سیدنا احمد کبیر رفاعی

شان الرفاعی اقوال السلف کے آئینے میں

از قلم: سید عبداللہ علوی بخاری اشرفی (ایم اے ، بی ایڈ ، ایم فل)

قطب الوقت الشیخ الکبیروامام القرن وسیدالعارفین و تاج المتقین والغوث الاکبر والشیخ الامۃ
والرجل الکامل والفردالجامع والعبدالصالح والتاج الشیوخ والشیخ الکل والبحرائق
والشیخ من لا شیخ لہ والسید المتواضع الشیخ السید أحمد کبیر الرفاعی

آپ کے فضائل و کمالات ارفع پرعطربیزی کی تاریخ نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ہے ۔ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا میں سیکڑوں نہیں ہزاروں عقیدت مندوں نے آپ کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت کے قلمی نذرانے پیش کیے اور صبح قیامت تک آپ سے محبت رکھنے والے عشاق رشحات قلم سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار و اعلان کرتے رہیں گے ۔یہ ہم اہل ہند کی خوش نصیبی ہے کہ ہمارے حق میں آپ کی محبت کا خصوصی فیضان آپ کی اولاد امجاد کے توسط سے میسر آیاہے ۔ ہندوستان کی سرزمین پر شہرِ بڑودہ میںجلوہ بار اولادامجاد سید احمد کبیر الرفاعی قریب پَون صدی سے فیضان سیدالاولیاء سید احمد کبیر الرفاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو جاری کیے ہوئے ہے ۔ اس وقت وطن عزیز میں اولاد رفاعی حضرت سید حسام الدین الرفاعی آپ کے فیضان کے ساتھ ساتھ پیغامات ، تعلیمات ، فرمودات ، احکامات اور سید احمد کبیر الرفاعی کی پُروقار و باعظمت شان و فضائل و کمالات کو عام فرمانے میں مصروف عمل ہیں ۔ مجھ احقر و عاصی سے گلزار رفاعیت کے شگفتہ پھول حضرت سید حسام الدین الرفاعی دام ظلہ العالی نے حکم فرمایا کہ میں اپنی محبت و عقیدت کی قلمی نذر پیش کروں ۔ مجھے حیاء آ رہی تھی کہ سیدالاولالیاء سید احمد کبیر الرفاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی شان کیسے لکھوں اور کیا لکھوں ۔ آپ کی شان والا اس قدر بلند و بالا اور ارفع و اعلا ہے کہ مجھ جیسے عاصی وخاطی اوربے بضاعت کے لیے ممکن ہی نہیں کہ آپ کی اس شان و عظمت کو بیان کرسکے جو اللہ رب العزت جل شانۂ نے عطا فرمائی ہے ۔ جب کہ سیدالاولیاء کی شان و عظمت میں سیدالانبیاء ﷺ ارشاد فرماتے ہیں

مثل ما أنا رأس الانبیاء کذلک ہورأس الاولیاء
جس طرح میں انبیاء (علیہم السلام) کا سردار ہوں اس طرح وہ اولیاء (علیہم الرحمہ) کا سردار ہوگا

تو اب اس بیان عظمت و مرتبت کے بعد قلم سجدہ ریز ہوجاتا ہے ۔غرض اس شش و پنج میں قریب پندرہ روز گذر گئے بالآخر ایک روز خیال آیا کہ یقینا مجھ میں اتنی سکت نہیں کہ آپ کے فضائل و کمال ضبط تحریر میں لاسکوں تو کیوں نہ ایسا کیا جائے کہ جن محبوبان بارگاہ الٰہی نے اپنی محبتوں اور عقیدتوں کے باغ سجائے ہیں ان ہی سے کچھ پھول سمیٹ کر انھیں تریب دوں اور انھیں اپنے لیے توشہ آخرت بنا کراور اظہار محبت کرنے والے عقیدت مندوں کی صف میں اپنا بھی شمار کرالوں ۔اس طرح اولیاء و صالحین کے چنندہ اقوال کی جمع و ترتیب کے ساتھ یہ گلدستہ تیار ہوا۔

