سماج و معاشرہمذہبی مضامین

ماں باپ و سرپرست پر اپنے بچے بچیوں کی شادی مناسب وقت پر کرانا لازم

ازقلم: محمد خیبر عالم نوری
[email protected]

نحمده ونصلی ونسلم على رسوله الكريم أمابعد ۔۔۔۔۔۔

اولاد اللہ کریم کی ایک بہت بڑی نعمت و دولت ہے. ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک و ان کے لیے سکون قلب کا باعث ہے. بچے کے بغیر سب کچھ ہوتے ہوئے بھی مانو کچھ بھی نہیں ہے۔ گھر و آنگن،کھیت و کھلیان ویران و سُونا سا لگتاہے۔
خوش قسمت ہیں وہ جنہیں رب تبارک و تعالٰی نے اولاد جیسی عظیم نعمت و دولت سے نوازا ہے. تاہم جہاں اولاد کا ہونا ماں باپ کے لیےمسرت و شادمانی کا باعث اور راحتِ دل و جاں کا سبب ہے وہیں والدین پر اس عظیم نعمت کے کچھ حقوق بھی ہیں.
جس طرح ماں باپ کی اطاعت و فرماں برداری کرنا،ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا،ان سے صلہ رحمی کرنا و ان کی خدمت بجالانا اولاد پر فرض و واجب ہے اسی طرح بہترطریقے سے بچوں کی پرورش کرنا،انھیں اچھی تعلیم و تربیت دینا یہ سب والدین کی ذمداری و ان پر لازم ہے۔
حقوقِ اولاد کے تعلق و حوالے سے کتبِ احادیث کے صفحات میں بہت سی روایات شاہد و موجود ہیں۔اس سلسلے میں معلم کائنات ﷺ کی تعلیمات و فرمودات کا جو مفہوم و خلاصہ ہے یہ کہ بچے کی پیدائش کے بعد کان میں اذان و اِقامت کہی جائے،ساتویں دن عقیقہ کیا جائے،اچھا نام رکھا جائے،بولنے کے قابل ہو جائے تو اللہ کا نام زبان سے ادا کرایا جائے،سات سال کا ہو تو نماز کی تعلیم دی جائے،دس سال کی عمر ہو تو نماز نہ پڑھنے پر تنبیہ کی جائے،دینی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام رکھا جائے،جب شادی کی عمر ہوجائے اور مناسب رشتہ مل جائے تو جلد نکاح کردیا جائے،رشتہ طے کرنے میں اولاد کی رائے اور رضامندی کا خیال بھی رکھا جائے علاوہ ازیں ان کی دینی،دنیوی بالخصوص دینی و اخروی خیرخواہی،فلاح و بہبودی پر توجہ دینا والدین پر لازم و ضروی ہے تاکہ وہ نارِ دوزخ سے بچ کر دارین کی سُرخروئی سے مالا مال ہوں….
ارشاد باری تعالٰی ہے
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ٭ (سورۂ تحریم ایۃ ۶)
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہے،اس پر سختی کرنے والےطاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کاحکم نہیں ٹالتے اور جو انھیں حکم ہو وہی کرتے ہیں۔(کنز الایمان)..
آمدم برسرِ مقصد ایں کہ حقوقِ اولاد میں سےایک اہم و بنیادی حق یہ ہےکہ جب وہ شادی کی عمر کو پہنچ جائے تو ان کا نکاح کر دیا جائے. اللہ رب العزت کا فرمان عالیشان ہے…
وَاَنۡكِحُوا الۡاَيَامٰى مِنۡكُمۡ وَالصّٰلِحِيۡنَ مِنۡ عِبَادِكُمۡ وَاِمَآئِكُمۡ‌ ؕ اِنۡ يَّكُوۡنُوۡا فُقَرَآءَ يُغۡنِهِمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ‌ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ۞(سورۂ نور آیۃ٣٢)
ترجمہ: ارو نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ انھیں غنی کر دے گا اپنے فضل کے سبب اور اللہ وسعت والا علم والاہے( کنزالایمان).
آیۃ مذکورہ میں خطاب اولیاء سے ہے یعنی بچوں کے والدین و خاندان کے سرپرست اور غلام و کنیز کے آقا مخاطَب ہیں.
آیت میں لفظ ایامیٰ اَیِّم(بِکسرِ "ی”)کی جمع ہے در اصل اَیِّم اس زن و عورت کو کہتے ہیں جو شوہر والی نہ ہوں خواہ وہ عورت غیر شادی شدہ(کنواری) ہو یا بیوہ،لیکن یہاں ایامی سے مرد و عورت دونوں مراد ہیں۔۔
مفسر شہیر حکیم الامت حضرت علامہ احمدیارخاں نعیمی علیہ الرحمتہ اس آیت کا ترجمہ و اس کی تشریح و توضیح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ
” اے لوگو! اپنی اَیِّم اولاد کی شادی نکاح کردو”
آگے آپ لکھتے ہیں کہ اَیِّم وہ مرد عورت ہیں جو بغیر ازدواجی ساتھی کے ہوں.خواہ کنوارے ہوں یا طلاق والے یا وفات والے(رنڈوے)ہوں. یعنی عورت کا خاوند اور مرد کی بیوی نہ ہو-(تفسیر نعیمی پارہ 18)” ۔
فرمان باری تعالٰی کے بعد اب ذرا احادیث مبارکہ کی روشنی میں معلوم کرتے ہیں کہ بالغ اولاد کے عقد و نکاح کے تعلق سے والدین کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کا کیا حکم و فرمان ہے.
اس حوالے سے رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ…
” مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَلْيُحْسِنْ اِسْمَهُ وَاَدَّبَهُ فَاِذَا بَلَغَ فَلْيُزَوِّجْہُ”
