رمضان المبارک مذہبی مضامین

روزہ اور صبر

از قلم: محمد تیسیر الدین تحسین رضا قادری
مدرس دارالعلوم ضیائے مصطفیٰ کانپور
و خطیب و امام مسجد: عزیز فاطمہ دودھ والا بنگلہ سول لائن کانپور
9838099786

روزہ مسلمان کے اندر صبر و مواسات کی عظیم خوبیاں پیدا کرتا ہے اسی لیئے آقائے کریم ﷺ
نے ارشاد فرمایا کہ
وہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور وہ باہمی ہمدردی کا مہینہ ہے از مشکوٰتہ شریف ۔
مسلمان دن بھر روزے کے احکام کی پابندی کرکے اپنے نفس کی خواہشات اور ضروریات کو کچلتا رہتا ہے

اور اس طرح پورے مہینہ اس عمل سے مسلمان کو ہر تکلیف ایذا ہر پریشانی برداشت کرنے کی عادت ہوتی ہے

اور یہی وجہ عادت مسلمان کی ایک بڑی خوبی ہے جو اس کیلیئے دنیا کی زندگی کو سہل و آسان بنادیتی ہے جو لوگ ذرا ذرا سی تکلیف پر تڑپ جاتے ہیں ان کے لیئے دنیا کی زندگی بہت ہی دشوار بن جاتی ہے

لیکن مسلمان بھوک پیاس بیماری لوگوں کا غصہ لوگوں کی گالیاں سب کچھ برداشت کرنے کا عادی ہوتا ہے
اسے جو بھی نقصان پہنچتا ہے اس کی زبان پر = انا لللہ و انا الیہ راجعون = کا صبر بھرا کلمہ ہی جاری ہوتاہے

اس کی زبان سے تکلیف کے وقت جب اس بات کا اعلان ہوتاہے کہ میں اور یہ ساری دنیا اللہ ہی کیلیئے ہیں
اور ہم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
تو اللہ اپنے اس بندے پر اپنے رحم و کرم و غفران کا دروازہ کھول دیتا ہے اس کی تمام تکالیف کو دور فرمادیتاہے اور وہ اس دنیا میں اس گلاب کے پھول کی مانند ہوجاتا ہے جس کی ٹہنی و شاخ پر کانٹے ہی کانٹے نظر آتے ہیں
لیکن اس کی خوشبو ہر ایک کو اپنی طرف کھینچتی ہے

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے ترجمہ اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد طلب کرو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے البقرہ آیت ١٥٣ ۔ پارہ ٢ ۔۔
یعنی مسلمان کے لیئے مصیبتوں سے چھٹکارا دنیا کے ظاہری و سائل کا سہارا نہیں بلکہ ان مصیبتوں پر صبر کرنا ان کو برداشت کرنا اور خدائے تعالٰی کو یاد کرنا ہے
جب مسلمان یہ صحیح ذریعہ اختیار کرتا ہے تو خداوند کریم اس کا معاون و مددگار بن جاتا ہے اور یا تو ان مصیبتوں کو دور فرمادیتا ہے اور یاتو مسلمانوں کو ایسی قوت عطا فرماتا ہے کہ مصیبتوں کی سختی کے باوجود وہ مطمئن نظر آتا ہے

ذرا ماضی کی تاریخ پر نظر ڈالئے حضور اکرم ﷺ صحابہ کرام ہمارے اسلام اور بزرگوں پر کیا کیا مصیبتیں نہیں آئیں
لیکن نہ تو وہ ان سے
بے چین ہوئے اور نہ ہی ان کا مشن اور کام رکا
نبی کریم ﷺ کا حال یہ تھا کہ ‛ جب آپ کو کوئی پریشانی ہوتی تو نماز کی طرف آتے (روح البیان )

حضور سید دوعالم ﷺ
فرماتے ہیں
الصبر من الایمان بمنزلتہ الراس من الجسد ۔ ۔
صبر ایمان کا ایسا ہی اہم حصہ ہے جیسے جسم کیلیئے سر ۔ ( روح البیان شریف )

نفس کو اس کی ناجائز خوہشوں سے روکنا صبر ہے

پیٹ اور شرم گاہ کی خواہش کو حرام طریقہ سے پورا کرنا عفت ‛‛ ہے

مال و دولت کی ہوس سے رکنا قناعت ‛‛ ہے

غصہ پر قابو رکھنا حلم ‛‛ ہے

اور یہ سب صبر کی قسمیں ہیں اور مسلمان کے اندر ان تمام خوبیوں کا ہونا اس کے لیئے ‛عزت و عظمت اور سکون کا ذریعہ ہے ‛ پس مسلمان کو چاہیئے کہ وہ گناہوں سے صبر کرے ‛ یعنی خود کو ہر اس کام سے روکے جو شریعت کے خلاف ہو خدا اور نبی کریم ﷺ کو اطاعت و فرمانبرداری پر صبر کرے
یعنی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی پابندی کے لیئے رات کو جاگنا پڑے دن کو بھوکا رہنا پڑے ‛گرمی یا سردی برداشت کرنا پڑے ‛ دولت خرچ کرنا پڑے وطن چھوڑنا پڑے جو کچھ بھی ہو صبر کرے
لیکن اطاعت نہ چھوڑے اور ہر مصیبت پر صبر کرے کہ بھوکا ہو بیمار ہو پریشان ہو لیکن واویلا چیخ و پکار نہ مچائے
دشواری کے باوجود مسلمانوں کو صبر کا کمال حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے اور ہر وقت دعا کرنا چاہیئے ۔۔ ربنا افرغ علینا صبراً وٌثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم اللکٰفرین ( پ٢ بقرہ ٢٥٠ )
ترجمہ اے ہمارے رب ہم پر صبر انڈیل اور ہمارے قدم جمائے رکھ اور کافروں پر ہماری مدد فرما‛‛

