امت مسلمہ کے حالات

مسلمانوں کا سیاسی زوال اور وقت کا تقاضہ

تحریر: شہاب حمزہ
8340349807

آزادی کی پہلی صبح سے لے کر آزادی کے امرت مہتسو تک کوئی ایسا دن نہیں گزرا جہاں مسلمانوں کے سیاسی زوال کے صفحوں پر چند عبارتیں نہ تحریر کی گئیی ہوں اور ان عبارتوں کو اس وقت ان صفوں پر بڑے شان سے لکھا گیا ہے جب قومی سطح یا ریاستی سطح پر انتخاب ہوئے ہوں۔ یہی صورتحال وارڈ اور پنچایت انتخاب کا بھی ہے ۔آزادی کے بعد سے ہی مسلمان ایک زمانے تک کانگریس کے روایتی ووٹرز رہیں ہیں لیکن ان انتخابات کا مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ ہر چناو کے بعد مسلمان اپنا وقار کھو تے گئے ہیں اور چند برسوں میں ہی سیاسی اعتبار سے صفحے سے حاشئے تک کا سفر مسلمانوں نے طے کرلیا ۔بی جے پی کے اقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کے ووٹ کی قیمت تمام قوم سے بدتر حالت پر پہنچ گئی ۔ آج بھی جے پی کو مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔دوسری سیاسی پارٹیوں میں بھی مسلمانوں کے ووٹ کی قیمت میں بہت کمی آئی ہے ۔ اس کی واضح وجہ یہ ہے کہ اپنی فیصلہ کن اثر رکھنے والی تعداد کے باوجود بھی اکثر اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں سے مسلم حمایت کے امیدوار کامیاب ہونے میں ناکام ہوتے ہیں ۔ مسلم اکثریت کے علاقے سے ویسی پارٹی کے امیدوار کا فتح یاب نہ ہونا جس کی مسلمان حمایت کرتے ہیں بھلے یہاں واضح طور پر کسی دوسری پارٹی کے امیدوار کی کامیابی ہوتی ہے لیکن مسلمانوں کے حق میں اس کے جو سب سے غلط اور برے نتائج مرتب ہوتے ہیں وہ یہ کہ اس قوم کی ذہنیت سیاسی اعتبار سے اس قابل نہیں کہ فیصلہ کن تعداد ہونے کے باوجود کسی امیدوار کے مقدر کے فیصلے کی صلاحیت ان کے ہاتھوں میں نہیں اور یہی ہندوستان کی میدانِ سیاست میں اس قوم کے لئے افسوس کا مقام ہے ۔مسلمانوں کا انتشار، آپسی اختلافات، فرقہ، مسلک اور جماعت بندی کے جھگڑوں نے مسلم اتحاد کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ ملک کی سیاست میں ہمارا کہیں بھی مقام نہیں کوئی بھی جگہ نہیں۔ آزادی سے قبل بھی مسلمانوں کی آبادی ملک کے ہر خطے میں مذکورہ بالا سامانِ انتشار کے ان تمام فتنوں میں جکڑی ہوئی تھی اس کے باوجود اتحاد و ملت کے بے شمار شواہد ملک کے ہر خطے میں روشن ستاروں کے مانند جلوہ افروز تھے جو اس قوم کے سنہرے مستقبل کی عظیم ترین زمانت تھی ۔ لیکن آزادی کے بعد سے مسلسل انہی سب باتوں کو لے کر اختلافات اور دوریاں بڑھتی گئی ہیں اور ہر دن آپسی اختلافات نئی شکل اختیار کر رہی ہے اور پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ ابھر رہی ہے ۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ ہماری ایسی حالت کیوں ہے اور ہو رہی ہے ۔
ابھی چند روز قبل انتخاب کا ایک دور گزرا ہے اگر ہم گجرات کے اسمبلی انتخابات کی بات کریں تو 17 ایسی سیٹوں سے بی جے پی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ایسی کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت والی سیٹ سے بی جے پی کے امیدوار کامیاب ہوگئے ۔ گجرات کے ایک اسمبلی حلقہ کی سیٹ سے کانگریس کے ایک مسلم امیدوار کو کامیابی سے دور رکھنے کے لیے 11 آزاد مسلم امیدوار میدان میں کھڑے ہو گئے اس کے باوجود ہارجیت کا فاصلہ صرف 658 ووٹو کا رہا ۔ ایک اور اسمبلی حلقہ کی کہانی یہ رہی کہ 44 امیدوار میدان میں اپنی تقدیر آزمانے اتر گئے جس میں سے 35 مسلمان تھے جو اپنی قسمت آزما رہے تھے ۔ مسلم اکثریت کی اس سیٹ سے نتیجے کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں ۔ مسلم ذہنیت کے ایسے مزاحیہ قصے ہر انتخاب کے دوران دیکھنے کو مل ہی جاتے ہیں ۔ یہ ایک واضح حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کو گجرات میں سات سیٹوں سے اس عظیم برتری کی تعداد حاصل کرنے میں 42 برس لگ گئے ۔ ان کی جدوجہد کے آغاز سے مرکز میں برسر اقتدار آنے میں بھی تقریبا اتنی ہی مدت لگے ۔ اس کے برعکس مسلمانوں کو اپنے وقار کی تدفین میں بھی تقریبا یہی مدت درکار پڑی ۔ گجرات کے انتخاب کو لے کر تجزیہ کرنا یہاں میرا مقصد ہرگز نہیں میں صرف یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ہندوستان جیسے عظیم الشان جمہوری ملک میں جہاں ایک جانب ہر روز اور ہر انتخاب کے ساتھ مسلمانوں کے سیاسی زوال کی نئی تاریخ مرتب کی گئی ہے وہیں دوسری جانب اسی پیمانے پر بی جے پی کے عروج کی داستانیں بھی لکھی گئی ہیں ۔میں کسی سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ سیاسی ذہنیت کی بات کر رہا ہوں سیاسی عروج و زوال کی اور سیاسی اتحاد و سیاسی انتشار کا ذکر کر رہا ہوں ۔ ملک کی دانش ور ،سیاسی لیڈران، قوم کے رہبر اور ذمہ داران کا یہ اہم فریضہ ہے کہ قوم کو متحد کرنے کی کوشش کریں ۔ تاکہ سیاسی تنزلی کے اس سفر کو روکا جا سکے۔ یہ تمام سامانِ اختلافات برسوں سے موجود رہے ہیں لیکن اس قدر قوم منتشر نہیں تھی جتنی اب ہے ۔ لہذا یہ لازمی ہے کہ مسلمان بھی ہوش کے ناخن لیں اور قوم کے رہبر ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قوم کے نازک حالات پر غور کریں اور ایک بار پھر سے ایسے اقدامات کیے جائیں جس کے نتیجے میں منتشر قوم متحد ہو سکے اور زوال کی تاریک غار سے عروج کی جانب قدم بڑھا سکے ۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button