مدرسہ مصباح العلوم کی نشاۃ ثانیہ کی تو بہادر شاہ ظفر کی اولاد میں ایک تارک الدنیا بزرگ حضرت شاہ عبد اللطیف چشتی (ستھن شریف ضلع سلطان پور، موجودہ ضلع امیٹھی یوپی) کے ایک مرید مولانا محمد عمر لطیفی مبارک پوری، اور شیخ المشائخ حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی (م۱۳۵۵ھ/۱۹۳۶ء) کے مریدین کی خواہش کے مطابق اس کا نام ’’مدرسہ لطیفیہ اشرفیہ مصباح العلوم‘‘ تجویز کیا۔ یہ مدرسہ محدود پیمانے پر روایتی انداز سے موجودہ نگر پالیکا کے قریب ایک چھوٹی سی دو منزلہ عمارت میں کام کرتا رہا۔ اس کے بعد مدرسہ لطیفیہ اشرفیہ اپنی خانہ بدوشانہ زندگی گزارتے ہوئے ۱۳۴۱ھ/ ۱۹۲۲ء میں پرانی بستی میں اس جگہ قائم ہوا جسے عام طور پر لوگ پرانا مدرسہ کے نام سے جانتے ہیں۔ پھر خدا جانے کب اور کن وجوہ کے پیش نظر ’’لطیفیہ‘‘ کی نسبت کو خارج کر دیا اور مدرسہ کا نام ’’مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم‘‘ باقی رہ گیا۔
(انوار صمدیہ :صفحہ نمبر 13 – از: عثمان رضا شفیق تاجی مصباحی، ناشر : آستانہ عالیہ صمدیہ بھیکی پور شریف ،امیٹھی، یوپی، ہند ۔)
اور براؤں شریف کا مرکزی ادارہ فیض الرسول کا اس کی بنیاد کا واقعہ پڑھو تو بڑا دلچسپ ہے یوں کہ حضور شعیب الاولیاء نے اپنے پیرومرشد قطب الاقطاب حضرت شاہ عبداللطیف ستھنوی اور حضور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیھما الرحمہ کو خواب میں دیکھا کہ وہ دونوں حضرات تشریف فرما ہیں کچھ طلبہ پڑھنے کے لئے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں دونوں بزروگ ایک دوسرے کو اشارہ فرما رہے ہیں کہ آپ ان بچوں کو پڑھائیں” بیدار ہونے کے بعد حضرت نے اسے ان مقدس روحوں کی جانب سے اپنے لئے براؤں شریف میں ایک دینی مدرسہ کے قیام کا حکم سمجھا اور خواب کی جزئیات سمیٹ کر جب تعبیر بنیں تو براؤں شریف کی اس آبادی میں جہاں مشکل سے چند آدمی قرآن شریف پڑھنے والے تھے، حیرت سے لوگ ایک ابتدائی دینی مدرسہ دیکھ رہے تھے جس کا نام حضرت نے فیض الرسول رکھا ابتدا میں مکتب کی شکل میں قائم ہونے والا یہ مدرسہ دیکھتے ہی دیکھتے چند برسوں میں دارالعلوم بن گیا دور دراز سے طلبہ پہنچنے لگے اور آج اس کی مرکزیت کا یہ عالم ہے کہ درجنوں دارالعلوم اس کی شاخ کی حیثیت سے بھارت کے مختلف حصوں میں دینی و علمی خدمت انجام دے رہے ہیں اوریہاں کے فارغین ملک و بیرون ملک دین حنیف کی مخلصانہ گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔(فتاوٰی فیض الرسول جلد اوّل صفحہ ۱۰ "ناشر” اکبر بک سیلرز اردو بازار لاہور)
بلاشبہ یہ قطب الاقطاب حضرت شاہ عبداللطیف علیہ الرحمہ کا روحانی فیض ہی ہے کہ خواب میں تشریف لاکر اس عظیم الشان دارالعلوم کے قیام کا اشارہ فرمایا
اتباع شریعت:
قطب الاقطاب حضرت شاہ عبداللطیف چشتی علیہ الرحمہ کی حیات مبارکہ پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہی یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہےکہ آپ نے پوری زندگی شریعت پر سختی سے عمل کیا ، ہرفرض وواجب کی محافظت اور اتباع سنت وشریعت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ ہونے دیا۔
شیخ المشائخ حضور شعیب لاولیاء حضرت شاہ یارعلی علیہ الرحمہ
بانی دارالعلوم اہل سنت فیض الرسول براؤں شریف
” اکثر فرمایا کرتے تھےکہ
میں نے ہند و پاک کا سفر کیا، تین بار حج و زیارت سےمشرف ہوا،ہزاروں علما و صوفیا کی صحبت حاصل ہوئی مگر