ربنا افرغ علینا صبراًوٌتوفنا مسلمین ( پ ٩ اعراف ١٢٦ )
ترجمہ اے ہمارے رب ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں اس حالت میں موت دے کہ ہم مسلمان ہوں ‛‛ ہر مسلمان مرد و عورت کو یہ دعائیں یاد ہونا چا ہیں کہ ہر نیکی کی توفیق دینے والا رب ہی ہے
صبر کی توفیق بھی وہی نصیب فرمائے گا اور اس کا اجر بھی وہی عطا فرمائء گا ‛‛
ارشاد فرمایا گیا

واصبر وما صبرک الاٌ با لللہ ‛‛ = پ ١٤ نحل ١٢ )
ترجمہ صبر کرو اور نہیں ہے تمہارا صبر ‛ مگر اللہ ہی کی توفیق سے ‛‛

محبوب خدا محمد عربی ﷺ کے ارشاد کے مطابق ( ثوابہ الجنہ ) صبر کا بدلہ جنت ہے جب صبر کرنے والے جنت میں داخل ہوتے ہونگے ‛ تو فرشتے ‛ ان کے سامنے حاضر ہو کر اس طرح مبارک باد پیش کریں گے ‛‛
سلٰم علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدٌار ‛‛
(پ ١٣ الرعد )

ترجمہ سلامتی ہو تم پر کہ تم نے صبر کیا پس آخرت کا یہ گھر کس قدر عمدہ ہے ‛‛
حضرت سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ‛

قیامت کے دن صبر کرنے والوں کو پکارا جائے گا ‛ تو کچھ لوگ حاضر ہونگے انہیں حکم ملے گا تم جنت میں چلے جاؤ وہ بہت تیزی سے جنت کی طرف چلیں گے ‛ تو فرشتے انہیں روک کر کہیں گے کیا تم حساب سے پہلے ہی جنت میں جارہے ہو ‛ وہ جواب دیں گے ‛ جی اپنے رب کی اجازت اور اس کے فضل سے پوچھا جائے گا ‛ تم کون ہو ‛ وہ بتائیں گے ہم صبر کرنے والے لوگ ہیں ‛ پوچھا تم نے کس طرح صبر کیا ‛ وہ کہیں گے ‛‛ ترجمہ ہم نے اپنے نفسوں کو اللہ کی اطاعت پر قائم رکھا اور اس کو نا فرمانی سے بچائے رکھا ‛ اور ہم نے دنیا کی مصیبتوں پر صبر کیا پس فرشتے ان سے کہیں گے ‛ تم جنت میں داخل ہوجاؤ کہ نیک عمل کرنے والوں کا اجر بہت اچھا ہوتا ہے ‛‛

حضرت سیدنا سلیمان علیہ السلام کے زمانہ کی بات ہیکہ ایک شخص نے ایک نہایت ہی قیمتی بلبل خریدی خوب بولتی اور ہر وقت چہچہاتی تھی ایک دن اس کے پنجرے پر آکر ایک طوطا بیٹھا اور کچھ بول کر اڑ گیا

اسی وقت سے بلبل نے بولنا چھوڑ دیا وہ شخص حضرت سلیمان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی بلبل کا حال بیان کیا آپ نے پنچرا منگاکر بلبل سے اس طرح خاموش ہونے کی وجہ پوچھی ‛ بلبل بولی حضور میں اپنے وطن جنگل اور آزادی کو یاد کرکے روتی ہوں ‛ لوگ اسے گیت سمجھتے ہیں ‛اور مجھ سے محبت کرتے ہیں ‛ مجھے طوطے نے سمجھایا کہ تیری بے صبری ہی اس قید کا سبب ہے تو صبر کر خاموش رہ تجھے آزادی مل جائےگی ‛
لہذا اب میں نے صبر کرلیا ‛ بولنا چلانا چھوڑ دیا ہے ۔۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے مالک سے کہا یہ اب نہیں بول سکتی ‛ مالک بولا تواب میں اس کو پال کر کیا کروں گا ‛ میں تو اس کی آواز اور گانے کا عاشق و دیوانہ تھا ‛
اس نے پنجرہ کھولا اور بلبل کو آزاد کردیا اب وہ پھر بولی کہ پاک ہے وہ رب جس نے مجھے انڈے میں بنایا ہوا میں اڑایا اور پنجرے میں صبر دیکر آزاد کرایا = ( تفسیر نعیمی )

بہر حال صبر ایک عظیم خوبی ہے مسلمان جب پورے مہینہ رمضان کے روزے رکھتا ہے اور پوری طرح شریعت محمدی کے احکام کی پابندی کرتا ہے تو روزہ اس کے اندر صبر کی قوت پیدا کردیتا ہے اسی لیئے نبی مکرم و محتشم ﷺ نے اس مہینہ کو ‛‛ شھر الصبر ‛‛ صبر کا مہینہ فرمایا اللہ تعالیٰ روزوں کی برکت سے ہمیں بھی یہ خوبی عطا فرمائے آمین بجاہ حبیبک سید المرسلین ﷺ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے