ایک کہانی ایک سبقتعلیم

غلطی کا احساس دلانا

حضور نبی کریم ﷺ کی تربیت کا ایک طریقہ یہ تھا کہ پہلے غلطی کا احساس دلاتے تھے، پھر نصیحت فرماتے تھے۔
ایک مرتبہ آپ صحابہ کرام کی مجلس میں تشریف فرما تھے، ایک نوجوان مسجد میں داخل ہوا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا، گویا کسی کی تلاش میں ہے، اسے رسول اللہﷺ دکھائی دیئے،وہ آپ کی طرف آیا اور کہنے لگایا رسول اللہﷺ! مجھے زنا کی اجازت دیجئے۔۔۔۔

غور فرمائیے کہ اس نے کتنی بڑی جرأت کی، لیکن قربان جائیے معلم انسانیتﷺ پر کہ آپ پر ذرہ برابر خفگی کے آثار دکھائی نہیں دیئے اگر آپﷺ کی جگہ آج کے دور کا کوئی مربی ہوتا تو پتہ نہیں کیا کر گذرتا اس نوجوان کے اس قسم کے سوال پر آپﷺ نے اس کی دینی حالت کو بھانپ لیاکہ یہ دینی اعتبار سے کمزور نوجوان ہے لیکن اس کے اندر پائے جانے والے ایمان نے اسے اجازت لینے پر آمادہ کیا، آپ نے اس نوجوان کو فوری نصیحت نہیں فرمائی، بلکہ پہلے اسے غلطی کا احساس دلایا۔۔

چنانچہ آپﷺ نے اس نوجوان سے پوچھا کہ کیا تمہیں اپنی والدہ کے ساتھ زنا کیا جانا پسند ہے؟ اس نے کہا نہیں۔۔۔۔ تو آپﷺ نے فرمایا اسی طرح دوسرے لوگ بھی اپنی ماؤں کے لئے پسند نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔

پھر دریافت کیا کہ کیا تم اپنی بیٹی کے لئے زنا کو پسند کرتے ہو؟ جوان نے کہا نہیں۔۔۔۔ تو آپﷺ نے فرمایا کہ دوسرے لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے لئے زنا کو پسند نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔

آپﷺ نے پھر پوچھا کہ کیا تم اپنی بیوی یا خالہ کے لئے زنا کو پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا نہیں ، بالآخر آپﷺ نے فرمایاکہ: لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو، جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔۔۔۔۔

اس طرح کے سوالات کا مقصد اس کو غلطی کا احساس دلانا تھا، جب اس نوجوان کو اپنی غلطی کا ادراک ہوگیا تو آپﷺ نے اس کے سینہ پر ہاتھ رکھا اور دعا کی اے اللہ اس کے دل کو ہدایت دے، اس کا گناہ معاف کر اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت کر، وہ نوجوان یہ کہتا ہوا مسجد سے باہر آیا،’’ بخدا میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا تو کوئی کام مجھے زنا سے زیادہ پسندیدہ نہیں تھا اور اب حالت یہ ہے کہ کوئی کام مجھے زنا سے بڑھ کر ناپسند نہیں ہے۔۔۔۔
[مسند احمد حدیث نمبر ۲۱۷۰۸]

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button