سیاست و حالات حاضرہ

بھارتیہ پارٹیاں اور بھارتیہ مسلمان!

تحریر: ریاض فردوسی۔ 9968012976

بھارتیہ مسلمانوں کے لئے سب سے بڑی حقیت تو یہ ہے کہ تقسیمِ ہند کے قبل اور 72 سال بعد بھی ہمارے درمیان کوئی مذہبی ،ملی،سیاسی وسماجی ایسا رہنمانہیں ہے۔ جو ہماری نمائندگی کرتا ہو اور جس کی شخصیت ملی و مذہبی،سیاسی و سماجی طور پر ہم مسلمانوں کے حالات بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکیں۔ہندوؤں اور مسلمانوں کی سیاسی پارٹیوں کے ناموں پر ہم اگر غور کریں گے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہندو اپنے پارٹی کا نام ایسا رکھتے ہیں جس کو پڑھنے اور سننے سے یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ پارٹی خالص ہندوؤں کے لئے ہی ہے بلکہ سبھوں کے لئے ہے،اس کے برعکس ہم کسی بھی مسلم پارٹی کا نام دیکھیں اور پڑھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے یہ صرف اور صرف مسلمانوں کے لئے ہی ہے، بھارت جیسے ملک میں جہاں ہر مذہب کے لوگ رہتے ہیں ۔مسلم نام سے سیاسی پارٹی تشکیل کرنا ٹھیک نہیں ہے،اس سے فرقہ واریت کی بو آتی ہے،جب ہندوؤں نے انڈین نیشنل کانگریس پارٹی بنائی تو اس کے مقابلہ میں مسلمانوں نے مسلم لیگ پارٹی بنائی، دونوں کے نام کا فرق بالکل صاف ہے، جدید دور میں مثلاً اویسی صاحب کی پارٹی کا نام آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ہے،اس کے مقابلہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی، ترنامول کانگریس، سماجوادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل وغیرہ ہیں، باطنی طور پر بھلے ہی ہم فرقہ پرست نہ ہو ،ظاہری طور پراپنے نام سے ہم ظاہر ہو جاتے ہیں جبکہ ظاہری طور پر ہندو اپنے آپ کو فرقہ پرست ظاہر نہیں کرتے لیکن باطنی طور پر تقریباً ہر ہندو فرپرست ہی ہے(الا ماشاء اللہ)
بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر کار سیوکوں نے جب اللہ کے گھر پر وحشیانہ حملہ کیا تو فوراً بھارت کے وزیر اعظم کو اطلاع دی گئی تھی،لیکن وزیر اعظم صاحب اپنی پوجا میں ڈوبے رہیں تھے، جب تک ظالموں نے اللہ کے گھر کی ایک ایک اینٹ نہ اکھاڑ دی۔واضح رہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم صاحب اس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جو نا اپنے نام سے اور نا پارٹی کے کارکنان اپنی بیان بازی سے خود کو فرقہ پرست ظاہر کرتے ہیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی پارٹی بھارت کی سب بڑی فرقہ واریت کی علمبردار ہے،اسی پارٹی کے دور حکومت میں مسلمانوں کے خلاف بھارت میں کئی طرح کے کالے قانون نافذ کئے گئے،ظالمانہ قانون کی آڑ میں جو صرف مسلمانوں کے لئے ہی بنائی گئی ہے،لاکھوں مسلمان آج بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں،لاکھوں خاندان تباہ و برباد ہو گئے،معاشی تنگی اور پریشانی کے سبب ہزاروں بھائیوں نے خودکو اسلامی تعلیمات کے خلاف ڈھال لیا،ہزاروں بہنوں نے مجبوری کے حالات میں گھر کا دہلیز پار کیا،عورت جب گھر کا دہلیز پار کرتی ہے تو اس کی عزت وعفت کا دامن کیسے محفوظ رہتا ہے ہم اور آپ جانتے ہیں؟
تمام سیاسی پارٹیاں یہ جانتی ہیں کہ مسلمانوں کے لئے اسکا مذہب بہت ہی عزیز ہے،بہتریں تعلیم اور اچھی نوکریاں دوسرے یا تیسرے نمبر پر آتی ہیں۔ اس لئے جب بھی آرایس ایس، بی جے پی یا ان کے مددگار مسلمانوں کے مذہب اور اس کے اصول پر حملہ کرتے ہیں تاکہ ہندو ووٹ حاصل کر سکے تو دوسرے غیر بھاجپائی سیاسی جماعتیں بی جے پی کی مخالفت میں اتر آتی ہیں اور ہمارے ووٹ سے انکی جھولی بھر جاتی ہے۔ ہم بھی یہیںچاہتے ہیں کہ نوکری ملے یا نہ ملے کم سے کم گوشت وغیرہ پر پابندی نہیں لگے،جیسے گوشت کھانا عین دین اسلام کا حصہ ہے،اور اگر نہ کھایا تو اللہ کے یہاں ہم جواب دہ ہیں کہ گائے کا گوشت کیں نہیں کھایا؟ اب اس سیاسی کھیل میں کس پارٹی کو کتنا فاعدہ پہونچا یہ تو تجزیہ کے بعد معلوم ہوتا ہے،سیاسی نکتہ نظر سے ہم اس لئے اہم ہے کہ کسی پارٹی کی جیت میں ہمارا بھی ایک رول رہتا ہے۔کچھ دن قبل بی جے پی ایم ایل اے ہری بھوشن ٹھاکر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ مسلمانوں کو ووٹ کرنے کا حق چھین لیا جائے، تعجب ہے کہ اس سے بی جے پی کو کوئی فرق نہیں پڑیگا کیونکہ ہم لوگ اس پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے ہیں لیکن غیر بھاجپا کو بہت فرق پڑیگا کیونکہ اس کی جیت میں مسلمانوں کے ووٹ کا ایک اہم رول رہتا ہے اس لئے جب تک مسلمان غیر بھاجپا پارٹی کو ووٹ کرتے رہے گیں یہ سیکولر پارٹیاں بی جے پی کے اس قدم کا پر زور مخالفت کریگی اور ہماری ووٹنگ کا حق بھی برقرار رہیگا،جس دن بھارت کے مسلمان صرف مسلم پارٹی کو ہی ووٹ کریں گے اور غیر بھاجپا پارٹی کو ووٹ نہیں کریں گے، اس دن سے پھر یہ لوگ بھی بی جے پی کا مسلمانوں کے ووٹنگ حق ختم کرنے کے مشن میں ساتھ ہو جائے گی،اس لئے کہ یہ وہ دور ہے جہاں تم ہم کو فائدہ پہونچاؤ ہم تم کو فائدہ پہونچائیں گے۔ابھی بھارت جیسے جمہوری ملک میں سبھوں سے ناتہ توڑکر علیحدگی اختیار کرکے ہم اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتے۔لیکن مستقبل میں کیا کرنا ہے اس کے لئے لائحۂ عمل ابھی سے تیارکرناہوگا۔
مسلمانوں کا حال!
جھولی میں بھیک جو اس کے کسی نے ڈال دی
خیرات خور قوم نے اس کو تحفہ سمجھ لیا

