Hamari Aawaz

سائنس کی الحادی بنیادیں اور Methodological Naturalism کی حقیقت

سائنس و فلسفہ
📅 17-12-2020 👁 42 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 7 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

✍️قیصر احمد راجہ

کچھ عرصہ قبل ایک پوڈکاسٹ میں جدید سائنس کی حدود پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے عرض کیا تھا کہ موجودہ سائنسی فکر کی تشکیل میں بعض ایسے اصول کارفرما ہیں جو تحقیق کے دائرے سے خدا اور ماورائے مادہ حقیقت کو ابتدا ہی میں خارج کر دیتے ہیں۔ اسی تناظر میں methodological naturalism کا ذکر ہوا اور یہ بات کہی گئی کہ جدید سائنسی فکر کی بعض بنیادیں ایک الحادی طرز فکر کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔

اس پر ہمارے بعض دیسی سیکولر دوست فوراً متحرک ہوئے۔ غالباً methodological naturalism کی مختصر تعریف دیکھی گئی اور پھر یہ نتیجہ نکالا گیا کہ بات ہی غلط ہے، کیونکہ اس اصطلاح کا مطلب تو صرف یہ ہے کہ سائنس قدرتی مظاہر کی قدرتی وضاحت تلاش کرے گی، نہ کہ یہ کہ خدا کے وجود کا انکار کیا جائے گا۔

اگر بات صرف لغت میں لکھی تعریف تک محدود ہو تو یہ اعتراض بظاہر درست معلوم ہوتا ہے۔

لیکن اصل سوال تعریف کا نہیں، عملی استعمال کا ہے۔

تاریخی طور پر methodological naturalism کا بنیادی تصور واقعی محدود تھا۔ سائنس اپنے مخصوص دائرۂ تحقیق میں ان اسباب کو تلاش کرے گی جن کا مشاہدہ، تجربہ اور پیمائش ممکن ہو۔ اگر بیماری کی تحقیق کی جائے گی تو جراثیم، جینیات، ماحول اور جسمانی نظام زیر بحث آئیں گے۔ بارش کا مطالعہ ہوگا تو بادل، درجہ حرارت، بخارات اور فضائی نظام دیکھا جائے گا۔

اس حد تک methodological naturalism میں بذات خود کوئی الحادی دعویٰ لازم نہیں آتا۔ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ سائنسی تحقیق قدرتی اسباب اور قابل تحقیق نظاموں کا مطالعہ کرے گی۔ یہ ضروری نہیں تھا کہ اس سے یہ نتیجہ بھی نکالا جائے کہ قدرتی اسباب کے علاوہ کسی درجے کی حقیقت موجود ہی نہیں۔

مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں ایک محدود تحقیقی اصول آہستہ آہستہ ایک نظریۂ حقیقت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

ابتدائی مقدمہ یہ تھا کہ سائنس قدرتی اسباب تلاش کرے گی۔

لیکن جدید علمی ماحول میں بہت مرتبہ یہ بات اس مقام تک پہنچ جاتی ہے کہ قابل قبول سبب وہی ہے جو قدرتی اور مادی ہو۔

یہ دونوں باتیں ایک نہیں ہیں۔

پہلی بات طریقۂ تحقیق سے متعلق ہے۔ دوسری حقیقت کی نوعیت کے بارے میں فلسفیانہ فیصلہ ہے۔

اور یہی فرق سمجھنا اس پوری بحث کی بنیاد ہے۔

اس سلسلے میں شاید سب سے واضح مثال معروف ارتقائی ماہر رچرڈ لیوونٹن کی ہے۔ کارل سیگن کی کتاب The Demon Haunted World پر تبصرہ کرتے ہوئے لیوونٹن نے نہایت صاف الفاظ میں لکھا:

“We have a prior commitment, a commitment to materialism.”

یعنی مادیت کوئی ایسی چیز نہیں جو تحقیق کے اختتام پر بطور نتیجہ سامنے آئی ہو، بلکہ اس کے اپنے الفاظ میں یہ ایک پیشگی وابستگی ہے۔

وہ اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی کہتا ہے کہ مادی اسباب کے ساتھ یہی پیشگی وابستگی ہمیں ایسا تحقیقی نظام تشکیل دینے پر مجبور کرتی ہے جو مادی وضاحتیں ہی پیدا کرے۔ پھر اس کا مشہور جملہ آتا ہے:

“We cannot allow a Divine Foot in the door.”

