سماج و معاشرہ

جبری جہیز کی لعنت

آئے دن مسلم معاشرے میں نئے نئے رسومات و خرافات جنم لیتے رہتے ہیں، ان ہی رسومات سیئہ میں سے ایک جہیز ہے جسے آج کل کے لوگ لڑکی کے والدین سے قبل نکاح وصول کرتے ہیں، کہ اگر میری ان چیزوں کی تکمیل کی جائےگی تبھی اپنے لخت جگر کا نکاح آپ کی بیٹی کے ساتھ وجود میں آئےگا ورنہ نہیں، قابل غور بات یہ ہے کہ نکاح جیسے عظیم چیز کے بدلے پیسہ مانگنے میں حیا تک نہیں آتی بلکہ الٹا اس کو اپنے اور اپنے خاندان کے لیے باعث فخر سمجھاجاتا ہے، اگر اس کو ختم کرنے میں پہل نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب پورا معاشرہ تباہی کے دہانے پہ کھڑی ہوجائےگی، تو اس وقت ہمارے پاس تماشائی بننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہےگا، خدا اس وبا کو مسلمانوں سے دور کرے

جہیز کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
جہیز ایک قبیح چیز ہے جو کہ ہمارے معاشرے میں طاعون کی طرح پھیل چکا ہے اور اچھے اچھے لوگوں کو اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے اور اس قبیح چیز کی وجہ سے لاکھوں کروڑوں بہنوں بیٹیوں کی زندگی جہنم بن گئی ہے، یہ میں اس لئے کہہ رہاہوں کہ اسی منحوس وبا کی وجہ سے شریف خاندان کی بیٹیوں کے آنکھوں میں بسنے والا رنگین خواب چھن گیا ہے، ان کی تمنائیں آرزوئیں حسرتیں خواہشیں سبھی سپنوں کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے اور ان مقدس شہزادیوں کو ناامیدی مایوسی کی کٹھور تاریک دروازوں کے پیچھے ڈھکیل دیا گیا ہے جہاں رہ کر وہ یہ سوچتی ہیں کہ یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہم غریب ہیں ہمیں کون ڈولی میں بٹھائےگا ان امیر کے بچیوں کے ہوتے ہوئے، اور ان کے والدین کے دن و رات اسی سوچ میں گزرجاتا ہے کہ میری بیٹی کا رشتہ لگ جائے لیکن وہ چاہ کر بھی جب کچھ نہیں کر پاتے تو تھک ہار کر بارگاہ ایزدی میں لو لگا کر فریاد کرتے ہیں کہ بار الہ تو کوئی فرشتہ صفت انسان بھیج تاکہ وہ اس لعنت سے پاک دو جوڑوں میں میری لخت جگر کو قبول کر لے،

