خوب بجا گھنٹہ، لو اب آیا ہنٹا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)
کورونا کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے آج کل پورے ملک میں لاک ڈاؤن جاری ہے اور پورا ملک قرنطینہ بنا ہوا ہے، یہ ۲۱؍ دنوں کا لمبا تاریخی لاک ڈاؤن ہے جو آج سے پہلے اپنے ملک میں کبھی نہیں ہواتھا، اس لمبے لاک ڈاؤن سے پہلے بطور ٹرائل (تجربہ) ۲۲؍مارچ کو ایک یوم کے لیے عوامی کرفیو کا اعلان ہوا تھا جو اپنے ابتدائی حصے میں کافی کامیاب تھا کہ بلاتفریق ہرطبقے کے لوگوں نے اس کی حمایت کی اور اپنے گھروں میں محصور رہیںالبتہ اپنے اختتام کو پہونچتے پہونچتے تقریباً شام پانچ بجے یہ کرفیو ایک الگ رنگ میں نظر آنے لگا جب ملک کی اکثریت بنتی جارہی اندھے مقلدین کی ٹولی نے گھروں سے نکل کر تھالی اور گھنٹہ بجانا شروع کردیا، بلکہ کچھ تصویروں اور نیوز چینل نے تو یہاں تک دکھایا کہ ملک کے بڑی سے بڑی شخصیتوں بشمولیت اترپردیش کے وزیراعلی یوگی جی نے بھی ہاتھوں میں گھنٹہ لے کر کچھ دیر تک بجاتے ہی رہ گئے، جس کی وجہ بیان کرتے ہوئے بعض لوگوں کی زبانی یہ سنا کہ حکومت نے عوام کی راے جاننے کے لیے اس کام کی گزارش کی تھی۔ تعجب کی بات ہے کہ ترقی پزیر اس دور میں جب ہرکوئی میڈیا،اور سوشل میڈیا سے جڑا ہوا ہے اس وقت ایسے جاہلانہ طریقہ کار اپناتے ہوئے وبائی فضاؤں میں ملک کی عوام کو گھر سے باہر نکالنا ہلاکت کے کھوہ عمیق میں ڈالنے کی مانند ہے، بہر حال خوب تالی اور تھالی بجے اور خوب گھنٹہ بھی بجا ادھر جب ملک میں گھنٹہ بج رہا تھا ادھر پڑوسی ملک چین میں ’’ہنٹا‘‘ لوگوں کی بجا رہا تھا، غور طلب بات یہ ہے ابھی پوری دنیا کورونا وائرس کی تباہیوں پہ لگام نہیں لگا سکی ہے اس سے پہلے ہی ’’ہنٹا‘‘ نامی وائرس نے اپنی دھماکہ خیز آمد (Grand entry) درج کراتے ہوئے پہلی جانچ میں ہی بتیس(۳۲) لوگوں کو متاثر کردیا جبکہ آج سے چار دن پہلے کی خبر کے مطابق ایک شخص کی موت بھی ہوچکی ہے، ہم نے تو اب تک یہی سنا تھا کہ ’’آسمان سے گرے اور کھجور میں لٹکے‘‘ لیکن یہاں تو ابھی آسمان سے گرے ہی نہیں ہیں اور کھجور اپنی آغوش ہلاکت میں لینے کو پہلے سے ہی تیار ہے۔
سی۔ڈی۔سی کی رپورٹ کے مطابق یہ وائرس چوہوں کی وجہ سے پھیلتا ہے؛ جب انسان غلطی سے یا جان بوجھ کر چوہوں کی بیٹ، پیشاب یا لعاب چھوتا ہے تو اس وائرس سے متاثر ہوجاتا ہے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقل نہیں ہوتا صرف چوہوں سے رابطے میں آنے پر ہی متاثر کرتا ہے جیسا کہ مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے، اب چوہے تو چین سے اپنے ملک میں آئیں گے نہیں اور اپنے ملک کے چوہوں میں ابھی تک یہ وبا پھیلی نہیں ہے لہذا اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے مگر اس دنیا میں کیسے کیسے لوگ بود وباش کرتے ہیں کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ کوئی چوہوں کو بھی چین سے اٹھا لائے اور ان چوہوں کے ذریعہ اپنے ملک کے چوہے متاثر ہوں پھر ملک کی عوام۔ خیر خدا نہ کرے کہ ایسا کچھ ہو ورنہ ہلاکتوں کا دور دورہ ہوگا۔
الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About محمد شعیب رضا نظامی فیضی

عالمی شہرت یافتہ ویب پورٹل ہماری آواز کے بانی و ڈائریکٹر گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولابازار سے تعلق رکھنے والے جناب مولانا محمد شعیب رضا صاحب ہیں۔ جواں سال قلم کار اور درجن بھر کتابوں کے مصنف و مؤلف ہونے کے ساتھ ساتھ موصوف ایک کامیاب ویب ڈیزائنر بھی ہیں۔ ہماری آواز

Check Also

بھولنا بھی ضروری ہے جناب!!!

ازقلم: مفتی محمد شعیب رضا نظامی فیضیقاضی شہر گولا بازار ضلع گورکھ پور یو۔پی۔استاذومفتی: دارالعلوم …

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