حضرت الشیخ سید احمد کبیر الرفاعی کے ماموں حضرت منصور بطائحی علیہ الرحمہ بیان فرماتے ہیں :
ان الشیخ منصور رأی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی المنام قبل ولادہ السید أحمد باربعین یوما فقال علیہ اکمل الصلوات أبشرک یا منصور ان اللہ یعطی الی اختک بعد اربعین یوما ولدا یکون اسمہ أحمد الرفاعی مثل ما أنا رأس الانبیاء کذلک ہورأس الاولیاء و حین یکبر فخذہ واذھب بہ الی الشیخ علی القاریٔ الواسطی و اعطہ لہ کی یربیہ لان ذلک الرجل عزیز عنداللّٰہ ولا تغفل عنہ (تریاق المحبین ج ۱، ص۴)
الشیخ حضرت منصور بطائحی نے سید احمد الرفاعی کی ولادت شریفہ سے چالیس روز قبل ایک رات حضور نبیٔ کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپ ﷺ بشارت عطا فرماتے ہوئے ارشاد فرما رہے ہیں ’’ اے منصور! اللہ تعالیٰ چالیس روز بعد تیری بہن کے ہاں ایک بیٹا عطا فرمائے گا ٗ جب وہ پیدا ہو اس کا نام احمد الرفاعی رکھنا ۔جس طرح میں انبیاء (علیہم السلام) کا سردار ہوں اس طرح وہ اولیاء (علیہم الرحمہ) کا سردار ہوگا اور جب وہ بڑا ہو جائے تو اسے تعلیم و تربیت کے لیے شیخ علی القاری واسطی کے پاس لے جانا۔ یقیناً وہ مرد اللہ کے نزدیک عزیز ہے ٗ اس سے غفلت نہ برتنا۔

الشیخ بن عبدالمحسن الواسطی اپنی کتا ب ’’تریاق المحبین ‘‘ میں حضرت الشیخ زید بن عبداللہ الغیداقی کا خواب نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
رویأ الولیٔ الکبیرأبی مکارم زید بن عبداللّٰہ الغیداقی الھاشمی و ھی انہ رأی فی المنام رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللّٰہ من اعلی المشایخ ومن أی قوم ھو فقال لہ علیہ الصلاۃ السلام یا زید ھو من أقربک اسمہ أحمد الرفاعی۔ (تریاق المحبین ج ۱، ص۵)
ولی اکبر ابوالمکارم حضرت زید بن عبداللہ غیداقی ہاشمی نے نبیٔ کریم ﷺ کو عالم رویأ میں دیکھا تو عرض گذار ہوئے یارسول اللہ ﷺ مشائخ میں کون اعلیٰ ہیں اور وہ کس قوم سے ہیں نبیٔ کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا؛ اے زید ! وہ تیرے قرابت داروں میں سے ہے، اس کا نام احمد الرفاعی ہے ۔

حضرت سید احمد کبیر الرفاعی علیہ الرحمہ کو خرقہ مشیخیت عطا فرمانے سے کچھ عرصہ قبل آپ کے ماموں حضرت سید منصور بطائحی نے عالم رویا میں جو دیکھا اسے یوں بیان فرماتے ہیں:
حضرت شیخ احمد کبیر رفاعی کے والدسید ابوالحسن علی کے مکان کی بلندی پر ایک علم نصب ہے ۔ اُس علم کا سر آسمان پر پہنچا ہوا ہے ، اس کا پرچم تمام دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور اس علم کے پاکیزہ کپڑے پر نور سے یہ عبارت لکھی ہوئی ہے :

لا الہ الااللّٰہ الملک الحق المبین
محمدرسول اللّٰہ الصادق الوعد الامین
السید احمد ابی الحسن علی الرفاعی
سلطان اولیاء والعارفین من الیوم الی یوم الدین

