ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟
زندگی فقط سانسوں کی آمد و رفت کا نام نہیں، بلکہ ایک عظیم مقصد کے تحت عطا کی گئی امانت ہے۔
انسان اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے، بچپن سے جوانی، جوانی سے بڑھاپے اور پھر موت کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس دوران وہ اپنے لیے بے شمار مقاصد متعین کرتا ہے؛ کوئی تعلیم حاصل کرکے بڑا عہدہ پانا چاہتا ہے، کوئی دولت کے انبار جمع کرنے کی آرزو رکھتا ہے، کوئی شہرت و ناموری کا خواہش مند ہوتا ہے، کوئی گھر، کاروبار اور آسائشوں کو اپنی کامیابی کی علامت سمجھتا ہے۔ بلاشبہ دنیا کی جائز ضروریات پوری کرنا، رزقِ حلال کمانا، اہل و عیال کی کفالت کرنا اور معاشرے میں مفید کردار ادا کرنا زندگی کے اہم تقاضے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی ہماری زندگی کا آخری اور حقیقی مقصد ہے؟ کیا انسان صرف اسی لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ کھائے، پیے، کمائے، آسائشیں حاصل کرے اور بالآخر دنیا سے رخصت ہو جائے؟
ذرا غور کیجیے! ہماری آنکھوں کے سامنے روزانہ زندگی کے مختلف مناظر گزرتے ہیں۔ کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے، کوئی نوجوان زندگی کی منزلیں طے کرتا ہے، کوئی بوڑھا اپنی عمر کے آخری ایام گزار رہا ہوتا ہے اور کوئی شخص اچانک اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ ہم جنازے اٹھتے دیکھتے ہیں، قبریں بنتی دیکھتے ہیں، اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو دنیا سے جاتے دیکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اکثر ہماری زندگی کا بڑا حصہ دنیاوی خواہشات کی تکمیل ہی میں گزر جاتا ہے۔ ہم دوسروں کی موت سے عبرت تو لیتے ہیں، مگر اپنی موت اور آخرت کی تیاری کو اکثر مؤخر کرتے رہتے ہیں۔
آخر ہم کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ ہمیں کس نے پیدا کیا ہے؟ ہمیں زندگی کیوں عطا کی گئی ہے؟ موت کے بعد ہمیں کہاں جانا ہے؟ اور اس مختصر زندگی میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے جوابات جانے بغیر انسان اپنی زندگی کے حقیقی مقصد تک نہیں پہنچ سکتا۔
تخلیقِ انسان بے مقصد نہیں:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے مقصد پیدا نہیں فرمایا، بلکہ اس کی تخلیق کے پسِ پردہ ایک عظیم حکمت اور مقصد کارفرما ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو اپنی تخلیق اور کائنات کی حقیقت پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بَل لَّا يُوقِنُونَ۔
ترجمہ: کیا وہ کسی پیدا کرنے والے کے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں، یا وہ خود اپنے خالق ہیں؟ کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ وہ یقین نہیں رکھتے۔(سورۃ الطور: 35-36)
یہ آیاتِ کریمہ انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑتی اور اس کی عقل کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ انسان نہ خود اپنا خالق ہے، نہ اس نے اپنے وجود کو اپنی مرضی سے اختیار کیا ہے، نہ وہ اپنے پیدا ہونے کے وقت کا انتخاب کرسکا اور نہ اپنی موت کے وقت کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔ اس کی زندگی، اس کی سانسیں، اس کی قوتیں اور اس کے جسم کا ہر نظام اس کے اختیار سے بالاتر ایک عظیم قدرت کی نشانیاں ہیں۔