یعنی خدائی قدم کو دروازے کے اندر آنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

یہ بیان انتہائی اہم ہے۔

اگر تحقیق سے پہلے ہی یہ طے کر لیا گیا کہ غیر مادی یا ماورائے فطرت علت کو قابل قبول وضاحت نہیں مانا جائے گا تو تحقیق کے آخر میں یہ کہنا کہ ہمیں صرف مادی اسباب ہی ملے، کوئی غیر جانب دار دریافت نہیں رہتی۔ جس امکان کو ابتدا ہی میں دائرۂ تحقیق سے خارج کر دیا گیا ہو، اس کی عدم موجودگی کو بعد میں نتیجے کے طور پر پیش کرنا کم از کم فلسفیانہ طور پر سوال ضرور پیدا کرتا ہے۔

لیوونٹن اکیلا نہیں۔

بیسویں صدی کے اہم ترین ارتقائی ماہرین میں شمار ہونے والے ارنسٹ مائر نے ڈارونزم کے اثرات بیان کرتے ہوئے لکھا:

“Darwinism rejects all supernatural phenomena and causations.”

یعنی ڈارونزم تمام ماورائے فطرت مظاہر اور علل کو رد کرتا ہے۔

اسی بحث میں وہ Darwinian انقلاب کی اہمیت بیان کرتے ہوئے “Eliminating God from science” کے الفاظ استعمال کرتا ہے، یعنی خدا کو سائنس کے دائرے سے خارج کرنا۔

یہاں الفاظ کا چناؤ قابل غور ہے۔

اگر methodological naturalism صرف یہ کہتا کہ سائنس قدرتی اسباب کا مطالعہ کرے گی تو “خدا کو سائنس سے خارج کرنے” یا “تمام ماورائے فطرت علل کو رد کرنے” کی زبان کی ضرورت نہ تھی۔ یہاں ایک طریقۂ تحقیق اپنی محدود حدود سے آگے بڑھ کر یہ طے کرنے لگتا ہے کہ کون سا سبب علمی وضاحت بننے کا حق رکھتا ہے اور کون سا نہیں۔

نوبیل انعام یافتہ molecular biologist ژاک مونود کے ہاں یہی رجحان پایا جاتا ہے۔ اس کے نزدیک سائنسی طریقۂ کار کی بنیاد یہ مفروضہ ہے کہ فطرت کو کسی مقصد، غایت یا آخری سبب کے حوالے سے نہیں سمجھا جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خود تسلیم کرتا ہے کہ اس مفروضے کو تجرباتی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے پاس ایسا کوئی تجربہ نہیں جو یہ ثابت کر دے کہ پوری فطرت میں مقصد یا غایت کا کوئی وجود نہیں۔

اس کے باوجود اسے سائنسی طریقۂ کار کی بنیادی شرط بنا دیا جاتا ہے۔

یہاں ایک سادہ سا سوال پیدا ہوتا ہے: اگر کوئی بات تجربے سے ثابت نہیں ہوئی بلکہ تجربہ شروع کرنے سے پہلے قبول کر لی گئی ہے، تو وہ سائنسی نتیجہ ہے یا فلسفیانہ مفروضہ؟

کارل سیگن کے ہاں بھی یہی تبدیلی نہایت خوبصورتی سے نظر آتی ہے۔ اس نے Cosmos کا آغاز اس مشہور جملے سے کیا:

“The Cosmos is all that is or ever was or ever will be.”

یعنی کائنات ہی وہ سب کچھ ہے جو ہے، جو کبھی تھا، یا جو کبھی ہوگا۔

لیکن یہ مؤقف فلکیات کا تجرباتی نتیجہ نہیں ہے۔ سائنس کائنات کی ساخت، عمر، مادے، توانائی اور قوانین کا مطالعہ کر سکتی ہے، لیکن یہ ثابت کرنا کہ physical cosmos ہی پوری حقیقت ہے اور اس کے علاوہ کسی درجے کا وجود ممکن نہیں، ایک مابعد الطبیعیاتی دعویٰ ہے۔ کوئی دوربین تمام ممکنہ اقسامِ وجود کو جانچ نہیں سکتی۔

یہاں سائنسی مشاہدہ خاموشی سے فلسفۂ وجود میں داخل ہو چکا ہے۔

فرانسس کرک کے ہاں یہی رویہ انسانی شعور کی بحث میں سامنے آتا ہے۔ اپنی کتاب The Astonishing Hypothesis میں وہ انسان کی خوشیوں، غموں، یادوں، خواہشات، شخصیت اور آزاد ارادے کو آخرکار اعصابی خلیات اور ان سے متعلق سالمات کی سرگرمی سے “no more than” قرار دیتا ہے۔

یہاں فرق نہایت اہم ہے۔

یہ کہنا کہ انسانی شعور کا دماغ کے ساتھ گہرا تعلق ہے ایک سائنسی observation ہو سکتی ہے۔ دماغ کے مختلف حصوں کو نقصان پہنچنے سے یادداشت، شخصیت اور شعوری تجربات کا متاثر ہونا بھی قابل مشاہدہ حقیقت ہے۔