حضرت سید منصور بطائحی علیہ الرحمہ نیند سے بیدار ہوئے اور خود کو شمسار محسوس کرنے لگے کہ ہاتف غیبی سے ایک آواز بلند ہوئی جس نے آپ کو چونکا دیا ۔ کہنے والا کہہ رہا تھا ’’ ادب کر اے منصور ادب ! حکم میرا تمام مخلوق پر ہے ۔ تیری بہن کا فرزند احمد کبیر الرفاعی تیرا شیخ اور روئے زمین کے ہر صاحب سجادہ کا شیخ ہے تو ظاہر میں اس کا شیخ ہوگا ، معنیٰ میں وہ تیرا شیخ ہے ۔ تسلیم کر لے سلامت رہے گا۔

ہاتف غیبی سے یہ کلمات سن کر حضرت سید منصور بطائحی پر لرزہ طاری ہوگیا اور زبان نے بے ساختہ شہادت دی ’’تسلیم ہے ! تسلیم ہے !‘‘ اس واقعہ کے بعد حضرت سید منصور بطائحی علیہ الرحمہ ہمیشہ اپنے بھانجے حضرت سید احمد کبیر الرفاعی کا بڑا ادب فرماتے اور فرمایا کرتے ــمیں سید احمد کے خرقہ کا شیخ ہوں لیکن وہ میرا ازلی شیخ ہے ۔ ظاہر میں مَیں اس کا شیخ ہوں اور حقیقت میں وہ میرا شیخ ہے ۔ ‘‘(معدن الاسرار، ص۷۹)

الشیخ بن عبدالمحسن الواسطی اپنی کتا ب ’’تریاق المحبین ‘‘ میںشیخ محمد خطیب بغدادی کاحوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
شیخنا الشیخ محمد الخطیب الحدادی ینشد عند ذکرہ و ذکر غیرمن الاولیاء رضی اللّٰہ عنہم
ہمارے شیخ محمد الخطیب الحدادی جب اولیا ء اللہ کا ذکر کرتے تھے تو شیخ احمد کبیر الرفاعی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے :
لا تقس بارق الجنوم بشمس

بینہا والنجوم فرق عظیم
ستاروں کی چمک دمک کا سورج سے کیا موازنہ

سورج اور ستاروں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے
فاحذرن ان یقال عینک عمیا

والامکابرا ولئیم
بس اس سے بچو کہ تمہاری آنکھوں کو اندھی کہا جائے

یا پھر یہ کہ تمھیں متکبر یا کمینہ کہہ کر پکارا جائے
(تریاق المحبین ج ۱، ص۸)

الشیخ بن عبدالمحسن الواسطی اپنی کتا ب ’’تریاق المحبین ‘‘ میں غوث الاعظم حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محفل کا ذکر نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فی مجلس الشیخ عبدالقادرالجیلی مرۃ فقال السید أحمد الرفاعی حجۃ اللّٰہ علی أولیائہ الیوم و صاحب ھذہ المأدبۃ وأنشد
ایک مرتبہ حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی کی مجلس میں حضرت الشیخ سید احمد کبیر الرفاعی کا ذکر آیا تو ارشاد فرمایا :شیخ احمد کبیر الرفاعی اولیائے کرام پر اللہ کی حجت اور آج بھی خوان ولایت کے میزبان ہیں پھر یہ شعر ارشاد فرمایا:
ھذالذی سبق القوم الأولی واذا

رأیتہ قلت ھذا آخرالناس
یہ وہ شخصیت ہیں کہ پہلے دور کے لوگوں کی یادگار معلوم ہوتے ہیں

جب تم انھیں دیکھو گے تو یہ کہنے پر مجبور ہو جاؤگے کہ بس بزرگی ان ہی پر ختم ہے
(تریاق المحبین، ص۹)

غوث الاعظم حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ٗ اپنے مریدین سے سید احمد کبیر الرفاعی کی شان یوں بیان فرماتے ہیں:
ان اللّٰہ عبدا متمکنا فی مقام عبدیۃ یمحو اسم مریدہ من دیوان الاشقیاء و یکتبہ فی دیوان السعداء (معدن الاسرارص۲۸)
بے شک اللہ کا ایک بندہ ہے جو مقام عبدیت پر متمکن ہے ٗ وہ اپنے مریدوں کا نا م بدبختوں کی دفتر سے مٹا کر نیک بختوں کے دفتر میں لکھ دیتا ہے۔