یعنی جس کا بچّہ پیدا ہو اُسے چاہیےکہ اُس کا اچھا نام رکھے اور اس کی اچھی تَرْبِیَت کرے اور جب وہ بالغ ہو تو اُس کی شادی کردے۔(مشکوۃ المصابيح کتاب النکاح).
نیز رسولِ رحمت،نبئ اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ…
"حَقُّ الولدِ على والدِه أن يُحْسِنَ اسمَه، ويُزَوِّجَه إذا أدرك، ويُعَلِّمَه الكتاب”
باپ پر بچے کا یہ حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور بالغ ہونے کے بعد اس کی شادی کرائے اور اسے قرآن کا علم سکھائے(کنز العُمَّال فی سنن الأقوال و الأفعال 16).
مذکورہ بالا قرآن مقدس کی آیت کریمہ و احادیث نبویہ سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح و عیاں ہوگئی کہ اپنے بالغ بچے پچیوں کی شادی کرانا والدین و اولیاء(سرپرست)پر فرض و واجب ہے .اورچونکہ یہ ان کا بنیادی حق بھی ہے جسے ادا کئے بغیر وہ سبکدوش نہیں ہوسکتے.اور یہ بھی معلوم ہوا کہ لڑکے لڑکیوں کی شادی کرانے میں دیر و تاخیر نہ برتے،ہاں اگر کوئی عذرِ شرعی ہو تو الگ بات ہے…
لیکن ہمارے سماج و معاشرے میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو شادی بیاہ میں رائج غیر شرعی رسومات و خرافات اور بےجا اخراجات و ٹھاٹ باٹ کو مجبوری کا نام دیتے ہوئے لڑکے،لڑکیوں کی شادی کرنے میں دیر و تاخیر کرتےہیں اور ایسے بھی لوگ ہیں جو لڑکیوں کی شادی تو جلدی کردیا کرتے ہیں مگر لڑکوں کی شادی کرنے کو یہ کہتے ہوئے کہ” ابھی عمر ہی کیا ہے،پہلے اپنے پیروں پر کھڑا تو ہوجائے، شادی ہوجائے گی تو لڑکا ہاتھ نکل جائے گا وغیرہ وغیرہ” ٹال مٹول کیا کرتے ہیں اور اسی امروز فردا و بہانہ جوئی کے چکر میں حسنِ شباب کے رخِ زیبا پر درازئ عمر کی جُھریاں پڑنے لگتی ہیں اور پھر اخیر میں رشتے کے لیے بہت ساری دقتوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے…. کہیں طوالتِ عمری کا سوال تو کہیں شباب و ضعیفی کی کشمکش..
یاد رہے! کہ اگر لڑکی یا لڑکا شادی بیاہ،عقد و نکاح کے لائق و قابل ہوجائیں اور ماں باپ یا سرپرست کی طرف سے اُن کی شادی میں بلا وجہِ شرعی تاخیر و دیر برتی گئی اور خدا نخواستہ اِس کے سبب وہ معصیت و گُناہ و حرام کاری میں پڑگئے تو اُن کے ساتھ ساتھ والدین یا سرپرست بھی گُنہگار ہوں گے ۔
چنانچہ امت کے غمخوار، حبیب پروردگار صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے.
عَن أبي سعيدِِ وابن عباسِِ قالا قال رسول اللہﷺ منْ وُلِد لهُ ولدٌ فلْيُحسنِ اسمَهُ وأدبَه، فإذا بلغ فلْيُزوِّجهُ فإن بلغ ولم يُزوِّجْهُ فأصاب إثمًافإنما إثمهُ على أبيه.(مشکواۃ المصابيح کتاب النکاح)
ترجمہ: حضرت ابوسعید و ابن عباس(رضی اللہ تعالی عنہما) سے روایت ہے انہوں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے یہاں بچہ پیدا ہو تو اسے چاہیے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اسے ادب سکھائے پھر جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کی شادی کرائے پس اگر وہ بالغ ہوا اور اس کی شادی نہیں کرائی گئی اگر اس سے کوئی گناہ ہوگیا تو اس کا گناہ اس کے والدین پر ہے..
و عَن عمرَ بنِ الخطاب و أنسِ بنِ مالك عَن رَسُولِ اللہِ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قَالَ فِي التَّوراةِ مَكتوبٌ مَن بَلَغَتِ ابنَتُه اثنَتَي عَشرَةَ سَنَةً فلَم يُزَوِّجها فأصابَت إثمًا فإثمُ ذلكَ علَيهِ رواھما فی البیھقی فی شعب الایمان۔۔۔(ایضاً)
اور مروی ہے حضرت عمر بن خطاب و حضرت انس بن مالک(رضی اللہ تعالی عنہما) سے فرمایا اللہ کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کہ تورات میں لکھا ہوا ہے کہ جس کی بیٹی بارہ سال کی(بالغہ) ہوجائے پس اگر وہ(والدین) اس کی شادی نہ کرائے تو اب اس لڑکی سے اگر کوئی گناہ ہوگیا تو وہ گناہ ماں باپ کے سر ہوگا” …..
معلوم ہوا کہ بالغ اولاد کی شادی مناسب وقت پر نہ کرانے کے سبب اگر ان سے فعل حرام سرزد ہوجائے تو اس گناہ میں دونوں شامل ہوں گے.
در اصل نکاح فحاشی و بدکاری کو روکنے،گناہ و معصیت سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے.حسنِ معاشرت کی تعمیر و تشکیل و انسان کی فطری جنسی خواہش کی تکمیل و تسکین کا جائز و حلال ذریعہ ہے.نگاہ و شرم گاہ کی صیانت و حفاظت،حصولِ اولاد و نسلِ انساں کی بقاء کے لیے ایک پاکیزہ راہ و نفیس ذریعہ ہے.

