مذہبی مضامین

فعل لواطت کی حقیقت

اللہ رب العالمین نے انسان کو پیدا فرمایا اور انسانیت کی بقاء و کائنات کی آبادی کے لیے اس میں شہوت کا مادہ رکھا پھر قضاء شہوت کے احکام ارشاد فرمائے جب انسان نے ان احکام کو نظر انداز کیا اور مردوں کی طرف میلان کیا تو حد سے بڑھا اور ظلم کیا (کیونکہ کسی چیز کو بے محل رکھنا ہی ظلم کہلاتا ہے)۔ اس کے علاوہ مردوں کی طرف میلان ایسا عمل ہے کہ جانور بھی اس سے نفرت کرتے ہیں سوائے خنزیر اور بندر کے‘ ۔پس جس شخص کی طبیعت اغلام کی طرف مائل ہوتی ہے وہ دنائت و خساست اور خباثت میں خنزیر اور بندر جیسا ہے بلکہ ان سے بھی زیادہ گندا کہ وہ بے عقل ہو کر یہ عمل کرتے ہیں اور انسان صاحب عقل ہو کر کرتا ہے۔

نیز اس فعل کی سب سے بڑی خباثت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے نسل انسانی میں اضافہ رک جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے نسل انسانی میں اضافے کا یہ طریقہ مقرر فرمایا ہے کہ مرد اور عورت دونوں میں شہوت رکھی اور اس شہوت کی تسکین کے لئے جائز عورت کو ذریعہ بنایا، جب یہ اپنی شہوت پوری کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں عورت حاملہ ہو جاتی اور کچھ عرصے بعد اس کے ہاں ایک انسان کی پیدائش ہوتی ہے اور اس طرح انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اب اگر شہوت کو اس کے اصل ذریعے کی بجائے کسی اور ذریعے سے تسکین دی جائے معاذ اللہ تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ نسل انسانی میں اضافہ رک جائےگا اور اس صورت میں انتہائی سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑےگا، جیسے وہ ممالک جن میں لواطت کے عمل کو رواج دیا گیا ہے آج ان کا حال یہ ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے لوگوں کو اپنے ہاں اسائشیں دے کر اپنے ملک کے کی تعداد بڑھانے پر مجبور ہیں۔اُن میں سے دنیا کا پانچ ممالک : آسٹریلیا، کینیڈا، اٹلی، روس، سنگاپور وغیرہ ہیں جہاں بچّہ پیدا کرنے والی عورتوں کو بڑی رقم کی انعام فراہم کرتا ہے

اسی طرح طبی طور پر بھی اس کی خباثت کے لئے یہی کافی ہے کہ انسان کی قوت مدافعت ختم کر کے اسے انتہائی کرب کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دینے والا اور ابھی تک لا علاج مرض پھیلنے کا بہت بڑا سبب لواطت ہے اور جن ممالک میں لواطت کو قانونی شکل دے کر عام کرنے کی کوشش کی گئی ہے ان میں دیگر ممالک کے مقابلے میں ایڈز کے مرض میں مبتلا افراد کی تعداد بھی زیادہ ہے۔۔۔۔۔۔ دوسری طبی خباثت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے عورت کے رحم میں منی کو جذب کرنے کی زبردست قوت رکھی ہے اور جب مرد اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرتا ہے تو اس کے جسم کا جو حصہ عورت کے جسم میں جاتا ہے تو رحم اس سے منی کے تمام قطرات جذب کر لیتا ہے جبکہ عورت اور مرد کے پچھلے مقام میں منی جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھی گئی اور جب مرد لواطت کا عمل کرتا ہے تو اس کے بعد لواطت کے عمل کے لئے استعمال کئے گئے، جسم کے حصے میں منی کے کچھ قطرات رہ جاتے ہیں اور بعض اوقات ان میں تعفن پیدا ہو جاتا ہے اور جسم کے اس حصے میں سوزاک وغیرہ مہلک قسم کے امراض پیدا ہو جاتے ہیں اور اس شخص کا جینا دشوار ہوجاتا ہے۔

بہر حال! احادیث میں اس فعل کی سخت مذمّت آئی ہے کہ یہ فعل فطرت کے خلاف ہے اور اللہ تعالی نے فطری اعتبار سے مرد کو عمل کرنے والا اور عورت کو خاص مقام میں عمل قبول کرنے والا بنایا ہے اسی لیے احادیث کی روشنی میں علمائے کرام عورتوں کے خاص مقام کے علاوہ وطی کرنا سخت منع بلکہ ناجائز وحرام قرار دیا ہے. اللہ تعالیٰ ہمیں اس فعل لعین سے محفوظ فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

از قلم:
محمد توصیف رضا قادری علیمی
الغزالی اکیڈمی واعلیٰحضرت مشن
شائع کردہ: 12/دسمبر/2022

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button