جہیز بھی رشوت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہیز کا مطالبہ شریعت مطہرہ میں سخت گناہ اور حرام ہے خواہ مقدار متعین کی گئ ہو یا نہیں وعدہ شادی سے قبل کا ہو یا بعد کا، اس لئے کہ جہیز لینا رشوت کے مترادف ہے اور رشوت اسلام میں ناجائز و حرام ہے، اگر ہم جہیز اور اس کے مقاصد پہ غورو خوض کریں تو یہ معمہ خود بخود حل ہوتا نظر آتا ہے کہ جہیز رشوت کی دوسری شکل ہے، تو بلا قیل و قال ہم رشوت کی تعریف بیان کر رہے ہیں، جس سے آپ خود سمجھ جائیں گے کہ جہیز ہی رشوت ہے، رشوت کی تعریف بحرالرائق میں ہے "الرشوة ما يعطيہ الشخص للحاكم اوغیرہ ليحكم لہ اویحملہ علی مایرید” (البحر الرائق ج ٦. كتاب القضاء، ص۴۴۰) یعنی رشوت یہ ہے کہ انسان حاکم یا غیر حاکم کو اپنے حق میں فیصلہ کرنے کے لیے یا اپنی منشا کے مطابق اسے آمادہ کرنے کے لیے کچھ دے ۔ رشوت کا مقصد اگر ہم رشوت دینے والے اور جہیز دینے والے کے مقاصد پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں ان دونوں میں یکسانیت نظر آتی ہے، کیوں کہ رشوت دینے والے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سامنے والا اس کے اخلاقی دباؤ میں رہے اس کے پاس نظر جھکا کر ملے اور جہیز دینے والے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ اس کا داماد اور اس کے گھر والے ہمارے اخلاقی دباؤ میں رہیں اور وہ ہماری لاڈلی کے ساتھ کوئی ناروا سلوک نہ کرے۔ اس طرح دیکھا جائے تو جہیز اور رشوت کے مقاصد ایک راستہ پہ مل گئے، اسی تعلق سے امام عشق و محبت اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی فتاویٰ رضویہ جلد ٢٣ صفحہ ۵٩٨ میں لکھتے ہیں کہ رشوت لینا مطلقا حرام ہے کسی حالت میں جائز نہیں جو پر ایا حق دبانے کے لئے دیا جائے رشوت ہے یو ہیں جو اپنا کام بنانے کے لئے حاکم کو دیا جائے رشوت ہے لیکن اپنے اوپر سے دفع ظلم کے لئے جو کچھ دیا جائے دینے والے کے حق میں رشوت نہیں یہ دے سکتا ہے لینے والے کے حق میں وہ بھی رشوت ہے اور اسے لینا حرام،

جہیز کے مضر اثرات بہت سارے ہیں ان میں سے کچھ کا بیان نیچے آرہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خانہ تباہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لڑکی اپنی حیثیت سے زیادہ جہیز لانے کی وجہ سے اس کے والدین مقروض ہوجاتے ہیں جس کی تکمیل میں پوری زندگی گزار دیتے ہیں پھر بھی قرض سے سبکدوش نہیں ہوپاتے، اور جو کم لاتی ہیں انہیں سسرال والے طرح طرح سے طنز کسنے لگتے ہیں یہاں تک کہ لڑکی کا جینا دوبھر ہوجاتا ہے پھر بھی والدین کو دیکھتے ہوئے سسک سسک کر اپنی زندگی شوہر کے دروازے پہ گزارتی ہے شوہر کو چاہئےتھا کہ یہ بھی کسی نہ کسی بیٹی ہے اس کی اچھے سے خیال رکھوں جس طرح اپنی بہن کے بارے میں مثبت خیال کرتا ہوں اپنے بہنوئی سے لیکن یہاں ایسا نہیں سوچ سکتے؟ کیونکہ یہ تو غیر کی بیٹی لگتی ہے بعض دفعہ تو بری طرح پیٹائ بھی کر ڈالتے ہیں،

جہیز کے ڈر سے رحم مادر میں ہی اسقاط حمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی منحوس جہیز کی وجہ سے رحم مادر میں پلنے والے بچیوں کے قتل کے واقعات میں دن بدن بڑھوتری ہورہی ہے لڑکے کے خواہش مند والدین کو معلوم جیسے ہی ہوتا ہے کہ ان کے شکم میں پلنے والا لڑکی ہے تو اسے مختلف ذرائع سے اسقاط حمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، دور جدید میں اس زمانہ جاہلیت کی برسوں پرانی قبیح رسم نے نئے طریقے سے سر ابھارا ہے اور یہ چیز اس درندگی سے بھی بدتر ہے، رب رحم مادر میں نقاشی کرتاہے تو اسقاط حمل کرا ڈالتے ہیں یہ اس لیے بولا ہوں کہ عرب والے دنیا میں آنے کے بعد زندہ درگور کرتے تھے لیکن لوگ مفلسی کے ڈر سے رحم مادر میں ہی مار ڈالتے ہیں جوکہ یہ کام گناہ کبیرہ اور حرام ہے، لھذا اسی وجہ سے لڑکیوں کی پیدائش کی تعداد دن بدن گھٹتی جارہی ہے وطن عزیز میں لڑکیوں کے پیدائش کے تعداد میں بہت ہی حیرت کن خبر موصول ہوئ اگر خدا نخواستہ ایسا ہی چلتا رہا تو لڑکوں کے لیے لڑکیاں ملنا مشکل ہوجائےگی، مردم شماری کی ایک قدیم رپورٹ کے مطابق ملک میں 1000 لڑکوں کے مقابل میں 940 لڑکیاں پائ جاتی ہیں اس کے بعد والا تو اور ہی دردناک ہے بتایا گیا کہ فی ہزار کے مقابلے میں 850 ہی دستیاب ہیں اس کے برے نتیجے رونما دھیرے دھیرے ہونے لگے، ملک کے کچھ علاقوں میں ابھی سے ہی لڑکیوں کی کمی ہورہی ہے جوکہ حیرت کی بات ہے،