آج مسلمانوں کاوجود اس طرح سے کردیا گیا ہے کہ!
مسلمان بھارت میں اجنبی قوم ہیں جو کہیں سے آکر آباد ہو گئے ہیں۔
یہ مسلمان بھارت کی زمین سے اچانک نکل آئے ہیں۔
مسلمان بھارت کی زمین پر ایک بوجھ ہیں۔
مسلمانوں کو صرف سیاسی مقاصد کے لئے باقی رکھا جائے لیکن تعلیمی،معاشی،سماجی اور سیاسی طور پر انھیں اس طرح بے حال کردیا جائے کہ وہ برسراقتدار طبقہ کے رحم وکرم پر جینے کے لئے مجبور رہیں۔
مسلمانوں کو کلی طور مرعوب و خوف زدہ بنائے رکھنے کے لئے شکوک وشبہات کے گھیرے میں رکھا جائے تاکہ وہ اپنی شناخت اور پہچان کو باقی اور قائم رکھنے کی کوشش کے بجائے کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کی غلامی کرتے رہیں۔
ہمیشہ مسلمانوں کو ملک کے بٹوارے کا مجرم Print Media اور Electronic Media کے ذریعے ٹھہرایا جائے۔
ایمان فروشوں،ضمیر فروشوں اور طاغوتی نظام کے کارکنانوں کے ذریعے مسلمانوں کو پاکستان کا ایجنٹ بتاکر ان سے مطالبہ کیاجائے کہ پاکستان یا قبرستان میں سے کسی ایک مقام کو پسند کرلیں۔اگر جینا ہے تو ہماری غلامی کودل وجان سے قبول کریں،تمہاری بہن ،بیٹیاں ،مساجد،مکاتب،مدارس ،تمہارے گھر بار حتیٰ کہ تمہاری بیویاں تک ہماری ملکیت میں رہے گی ورنہ قبرستان جانے کو تیار رہو۔
جہاں جہاں مسلمان معاشی طور پر مضبوط ہو،خوشحال ہو اس سوسائٹی،محلہ،شہر،قصبہ اور گاؤں کو فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جھونک دیاجائے۔
مسلسل مسلمانوں پر کسی نہ کسی ذریعے دہشت گردی کا الزام لگایا جائے۔
جہاں کہیں بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آئے،بغیر کسی ثبوت و شہادت کے اس کا الزام مسلمانوں کے سر لگا دیا جائے۔
اس میں Newspaper اور News Channels کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، کچھ لیڈران کو خاص Training دے کر اس کام کے لئے تیار کیا گیاہے۔
ان کی مدد ایمان فروش مسلمان بھائی،بہن بڑی خوبصورتی کے ساتھ کرتے ہیں،جس سے کمزور ذہن کے مسلمان ان کے بہکاوے میں آسانی سے آ جاتے ہیں۔لیکن
جہاں میں مرد مومن مانند خورشید جیتے ہیں

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button