حضرت الشیخ سید احمد کبیر اکرفاعی کے ہم عصر بزرگ حضرت شیخ عبدالسمیع ہاشمی واسطی اپنی مجلس میں آپ کا ذکر یوں فرماتے تھے :
کان السید احمد اٰیۃ من اٰیات اللّٰہ و معجزۃ من معجزات رسول اللہ کان طریقۃ الکتاب والسنۃ کان فعالا ولا قوالا لورأیۃ وأیت کل السلفولیس
بمستنکر ان یجمع العالم فی واحد (معدن الاسرار، ص۲۹)
سید احمد کبیر الرفاعی اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور رسول اللہ ﷺ کے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہیں ٗ آپ کا تذکیہ و اصلاح کا طریقہ کتاب و سنت سے مستفاد ہے ۔ آپ صاحب کردار ہیں نہ کہ صاحب گفتار ۔ اگر تم نے سلف صالحین کو نہیں دیکھا ہے اور صرف حضرت رفاعی کو دیکھا ہے تو تم نے سبھی کو دیکھ لیا ہے ٗ بے شک اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بڑی بات نہیں ہے کہ ایک شخص میں عالَم کو سمو دے اور جمیع صفات حسنہ کو ایک ہی فرد میں جمع فرما دے ۔

الشیخ ابوالحسن علی بن یوسف شطنوفی اپنی کتاب بہجۃ الاسرار شریف میں سیدالاولیاء سید احمد کبیر الرفاعی کی شان میں یوں رقمطراز ہیں:
الشیخ احمد بن ابی الحسن الرفاعی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ھذا الشیخ من اعیان مشائخ العراق و اجلاء العارفین و عظماء المحققین و صدرالمقربین صاحب المقامات العلیۃ والجلالۃ العظیمۃ والکرامات الجلیلۃ والاحوال السنیۃ والافعال الخارقۃ والانفاس الصادقۃ صاحب الفتح والمونق
والکشف المشرق والقلب الانور والسرور الاظہر والقدالاکبر
(بھجۃ الاسرارو معدن الانوار)
شیخ احمدبن ابی الحسن الرفاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ عراق میں سردارانِ مشائخ واکابر عارفین واعاظم محققین وافسران مقربین سے ہیں جن کے مقامات بلند اور احوال روشن اور افعال خارق عادات اور انفاس سچے صاحب فتح روشن چمکتے ہوئے قلب روشن، سر
اطہر، قد اکبر اور بزرگ تر مرتبہ والے ہیں ۔

علامہ تاج الدین ابن سبکی علیہ الرحمہ الشیخ سید احمد کبیر الرفاعی کی شان میں یوں رطب اللسان ہوتے ہیں:
الشیخ الزاھد الکبیر احدالاولیاء اللّٰہ العارفین والسادات المثمرین اھل الکرامات الباھتۃ ابوالعباس بن ابی الحسن بن الرفاعی ( معدن الاسرار،ص۲۹،۳۰)
شیخ ابوالعباس بن ابوالحسن بن الرفاعی بہت بڑے زاہد اور عارفین اولیاء اللہ میں بڑے درجے کے سید ہیں ٗ آپ کی بڑی کرامتیں ہیں۔

شیخ عبدالغنی نابلسی اپنے قصیدے ’’قصیدہ تائیہ‘‘ میں شیخ کبیر سید احمد الرفاعی کی شان میں لکھتے ہیں فرماتے ہیں:
انت الذی نورالنبی بد ا علی

صفحات وجھک للنوراظھر مبھت
فیکم ھدی طہ النبی مجمع

مع انہ ما فی الصالحین مشتت
( معدن الاسرار،ص۴۳)
ترجمہ : آپ کے چہرے پر نور نبی ﷺ ایسا نمایاں ہوا کہ دیکھنے والے متحیر ہیں ٗ نبوی خصائل جو صلحأ میں متفرق تھے وہ سب آپ میں یکجا جمع ہو گئے ہیں ۔