بڑے بڑے شہروں میں الٹراساونڈ مشین کے ذریعہ جنس کے تخصیص ہوتے ہی جدید ٹیکنالوجی یا ڈاکٹر کے مدد سے حمل ضائع کردیا جاتا ہے، اور دیہات کے جاہل اور ظالم مائیں اپنے بچوں کو اونچائی سے پھینک کر یا گلا دباکر مارڈالتی ہیں، راجستھان کے چھوٹے چھوٹے گاؤں میں نومولود بچی کے منہ یا ناک میں ریت بھر دیتی ہیں اور کچھ خبروں کے مطابق تو ریت کے نیچے درگور کردیتی ہیں یا پھر افیون ملا کر پلا دیتی ہیں جس کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے
ننھی گڑیا اس دنیا کو الوداع کہہ دیتی ہیں ، ہسپتال کے ذمہ داران اس بات کو جانتے ہیں لیکن وہ سرکار کو متنبہ نہیں کرتے کیونکہ وہ ڈرتے ہیں کہ انہیں لوگوں کے مابین رہنا ہے ان کی باتوں کو منظرعام پہ لایا تو ہمیں نقصان پہونچا سکتے ہیں،
ND TV کے ایک رپورٹ کے مطابق ہر دن 2050 نومولود لڑکیاں مار دی جاتی ہیں

بھارت میں لڑکے زیادہ، لڑکیاں کم : UNICEF کی رپورٹ

12 12 2006

اقوام متحدہ کی ایک تنظیم ہے جو کہ بچوں کے بہبود کے لیے کام کرتی ہے یونیسیف کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں جب معلوم ہوتا ہے کہ رحم میں پلنے والا لڑکی ہے تو اسقاط حمل کرا دیتے ہیں اس کے برے نتائج اب سے ہی دیکھنے کو مل رہے ہیں اس ملک میں ہر روز عالمی اوسط کے مقابلے میں سات ہزار کم بچیاں پیدا ہورہی ہیں آج کل دنیا میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں اوسطاً 954 لڑکیاں پیدا ہورہی ہیں لیکن بھارت میں یہ تناسب ایک ہزار لڑکوں کے مقابل میں 882 لڑکیاں ہیں، اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پورے بھارت میں روزانہ 71 ہزار بچے دُنیا میں آتے ہیں، جن میں سے صرف 31 ہزار لڑکیاں ہوتی ہیں جبکہ عالمی اوسط کے حساب سے یہ تعداد 38 ہزار ہونی چاہیے۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مطابق بھارت کے 80 فیصد ضلع میں یہ صورتِ حال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے، خاص طور پر شمالی ریاستوں ہریانہ اور پنجاب راجستھان کے 14 اضلاع میں

