خواجہ اویس قرنی اور حدیث قدسی

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)
         اولیائی تحت قبائی لایعرفھم غیری
          اس دنیاے فانی میں لوگ شہرت و ناموری کی خاطر طرح طرح کے حربےبروے کار لاتے ہیں کچھ تو کامیاب بھی جاتے ہیں مگر چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات کے مصداق چند دنوں میں انکی چمک دھمک دھند ہوجاتی ہے اور یہ المیہ صرف جاھل دنیاداروں تک ہی محدود نہیں بلکہ علما وحکماے مذہب وملت کو بھی شہرت وناموری کی چکا چوندھ نے ہمیشہ اپنے نرغے میں لے رکھا ہے مگر کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں کائنات دنیا سے نہیں بلکہ خلاق کائنات سے سروکار ہوتی ہے اور باعث تخلیق کائنات کی محبت ان کے دلوں میں۔ شہرت اور نام نمود سے کنارہ کش اپنی دنیا میں مگن ہوا کرتے ہیں بلکہ یوں کہا جائے کہ ان کی لغتوں اور ڈکشنریوں میں سرنامی، شہرت پسندی اور جاہ طلبی کی کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے۔ مگر اللہﷻ انہیں بے شمار شہرتوں سے بھی نوازتا ہے اور نیک نامی سے بھی۔ انہیں پاکباز، باوقار، عظیم المرتبت شخصیتوں میں ایک نمایاں نام *نادیدہ عاشق رسول، عشق والفت کے تاجدار، اقلیم محبت کے بے تاج بادشاہ حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ* کا ہے۔ جو شہرت اور نام و نمود سے کنارہ کش رہتے اور مستور رہنے کی کوشش کرتے۔ والدہ کے وصال کے بعد حالت یہ تھی کہ اگر ایک جگہ آپ کے روحانی مقامات اور کمالات کا دنیا کو پتہ چل جاتا تو وہاں نقل مکانی کرجاتے اور چھپتے پھرتے۔ اور تاحیات اس حدیث قدسی کا مصداق بنے رہے
      اوليائی تحت قبائی لا يعرفهم غيری
(میرے دوست میرے قبا کے نیچے ہیں جنہیں میرے سوا کوئی نہیں پہچانتا)
         کیمیائے سعادت میں ہے کہ حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ بعض راتیں رکوع میں اور بعض سجدے میں گزار دیتے اور فرماتے یہ رات رکوع والی ہے اور یہ رات سجدے والی۔ کسی نے پوچھا کہ حضرت اس قدر قوت آپ میں کیسے آگئی کہ اتنی لمبی راتیں رکوع اور سجدے میں گزار دیتے ہیں۔ فرمایا کاش ازل تا ابد ایک ہی رات ہوتی جو میں رکوع اور سجدے میں گزار دیتا۔
جلوۂ یار کی رعنائیوں سے انکار کہاں ممکن ہے
            بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اتنے فضائل کی حامل شخصیت سے صدر اول کے لوگوں کا بے خبر رہنا ممکن نہیں ورنہ روایات میں بکثرت ان کا ذکر ہوتا۔ جبکہ امر واقع یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ملاقات کے علاوہ کسی اور صحابی کی ملاقات کا ذکر نہیں ملتا۔ حیرت کی بات ہے کہ حضرت کے احوال و آثار اور فضائل و مناقب اس قدر کثرت اور تواتر سے مذکور ہونے کے باوجود بعض لوگ آپ کی شخصیت کے منکر ہیں یہ لوگ اپنے دعویٰ میں بعض ان روایات کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں جو بہت کمزور ہیں اور جن میں باہم تضاد پایا جاتا ہے۔
چونکہ حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ دنیا کی نظروں سے چھپتے پھرے اور بعض خواص کے علاوہ اہل قرن بھی ان سے واقف نہیں تھے اور جو جانتے تھے وہ بھی انہیں صرف ایک دیوانہ ہی تصور کرتے رہے۔ اس لئے اگر اس دور کے بعض اہل علم نے ان کے بارے عدم واقفیت کا اظہار کیا ہو تو تعجب کی بات نہیں۔
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول ہے کہ 
‘‘اگر کوئی چیز کسی کے ہاں پایہ ثبوت کونہ پہنچی ہو تو یہ ضروری نہیں کہ دوسروں کو بھی اس کا علم نہ ہو’’