جب انسان خود اپنے وجود کا خالق نہیں، تو پھر اسے کس نے پیدا کیا؟ جب یہ وسیع کائنات خود بخود وجود میں نہیں آسکتی، تو اس کا خالق کون ہے؟ جب انسان اپنی زندگی کے آغاز اور اختتام کا مالک نہیں، تو پھر اسے اپنی زندگی کے مقصد اور اپنے خالق کے احکام سے غافل ہوکر جینے کا حق کیسے حاصل ہوسکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک مخلوق ہے اور مخلوق اپنے خالق کی محتاج ہوتی ہے۔ اس لیے انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خالق کو پہچانے، اس کی عطا کردہ زندگی کی قدر کرے اور اس مقصد کو سمجھے جس کے لیے اسے اس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔
اسی حقیقت کو ایک دوسرے مقام پر واضح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ۔
ترجمہ: تو کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟(سورۃ المؤمنون: 115)
یہ آیتِ کریمہ واضح کرتی ہے کہ انسانی زندگی نہ بے مقصد ہے اور نہ موت کے بعد انسان کا معاملہ ختم ہوجاتا ہے۔ انسان کو ایک مقررہ مدت کے لیے دنیا میں بھیجا گیا ہے، اسے اختیار و ارادہ عطا کیا گیا ہے، اس کے سامنے نیکی اور بدی کے راستے واضح کیے گئے ہیں اور پھر اسے اپنے اعمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔
لہٰذا جو انسان اپنی زندگی کو محض دنیاوی آسائشوں کے حصول میں صرف کردیتا ہے اور اپنے خالق، اپنے فرائض اور آخرت کی جواب دہی کو فراموش کردیتا ہے، وہ زندگی کی اصل حقیقت سے غافل ہے۔
کائنات کی ہر چیز کا مقصد ہے، تو انسان کیسے بے مقصد ہوسکتا ہے؟
ذرا اپنی روزمرہ زندگی پر نظر ڈالیے! ہمارے گھر میں ایک بلب لگا ہوتا ہے، اس کا مقصد روشنی فراہم کرنا ہے۔ اگر وہ روشنی دینا بند کردے اور مرمت کے باوجود قابلِ استعمال نہ رہے، تو ہم اسے بدلنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ گھر میں کوئی جانور پالا جاتا ہے، تو اس کی پرورش کے مختلف مقاصد ہوتے ہیں؛ مثلاً دودھ حاصل کرنا یا کسی دوسرے جائز فائدے کا حصول۔ اگر وہ جانور بیمار ہوجائے یا دودھ دینا بند کردے، تب بھی اس کی زندگی کی قدر و حرمت ختم نہیں ہوجاتی، لیکن اس سے حاصل ہونے والا فائدہ ضرور متاثر ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص اپنے گھر میں پودا لگاتا ہے، اس کی آبیاری کرتا ہے، اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس امید کے ساتھ اس کی دیکھ بھال کرتا ہے کہ وہ پھول دے گا، پھل دے گا یا ماحول کو خوب صورت بنائے گا۔ اگر وہ پودا سوکھ جائے، تو انسان اس کی جگہ دوسرا پودا لگانے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔
ان مثالوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دنیا میں چیزوں کو سمجھنے، ان کی افادیت جاننے اور ان کے صحیح استعمال کے لیے ان کے مقصد کا علم ضروری ہے۔ جب کسی چیز کے مقصد کو نظر انداز کردیا جائے، تو اس کی افادیت سے فائدہ اٹھانا مشکل ہوجاتا ہے۔
اب غور کیجیے! جب ایک معمولی بلب، ایک پودے اور روزمرہ استعمال کی جانے والی دوسری چیزوں کے لیے بھی انسان کسی نہ کسی مقصد کو پیشِ نظر رکھتا ہے، تو کیا اشرف المخلوقات [انسان] کی زندگی بے مقصد ہوسکتی ہے؟ کیا عقل و شعور، علم و ادراک، قوتِ فیصلہ اور اختیار جیسی نعمتوں سے نوازا جانے والا انسان محض کھانے، پینے، کمانے اور خواہشات پوری کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے؟
ہرگز نہیں!