حضرت شاہ عبداللطیف چشتی ستھنوی علیہ الرحمہ جیسا متبع سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور پابند شریعت میں نے بہت ہی کم پایا
ایک سو تیس سال (۱۳۰) کی عمر میں جبکہ حضرت مرض الموت میں مبتلا تھےضعیف و نقاہت اس درجہ تک پہنچ چکی تھی کی دوسرے کے سہارے پر بھی دو قدم چلنے سے معذور تھے مگر اس حالت میں بھی نماز با جماعت کے اس قدر پابند تھے کہ کبھی تکبیر اولی فوت نہ ہوئی۔
شاہ صاحب علیہ الرحمۃ اتباع سنت احیاء ملّت کی وجہ سے اپنے معاصر بزرگان دین میں امتیازی شان کے حامل تھے غالباََ یہی وجہ تھی کہ شاہ صاحب علیہ الرحمۃ والرضوان سے (سفر بریلی شریف کے موقع پر)اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان بوقت ملاقات نہایت ہی اعزاز واکرام سے پیش آتے اور پہلو بہ پہلو بیٹھ کر گھنٹوں شریعت وطریقت کے رموز و اسرار پر گفتگو فرماتے تھے۔
(فتاوٰی فیض الرسول جلد۲صفحہ۲۱ "ناشر” اکبر بک سیلرز اردو بازار لاہور)
آپ ۳۳ بار حج و زیارت سے مشرف ہوۓ (تذکرہ علماء اہل سنت)مختلف ممالک کا آپ نے دورہ کیا اور خوب خدمت خلق فرمائی ہزاروں لوگ آپ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے کئ لوگوں کو خلافت سے بھی نوازا ہے۔
کرامات:
اولیاء اللہ کی کرامات حق ہیں۔قرآن و حدیث سے ثابت ہیں، حضرت سلیمان علیہ السلام کے وزیر اور ان کی امت کے ولی حضرت آصف بن برخیا کی کرامت کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے کہ سینکڑوں میل دور سے بڑا وزنی تخت پلک جھپکنے سے پہلے لاکر پیش کر دیا اور اسی طرح حضرت مریم رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس بے موسم پھلوں کا پایا جانے کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے ۔
عقائد کی کتاب” شرح العقائد“ جو ہر دینی مدرسہ میں پڑھائی جاتی ہے ۔اس میں ہے ؛ کرامات الاولیاء حق؛اولیاء اللہ کی کرامات حق ہے۔ولی کے ہاتھ پر کرامت اللہ تعالی کی قدرت اور اس کے اذن سے ظاہر ہوتی ہے۔
علماء فرماتے ہیں امت کے اولیا کی کرامات در حقیقت حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے معجزات ہیں، اللہ تعالی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے طفیل اولیا اللہ کو کمالات و تصرفات عطا فرماتا ہے
ہم یہاں حضرت شاہ عبداللطیف چشتی ستھنوی علیہ الرحمہ کی ایک کرامت کا ذکر کرتے ہے
حضرت شاہ عبداللطیف چشتی ستھنوی علیہ الرحمہ باکرامت بزرگ تھے
آپ سے سیکڑوں کرامتوں کا ظہور ہوا آپ کی بے شمار کرامتوں میں سے ایک عظیم کرامت یہ ہے کہ
شیخ المشائخ حضور شعیب لاولیاء حضرت شاہ یارعلی علیہ الرحمہ
جب ایک بار آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رخصت ہوتے وقت حضرت شاہ یارعلی صاحب قبلہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر اس طرح ارشاد فرمایا ۔
میاں نماز تو نماز،جماعت تو جماعت تکبیر اولی فوت نہ ہو۔
اور یہی نماز اللہ تعالی سے ملا دے گی۔
حضرت شاہ عبداللطیف چشتی ستھنوی علیہ الرحمہ کی زبان مبارک سے ادا ہونے والے یہ چند جملے
حضرت شاہ یار علی صاحب قبلہ رحمت اللہ تعالی علیہ کے لئے پتھر کی لکیر بن گئے کہ اس واقعہ کو کم و بیش پینتالیس ۴۵ سال گزر گئے تھے لیکن سفر و حضر اور سخت سے سخت بیماری کی حالت میں بھی آپ کی نماز تو نماز جماعت تو جماعت کبھی تکبیر اولی فوت نہ ہوئی۔(فتاوٰی فیض الرسول جلد۲صفحہ۱۴ ناشر : اکبر بک سیلرز اردو بازار لاہور)

