ادارتی میز سےایڈیٹر کے قلم سےسیاست و حالات حاضرہکورونا وائرس

غریبوں کی بھلا کون کرے گا؟

کل شام اسٹڈی روم میں بیٹھا فاتح ھند اول محمد بن قاسم کی شہادت پر ایک مضمون لکھ رہا تھا کہ والدہ نے کھانے کے لیے پکارا، کھانے کے لیے دوسرے کمرے میں پہونچا تو میں تنہا بچا تھا بقیہ سبھی لوگ کھانے سے فارغ ہوچکے تھے، بہرحال میں بھی کھانے پر بیٹھا اور روٹی چند نوالے کھائے ہی تھے کہ اچانک ایک لقمہ حلق میں اٹک گیا، پاس میں رکھے پانی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو ہاتھ کانپنے لگے، بات ہی کچھ ایسی تھی، یاد ہی کسی ایسے کی آگئی تھی، جیسے تیسے کرکے مزید چند لقمے کھائے اور گھر سے باہر نکل برآمدے میں آیا، ادھر ادھر جھانکا تو پورے محلے میں سناٹا تھا کوئی نظر نہیں آرہا تھا جس سے خبر گیری کرتا تو اپنے انہیں خیالوں،جزباتوں میں مگن پھر سے اسٹڈی روم آگیا اور لیپ ٹاپ کھول کر ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں پریشانی حالی کے شکار غریب ومزدور طبقے کے لوگوں کی امداد کے لیے دئے گئے عطیات کی فہرست دیکھنے لگا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں؛ 135 کروڑ آبادی والے اس ملک میں غریبوں کی مدد کے لیے تقریبا 2500 ڈھائی ہزار کروڑ روپیے فقط وزیراعظم فنڈ میں جمع ہوچکے ہیںآؤٹ لک میگزین علاوہ ازیں 1250 کروڑ روپیے محترم عظیم پریم جی کی وِپرو نے کورونا سے متأثرین لوگوں کی مدد کا اعلان کیا ہےفوربس باوجودیکہ ہمارے ملک میں غریب بھوک مری کرنے پر مجبور ہے۔ آخر اتنی خطیر رقم جو وزیر اعظم کے فنڈ میں جمع کیا گیا وہ بالآخر جا کہاں رہا ہے؟ کیا ان پیسوں سے ان لاچار ومجبور غریبوں کی مدد نہیں کی جا سکتی جو آئے دن بھوک سے مجبور ہوکر خودکشی کررہے ہیں، جن کے بچے بھوک سے بلک بلک کر اپنی جان دے رہے ہیں۔ یومیہ مزدور جو روزانہ کام کرتے ہیں تو انہیں دو وقت کا کھانا نصیب ہوتا ہے اگر ایک دن کام پہ نہ جاسکے تو فاقہ کشی کرنے کی نوبت آجاتی ہے، اب وہ اتنے لمبے لاک ڈاؤن میں کہاں سے اپنی اور بال بچوں کی بھوک مٹائے گا، کیا ان عطیات سے ان کی مدد نہیں ہونی چاہیئے؟ ویسے اگر یہ سوالات ملک کے وزراء وامراء سے پوچھیں تو جواب ملے گا کہ ابھی وقت لگے گا رقم یکجا کریں گے انہیں پھر انہیں لوگوں تک پہونچائیں گے۔ مگر کیا ان حکام کو یہ نہیں لگتا کہ غریبوں کی مدد بالفور کرنی چاہیئے کیوں کہ ہمارے ملک میں صرف بندیوں کا اعلان اور اس پر عمل آن کی آن میں ہوتا ہے، عوام تک حکومت کی امداد کب پہونچتی ہے یہ سبھی کو بخوبی معلوم ہے اور کتنی پہونچتی ہے یہ بھی کسی ذی نظر سے پوشیدہ نہیں۔ مگر مصیبت وبحران کی اس گھڑی میں جب غریب مر رہا ہے کم از کم اس وقت تو سرکاری امداد غریبوں تک جلد از جلد پہونچائی جا سکتی ہے تاکہ وہ بے چارے غریب کھانے کے چند لقموں کی خاطر خود لقمہ اجل نہ بنیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب تک آپ کی مدد ان غریبوں تک پہونچیں اس سے پہلے ہی وہ کھانے کے ان چند لقموں کی خاطر خود لقمہ اجل بن جائیں اگر ایسا ہوا تو یقینا انسانیت دم توڑ دے گی اور ملک کی غریب عوام کا بھروسہ آپ کی حکومت سے اٹھ جائے گا جس کا نتیجہ آپ بخوبی جانتے ہیں۔ اس لیے حکومت وقت سے میری گزارش ہے جلد از جلد غریبوں تک مدد پہونچائی جائے اور نام ونمود، مذہب وملت، ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکمران وقت خود اپنی نگرانی میں غریبوں کی مدد کو آگے آئیں، صرف فنڈ میں چندہ جمع کرکے ہاتھ جھاڑنے سے غریبوں کی مدد نہیں ہونے والی ہے۔ کاش ملک کے حکمراں جس طرح انتخابات کے ایام میں اپنی پارٹیوں کا پرچہ تقسیم کرتے ہیں اسی طرح اس ہنگامی صورت میں غریبوں کو غلہ تقسیم کرتے تو کتنا اچھا ہوتا۔

محمد شعیب رضا نظامی فیضی

عالمی شہرت یافتہ ویب پورٹل ہماری آواز کے بانی و ڈائریکٹر گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولابازار سے تعلق رکھنے والے جناب مولانا محمد شعیب رضا صاحب ہیں۔ جواں سال قلم کار اور درجن بھر کتابوں کے مصنف و مؤلف ہونے کے ساتھ ساتھ موصوف ایک کامیاب ویب ڈیزائنر بھی ہیں۔ ہماری آواز

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button