انسان کی زندگی کا مقصد ان مثالوں سے کہیں زیادہ بلند اور عظیم ہے۔ اس کا مقصد اپنے خالق کو پہچاننا، اس کی بندگی کرنا، اس کے احکام کے مطابق زندگی گزارنا، نیک اعمال انجام دینا اور آخرت کی کامیابی حاصل کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے اس بنیادی مقصد کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔
ترجمہ: اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اسی لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔(سورۃ الذاریات: 56)
یہ آیتِ کریمہ ہماری زندگی کے مقصد کو دو ٹوک انداز میں واضح کرتی ہے۔ ہم اس دنیا میں محض وقت گزارنے، خواہشات کی تکمیل کرنے اور دنیاوی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے نہیں آئے، بلکہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی بندگی، اس کی اطاعت اور اس کی رضا کے حصول کے لیے زندگی گزارنی ہے۔
البتہ بندگیِ الٰہی کا مفہوم صرف نماز، روزہ، تلاوت اور ذکر و اذکار تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے تمام جائز معاملات کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق انجام دینا بھی اس کا حصہ ہے۔ انسان اپنی جائز ضروریات پوری کرے، حلال روزی کمائے، اہل و عیال کی کفالت کرے، علم حاصل کرے، معاشرے کے لیے مفید بنے اور لوگوں کے حقوق ادا کرے، تو صحیح نیت اور شرعی حدود کی پابندی کے ساتھ یہ تمام کام بھی باعثِ اجر و ثواب بن سکتے ہیں۔
زندگی اور موت کا امتحان:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی عطا فرماکر اسے ایک امتحان گاہ میں بھیجا ہے۔ یہاں انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ نیکی کا راستہ اختیار کرے یا بدی کا، حق کی پیروی کرے یا خواہشات کا غلام بن جائے، اپنے خالق کی اطاعت کرے یا اس کی نافرمانی میں زندگی گزار دے۔
قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ۔
ترجمہ: جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش فرمائے کہ تم میں کون عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہے، اور وہی غالب، بہت بخشنے والا ہے-(سورۃ الملک: 2)
غور کیجیے! اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ کون سب سے زیادہ مال جمع کرتا ہے، کون سب سے زیادہ شہرت حاصل کرتا ہے، کون بڑے سے بڑا عہدہ پاتا ہے یا کون دنیا کی سب سے زیادہ آسائشیں حاصل کرتا ہے، بلکہ فرمایا کہ تم میں کون بہتر عمل کرتا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کا اصل معیار اعمال کا حسن، نیت کا اخلاص اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔
دنیا میں انسان کی کامیابی کا اندازہ اکثر اس کے مال، منصب، شہرت اور ظاہری مرتبے سے لگایا جاتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل اہمیت ایمان، تقویٰ، اخلاص، نیک اعمال اور اس کی رضا کی ہے۔ کوئی شخص دنیا میں معمولی حیثیت رکھتا ہو، لیکن ایمان و اخلاص اور نیک اعمال میں بلند مقام رکھتا ہو، تو اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی قدر و منزلت بہت بلند ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس کوئی شخص دنیا میں دولت و شہرت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو، لیکن اپنے رب کی اطاعت سے غافل ہو، تو محض اس کی دنیاوی حیثیت آخرت کی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
لہٰذا ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ اس پیمانے پر لینا چاہیے کہ ہم اپنے مقصدِ حیات کی طرف کس قدر پیش رفت کررہے ہیں۔
مقصدِ حیات سے غفلت سب سے بڑی محرومی:
