نبی کریمﷺ

نبی خیرالوریٰ خیرالبشر ہیں

ازقلم: محمد علاؤالدین قادری ضوی
صدرافتا: محکمہ شرعیہ سنی دارالافتاء والقضاء میراروڈ ممبئی

ہمیں حیرت ہے ان لوگوں پر جو علم کو نور قرار دیتے ہیں لیکن جس ذات مقدس کی حیات ، اخلاق اور سیرت کے جاننے کو علم کہتے ہیں اس ذات مبارکہ کو نور کہنے میں انہیں دلائل میں ضعف نظر آتا ہے لیکن حدیث جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو دل مضطر نور کی ٹھنڈک سے قرار پاتا ہے کہ ہم اس نبی کی امت سے ہیں جسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے نور سے پیدا کیا جو اس کے شایان شان ہے ۔ہم اہل سنت کا مسلمہ عقیدہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جہاں بشر ہیں وہیں خیر البشر بھی ہیں ۔ خیر بشر کامعنی اور مفہوم ہی یہ ہے کہ خلائق میں آپ جیسا کوئی نہیں اور جو آپ کو اپنا جیسا بشر کہتا ہے وہ یقینا گمراہ ہے کہ حضور نبی اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واضح فر مان ہے ’’ ایکم مثلی ‘‘تم میں مجھ جیسا کون ہے ؟۔یقینا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک جتنے انسان ہوئے یا ہوں گے وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام و مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتے اس لئے کہ تمام مخلوق کی تخلیق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بر کت سے ہے، آپ ظاہراًبشر ہیں اور حقیقتاًنو ر ہیں بلکہ ہما رے علمائے اہل سنت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوعین نور قرار دیتے ہیں اور یہ با تیں وہ اپنی طر ف سے نہیں کہتے ہیں بلکہ اس پر قرآن و حدیث سے دلیل لاتے ہیں ،آپ نو ر ہیں یہ امر قر آن مقد س کی آیت کریمہ ’’قد جا ء کم من اللہ نو ر و کتاب مبین ‘‘سے ثا بت ہے ۔اس آیت مبا رکہ میں نو ر سے مراد سر کا ر دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے ۔
فقیہ ابو لیث سمر قندی حنفی ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ما تے ہیں :نو ر سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ قرآن بھی مراد لیتے ہیں نو ر وہ ہے جس سے اشیا ظا ہر ہو تی ہیں اور آنکھیں اس کی حقیقت کو دیکھتی ہیں ۔ (تفسیر سمر قندی ،ج ۱ ، ص۴۲۴)
جمہور مفسر ین اس آیت کریمہ میں ’’نو ر ‘‘سے مراد حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی لیتے ہیں اور’’ کتاب مبین ‘‘سے قرآن مجید مراد لیتے ہیں ۔امام فخر الدین محمد بن عمر رازی لکھتے ہیں :اس آیت کریمہ کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں ۔بعض نو ر سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبا رکہ کو لیتے ہیں ،بعض نو ر سے اسلام مراد لیتے ہیں اور بعض نو ر اور کتاب دو نو ں سے مراد قرآن لیتے ہیں ،لیکن یہ قول ضعیف ہے کہ قاعدہ کے مطا بق عطف تغایر کو چاہتا ہے اس لئے یہ ظا ہرہو گیا کہ نو ر سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مراد لی جا ئے اور کتا ب سے قرآن مراد لیا جا ئے اور قرآن پر نو ر کا اطلاق کیا جا نا جا ئز ہے ۔ (تفسیر کبیر ، ج۳، ص ۳۸۴)
علامہ سید محمود آلوسی حنفی ر حمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں :آیت میں نو ر سے مراد نو ر عظیم ہے جو تمام انوار کا نو ر ہے اور وہ نبی مختار صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور حضرت قتا دہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی یہی مذہب ہے ، زجاج کا مختا ر مذ ہب بھی یہی ہے ۔ (رو ح المعانی ، جز ۶،ص ۹۷)
ملا علی بن سلطان محمد القاری حنفی لکھتے ہیں :نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نو ر کا اطلاق کیا گیا چو نکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی وہ ذات مقدس ہے جو بنداگان خدا کو ظلمت سے نکال کر نو ر کی طر ف لاتاہے اور آپ یہا ں تک لکھتے ہیں کہ اس سے کیا چیز مانع ہے کہ نو ر اور کتا ب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت و صفات کا بیا ن ہو رہا ہو یقینا آپ نو ر عظیم ہیں ، کہ انوار میں آپ کا کامل ظہور ہے اور آپ ہی کتا ب مبین ہیں ، جامع الاسرار آپ ہی کا لقب ہے اور آپ احکام الٰہی کے احوال واخبا ر کے ظاہر کر نے والے ہیں ۔
(شر ح الشفا ،علی ھامش نسیم الر یا ض ، ج۱، ص ۱۱۴)
شا عر مشرق عاشق رسول قلندر لاہوری ڈاکٹر محمد اقبال اسی راز سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ:
لو ح بھی تو قلم بھی تو ، تیرا وجود الکتا ب
گنبد آبگینہ ر نگ تیر ے محیط میں حباب
عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ