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

سفر آخرت:
ایک دن ردولی شریف ضلع فیض آباد یوپی میں ملک محمد نظام الدین کے یہاں تشریف لے گئے اور سلام و دعا کے بعد فرمایا کہ میں تیرے یہاں مرنے کے لئے آیا ہوں چنانچہ ایسا ہی ہوا ۹ جمادی الاولی ہجری ۱۳۳۹ بمطابق ۱۹۲۰ کو بارہ بجکر پچپن منٹ پر ردولی شریف میں ہی یہ آفتابِ علم و فضل جس کی نورانی کرنوں سے عالم اسلام برسوں منوّر ہوتا رہا٫ہمیشہ کے لئے روپوش ہو گیا۔ ’’اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ دوسرے دن ۲ ۳۰ ڈھائی بجے دن میں بمقام ستھن شریف ضلع امیٹھی یوپی میں تدفین عمل میں آئی
آپکی نماز جنازہ میں تقریبا تیس ہزار آدمی شریک تھے ستھن شریف میں آپ کا مزار پاک مرجع خلائق اور منبع فیض و برکات ہے۔
آپ کے مرید مرحوم محمد عمر لطیفی صاحب نے قطعہ تاریخ کہا۔

مرشد کامل سراج العارفین
مظہرِ شانِ خُدا عبداللطیف
بدھ کا دن تھا نو جمادی الاول آہ
جب چھپی نظروں سے وہ ذاتِ شریف
یاد رکھنے کے لیے سال وفات
اے عمر لکھدو تاریخ لطیف


8,9,10 جمادی الاول کو ہر سال آپ کا عرس نہایت تزک و احتشام کے ساتھ آستانہ عالیہ سے متصل خانقاہ عالیہ لطیفیہ میں خادم و جانشین مولانا صوفی شفیق احمد خان چشتی لطیفی صاحب قبلہ خانقاہ عالیہ لطیفیہ کی جانب سے
۱۰جمادی الاول کو دن میں 10 بجے سے لیکر ظہر تک محفل میلاد کا پروگرام ہوتا ہے اور بعد نماز ظہور زیارت موئے مبارک(صلی اللہ علیہ وسلم )کرائی جاتی ہے
جس میں ہندوستان کے مشہور و معروف علمائے کرام و شعراۓ اسلام تشریف لاتے ہیں لہزا آپ تمامی احباب اہلسنت سے گزارش ہیکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت فرماکر محفل کو کامیاب بنائیں اور صاحب عرس کے فیضان سے مالا مال ہوں
اللہ تعالی ہم سب کو سنت مصطفی پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اولیاۓ کرام سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


مصادر و مراجع
(1)حدوث الفتن و جھاد اعیان السنن صفحہ ۱۷۴
از: خیر الاذکیاء استاد العلماء حضرت علامہ و مولانا محمد احمد مصباحی قدس سرہ العزیز.
ناشر : المجمع الاسلامی ملت نگر ،مبارک پور، اعظم گڑھ ہند.
(2) فتاوٰی فیض الرسول جلد۲صفحہ
۲۱ ناشر : اکبر بک سیلرز اردو بازار لاہور.
(3) انوار صمدیہ :صفحہ :١٣ – از: عثمان رضا شفیق تاجی مصباحی
ناشر : آستانہ عالیہ صمدیہ بھیکی پور شریف ،امیٹھی، یوپی، ہند.
(4) تذکرۂ علماے اہل سنت از: علامہ محمود احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ صفحہ :١٦٩
ناشر: سنی دارالاشاعت علویہ رضویہ ڈجکوٹ روڈ، فیصل آباد، پاکستان.
(5) تجلیاتِ لطیف از: حافظ محمد دلشاد خان لطیفی خانقاہ عالیہ لطیفیہ ستھن شریف امیٹھی یو پی،ہند
ناشر: رضوی پریس لکھنؤ ہند۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button