لیکن یہ کہنا کہ شعور دماغی سرگرمی کے سوا کچھ بھی نہیں ایک الگ دعویٰ ہے۔

پہلی بات تجربے سے متعلق ہے۔ دوسری انسان کی حقیقت کے بارے میں فلسفیانہ فیصلہ ہے۔

پیٹر ایٹکنز اس معاملے میں شاید سب سے بے تکلف مثال پیش کرتے ہیں۔ وہ science کی تقریباً ہمہ گیر علمی صلاحیت کا دفاع کرتے ہوئے اسے بالآخر “acknowledged king” قرار دینے کی بات کرتے ہیں۔ یہاں سائنس صرف ایک نہایت کامیاب طریقۂ تحقیق نہیں رہتی، بلکہ حقیقت اور علم کے بارے میں آخری authority کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔

یہاں پہنچتے پہنچتے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ methodological naturalism کی عملی صورت اپنی اصل محدود تعریف سے بہت آگے نکل چکی ہے۔

اگر وہ صرف اتنا کہتا کہ سائنسی تحقیق میں ہم قدرتی اسباب تلاش کریں گے تو اس سے کوئی بڑا فلسفیانہ تنازع پیدا نہ ہوتا۔ لیکن جب یہی اصول یہ صورت اختیار کر لے کہ غیر مادی وضاحت کو سرے سے علمی وضاحت ہی تسلیم نہ کیا جائے، ماورائے فطرت علت کو پہلے ہی خارج کر دیا جائے، خدا کو سائنس کے دائرے سے نکال دینا علمی ترقی تصور کیا جائے، اور پھر اسی محدود دائرۂ کار سے نکلنے والے نتائج کو پوری حقیقت کی آخری تشریح بنا کر پیش کیا جائے، تو اب ہم محض ایک طریقۂ تحقیق کی بات نہیں کر رہے ہوتے۔

اب ایک نظریۂ حقیقت سامنے آ چکا ہوتا ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں methodological naturalism الحاد کی راہیں کھولتا ہے۔

سائنس ہمیں شواہد، مظاہر اور مادی نظاموں کی حدود دکھا سکتی ہے۔ فلسفہ اس کے بعد یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ان حدود کا مطلب کیا ہے۔ کیا یہ محض ہماری موجودہ لاعلمی ہے؟ کیا موجودہ نظریہ ناکافی ہے؟ کیا reductionism میں کوئی بنیادی مسئلہ ہے؟ یا حقیقت واقعی اس مادی سانچے سے وسیع تر ہے جس میں اسے سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟

اصل علمی دیانت یہی ہے کہ ان امکانات میں سے کسی ایک کو تحقیق سے پہلے ممنوع قرار نہ دیا جائے۔

اگر پہلے ہی طے کر لیا جائے کہ حقیقت کو ہر حال میں مادی ہی نکلنا ہے تو پھر تحقیق حقیقت کی تلاش کم اور پہلے سے اختیار کیے گئے فلسفے کی توثیق زیادہ بن جاتی ہے۔

اسی لیے methodological naturalism کو آج صرف اس کی لغوی یا نصابی تعریف سے سمجھنا کافی نہیں۔ کسی نظریے کی حقیقت یہ بھی ہوتی ہے کہ علمی دنیا میں اسے عملاً کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر ایک طرف کہا جائے کہ science صرف قدرتی اسباب تلاش کرتی ہے، لیکن دوسری طرف انہی نتائج کو بار بار اس دعوے کے لیے استعمال کیا جائے کہ ماورائے فطرت علت، مقصد، غایت، روح یا کسی غیر مادی حقیقت کی گنجائش باقی نہیں رہی، تو پھر methodological naturalism محض ایک غیر جانب دار تحقیقی اصول نہیں رہتا۔

وہ ایک فکری عقیدہ بن جاتا ہے۔

امید ہے اس وضاحت کے بعد بنیادی غلط فہمی دور ہو جانی چاہیے۔ بحث اس بات پر نہیں کہ لغت میں methodological naturalism کی تعریف کیا لکھی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آج کے علمی ماحول میں اسے کس طرح برتا جا رہا ہے، اور اس کے ذریعے حقیقت کے بارے میں کون سے فلسفیانہ نتائج اخذ کیے جا رہے ہیں۔

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (7)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 22065 قارئین📊 4.6 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

دنیا کی حقیقت

چاند کا مالک کون ہے؟ اور اسے کس کی ملکیت میں ہونا چاہیے؟

کیا زمین ساکن ہے اور سورج متحرک ہے؟

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 142 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 110 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 89 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 82 ویوز