           نیز ہر زمانے کا یہ دستور رہا ہے کہ صرف انہیں افراد واشخاص کے حالات و واقعات لوگوں کے علم میں آتے ہیں جو کسی حیثیت سے نمایاں ہوں۔ شہرت کو ناپسند کرنے والے عزلت نشینوں کے بارے میں ایک عرصہ تک اہل قلم تک ناواقف رہتے ہیں جس کا ایک واضح ثبوت صحابہ کرام کا دور ہے۔ خود صحابہ کرام کے متعلق یہ دعویٰ محال ہے کہ سبھی صحابہ کرام سے اس عہد کے لوگ آگاہ تھے یا ان کے تمام احوال وکوائف زد تحریر کئے گئے۔ آج صرف انہیں صحابہ کے حالات بقدر سعی و جستجو معلوم ہیں۔ جنہوں نے کوئی علمی یا عملی کارنامہ سرانجام دیا یا سلسلہ روایت میں جن کا کہیں ذکر ہوگیا بس! حد تو یہ ہے کہ بعض حضرات کے صرف نام ہی معلوم ہیں کنیت میں اختلاف ہے تو کسی کی کنیت کا تذکرہ ہے مگر اس کے نام میں بہت سارے اختلاف ہیں اور یہی صورت حال مدت مدید تک حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ گوشہ نشین تابعی کے ذکر و اذکار سے متعلق رہی۔
           اب رہا یہ سوال کہ حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی ولایت کے اخفا کی وجہ کیا تھی اور آپ دور صحابہ میں کیوں مستور الحال رہے؟ تو اس کا ایک جواب تو وہی ہے جو ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے مرقات شرح مشکوۃ میں بیان فرمایا کہ چونکہ حضرت خواجہ مستجاب الدعوات تھے (اور اسکا ثبوت یہ ہے کہ رسول اکرمﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کی خدمت میں حاضر ہوکر دعا کرانے کی تلقین فرمائی تھی نیز ان کے بارے فرمایا تھا کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو قسم اٹھادیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرمادیتا ہے{معینی} چونکہ ایسے لوگوں کی خدمت میں ہر نیک و بد اور مجرم بھی دعا کا طالب ہوتا ہے اور یہ جمالی مردان خدا کسی کو انکار نہیں کرسکتے یہ ممکن نہ تھا کہ نیک کے لئے دعا کرتے اور دوسروں کو نظر انداز کردیتے۔ چونکہ یہ بات حکمت الہٰی کے خلاف تھی اس لئے ان کا حال پوشیدہ رہا۔ دوسری و
جہ مستور رہنے کی مولف لطائف نفیسیہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اولیاء کی ایک جماعت کا اپنے آپ کو چھپانا اس غیرت کی وجہ سے ہوتا ہے جو محب کو اپنے محبوب کے بارے ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت محی الدین ابن عربی کتاب فتوحات میں لکھتے ہیں۔
"طائفہ محبان میں غیرت بہت زیادہ ہوتی ہے اس لئے وہ بسبب غیرت چھپے ہوئے ہوتے ہیں کیونکہ غیرت محبت کا ایک وصف ہے چنانچہ یہ لوگ اپنے محب ہونے کو ظاہر نہیں ہونے دیتے”
حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ حضور نبی کریمﷺ کے دور میں رجال الغیب میں شامل تھے اور یہ لوگ مستور الحال ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت ملا علی قاری معدن العدنی میں لکھتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضورﷺ کے عہد میں قطب ابدال حضرت اویس رضی اللہ عنہ تھے کیونکہ وہ مخفی الحال تھے امام یافعی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت شدہ رشک غیرت کی وجہ سے قطب ابدال لازماً مستور الحال ہوتا ہے انہیں کے بارے میں حق تعالیٰ فرماتا ہے۔
         اوليائی تحت قبائی لا يعرفهم غيری
الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول بھی کالے پڑ گئے

ازقلم: محمد ہاشم اعظمی مصباحینوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یوپی مکرمی! یہ بات سب کو معلوم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