غزل: بھلا کیسے گرفتار محبت ہوگئے ہم تم

ازقلم: ذکی طارق بارہ بنکویایڈیٹر۔ہفت روزہ” صداے بسمل” بارہ بنکیسعادتگنج،بارہ بنکی(اترپردیش)پن کوڈ۔225206 کہو، اک دوسرے کی کب ضرورت ہو گئے ہم تمبھلا کیسے گرفتارِ محبت ہوگئے ہم تم انا،عدل،آتما،سچ سب کا سودا یار کر بیٹھےستم ہے اس طرح سے نذرِ غربت ہوگئے ہم تم محبت کے مقدس محترم ماحول میں رہ کرذرا دیکھو تو کتنے … Read more

نعت شریف: طیبہ نگر کو دیکھوں تو دل کو قرار ہو

از قلم:شیخ عسکری رضوی بنارسی7856932585 دل ہی نہیں یہ جان بھی اس پر نثار ہوطیبہ نگر کو دیکھوں تو دل کو قرار ہو جب روح میری تن سے جدا ہو شہ امماس دم نظر میں تیرا مقدس دیار ہو محشر کے روز نعت کے صدقے میں یا خداان کے ثناگروں میں ہمارا شمار ہو بخشش … Read more

مری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں

ازقلم: مختار تلہری ثقلینی بریلی ارادے پھر بھی مستحکم بہت ہیںمری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں جسے جانا ہو واپس لوٹ جائےمری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں بہت دشواریوں کا سامنا ہےمری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں تبھی محتاط ہو کر چل رہا ہوںمری راہوں میں پیچ و خم … Read more

غزل: اور یہ زخم ہرا رہنے دے

خیال آرائی: فیضان علی فیضان اب محبت کو قضا رہنے دےاور یہ زخم ہرا رہنے دے اب نہ آنا تو پلٹ کر دلبراب مجھے غم پڑا رہنے دے کیا کہا اپنا بنالوں تجھ کوتجھ سے نہ ہوگی وفا رہنے دے روٹھنے والوں کو منانے کی کوشش نہ کروہ خفا ہیں تو خفا رہنے دے تیری … Read more

غزل: بے کیف زندگی کا سفر کون دے گیا

ازقلم: مختار تلہری ثقلینی دل سوگوار ، دیدۂ تر ،  کون دے گیابے کیف  زندگی  کا سفر کون دے گیا شیشہ گری میں نام  تمھارا  بہت سناپتھر  تراشنے  کا  ہنر  کون  دے گیا خوابوں پہ اعتماد کئےجا رہا ہوں میںکمبخت  یہ  فریبِ  نظر  کون دے گیا دل جاگنے کی ضد پہ رہا رات بھر مگرآنکھوں … Read more

یوم خواتین پر کچھ اشعار

ازقلم: سرفراز بزمی ہے موت زمانے کے لئے مرگ امومتاس راز سے واقف نہیں افرنگ کا صیاد آزادئ نسواں ہے کہ محرومئ نسواںعورت ہو اگر لذت تخلیق سے آزاد کیوں بھول گیا خلد نکالا ہوا آدم” آزادئ افکار ہے ابلیس کی ایجاد” آزادی نسواں گھر میں شوہر تو نرا بیدرد لگتا ہے اسےمرد باہر کا … Read more

غزل: نقش باقی ہیں ابھی تک وقت کے رخسار پر

خیال آرائی:مختار تلہری ثقلینی پھر ستم توڑا ستمگر نے کسی لاچار پردِکھ رہے ہیں خون کے دھبے بہت اخبار پر رہزنی کا اب گلہ کرنے سے بھی کیا فائدہکیوں بھروسہ کر کے نکلے قافلہ سالار پر مٹ گئے آثارِ الفت اک زمانہ ہو گیانقش باقی ہیں ابھی تک وقت کے رخسار پر توڑ ڈالیں گے … Read more

لذت عیش میں عقبی کی سزا بھول گیا

نتیجہ فکر: محمد کہف الوری مصباحینائب صدر: لمبنی پردیس، راشٹریہ علما کونسل، نیپالنگران اعلی: فروغ اردو زبان تعلیمی شاخ، ڈڈوا گاؤں پالکا، ضلع بانکے حسن دنیا میں شریعت کی ادا بھول گیاشاخ تھا جس کی اسی سے تو وفا بھول گیامست دولت میں ہے عقبی کو بھول بیٹھا ہےعشق دولت سے کیا ذکر خدا بھول … Read more

غزل: کیا ہوئیں باشا

اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی تمھارے سر کی تُرکی ٹوپیاں وہ کیا ہوئیں باشابڑے رُومال، اُجلی لُنگیاں وہ کیا ہوئیں باشاچبوترے جو کبھی پہچان تھے اچھے مکانوں کےبڑے لوگوں کی اُجلی داڑھیاں وہ کیا ہوئیں باشاوہ اُجلی چادریں اور کالے بُرقعے سیدھے سادے سےاور اُن میں سمٹی سمٹی بیبیاں وہ کیا ہوئیں باشابڑوں سے بات … Read more

بے وقوف کا کارنامہ

قسمت سکندرپوری یو پی انڈیا لاش کو لاس کر دیا اس نےستیا ناس کر دیا اس نے پاس کو فیل جب نہ کر پایافیل کو پاس کر دیا اس نے رام کو چھوڑ, لکشمن کے نامغم کا بنواس کر دیا اس نے جھوٹ سچ میں ملا کے ملیامیٹسارا اتیہاس کر دیا اس نے ایک ہی … Read more