سیدنا احمد کبیر رفاعی

سلسلہ رفاعیہ کی امتیازی کرامات

پروفیسر ڈاکٹر مولانا احمد شیخ صاحب، ایم ایس سی، پی ایچ ڈی، ڈی ایس سی
(ڈاکٹر آف سائنس) صدر شعبہ کیمسٹری،
مہاراشٹرا کالج، ممبئی ، راتب رفاعیہ کی معنویت و خصوصیت بتاتے ہوئے لکھتے ہیں:
سلسلہ رفاعیہ میں موجود ذکر کی روایت نہ صرف یہ کہ ایک وجدانی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ فنا کے تصور کو بھی بیان کرتی ہے۔ رفاعی طریقہٴ ذکر اعلیٰ پیمانے پر مادے پر دماغ اور جسمانیت پر روحانیت کے غلبے کی علامت ہے۔ اس بات کا ثبوت ان مراسم سے ملتا ہے جن میں رفاعی سلسلے کے معتقدین خود کو تلواروں ، چاقوؤں اور گرم لوہے کی زنجیروں کے گرزوں کے زریعے اپنے جسم پر ضرب کرتے ہیں۔ حالانکہ ان معتقدین کو تکلیف کا بلکل بھی احساس نہیں ہوتا اور وہ قوانین طبیعت کو ہیچ بتا کر ان افعال کو کر گزرتے ہیں۔ در حقیقت یہ سب سخت قواعد سلوک ، نفی الذات کے زریعے حاصل ہوتاہے اور یہ وجد کی صورت میں ظاہر ہوتاہے۔
لفظ "وجد” عربی زبان کے لفظ "وجود” سے ماخوذ ہے، اور انگریزی میں اسے "ecstasy” کہتے ہیں جس کا مطلب انتہائی درجہ کی شادمانی اور مسرت ہے۔ دوسرے لفظوں میں ecstasy ایک طرح کی گونج کی حالت ہے۔ جب مکمل طور پر خالق حقیقی کا ادراک ہوتا ہے تو روح ایک طرح کی شادمانی سے سرشار ہو اٹھتی ہے ، اور مادی جسم پر ضرب ہونے والی تلواروں ، چاقوؤں ، اور گرم لوہے کی زنجیروں کے گرز کے اثر سے بے اعتنا رہتا ہے ۔ اس طریقہ کو ” راتب رفاعیہ ” کہتے ہیں ۔ جسے رفاعی سلسلے کے بانی صوفی مشہور بزرگ شیخ سید احمد کبیر رفاعی رحمتہ اللہ علیہ کی یاد میں ادا کیا جاتا ہیں۔ یہ الله تعالیٰ کا فضل ہے جس سے اس نے سید احمد رفاعی کو نوازا ، اور یہی وجہ ہے کہ سلسلہ رفاعیہ کے متعلقین ” راتب رفاعیہ ” کے دوران کسی بھی قسم کا جسمانی درد محسوس نہیں کرتے۔ (سلسلہ رفاعیہ اور راتب رفاعیہ ، ص: 5)

پیشکش: بزم رفاعی
خانقاہ رفاعیہ
، بڑودہ، گجرات
9978344822

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button