ذرۂ ریگ کو دیا تونے طلوع آفتاب
شوکت سنجرو سلیم تیرے جلال کی نمود
فقر جنیدو بایزید تیرا جمال بے نقاب
تیری نگاہ ناز سے دونو ں مراد پا گئے
عقل غیاب و جستجو عشق حضور و اضطراب

حضرات مفسرین میں اکثر کا مختار مذہب یہی ہے کہ اس آیت میں نور سے مراد ہمارے آقا احمد مجتبیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں ،آپ جہاں نور ہدایت ہیں، نور معنوی ہیں وہیں نور حسی بھی ہیں ۔علامہ ابو عبد اللہ محمد بن محمد فاسی مالکی المعروف ابن حاج لکھتے ہیں :
امام ابو عبدالر حمن الصقلی ر حمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’الدلات ‘‘میں نقل کیا ہے کہ اللہ عزوجل نے کو ئی ایسی مخلوق پیدا نہ کی جو اس کو اس امت سے زیادہ محبوب ہو اور نہیں نبی مکر م صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ عز ت و عظمت والا ہے ،حضور کی تخلیق کا حا ل تو یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے حضرت سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نور پیدا کیااور وہ نو ر عر ش کے ستون کے سامنے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کر تا رہا پھر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نو رسے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور آدم علیہ السلام کے نو ر سے با قی انبیا علیہم السلام کے نو ر کوپیدا کیا اس طر ح تمام انبیا ئے کرام علیہم السلام آپ ہی کے نو ر سے فیض یافتہ ہیں ۔
حضرت صدرالافاضل مو لانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی لکھتے ہیں :سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو نو ر فر ما یا گیا ، کیونکہ آپ سے تاریکی کفر دور ہوئی اور راہ حق واضح ہو ئی ۔
(خزائن العرفان ، ص ۱۷۶)
جب ہما رے علما معناً حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آدم علیہ السلام کا با پ قرار دیتے ہیں تو بعض سلفی ، دیو بندی ، وہا بی وغیرہ چیخ و پکا ر شر وع کر دیتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ حضور علیہ السلام حضرت آدم کے معنوی با پ ہو ں تو ایسے لوگوں کو چا ہئے کہ وہ علامہ ابن الحاج کی یہ تحر یر یں پڑ ھیں وہ لکھتے ہیں :حضرت آدم علیہ السلام نے ہما رے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اے وہ !جو معناً میر ے با پ ہیں اور صورتاً میر ے بیٹے ہیں ،امام تر مذی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میںنے عر ض کیا:یا ر سول اللہ ! آپ کے لئے نبو ت کب ثا بت ہو ئی ؟فر ما یا :ابھی آدم رو ح اور جسد کے در میان تھے ۔ (المد خل ، ج ۲ ، ص ۳۳)

ان کی نبوت ان کی ابوت ہے سب کو عام
ام البشر عروس انہیں کے پسرکی ہے
ظاہر میں میرے پھول حقیقت میں میرے نخل
اس گل کی یاد میں یہ سد ا بوالبشر کی ہے (حضرت رضابریلوی)

