نبی کریمﷺ

نور عین لطافت ہیں میرے نبی

ازقلم : محمد علاؤالدین قادری رضوی
صدرافتا: محکمہ شرعیہ سنی دارالافتاء والقضاء میراروڈ ممبئی

بد مذہب لفظ بشر سے مسلمانوں کو یہ دھوکا دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ حضور بشر ہیں تو نور ہونا یہ کیسے ممکن ہے کہ نور اور بشر ایک دوسرے کی ضد ہیں تو اس قسم کی باتیں وہی لوگ کرتے ہیں جو حضور کی تخلیق کو محض بشر ہونے کی حیثیت سے دیکھتے ہیں جب کہ حضور کی اصل نور ہے اور ظاہر ی شکل و صورت میں آپ بشر ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپ کو حضرت انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے مبعوث فرمایا تو زیادہ منا سب یہی تھا کہ وہ بشری شکل و صورت میں مبعوث ہوں تا کہ ہدایت و رہنمائی کی دعوت آسانی سے دی جاسکے لیکن یہ امر ذہن میں رہے کہ نور اور بشر ایک دوسرے کی ضد نہیں کہ ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے کیونکہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نوری مخلوق ہونے کے باوجود حضرت سیدتنا مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے انسانی شکل میں جلوہ گر ہو ئے تھے جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے : فاارسلنا الیھا روحنا فتمثل لھا بشرا سویاً۔ (مریم :۱۷)ترجمہ: تو اس کی طر ف ہم نے اپنا روحانی بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا۔ (کنز الایمان)
اسی طرح حضرت ملک الموت علیہ السلام بشری صورت میں حضرت سیدنا مو سیٰ کلیم اللہ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہو ئے ۔ (بخاری ، جلد ۱ ، ص ۴۵۰)
دیوبندی کے عظیم پیشوا مولانا رشید احمد گنگوہی اس آیت کریمہ میں لفظ نور سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک ہی مراد لیتے ہیں اور لکھتے ہیں: کہ حق تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو نور فرمایا اور متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سایہ نہیں رکھتے تھے اور یہ واضح ہے کہ نور کے سوا تمام اجسام سا یہ رکھتے ہیں ۔ نیز لکھتے ہیں کہ آپ کی ذات اگر چہ اولاد آدم میں سے ہے لیکن آپ نے اپنی ذات کو اس طر ح مطہر فرمایا کہ اب آپ سراپا نور ہوگئے ۔اسی کتا ب میں دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کے حق تعالیٰ نے مجھے اپنے نور سے پیدا کیا اور مومنوں کو میرے نور سے
(امداد السلوک ، ص ۸۵ص۱۵۶؍۱۵۷)
دیوبند ی فر قہ کے بانی مو لانا اشر ف علی تھانوی اپنی کتا ب ’’رسالۃ النور‘‘میں لکھتے ہیں :آیت مقد سہ میں نو ر سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، اس تفسیر کی تر جیح کی وجہ یہ ہے کہ مراد اوپر بھی قد جاء کم رسولنا فر ما یا ہے تو یہ قرینہ ہے کہ اس پر دو نو ں جگہ جاء کم کا فاعل ایک ہو ۔ (رسالۃ النور ، ص ۳۱)
غیر مقلد کے مشہور عالم وحید الزماں لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نو ر محمد ی کو پیدا کیا ، پھر پا نی ، پھر پانی کے اوپر عر ش کو پیدا کیا، پھر ہوا ، پھر قلم اور دوات اور لو ح پھر عقل کو پیدا کیا ، بس نور محمد ی آسمانوں اور زمین اور ان میں پا ئی جانے والی مخلوق کے لئے مادہ اولیہ ہے ، نیز حا شیہ میں لکھتے ہیں کہ قلم اور عقل کی اولیت اضافی ہے ۔
(ہد یۃ المہدی ، ص ۵۶)
اسی جما عت کے دوسرے عالم پروفیسر ابوبکر غزنوی ایک کتاب پر تقریظ لکھتے ہو ئے حضور کو نور تسلیم کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ: قرآن مجید کہتا ہے کہ وہ بشر بھی تھے اور نو ر بھی تھے اور صحیح مسلک یہی ہے کہ وہ بشر ہو تے ہوئے از فرق تا بقدم نور کا سراپا تھے ۔
(تحریر ۴ ۱؍دسمبر ۱۹۷۱ء تقریظ رسالہ ، بشریت و رسالت ، ص ۱۷)

نور عین لطافت پہ الطف درود
زیب زین نظافت پہ لاکھوں سلام
(حضرت رضا بریلوی رحمة اللہ علیہ)

ہر شئی اور ہر مخلوق اپنی وجود و بقا میں نور مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا محتاج ہے

کائنات کا ذرہ ذرہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کا طفیلی ہیں ۔حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے ہمیں یہی علم ہو تا ہے حضرت جا بر ر ضی اللہ عنہ فر ما تے ہیں : میں نے عر ض کیا :یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! مجھے بتا ئیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کیا چیز پیدا فر مائی ؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے جابر ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تما م مخلوق سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فر ما یا ، پھر وہ نو ر مشیت ایزدی کے مطا بق جہا ں چا ہتا سیرکر تارہا ۔ اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم ، نہ سورج تھا نہ چاند ، نہ جن تھا نہ انسان ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ مخلوقات کو پیدا کرے تو اس نور کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا ۔ پہلے حصہ سے قلم بنایا ، دوسر سے لو ح اور تیسرے سے عرش پھر چو تھے حصے کو چار حصوں میں تقسیم کیا تو پہلے حصے سے عر ش اٹھا نے والے فرشتے بنائے اور دوسرے سے کر سی اور تیسر ے سے با قی فر شتے پھر چو تھے کو مز ید چا ر حصو ں میں تقسیم کیا تو پہلے سے آسمان بنایا ، دوسرے سے زمین اور تیسر ے سے جنت اور دوزخ ۔
(المواھب اللدنیہ ، ج۱ ص ۷۱)
ہر شئی اورہر مخلوق اپنی وجود و بقا میں نو ر مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا محتا ج ہے بلکہ ہم یو ں کہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو ح کائنات و جان عالم ہیں آج ہم جس فضا میں سانس لے رہے ہیں وہ بھی نور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا ہے دل کا نور ، رات کی تاریکی ، صبح کی سفیدی ،شام کی سر خی،سو رج کی تپش، چاند کی چاندنی ، تاروں کی چمک ، آب و ہوا ، موجوں کی طغیانی ، سمندروں کی لہریں ، یہ دنیا کی بہا ریں ، علم کا نور ، دل کا سرور اور جملہ خلائق کا قیام و طعام یہ سب نور مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہی کے خیرات ہیں۔

لاورب العرش جس کو جو ملا ان سے ملا
بٹتی ہے کو نین میں نعمت ر سول اللہ کی
(حضرت رضا بریلوی رحمة اللہ علیہ)

ترسیل: محمد شاھد رضا ثنائی بچھارپوری
رکن اعلیٰ: افکار اہل سنت اکیڈمی ممبئی
17/ جمادی الاولیٰ 1444 ھ
12/ دسمبر 2022 ء

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button