نظم

نظم: پردھانی

نتیجۂ فکر: استادؔ بریلوی

جو ان پڑھ جاہلوں سے لوگ کرواتے ہیں پردھانی
انھی کے ووٹ پاکر کرتے ہیں پردھان من مانی

سدا تم ووٹ اس کو دو رکھے جو پاس ووٹوں کا
تمھارے حق کی جو جی جان سے کرلے نگہبانی

کم از کم ہو پڑھا لکھا رکھے کچھ درد ملت کا
کئی پچھلے چناؤں میں بہت دے دی ہوں قربانی

جو دانا اور بینا ہو بزرگوں اور جوانوں میں
نکالے حل کوئی ایسا نہ ہو جس سے پشیمانی

وہ شکچھت اور یووا ہو للک کچھ کام کرنے کی
یہی ہے مشورہ میرا اگر مانیں یہ رمضانی

مگر اب نام کی خاطر فقط اپنے مفادوں تک
چنا تم نے اسی کو ہے جو چاہے ہے تن آسانی

ہٹا استادؔ اب تو بھی کوئی مانے نہیں مانے
خزاں ان کو مبارک ہو جو چاہیں دل سے ویرانی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے