سماج و معاشرہمذہبی مضامین

بے مثال شادی !!

ازقلم: غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

سنو نفیسہ!
ویسے تو ان کی سچائی اور امانت داری کی زمانہ مثالیں دیتا ہے۔گناہوں کے اس کالے دور میں بھی ان کا کردار چودہویں رات کے چاند سے زیادہ روشن اور چمک دار ہے۔پھر ان کی عقل مندی، معاملہ فہمی اور کاروباری مہارت سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ آج نہیں تو کل ساری دنیا ان کے کردار کی بلندی اور ان کی خدا داد عظمت کے سامنے سائل بن کر کھڑی ہوگی لیکن جب سے میں نے سفر شام کی روداد سنی ہے تب سے میرے دل میں ان کے لیے ایک خاص مقام پیدا ہوگیا ہے۔بار بار نہاں خانہ دل سے یہی آواز آتی ہے کاش ان کی رفاقت وخدمت کا اعزاز مل جائے تو زمانے بھر کی ساری سعادتیں مل جائیں۔

جو میں سمجھ رہی ہوں، تم وہی کہنا چاہتی ہو نا!
نفیسہ نے کچھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

ہاں نفیسہ!
تم ٹھیک سمجھ رہی ہو، ویسے تو میں اپنے دل ودماغ سے شادی اور گھر بسانے کا تصور تک نکال چکی تھی، دو شادیوں کے تجربات نے دل اس رشتے سے اچاٹ کر دیا تھا۔اس لیے خود کو کاروباری مصروفیت میں لگا کر دل ودماغ کو ان خیالات کے سایوں سے بھی دور کر رکھا تھا لیکن جب سے ابن عبد اللہ کو دیکھا اور جانا ہے نہ جانے کیوں دل ان کی جانب جھکا جاتا ہے۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ کشش محض ان کے بے مثال سراپے کی بنیاد پر محسوس کر رہی ہوں۔ویسے تو اپنے حسن سراپا کی بنا پر پر بھی وہ زمانے کے تمام خوب رو، پری جمالوں سے ہزار گنا بڑھ کر ہیں مگر جب میں نے چمکتی ہوئی دھوپ میں اُن کے سر پر بادل کا ایک ٹکڑا دیکھا جو اُنہیں دھوپ سے بچائے ہوئے تھا۔پھر میسرہ نے سفر کے حالات اور نسطورا راہب کے جو تاثرات بتائے ہیں اس سے میرے دل میں یہ یقین پختہ ہوگیا کہ فخرِ خاندانِ بنو ہاشم یقیناً ایک ایسے مقام پر فائز ہیں جو شاید ابھی پردہ خفا میں ہے اور دنیا والوں کی نگاہیں اسے دیکھنے سے قاصر ہیں۔میری دلی خواہش ہے کہ ان سعادتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لوں جو مجھے محسوس ہوتی ہیں، مگر مجھے ذرا سی جھجک ہے اس لیے تم ایک بار اُن سے ملو اور میری بابت ان کی رائے جاننے کی کوشش کرو۔اگر اُن کی خواہش میری جانب محسوس کرو تو پھر رشتہ کی بات کرنا مناسب ہوگا۔

فکر نہ کرو راحتِ جان!
میں اس طور پر بات کروں گی جیسے میں تمہاری طرف سے نہیں بل کہ آزادانہ طور پر پوچھ رہی ہوں۔

بہت شکریہ نفیسہ!
اس وقت تمہارے سوا کون ہے جس سے حال دل بیان کروں۔جاؤ اور اپنی بہن کا یہ کام مکمل کرو۔ساتھ ہی دعا بھی کرنا کہ جو احساسات میرے دل میں ہیں خدا کرے اُن کے قلب اطہر میں بھی میرے جذبات کی حرارت کا اثر ہو۔

وعدہ کرکے نفیسہ نے جان سے عزیز سہیلی سے رخصت لی اور اس گھر کی جانب روانہ ہوگئی جو پورے شہر میں سب کی نگاہوں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔

آپ جانتے ہیں یہ نفیسہ اور ان کی سہیلی کون تھیں اور کس کے متعلق باتیں کر رہی تھیں؟؟

یہ نفیسہ ابن منیہ تھیں اور یہ جن سے بات کررہی تھیں وہ اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں۔اور یہ گفتگو نبی اکرم ﷺ کے متعلق چل رہی تھی۔

حضور سید عالم ﷺ حضرت خدیجہ الکبریٰ کا تجارتی سامان لیکر ملک شام گئے تھے۔آپ کے ساتھ ان کا غلام میسرہ بھی تھا۔دوران سفر کچھ عجیب وغریب باتیں سامنے آئیں۔جن سے میسرہ بہت حیران ہوا۔واپسی پر میسرہ نے اپنی ملکہ کو سفر کی روداد سنائی تو سیدہ خدیجہ جو پہلے ہی آپ کی صداقت وطہارت اور بلندی کردار سے متاثر تھیں، اب اُن کے دل میں آپ کے لیے احترام ومحبت کے جذبات پیدا ہوگیے۔
آپ کے قلب اطہر میں پیدا ہونے والے جذبات دنیوی محبت کی طرح بے ہنگم نہ تھے بل کہ اُن جذبات پر احترام وتقدس کا رنگ غالب تھا۔یہ احساسات خلاق کائنات کی جانب سے قلب خدیجہ پر القا کیے گیے تھے تاکہ کائنات کی سب سے بے مثال، پیکر طہارت، سراپا عفت خاتون کے تاج دار کائنات ﷺ کے حبالہ عقد میں آنے کے دنیوی اسباب بن جائیں۔