معلم کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے نوجوانوں کو مخاطَب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ…
عَن عَبدِاللهِ بنِ مَسعودٍ قالَ قالَ رَسولُ اللہ صلی اللہ علیہ و سلم يَامَعْشَرَ الشَّبابِ مَنِ اسْتَطاعَ مِنْكُمُ الباءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فإنَّه أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَن لَمْ يَسْتَطِعْ فَعليه بالصَّوْمِ، فإنَّه له وِجاءٌ..(صحيح مسلم،مشکوۃ المصابيح )
حضرت عبداللہ بن مسعود(رضی اللہ تعالی عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے گروہِ جوان! (نوجوانوں) تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھے وہ ضرور نکاح کرے کیونکہ نکاح نگاہ کو جُھکانے والا اور شرم گاہ کا محافظ ہے اور جو نکاح کی طاقت نہ رکھتا ہو اُسے چاہیے کہ روزے رکھے کہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے.
فرمانِ رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم سے معلوم ہوا کہ جس شخص میں عقد و نکاح، نان و نفقہ و دیگر حقوقِ زوجین کی ادائیگی کی طاقت و استطاعت ہو وہ ازدواجی زنگی سے منسلک ہوجائے کیونکہ نکاح معصیت و گناہ سے بچاتا ہے اور جس شخص میں استطاعت نہ ہو تو جنسی خواہش کو توڑ نے کے لیے وہ روزے رکھیں…
اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمتہ و الرضوان فرماتے ہیں کہ
"اگرنکاح کی حاجت شدید ہے کہ بے نکاح کے مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ گُناہ میں مبُتلا ہونے کا ظَنّ غالب ہے تو نکاح کرنا واجب ہے۔ بلکہ بے نکاح مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وُقوعِ حرام کا یقینِ کُلّی ہوتو نکاح فرضِ قطعی یعنی جبکہ اُس کے سِوا کثرتِ روزہ وغیرہ مُعالجات سے تسکین مُتَوقّع نہ ہو ،(ایسی صورت میں )اگر خود نکاح نہ کریں گنہگار ہوں گے اور اگر اُن کے اَولِیاء (یعنی والدین یا سرپرست)اپنے حدِّ مقدور تک کوشش میں پہلوتہی کریں گے تو وُہ بھی گنہگار ہوں گے”(فتاوی رضویہ جلد ١٢)۔
اور اولاد کو بھی چاہیے کہ جب والدین و سرپرست اُن کی شادی کا ارادہ ظاہر کریں تو اپنے نَفْس پر اعتِماد و بھروسہ کرتے ہوئے شادی کرنے سے انکار و منع نہ کریں بلکہ والدین کی رضا و خوشنودی پر اپنی رضامندی و خوشی کا اظہار کریں..
اعلیٰ حضرت امام اہل سنت رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ "جو اپنے نَفْس پر اعتِماد کرے اس نے بڑے کَذّاب(یعنی بہت بڑے جُھوٹے) پر اعتِماد کیا”
(الملفوظ کامل حصہ دوم ٢١٤/چہارم ٣٣٦)..
صدر الأفاضل،حکیم الامت حضرت مفتی احمدیارخاں نعیمی علیہ الرحمہ عقد و نکاح کی افادیت و تاخیر کے نقصانات اور رشتئہ نکاح کے انتخاب کے تعلق سے امت مسلمہ کو آگاہ و تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ…….