انسان جب اپنی زندگی کے حقیقی مقصد کو فراموش کردیتا ہے، تو اس کی ترجیحات بدلنے لگتی ہیں۔ دنیا کی خواہشات اسے اپنی طرف کھینچتی ہیں، مال و دولت کی محبت اس کے دل پر غالب آنے لگتی ہے، شہرت و ناموری کی طلب اس کی سوچ پر چھا جاتی ہے اور وہ اپنی زندگی کے قیمتی لمحات ایسے کاموں میں صرف کرنے لگتا ہے جن سے اسے آخرت کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
کوئی شخص نماز کو معمولی سمجھ کر ترک کردیتا ہے، کوئی قرآنِ مجید سے اپنا تعلق کمزور کرلیتا ہے، کوئی حلال و حرام کی تمیز فراموش کردیتا ہے، کوئی جھوٹ، دھوکے اور خیانت کو کاروباری کامیابی کا ذریعہ سمجھنے لگتا ہے، کوئی غیر شرعی تعلقات اور گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے، اور کوئی تکبر، حسد، غیبت اور دوسروں کی تحقیر کو اپنی عادت بنالیتا ہے۔
ایسے میں انسان بظاہر دنیا کی بہت سی نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہا ہوتا ہے، لیکن اس کی زندگی کا حقیقی مقصد پسِ پشت چلا جاتا ہے۔
یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے: انسان کی دنیاوی آسائشیں، دولت، صحت، بیماری یا ظاہری حیثیت اس بات کا قطعی پیمانہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہے یا ناراض۔ اللہ تعالیٰ کی حکمتیں ہماری محدود سمجھ سے بلند ہیں۔ کسی کی آزمائش تنگی میں ہوتی ہے اور کسی کی فراوانی میں۔ اس لیے کسی کی دنیاوی محرومی کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی یقینی دلیل نہیں سمجھنا چاہیے۔
البتہ یہ حقیقت ضرور ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر اپنے فرائض ترک کرتا، گناہوں پر اصرار کرتا اور توبہ و اصلاح سے غفلت برتتا ہے، وہ اپنے لیے روحانی محرومی اور آخرت کے نقصان کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ظاہر و باطن کا جائزہ لیتا رہے اور یہ دیکھتا رہے کہ اس کی زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے قریب لے جارہی ہے یا اس سے دور کررہی ہے۔
خالقِ حقیقی کی معرفت: مقصدِ حیات کی پہلی منزل
جب انسان اپنی تخلیق پر غور کرتا ہے تو اس کے سامنے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ وہ خود اپنا خالق نہیں، بلکہ اسے کسی نے پیدا کیا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے تمام معاملات پر مکمل اختیار نہیں رکھتا، بلکہ اس کی بے شمار ضروریات اور صلاحیتیں اسے عطا کی گئی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ انسان اپنے حقیقی خالق کو کیسے پہچانے؟ اسے کیسے معلوم ہو کہ اس کا خالق اس سے کیا چاہتا ہے؟ اسے اپنی زندگی کس طرح گزارنی چاہیے؟ اور وہ کون سا راستہ اختیار کرے جس سے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل ہوسکے؟
ان سوالات کا صحیح جواب انسانی عقل و تجربے کے ساتھ اس الٰہی ہدایت سے ملتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کے ذریعے انسانیت تک پہنچائی۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف پیدا کرکے بے رہنمائی نہیں چھوڑ دیا، بلکہ ہر دور میں انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، تاکہ وہ انسانوں کو خالق کی معرفت، صحیح عقیدے، نیک اعمال اور زندگی کے حقیقی مقصد کی تعلیم دیں۔
اور اللہ تعالیٰ کا ہم پر عظیم احسان ہے کہ اس نے ہمیں وجہ وجود کائنات،فخرموجودات،رحمۃ للعالمین حضور احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا اور آپ ﷺ پر قرآنِ مجید نازل فرمایا، جو انسانیت کے لیے ہدایت، رہنمائی اور حق و باطل میں فرق کرنے کا معیار ہے۔
قرآنِ مجید ہمیں اپنے رب کی معرفت عطا کرتا ہے، اس کی قدرت و عظمت سے آگاہ کرتا ہے، اس کے احکام و فرامین واضح کرتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ کامیابی کا راستہ کیا ہے۔
قرآنِ مجید کی پہلی ہی سورت میں ہم پڑھتے ہیں:
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