الشیخ محمد بن یحییٰ التادنی حنبلی اپنی گرانقدر تصنیف’’ قلائد الجواہرفی مناقب شیخ عبدالقادر ‘‘ میں حضرت سید احمد کبیری رفاعی کی شان بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
السید کبیر محی الدین سیدالعارفین ابوالعباس احمد بن الرفاعی ۔۔۔۔۔۔۔ کان عظیم القدر کبیر الشان و محلہ اعظم وحالہ اشھر من ان ینبہ علیہ وھو احد العربہ الذینیبرؤن الاکمہ والابرص ویحیون الموتی باذن اللّٰہ سبحان و تعالیٰ و احد من اشتھر فی الدنیا و تلمذ لہ من الخلق عالم لا یحصون کان
رحمۃ اللّٰہ کثیرالمجاہدۃ ( معدن الاسرار،۳۳)
السیدکبیر محی الدین سید العارفین ابوالعباس احمد بن الرفاعی کا مرتبہ بلند شان اونچی ہے ۔ آپ کا مقام اعلا اور حال بہت مشہور ہے کہ بیان کی حاجت نہیں ۔ آپ چار بزرگوں میں سے ہیں جو بحکم اللہ اندھوں اور برص کے مریضوں کو اچھا کرتے تھے اور مُردوں کو زندہ کرتے تھے ۔ آپ ان اولیاء میں سے ہیں جن کی شہرت ساری دنیا میں ہوئی ۔ مخلوق میں ایک بڑی تعداد آپ سے تلمذ رکھتی ہے ۔ آپ بہت مجاہدہ فرماتے تھے ٗ اللہ آپ پر رحمت بھیجے ۔

الشیخ ابن عبدالمحسن الواسطی صاحب تریاق المحبین الشیخ السید احمد کبیر الرفاعی کی شان میں نذر عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
مفاخری تأبی عن الحصر انھا

متی مر منھا مفخر جاء مفخر
اس مجموعہ خوباں ہستی کے فضائل و مناقب حد و شمار سے باہر ہیں

کہ ابھی ایک خوبی کا بیان مکمل نہیں ہو پاتا کہ دوسری سامنے آجاتی ہے
سلوا الشمس عنھا أنھا ھی دونھا

وآیاتہ الزھراء من الشمس أظھر
ان کے محامد و مفاخر سورج سے پوچھو کہ وہ خود کو ان سے کمتر سمجھتا ہے

اور ان کی درخشندہ عظت و کرامت اظہر من الشمس ہے
(تریاق المحبین ، ص ۱۶)

مجددمأۃ حاضرہ اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خاں محقق و محدث بریلوی نے سرکار سید احمد کبیر الرفاعی کی شان و عظمت کے بیان میں ایک رسالہ تحریر فرمایا جس میں آپ کو عقیدت و محبت اور تعظیم و تکریم کے ساتھ ان القابات سے یاد فرماتے نظر آتے ہیں:
’’حضرت عظیم البرکۃ سیدنا سید احمد کبیر رفاعی قدسنا اللہ بسرہ الکریم بیشک اکابر اولیاء واعاظم محبوبانِ خدا سے ہیں ۔‘‘
(طردالافاعی عن حمی ہادٍ رفع الرفاعی، ص ۴)

اخیر میں پروردگار عالم اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں ان تمام محبوبین بارگاہ صمدیت کے توسط و توسل سے دعا ہے کہ اللہ جتنی زندگی عطا فرمائے تقویٰ و طہارت اور پرہیزگاری کے ساتھ، عزت و عافیت اور خیر کے ساتھ ، ایمان عقیدے کی سلامتی کے ساتھ، انبیاء و اولیاء کی محبت بھری غلامی میں ان کی مدح سرائی میں بسر کرنے کی سعادت کے ساتھ عطا فرمائے ۔اور جن اولیائے کرام کے دسترخوان محبت سے یہ خوشہ چینی کی اسے الشیخ سید احمد کبیر الرفاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبول فرماکر دنیا و آخرت کی سرخروئی سے سرفراز فرمائیں ۔
آمین بجاہ النبیٔ الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ واکرم التسلیم

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button