مذہبی مضامینمراسلہ

فقط چندہ کے لیے تحفظ ناموس رسالت کااستعمال نا کریں

  • "آپ کا خود کا دامن گستاخی رسالت سے داغ دار ہے پہلے توبہ کریں اپنے اکابر کی مغلظہ عبارات و افعال و اقوال سے بیزاری کا اعلان کریں پھر ناموس رسالت کی پہرے داری کا دم بھریں عوام اہلسنت کو دھوکہ دینے اپنی سیاسی روٹی گرم کرنے کے لئے ناموس رسالت کا استعمال نا کریں، مولوی عظیم الدین قاسمی جیسے لوگ۔"


عزیز قارئین کرام
آقائے دو جہاں ، محبوب خدا، مصطفے کریم کی مودت و محبت ایمان کی بنیاد ہے ، امت مسلمہ کے عروج و زوال کا سبب ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں 1400 سال سے زائد کا عرصہ گزرا لیکن کبھی امت نے چوں چرا سے کام نہیں لیا ، بلکہ پوری امت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ مصطفے کریم کی الفت و محبت کے بغیرکمال ایمان کا تصور ممکن نہیں ہے جس کو ڈاکٹر اقبال نے اس طرح بیان کیا کہ

کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہان چیز کیا ہےلوح و قلم تیرے ہیں

یہی وجہ ہیکہ ہر دور میں مسلمانوں کے لئے تحفط ناموس رسالت کا مسئلہ سب سے حساس مسئلہ رہا ہے ادنی درجہ کا مسلمان بھی اپنے آقا کی عزت و عظمت پر مر مٹنے کا جذبہ رکھتا ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی مسلمانوں کو حفظ ناموس رسالت کے نام پر بلایا گیا ہے امت مسلمہ جوق در جوق حاضر ہوئی ہے ہر طرح کی جانی ،مالی قربانی کے لئے خود کو پیش کیا ہے ۔
عزیز قارئین کرام
ظاہر ہے کہ جب تحفظ ناموس رسالت مسلمانوں کے لئے اس قدر حساس ہے تو یہ نا ممکن ہے کہ دشمنان اسلام اس میں نقب زنی کی کوشش نا کریں اور اس مسئلہ میں مسلمانوں کو الجھانے کی کوشش نا کریں حاصل یہ کہ انھوں نے کوشش کی خوب کی تاکہ مسلمانوں کے دلوں سے عشق رسالت کی شمع کو بجھایا جا سکے ان سے محبت رسول کی عظیم دولت کو چھینا جا سکے ، نتیجتا انھوں نے مسلمانوں میں انھیں کی شکل میں ایسے لوگوں کو تیار کیا جنھوں نے مسلمانوں کے بیچ رہ کر ، حفظ ناموس رسالت کا دعوہ کر کے گستاخی رسالت کے قبیح فعل کو انجام دیا مجھے یہ کہنے میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ نہیں کہ انھیں میں سے وہابیہ دیابنہ اور انکے ہمنوا ہیں عزیز احباب اس سب کے باو جود اکثر و بیشتر یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ اسی جماعت سے کسی صاحب نے ناموس رسالت کے حوالے سے یہ بیان دیا وہ بیان دیا وغیرہ حالانکہ یہ سب پر واضح ہے کہ یہ ناموس رسالت کے پہرے دار نہیں ، اور یہ بھی واضح ہیکہ یہ اس مسئلہ کا نام کیوں لیتے ہیں بجز اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی زکواۃ جمع کریں اور اپنے کالے چہروں کو اجلا کریں ۔
عزیز قارئین کرام
ایسی ہی ایک خبر آج مؤرخہ 12 دسمبر 2022 بروز پیر روز نامہ انقلاب میں صفحہ نمبر 2 پر وہابیوں کے ایک مبلغ مولوی عظیم الدین قاسمی کے نام سے شائع ہوئی جس میں انھوں نے کہا کہ ناموس رسالت امت مسلمہ کی جانوں سے زیادہ عزیزہے بغیر آقائے دو جہاں کی محبت کے کمال ایمان تک رسائی ممکن نہیں وغیرہ وغیرہ مذکورہ باتیں بالکل درست ہیں لیکن موصوف آپ ایسا بیان کیوں دے رہے ہیں آپ تو خود اس جماعت میں شامل ہیں جنھوں نے محبوب دوجہاں کی عزت و عظمت پر گستاخی کے باب کھولے ، جنھوں نے کبھی علم غیب پر اعتراض کر کے گستاخی کی کبھی نور و بشر کی بحث چھیڑ کر مغلظات بکے کیا آپ ان میں سے نہیں ہیں اگر ہیں تو اپنے اسلاف کی گستاخانہ عبارتوں کو مسلمانوں کے سامنے پیش کریں اس کے بعد عاشق رسول ہونے کادعوہ کریں ، حفظ ناموس رسالت کے نام پر چندہ خوری نا کریں بلکہ پہلے خود کی اصلاح کریں ۔
عزیز قارئین کرام
اخیر میں امت مسلمہ کے ہر فرد سے التماس ہے کہ ایسے ہی ہر کسی کو محافظ ناموس رسالت نا بنا دیں اس لئے کہ تحفظ ناموس رسالت ہی امت کے عروج و زوال کا سبب ہے اگر امت اس مسئلہ میں ناکام ہوتی ہے تو ناکامی ہی اس کا مقدر ہوگی جیسا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر حضور کی گستاخی ہو تو امت کیا کرے فرمایا بدلہ لے کہا اگر بدلہ نا لے سکے تو ؟ فرمایا پھرساری امت مر جائے انھیں جینے کا کوئی حق نہیں ، ، عزیز آج ہر جانب گستاخیوں کا سیلاب ہے ہر چہار جانب سے مصطفے کریم کی عزت و عظمت پر حملے ہو رہے ہیں اور امت مسلمہ وہ رد عمل پیش نہیں کر رہی جو اسے کرنا چاہئے لہذا اٹھیں اور پوری دنیا کو بتائیں کہ ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن اپنے نبی کی شان میں انگشت نمائی نہیں اور ان مسلم نما اغیار کو بھی بتائیں کہ ہمیں تمھاری ضرورت نہیں ہے ہم اپنے نبی کی حرمت پر خود پہرا دے سکتے ہیں۔

ازقلم: عقیل احمد فیضی
خادم تحریک فروغ اسلام
12 دسمبر 2022 بروز پیر

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button