ادارتی میز سےایڈیٹر کے قلم سےسیاست و حالات حاضرہکورونا وائرس

آخر یہ کیا ہورہا ہے

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کورونا وائرس کے پیش نظر جاری اس ملک میں لاک ڈاؤن پر عمل بلاتفریق مذہب وملت ملک کی تمام عوام نے کیا ہے۔ باوجودیکہ کچھ ناکارہ میڈیا والوں نے اس بحران کی گھڑی میں بھی کورونا جیسی لاعلاج بیماری کو ہندومسلم رنگ دینے کی کوشش کی مگر یہ بات بھی آہستہ آہستہ صاف ہوتی چلی جارہی ہے کہ کورونا کا کوئی دھرم نہیں، اور کورونا کا سامنا کرنے والوں کا آپس میں کوئی مذہبی رنجش نہیں۔ جیسا کہ کچھ اخباروں اور نیوز چینل کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی کہ تبلیغی جماعت کے مرکز سے جن 24 لوگوں کو کورونا متأثرین بتا کر اٹھایا گیا تھا ان میں سے 23 لوگوں کا کورونا ٹیسٹ منفی رہا جبکہ ایک شخص کی رپورٹ ابھی تک سامنے نہ آسکی، اس کے ساتھ ہی اے۔بی۔پی۔ نیوز چینل نے یہ دعوی کیا کہ دہلی کی حکومت اور انتظامیہ کے آپسی تال میل نہ بیٹھنے سے اتنی بڑی لاپرواہی ہوئی کیوں کہ انتظامیہ کو پہلے سے ہی وہاں لوگوں کے موجود ہونے کی پوری جانکاری تھی اور ہوتی بھی کیوں نہیں کہ مرکز کی بلڈنگ سے چند قدموں کے فاصلے پر ہی نظام الدین پولیس تھانہ موجود ہے۔ اسی درمیان میڈیا کی طرف سے یہ بھی دعوی کیا گیا تھا کہ کچھ علاقوں میں جہاں مسلم رہتے ہیں وہاں کورونا کی جانچ کرنے کے گئے ڈاکٹروں کو مار کر بھگایا گیا جبکہ حقیقت تو یہ جن دو ڈاکٹروں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ان میں ایک مسلمان تھی "ذکییٰ سعید”۔ یہ حقیقت ان نیوز چینل کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے جو اس معاملے کو ہندومسلم رنگ دینے کی کوشش کرہے ہیں۔ ان سب باتوں کو درکنار کرتے ہوئے اب ملک کے وزیر اعظم محترم مودی جی کے حالیہ بیان کی طرف آتے جہاں انہوں نے بیان دیا کہ 5 اپریل کو لوگ رات میں نو بجے نو منٹ تک دیا،موم بتی یا ٹارچ جلائیں۔ مطلب کہ گھر کی لائٹ بند کردیں اور دیا، موم بتی جلاتے پھرے، حد ہوگئی! تالی اور تھالی تو ایک طرح سے سمجھ آرہا تھا کہ چلو وزیراعظم کورونا سے لڑنے والی لڑائی میں ہماری حمایت کی جانکاری چاہتے ہیں اگر چہ اس کا بھی طریقہ غلط تھا اور یکجہتی کا ثبوت دینے کے لیے یہ طریقہ بھی موثر نہ رہا بلکہ اسے بھی بعض لوگوں نے مذہبی رنگ دے کر مسلم طبقہ کو پریشان کرنے کی کوشش کی۔
اور اب یہ دیا،موم بتی، ٹارچ کیا ہے بھائی؟ جہاں پوری دنیا کورونا سے علاج کی تدبیریں تلاش کر رہی ہے اس کی ویکسین بنانے کے پیچھے دن رات ایک کئے جارہی ہے وہیں آپ ملک کو

کس سمت لے کر جارہے ہیں؟ جہاں تک میں جانتا ہوں کہ بلب کی روشنی دیا، موم بتی اور ٹارچ کی روشنی سے کہیں زیادہ تیز ہوتی ہے مگر آپ اسے بند کرواکے دیا، موم بتی اور ٹارچ جلانے کی ہدایت دے رہے ہیں جو ملک میں تاریکی پھیلانا ہے نہ کہ روشنی۔ ویسے اگر ہمارے ملک کے ہندو بھائیوں کے تیہواروں کے مطابق دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ مودی جی پورے ملک کو کسی ایک طبقہ کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے پابند کررہے ہیں جیسا کہ میرے ایک ہندو دوست نے بتایا کہ 5 اپریل کو ہی ان کا پنیہ واسی ہے جس میں وہ لوگ دیا جلا کر گھر کے صحن میں رکھتے ہیں۔ اب وزیر اعظم کے اس حکم کے پس پردہ کیا سوچ ہے یہ تو وزیر اعظم ہی جانتے ہیں مگر یہ بات تو ضرور ہے کہ اگر ان کا ایسا خیال ہے کہ اس کورونا جنگ کے بہانے ملک کی پوری آبادی کو کسی ایک مذہبی رنگ میں ڈھالنا درست ہے تو یہ ان کی بہت بڑی غلط فہمی ثابت ہوسکتی ہے کیوں کہ ہمارے ملک میں آج بھی گنگا جمنی تہذیب زندہ ہے جو آپس میں مل کر ایک دوسرے کے دکھ،درد کو باٹنا جانتی ہے مگر دھوکہ دے کر کسی کو اپنے مذہب کی شعار وعلامت اپنانے کو بالکل روا نہیں سمجھتی، جس کی مثال میں نے ابھی دی کہ میرے ایک ہندو دوست نے ہی اس کے بارے میں مجھے خبر دی۔

بہرحال اگر ایسا نہیں ہے اور خدا کرے کہ ایسی سوچ نہ ہو باوجودیکہ ملک کی غریب عوام جس کے بچے بھوک کی وجہ سے بلک بلک کر دم توڑتے نظر آرہے ہیں جن کے پاس کھانے کی اشیاء غلہ خریدنے کے نام پر ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ان کی تکلیفوں کو بانٹنے کی بجاے آپ ان سے نت نئے نرالے کام کروا رہے ہیں، اور جب یہ کام ملک کا کوئی طبقہ نہیں کرتا ہے تو ملک کی بعض بکاؤ میڈیا اسے ہندومسلم رنگ دینے کی کوشش کرتی اور ادھر پوری دنیا ہم پر ہنس رہی ہوتی ہے۔ جیسا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حوالے سے یہ خبر ملی کہ انہوں نے ہندوستان کو مخاطب کرکے کہا کہ انہیں کورونا سے علاج کا حل ڈھونڈھنا چاہیئے نہ کہ ہندومسلم کرنا چاہیئے۔ لہذا ضروری تھا کہ ہمارے ملک کے وزیراعظم بھی ان میڈیا والوں کو مخاطب کرتے اور سختی سے انہیں تنبیہ کرتے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہندومسلم کا کھیل نہ کھیلیں۔

محمد شعیب رضا نظامی فیضی

عالمی شہرت یافتہ ویب پورٹل ہماری آواز کے بانی و ڈائریکٹر گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولابازار سے تعلق رکھنے والے جناب مولانا محمد شعیب رضا صاحب ہیں۔ جواں سال قلم کار اور درجن بھر کتابوں کے مصنف و مؤلف ہونے کے ساتھ ساتھ موصوف ایک کامیاب ویب ڈیزائنر بھی ہیں۔ ہماری آواز

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button