علامہ خازن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :نور سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نور اس لئے فر ما یا کہ جس طر ح اندھیرے میں نو ر کے ذر یعے ہدایت حا صل ہو تی ہے اسی طر ح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہدا یت حاصل ہو تی ہے ۔
(خازن ، ج ۱ ، ص ۴۷۷)
حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ لفظ ’’نو ر ‘‘کی تفسیر لکھتے ہوئے فرماتے ہیں : نور سے مراد نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔
(جلالین ، ص ۹۷ )
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا نور ہو نا خو دہی ظا ہر فر ما یا امام عبد الرزاق ر حمتہ اللہ علیہ جو امام بخا ری اورامام مسلم کے دادا استاد ہیں آپ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر تے ہیں :قال سئلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن اول شئی خلقہ اللہ تعالیٰ ؟فقال ھو نور نبیک یا جابر خلقہ اللہ یعنی حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ماتے ہیں :میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پو چھا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کس شئی کو پیدا فر ما یا ؟ارشاد فر ما یا اے جا بر ! وہ تیرے نبی کا نور ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ۔(الجزالمفقود من المصنف عبدالرزاق ، کتاب الایمان ، با ب فی تخلیق نور محمد ، ص ۶۳ )
حضرت شیخ عبد الحق محد ث دہلوی ر حمتہ اللہ علیہ فر ما تے ہیں کہ وہ تمام آیا ت جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی برابری و مساوات معلوم ہو تی ہو وہ متشابہات کے مثل ہیں جیسے اللہ تعالیٰ اپنے نور کی مثال یوں دیتا ہے۔
’’ مثل نو رہ کمشکاۃ فیہا مصباح ‘‘ (النور :۳۵)
اس کا نور ایسا ہے جیسے تاقچہ میں چراغ۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ نور الٰہی چراغ جیسا ہے ، اسی طرح کوئی یہ نہیں سوچ سکتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ ہم جیسے بشر ہیں ۔
محمد بشر لا کالبشر
بل ھو یا قوت بین الحجر
محمد صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں مگر عام بشر نہیں ، آپ کی مثال ایسی ہے جیسے پتھروں میں یاقوت ۔
مر زا اسد اللہ خاں غالب کہتے ہیں :
حق جلو ہ گر ز طرز بیان محمد است
آرے کلام حق بز بان محمد است
محمد کے طر ز و بیان سے حق ظاہر ہو تا ہے ،کلام حق تعالیٰ آپ کی ہی زبان مبا رک سے ظاہر ہے ۔
رسول اکرم ارواحنا فداہ صلی اللہ علیہ وسلم آئینہ حق ہیں جس کے دو رخ ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو کائنات کی حقیقت بے معنی ہو تی اور اس کا قالب بے فیض ہوتا ۔ آئینہ کا ایک رخ اللہ کی طر ف ہے جہاں سے ارشاد ہو تا ہے ’’وما ینطق عن الھوی ان ھوا لا وحی یوحی ‘‘(النجم :۳،۴) وہ اپنی خواہش اور مر ضی سے کچھ نہیں فر ما تے ، ان سے تو جوکچھ اللہ فر ما تا ہے وہ وہی فر ما تے ہیں ۔
گفتۂ او گفتۂ اللہ بود
اگر چہ از حلقوم عبد اللہ بود
یعنی اللہ تعالیٰ کے حبیب کا بولنا گویا اللہ ہی کا بولنا ہے اگر چہ زبان تو بندے کی ہوتی ہے لیکن اس پہ کلام اللہ ہی کا جاری ہوتا ہے۔
اور دوسرا رخ مخلوق کی طر ف ہے جس سے ارشاد ہو تا ہے ’’انما انا بشر مثلکم ‘‘(الکہف :۱۱۰)بے شک میں تم جیسا بشر ہوں ۔
حضرت شاہ ابو علی قلندر پانی پتی قدس سرہ فرماتے ہیں :
تو بودی معنی آدم عزا زیلے اگر داند
ز اول روز تا محشر نمی برداشت پیشانی
آپ آدم اور آدمیت کا سر ہیں ، اگر شیطان کو یہ معلوم ہو جاتا تو وہ قیامت تک سجدہ سے پیشانی نہ اٹھاتا ۔
نہ پچیدہ سر از طاعت اگر ابلیس دانستے
کہ مثل چوں فر زند یست در ذریت آدم
اگر شیطان کو پتا چل جاتا کہ حضرت آدم کی اولاد میں آپ جیسی ہستی ہو گی تو وہ ان کو سجدہ کر نے سے کبھی ا نکار ہی نہیں کر تا ۔
(نغمات الاسرار فی مقامات الابرار ، ص ۳۷؍۳۸)
شارح بخا ری امام احمد بن محمد قسطلانی قدس سرہ النورانی فرماتے ہیں :اللہ سبحا نہ وتعالیٰ نے جب ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے نور کو پیدا فرمایا تو اسے حکم ہوا جملہ نور انبیا کو دیکھے چنا نچہ اللہ عزوجل نے تمام انبیا کے نور کو ہما رے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نو ر سے ڈھانپ دیا ۔ انہوں نے عرض کی :مو لیٰ ! کس کے نور نے ہمیں ڈھانپ لیا ؟تو اللہ عزوجل نے فر مایا کہ یہ عبد اللہ کے بیٹے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نو ر ہے ۔ (مواھب لدنیہ ، ج۱ ، ص۲۳)
امام المفسرین علامہ ابن جریر لکھتے ہیں :کہ نور سے مراد اس آیت کر یمہ میں ذات پا ک محمد مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والثنا ہے جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حق کو روشن کردیا ، اسلام کو ظاہر فرمایا ، شرک کو نیست و نابود کیا ۔ حضور نورہے مگر اس کے لئے جو اس نور سے دل کی آنکھوں کو روشن کر ناچاہے ۔ (تفسیر ابن جریر ،
بحوالہ :تفسیر ضیاء القرآن، ج۱ ، ص ۵۳ ۴)
اہل سنت کے حکیم حضرت مفتی احمد یارخاں نعیمی قد س سرہ فرماتے ہیں :
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بشر بھی ہیں اور نور بھی یعنی نورانی بشر ہیں ، ظاہری جسم شر یف بشر ہیں اور حقیقت نور ہیں ۔
(رسالہ نور مع رسائل نعیمیہ ، ص ۳۹)

ترسیل : محمد شاھد رضا ثنائی بچھارپوری
رکن اعلیٰ: افکار اہل سنت اکیڈمی
پوجانگر میراروڈ ممبئی
16/ جمادی الاولیٰ 1444ھ
11/ دسمبر 2022ء

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button