جنسی بے راہ روی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس میں ملوث ہونے کی ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ وقت پہ شادی نہیں ہوتی جس کے باعث انسان غلط کاموں کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے، اور وہ عمر 15 سے 25 سال کے بیچ کا ہے اس میں انسان بہت سی چیزوں سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے، شادی نہ ہونے کی وجہ سے لطف اندوز نہیں ہوپاتا تو ایسی حالات میں جوانی کو عبور کرنے والے کنوارے نوجوان اپنے جنسی جذبات میں مدہوش ہوکر گزرتے ہوئے چوک چوراہوں سے محبوس کرکے معاشرے کی عفت مآب بیٹیوں کی عصمت کو داغدار کردیتے ہیں، اور جانی پہچانی نکل گئ تو اسے وہی گلہ دبا دیتے ہیں، اور ادھر والدین اپنی بچیوں کی شادی کے لیے جہیز کا سامان مہیا کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں تو اسی اثنا میں میں ان کی بیٹی بلوغت کی عمر کو چھلانگ چکی ہوتی ہیں، پھر نفسیانی خواہشات کی طالب ہوجاتی ہیں بعض ان میں سے پاکیزگی لٹاکر اپنے دامن کو داغدار کرتی ہیں تو بعض خودکشی بھی کرلیتی ہیں، اس برائ کو پھیلانے میں جس نے اہم رول ادا کیا ہے وہ جہیز ہی ہے، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے اس قول کے پا بند بن کر اگر ہم نکاح کریں تو ہماری زندگی میں رحمت ہی رحمت ہوگی اور شادی کے بعد کی فساد سے بھی محفوظ رہیں گے انشاء الله حضورﷺ کی حدیث مبارکہ ہے،
قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمُ النِّسَاءِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُنَّ مَئُونَةً وفي لفظ : إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً ترجمہ رسول کریمﷺ نےارشاد فرمایا بلا شبہ وہ عورتیں زیادہ با برکت ہیں جو کہ کم خرچ کرتی ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم خرچ کیا جائے

وفی مکان علی الصراحة قال قال رسول ﷺ خير النكاح أيْسَرُه حضورﷺ نے ارشاد فرمایا بہترین نکاح وہ ہے جس میں کم خرچ کیا جاے

جہیز نہ بند ہونے کے وجوہات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ عورتوں کو مردوں کے بنسبت کم تر سمجھا جاتا ہے اور لڑکی کا باپ بھی لڑکے والوں کے مقابلے میں خود کو کم تر سمجھتا ہے، اور لڑکے والے اگر کسی لڑکی کو اپنے بیٹے کے لیے پسند کرتا ہے تو سمجھنے لگتا ہے کہ ان لوگوں پر احسان کررہا ہے اور ان کے اسی احسان کا قرض اتارا جاتا ہے جہیز کے ذریعے، بہت ہی کم افراد ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی نظر میں مرد و عورت ایک حیثیت کے متحمل ہیں، اور جو عورتوں کو کم تر مرد کے مقابلے میں سمجھتے ہیں وہ جہالت کے کوٹھری میں بند ہیں ان کو اس وہم سے نکلنا چاہیے،

دوسری وجہ مردوں کے توازن سے عورتوں کو کمزور اس طور پہ سمجھاجاتا ہے کہ عورتوں میں تعلیم مردوں کی بنسبت بہت کم ہے اور وہ اپنے آپ کو اچھے سے جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتی ہیں بس وہ اس خیال میں منہمک رہتی ہیں کہ بچپنے سے کسی طرح نکل کر حد بلوغت کو عبور کرکے اٹھارہ یا بیس سال تک اپنے آپ کو افعال بد سے محفوظ رکھ کر شادی کرلوں، جس کے بعد وہ دنیا کے گوشہ میں رزق حلال کی تلاش میں نکل کر ہماری کفالت کرےگا اور میں انکے گھر کی حفاظت کرونگی صبح اٹھ کر کھانا بناونگی کپڑا دھولونگی اور اپنے سسرال والوں کی خدمت کرونگی ایسے چلتا رہےگا یہاں تک کہ موت کا فرشتہ آئےگا اور اپنی آغوش میں سلا لےگا زندگی مکمل ہوگئ، نہیں نہیں بہنوں بلکہ لڑکوں کے شانہ بشانہ تعلیمی میدان میں اترنا چاہیے شریعت مطہرہ کے قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے تعلیمی زندگی کو مکمل کریں، اور کالج وغیرہ میں ہنود لڑکوں سے کوسوں دور رہیں اور ان کے فریبی محبت سے بچنا چاہیے اور کتنی ہی لڑکیاں اس فانی محبت کے لیے اپنے مذہب کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے عتاب خداوندی کا شکار ہوگئ اور ہورہی ہیں ( خدا ہماری بہنوں کو ان وحشی درندوں کی چالوں سے حفاظت فرمائے ) خیر یہ الگ موضوع ہے جس پہ عنقریب پورے بایوڈاٹا کے ساتھ ارتداد پہ بحث کرونگا،