” اے مسلمانوں! رشتہ نکاح کے وقت اولاد یا داماد کی فقیری غریبی دیکھ کر رشتے کو رد نہ کرنا بلکہ جب دینی ایمانی ہم عقیدہ نیک صالح متقی حسبی نسبی کفو والا رشتہ مل جائے اور دو طرفہ ایک دوسرے کے عادات و اخلاق سے راضی خوشی ہو تو فوراًرشتہ منظور نکاح قبول کر کے نکاح کر دیا کرو۔خاوندوں کی غربت و فقیری میں اللہ تعالی مسبب الاسباب ہے. غنی فرما دےگا نئے خاندان والوں کو اپنے فضل و کرم قدرت و حکمت سے۔ اور اللہ تعالی ہر چیز کو ہر طرف بہت وسیع و کثیر بابرکت و با رحمت بنانے والاہے اور ہر شخص کی ضرورت کو ہرچیز کی حکمت کو جاننے والا ہے۔
نیز فرماتے ہیں اے مسلمانوں! خاندان بنانے رشتے لگوانے میں صرف خاندانی شرافت جسمانی صحت دینی جہت نسلی نسبت ہی دیکھا کرو مالی حالی غریبی کو مقدم نہ رکھا کرو اِس کا کوئی بھروسہ نہیں کیونکہ رب تعالی ہی کفیل ہے خاوند بیوی وغیرہ کے رزق و ضروریات کا۔ اور وہی قناعت بھی عطا فرماتا ہے فراغت بھی، وسعت بھی اس لیے توکل علی اللہ کیا کرو۔ اگر تم نے نیکی و شرافت کو نہ دیکھا اور بوجہ غربتِ وقتی رشتہ ٹھکرا دیا تو لڑکیاں کنواری رہیں گی جس سے خاندانوں میں اور زمین میں فساد،اولاد میں نافرمانی،آوارگی غالب آجائے گی۔” (تفسیر نعیمی پارہ ١٨)…
اور فقہ حنفی کی معروف و مستند کتاب کے مصنف صدرالشریعہ حضرت علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ.
” نکاح اور اس کے حقوق ادا کرنے میں اور اولاد کی تربیت میں مشغول رہنا نوافل میں مشغولی سے بہتر ہے..
شہوت کا غلبہ ہے کہ نکاح نہ کرے تو معاذ اللہ اندیشئہ زنا ہے اور مہر و نفقہ کی قدرت رکھتا ہو تو نکاح واجب یوہیں جبکہ اجنبی عورت کی طرف نگاہ اٹھنے سے روک نہیں سکتا یا معاذ اللہ ہاتھ سے کام لینا پڑے گا تو نکاح واجب ہے. یہ یقین ہو کہ نکاح نہ کرنے میں زنا واقع ہوجائے گا تو فرض ہے کہ نکاح کرے. (بہارشریعت حصہ ہفتم)..
حاصلِ کلام یہ کہ مذکورہ بالا آیات مقدسہ و احادیث نبویہ اور مسائلِ فقہیہ سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی کہ ماں باپ و خاندان کے سرپرست پر اپنے بالغ بیٹے بیٹیوں،بھائی بہنوں اور خاندان کے دیگر بچے بچیوں کی شادی کرانا واجب و لازم ہے اور مناسب رشتہ ملنے پر بِلا وجہ شرعی عقد و نکاح میں دیر و تاخیر بھی ممنوع ہے ۔۔۔۔۔
اللہ تعالٰی حقوقِ اولاد کی ادائیگی میں ہماری امداد و اعانت فرمائے آمین بجاہ سید الانبیاء والمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم وصحبہ أجمعين.۔۔۔۔۔
آپ کا خیر اندیش.
؞بندۂ عاصی محمدخیبرعالم نورؔی دیناجپورؔی
١٧/محرم الحرام، ؁۱۴۴۳ھ۔

استاد دارالعلوم ضیائےمصطفی کانپور یوپی۔الہند
9936430875

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button