Uncategorized

اسلام کا ایک عظیم ہیرو

دنیا میں بڑے بڑے جابر حکمراں اور نامور بادشاہ گزرے ہیں، جو چند دنوں تک اپنی ہمت و شجاعت کی بنیاد پر اپنی شہرت کا ڈنکا بجوایا، لیکن آج دنیا میں ان کا نام تک لینا کوئی پسند نہیں کرتا، مگر اسی خاک گیتی پر کچھ ایسی بھی ہستیوں نے جنم لیا جن کے کارنامے صبح قیامت تک ان کا خطبہ پڑھتے رہیں گے- انھیں میں سے ایک وہ عظیم ہستی ہے جس کے باپ نے شادی میں صرف اس لیے تاخیر کی تھی ” مجھے ایک ایسی نیک بیوی چاہیے جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اس سے میرا بیٹا پیدا ہو جس کی وہ بہترین تربیت کرے جو میدان جنگ کا شہسوار ہو اور مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس واپس لائے-” سچ کہا تھا کسی کہنے والے نے کہ نیت میں خلوص اور پاکیزگی ہو تو اللہ تعالیٰ ضرور نصیب کرتا ہے، آخرکار اس مرد مجاہد کو اللہ تعالیٰ نے وہ دن بھی نصیب کیا کہ محلے کی سب سے غریب گھرانے کی لڑکی جو پارسہ اور عبادت گزار تھی جس کی بھی سوچ اس مرد مجاہد سے ملتی تھی- بالآخر اس مرد مجاہد نے اس غریب متقی لڑکی کے ساتھ النکاح من سنتی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے رشتہ زوجیت سے منسلک ہوگیا، پھر اس شریف اور متقی انسان اور متقیہ عورت کے نطفے سے جس ذات نے 1138ء 569ھ کو سرزمین تکریت میں آنکھ کھولی اسی ذات اور ہستی کو آج دنیا سلطان صلاح الدین ایوبی اور فاطح بیت المقدس کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے –
وہ ذات سلطان صلاح الدین ایوبی کی ہے، جس کے حسن خلق کا عالم یہ تھا کہ خود دشمن اسلام اس سے مدد لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے- چنانچہ ایک مرتبہ ایک عیسائی عورت کابچہ جو تین سال کا تھا گم ہوگیا، بات شدہ شدہ سلطان صلاح الدین ایوبی تک پہنچی، سلطان نے خود کا پیسہ اس عیسائی عورت کے بچے کو تلاش کرنے میں خرچ کیا اور اس عیسائی عورت کے بچے کو تلاش کر اس کے سپرد کر دیا-
کون سلطان صلاح الدین ایوبی ؟
وہی سلطان صلاح الدین ایوبی جس نے ایک پریشان آدمی کو نورالدین زنگی کے قبر پر روتے ہوئے یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے نورالدین زنگی تو عادل و انصاف کی روشنی میں انصاف کرتا تھا مگر کیا سارا عدل و انصاف اپنے ساتھ قبر میں لے گیا ؟ اب میرے ساتھ انصاف کون کرے گا ؟ جس نے اس پریشان آدمی کو عدل و انصاف کا مژدہ سنایا وہی ہے سلطان صلاح الدین ایوبی-
سلطان صلاح الدین ایوبی ایک عظیم حکمران کے ساتھ ساتھ میدان جنگ میں قہر الٰہی بن کر دشمن اسلام کو نیست و نابود کرنے والا ایک بہادر جنگجو بھی تھا، لیکن وہ ایک رحم دل انسان بھی تھا- ابن شداد نے لکھا ہے: جب انگریزوں کا بادشاہ شیر دل رچرڈ جو صلاح الدین ایوبی کا ازلی دشمن تھا بیمار پڑا تو صلاح الدین ایوبی نے اس کی کیفیت دریافت کی اور ساتھ ہی پھلوں کا تحفہ بھی بھیجا- وہ صلیبی جو بھوک اور پیاس کے ستائے ہوئے تھے، ایک دشمن کی یہ اعلی ظرفی دیکھ کر دنگ رہ گئے-
سلطان کے اعلی اخلاق اور اعلی ظرفی کے ساتھ ساتھ بہادری کا عالم یہ تھا کہ ان کی بہادری اور جواں مردی کو دیکھ کر نورالدین زنگی جیسے مرد مجاہد نے ان کو اپنے فوج کا حاکم اور کمانڈر بنادیا تھا 564ھ میں جب نورالدین زنگی نے مصر پر حملے کا حکم صادر کیا تو اس وقت چیف کمانڈر کے طور پر صلاح الدین کو پیش کیا تھا، جب سلطان صلاح الدین ایوبی نے مصر پر فتح و نصرت کا جھنڈا گاڑا تو نورالدین زنگی نے صلاح الدین ایوبی کو وہاں کا گورنر مقرر کردیا "انوار السلطانیہ” میں ہے کہ سلطان کی اس میں رضا نہ تھی مگر نورالدین زنگی کے اصرار پر مصر کی گورنریت کا عہدہ سنبھالا –
شروعات میں صلاح الدین ایوبی حاکمیت مصر کے خلاف تھے مگر مصر کی گورنریت سنبھالنے کے بعد ان کی زندگی کے کار امور بدل گئے اور اپنے زندگی کے اعمال کو مزید اسلام کے اصولوں اور پابندیوں سے جکڑ دیا- اور اپنی تمام تر طاقتیں صرف کردی دشمن اسلام کو بیت المقدس سے نکالنے کے لیے – پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وہ دن بھی نصیب کیا جو ایک مرتبہ کہا تھا: جب اللہ تعالیٰ نے مجھے مصر کی حکومت عطا کی تو میں سمجھ گیا کہ فلسطین بھی مجھے ہی دینا اللہ تعالیٰ کو منظور ہے-
سلطان نے حطین پر فتح و نصرت کا جھنڈا گاڑنے کے بعد بیت المقدس کا رخ کیا اور آخر کار اللہ عزوجل نے اس کو وہ دن بھی عطاء فرمایا، جس کا اس کو بڑی شدت سے انتظار تھا- اسلامی لشکر نے بڑے ہی زور سے حملہ کیا اور ایک ہفتہ تک جنگ ہوتی رہی، پھر عیسائیوں نے خود ہی اپنے ہتھیار ڈال دئیے اور رحم کی بھیک مانگنے لگے- حسن اتفاق سے بیت المقدس کی آزادی کا یہ وہی دن تھا جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جملہ انبیاء کرام علیھم السلام اجمعین کی امامت فرمائی تھی، آج پورے 90 سال بعد قبلہ اول مسلمانوں کے قبضے میں آیا تھا اس عظیم الشان فتح و نصرت کے بعد ہر چہار جانب دعا، تسبیح و تہلیل اور تکبیر کا شور تھا گویا کہ اللہ عزوجل کی نصرت اور اسلام کی فتح کھلی آنکھوں سے ملاحظہ فرما رہے تھے- پھر 761 سال تک بیت المقدس مسلمانوں کے قبضے میں رہا- سلطان صلاح الدین ایوبی مسلمانوں کے ایک عظیم، نڈر، بے باک، اور انتہائی ہمت و شجاعت والے حکمران تھے- ہجرت کے 589 سال بعد یہ عظیم قائد 57 برس کی عمر میں داعئ اجل کو لبیک کہتے ہوئے 6, مارچ1193,ء کو سر زمین دمشق مسجد امیہ کے قریب یہ اسلام کا عظیم ہیرو ہمیشہ کے لیے سپرد خاک ہوگیا –

از قلم:- بدرالدجی امجدی تلسی پوری

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button