وعدے کے مطابق نفیسہ نبی کونین ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔رسمی دعا سلام کے بعد سفر اور کاروبار کے متعلق باتیں کیں۔باتوں ہی باتوں میں آپ سے نکاح کے متعلق بھی پوچھ لیا۔
حضور پاک نے اپنی تاجرانہ زندگی کی ابتدا اور ازدواجی زندگی کے اسباب کی مکمل فراہمی نہ ہونے کا عذر رکھتے ہوئے کچھ تاخیر کا اشارہ دیا۔جس پر نفیسہ نے کہا کہ میری نگاہ میں ایک ایسا رشتہ ہے جو عز وشرف میں آپ کے شایان شان اور قدر ومنزلت میں باعث اطمینان ہے۔جمال وکمال کی خوبیاں اور نیک چلنی کی زیبائیاں اس پر مستزاد!
نبی اکرم ﷺ نے پوچھا ایسا رشتہ مکے میں کہاں ہے؟
رشتہ تو ہے بس شاید آپ نے توجہ نہیں فرمائی۔نفیسہ کی معنی خیزی سمجھتے ہوئے سید عالم ﷺ نے فرمایا؛ خدیجہ!
جی ہاں، میں سیدہ خدیجہ ہی کی بات کر رہی ہوں۔وہ پارسائی اور پاکبازی اور عزت وشرافت میں مکے میں اپنی مثال آپ ہیں۔اُنہیں مال ودولت کی بھی خواہش و ضرورت نہیں ہے اگر آپ کی رائے ہو تو میں اُن سے بات کروں۔مجھے امید ہے آپ جیسا رشتہ ان کے لیے یقیناً عزت کی بات ہوگی۔

سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے دل سے نکلی ہوئی دعا بارگاہ لم یزل میں مقبول ہوچکی تھی۔قدرت الہی نے ان کے جذبات صادقہ کا اثر قلب حبیب تک پہنچا دیا تھا اس لیے نبی رحمت ﷺ نے نفیسہ کو اپنی رضامندی کی سوغات سے نواز ہی دیا۔اس طرح نفیسہ کائنات کی وہ خوش نصیب خاتون قرار پائیں جنہیں کائنات کی افضل ترین شادی میں واسطہ بننے کی عزت حاصل ہوئی۔

پیکر عفت وطہارت سیدہ خدیجہ نے نبی کریم علیہ السلام سے بہ کمال ادب عرض کیا تھا:
يا أبن عمّ، إني قد رغبت فيك لشرفك في قومك، وأمانتك وحسن خلقك، وصدق حديثك ونصرتك للمظلوم”۔(زرقانی علی المواہب 1/200)

"اے میرے چچا زاد! میں نے آپ کو خاندانی شرافت، امانت داری، اخلاق مندی، سچائی اور مظلوموں کی داد رسی جیسی خوبیوں کی وجہ سے پسند کیا ہے۔”

وقت مقررہ پر کائنات کے دولہا، دولہا بن کر نکلے۔مکے کے گلیاں اپنے مقدر پر نازاں تھیں کہ تاج دار کائنات کو دولہا بنے دیکھ رہی تھیں۔ہواؤں میں عجیب سی خوش بو گھل گئی تھی کہ گلیاں مہکتی تھیں۔آج تو سورج کی حرارت میں بھی چاند جیسی ٹھنڈک اتر آئی تھی۔فرشتے ٹک ٹکی باندھے محبوب کردگار کے رخ زیبا کی زیارت میں محو تھے۔سرداران قریش کے جلو میں سیدہ آمنہ کے نور نظر اس طرح لگ رہے تھے جیسے گلشن میں گلاب نظر آتا ہے۔پاس ہی کہیں سیدنا عبد اللہ اور سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہما اپنے لخت جگر کو دولہا بنے دیکھ مسکراہٹیں بکھیر رہے تھے، تو دادا عبدالمطلب کی روح بھی فرط مسرت میں سرشار تھی۔آج زمین کا نصیبہ عروج پر تھا۔نبی رحمت کے ہر اٹھتے قدم کو چومنے کا موقع جو مل رہا تھا۔آسمان تو بس دولہے کو نِہار ہی سکتا تھا لیکن زمین کو برتری دکھانے کا پورا موقع تھا اور زمین نے اس موقع کو دونوں ہاتھوں سے بھنایا:
خوشی کے بادل اُمنڈ کے آئے دِلوں کے طاؤس رنگ لائے
وہ نغمہ نعت کا سَماں تھا حرم کو خود وَجد آرہے تھے

باراتیوں میں آپ کے مشفق و مہربان چچا سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے کفیل ومربی جناب ابو طالب بھی شامل تھے۔خراماں خراماں چلتے ہوئے باراتِ نبی سیدہ خدیجہ کے گھر پہنچی۔محفل نکاح میں جناب ابو طالب نے ایک فصیح وبلیغ خطبہ پڑھا۔پانچ سو درہم مہر مقرر پایا۔اس طرح سید عالم ﷺ اور ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کا نکاح مکمل ہوا۔زمیں سے آسماں تک مبارک بادیوں کا شور برپا ہوا۔فضاؤں نے جھوم کر خوشیوں کا اظہار کیا۔زمیں سے فلک تک، مکے سے ملک تک بہاروں کا سماں تھا:
وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رَچی تھی شادی مچی تھی دُھومیں
اُدھر سے اَنوار ہنستے آتے اِدھر سے نفحات اُٹھ رہے تھے

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button