عقائد و نظریات

عام دیوبندی اور صلح کل مولوی

یہ بات مثلِ آفتاب ہے کہ جن کفریات وضلالات کی وجہ سے دیوبندی فرقے کے ساتھ ہمارا بنیادی اختلاف ہے ان کا تعلق عقائد سے ہے اور وہ عقائد یا تو ان کے دلوں میں ہیں یا انکی کتابوں کے اوراق میں چھپے ہوئے ہیں۔ اب جہاں تک عمل کا تعلق ہے تو وہ بھی اپنے آپ کو حنفی کہتے ہیں۔ ظاہر میں بالکل ہماری ہی طرح وہ بھی نماز پڑھتے ہیں، بالکل ہماری ہی طرح وہ بھی اذان دیتے ہیں، بالکل ہماری ہی طرح وہ بھی تراویح پڑھتے ہیں، بالکل ہماری ہی طرح وہ بھی عیدین کی نماز پڑھتے ہیں۔ ظاہری سطح پر ان کے ظاہر میں کوئی ایسی واضح علامت موجود نہیں ہے جس کے ذریعہ سادہ لوح مسلمانوں کو ان کی شناخت ہو سکے۔اس لئے ان کے متعلق عوام کا غلط فہمی میں مبتلا ہونا بالکل یقینی امر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آجکل بعض سنی (عوام) دیوبندیوں وہابیوں کے ساتھ رشتہ کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے اور منع کرنے پر برا مان جاتے ہیں لیکن بالائے حیرت یہ ہے کہ ڈائریکٹ یا انڈائریکٹ ان کے اس فعل کو شہ دینے والے کچھ مولوی حضرات ہی ہیں جو سنیت کو گروی رکھ کر سنّیوں کو وھابی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں‘ یہ خود کو سنیت کا ٹھیکے دار سمجھتے ہیں‘ مناظرہ و مباحثہ کی باتیں بھی کرتے ہیں، لیکِن چند پھوٹی کوڑی کے عوض بلا کسی جھجھک کے ان بدمذہبوں کے ساتھ سنی بچے بچیوں کا نکاح پڑھا بھی دیتے ہیں، یہ دو رنگی مولوی علمائے سو کی طرح ذرہ برابر بھی شریعت طیبہ کا لحاظ نہیں رکھتے ۔

اس کا وبال یہ ہے کہ آج‘ عام لوگوں میں سنی وغیر سنی کا فرق مٹتا جا رہا ہے اور وہ یہ کہنے لگے ہیں کہ اصل میں سنی دیوبندی کوئی چیز ہے ہی نہیں معاذ اللہ اور بعض یہ بھی کہنے لگا ہے کہ یہ سب فسادات مولانا لوگوں کا پھیلایا ہوا ہے، العیاذ باللہ تعالیٰ حالاں کہ عام سے عام دیوبندیوں کے یہاں رشتہ کرنے کی وجہ سے سنی گھرانوں میں بدمذہبیت کی جو لعنت وغلاظت آئی ہے وہ کسی بھی سنی صحیح العقیدہ پر پوشیدہ نہیں ہے، الحمدُللہ بالخصوص علمائے حق اس سے اچھی طرح آگاہ ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ بھی خاموش تماشائی دیکھ رہے ہیں،
اُنھیں معلوم ہونی چاہیے کہ خاموشی آبادی کی بربادی ہے، حدیث پاک میں ارشاد ہے : أتهلك القرية وفيها الصالحون قال نعم قيل لم يارسول الله قال بتهاونهم وسكوتهم۔ (ترجمہ) : یارسول اللہ ﷺ کیا کوئی آبادی اس حالت میں بھی ہلاک ہوتی ہے کہ اس میں صالحین نیک لوگ رہتے ہوں۔ فرمایا ہاں۔عرض کی گئی یہ کس وجہ سے ۔ ارشاد فرمایا ان کی سستی و خاموشی کے سبب سے ۔ رواہ البزار والطبرانی عن ابن عباس رضی اللـة تعالیٰ عنہ۔(طبرانی عن ابن عباس ،مسند بزار رقم الحدیث ۴۷۴۳)۔۔۔۔اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ صاحب استطاعت علماء ومشائخ کے سکوت عن الحق اور سستی کی وجہ سے بھی آبادیاں ہلاک و برباد ہو جاتی ہے اور یہ سکوت عن الحق اور پلپلا پن عذاب الہی کے نزول کا سبب ہوتا ہے،

ایک ازالہ:
حضرتِ شارح بُخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللّٰہ القوی کا ایک فتویٰ نایاب‘ آج کل گردش عام ہے، جس کو صلح کلی مولویوں نے بڑی چالاکی کے ساتھ سیاق وسباق چھوڑ کر یہ غلط فہمی پھیلا دی گئی ہے کہ عام دیوبندیوں کو کچھ بھی معلوم نہیں کہ اکابر دیوبند کے عقیدے کیا تھے لہذا اُن سے شادی بیاہ یا میل جول جائز ہے نیز حضرتِ شارح بُخاری نے اُنہیں کافر بھی نہیں کہا وغیرہم۔۔۔۔حالانکہ یہ سراسر جھوٹ اور نافہمی کی دلیل ہے کہ جو اپنی ذاتی مفادات کے خاطر کذب کا سہارا لیتے ہیں اور ان کا مزید کہنا کہ عام دیوبندی کو بدمذھب ثابت کرو یہ بھی دنیا پرستی اور اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے دین اسلام کے ساتھ غداری ہے، بالخصوص حضرتِ شارح بُخاری رحمۃ اللّٰہ القوی کی فتویٰ مبارکہ کو بدنام کرنے اور عوام کو دھوکہ میں رکھنے کی بڑی شازش ہے،
بہر کیف! یہ امر واضح رہے کہ محض ایسی افواہ پھیلا دینے سے یا کسی کے کہنے پر اپنا قول و فعل بدلنے سے‘ شرعی حکم قطعاً بدل نہیں سکتا لہذا حضرتِ شارح بُخاری رحمۃ اللہ علیہ کے فتویٰ شریف کو سمجھنے کی کوشش کریں اور عوام اہل سنت کو صلح کل مولویوں کے مکرو دجل سے آگاہ کریں۔

فقط
محمد توصیف رضا قادری علیمی
الغزالی اکیڈمی واعلیٰ حضرت مشن
شائع کردہ: 15/دسمبر/2022

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button