ایک بہادر لڑکی کا مختصر سا پہل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک محترمہ جنہیں میں اچھی طرح جانتا ہوں الله رب العزت نے شریعت مطہرہ کے علوم و فنون سے نواز کر عالمہ فاضلہ بنادیا، ان کے پاس جب والدین نے پوچھا کہ بیٹی اپنی تمام بیٹیوں کی شادی جہیز دے کر ہی رخصت کیا ہے تو آپ لاڈلی اور چھوٹی ہیں آپ کو کتنا دےکر رخصت کرینگے تو انہوں نے جو بےباکانہ انداز میں جو الفاظ بولی وہ قابل نصیحت ہے وہ موصوفہ بولتی ہیں اگر میری شادی جہیز دےکر کرینگے تو میں ابھی ہی انکار کرتی ہوں، لعنت ہو ایسے لوگوں پہ جو اپنا حق جانتے ہوئے لڑکی کے باپ کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں، کیا یہ کم ہے؟ کہ بچپنے سے لیکر جوانی کے دہلیز تک بیٹی کی ہر خواہش پوری کرکے نازو نعم میں پال کر کے اپنی کلیجہ کے ٹکڑے کو آنے والی زندگی کو حسین بنانے کے لیے آپ کے بچے کے سپرد کر دیتے ہیں؟ بس مجھے ایسا لڑکا نہیں چاہیے جو خرید کر زندگی جینے کے لیے دیا جائے ہمیں ایسے لڑکے کے ساتھ رخصتی کریں جو غیر خریدہ ہوا ہو، انہیں انشاءاللہ میں شہزادے کے طور پہ رکھونگی اگر میری شرطوں کی خلاف ورزی کی گئ تو ایجاب و قبول کے وقت اعلانیہ انکار کر دونگی پھر جو تماشا ہوگا اس الزام میرے سر نہ ڈالیےگا میں اپنا حتمی فیصلہ سنادی ہوں، ماشاء الله جب ایک اسلام کی شہزادی اس طرح کا سونچ رکھ سکتی ہے تو کیا اسلام کے شہزادے یہ عزم نہیں کرسکتے کہ ہم جہیز نہیں لینگے، قارئین میں سے دس افراد نے عزم کرلیا تو دس غریب کے بچیوں کے دیکھے ہوئے رنگین خواب حقیقت میں تبدیل ہوجائینگے، تو امید قوی ہے کہ آپ کو پوری زندگی شہزادے کی طرح رکھینگی اور ہمیشہ دعائیں دیتی رہینگی، اب فیصلہ آپ کے ہاتھوں فانی پیسہ یا دائمی عزت و محبت و خلوص!

رب قدیر سے دعا ہے کہ اس ناجائز رسوم سے مسلمانوں کو چھٹکارا عطاکرے اور راہ شریعت پر عمل پیرا ہوکر نکاح کرنے کی توفیق بخشے آمین یارب العالمین

از قلم: مجیب الرحمٰن سلطانی
ڈنڈئ گڑھوا (جھارکھنڈ)
متعلم جامعہ مرکز الثقافة السنیة الاسلامیة کیرلا الھند

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button