ترجمہ: سب خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔(سورۃ الفاتحہ: 2)
اللہ تعالیٰ ہی ہمارا خالق، مالک اور پروردگار ہے۔ اسی نے ہمیں وجود بخشا، زندگی عطا فرمائی، بے شمار نعمتوں سے نوازا اور ہدایت کے لیے اپنے رسولوں کو مبعوث فرمایا۔ اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے اور اسی کے حضور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
لہٰذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرے، قرآنِ مجید سے اپنا تعلق مضبوط بنائے، رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو سمجھے اور اپنی زندگی کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔
بندگیِ الٰہی اور رضائے الٰہی کا حصول:
ایک مسلمان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا اور اس کے محبوب رسول حضور نبی رحمت ﷺ کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنا ہونا چاہیے۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا، اس کا کاروبار، اس کی ملازمت، اس کی تعلیم، اس کے معاملات اور اس کے اخلاق، سب اللہ تعالیٰ کے احکام اور شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں ہونے چاہییں۔
عبادت کا مفہوم صرف نماز، روزہ، تلاوت اور ذکر و اذکار تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے تمام جائز معاملات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق انجام دینا بھی بندگی کا حصہ ہے۔
ایک تاجر دیانت داری سے تجارت کرے، ایک استاد اخلاص کے ساتھ تعلیم دے، ایک طالب علم علمِ نافع حاصل کرے، ایک والد اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرے، ایک صاحبِ اقتدار عدل و انصاف سے کام لے اور ایک عام مسلمان اپنے فرائض و ذمہ داریوں کو امانت سمجھ کر ادا کرے، تو یہ تمام اعمال نیک نیتی اور شرعی حدود کی پابندی کے ساتھ باعثِ اجر و ثواب بن سکتے ہیں۔
یاد رکھیے! مسلمان کی کامیابی کا معیار صرف یہ نہیں کہ اس نے دنیا میں کتنا کمایا، کتنی شہرت حاصل کی یا کتنے بلند عہدوں تک پہنچا، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس نے اپنے رب کو کتنا راضی کیا اور اپنی زندگی کو کس قدر اطاعت و تقویٰ سے آراستہ کیا۔
دنیا بھی سنواریں اور آخرت بھی:
اسلام دنیا سے فرار اختیار کرنے کا نہیں، بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرنے کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا۔
ترجمہ: اور جو کچھ اللہ نے تمہیں عطا فرمایا ہے، اس کے ذریعے آخرت کا گھر طلب کرو اور دنیا میں سے اپنا حصہ نہ بھولو۔(سورۃ القصص: 77)
اس قرآنی تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کو دنیا کی جائز ضروریات سے غافل نہیں ہونا چاہیے، لیکن دنیا کو اپنی زندگی کا آخری ہدف بھی نہیں بنانا چاہیے۔
مال کمائے، مگر حلال و حرام کی تمیز کے ساتھ؛ ترقی کرے، مگر اخلاق و کردار کی قیمت پر نہیں؛ شہرت حاصل کرے، مگر ریاکاری اور تکبر کے ذریعے نہیں؛ اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرے، مگر اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق فراموش کرکے نہیں۔
اصل کمال یہ ہے کہ انسان دنیا میں رہتے ہوئے اپنے دل کو دنیا کی غلامی سے محفوظ رکھے اور اپنے ہر عمل میں آخرت کی جواب دہی کو پیشِ نظر رکھے۔
سیرت و کردار کی تعمیر بھی ضروری ہے:
ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد صرف اپنی ذات کی اصلاح تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے اپنے کردار سے دوسروں کے لیے بھی خیر و بھلائی کا ذریعہ بننا چاہیے۔ اس کی زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے، اس کے ہاتھ سے کسی پر ظلم نہ ہو، اس کے معاملات میں خیانت نہ ہو، اس کے دل میں حسد و کینہ نہ ہو اور اس کے رویّے میں غرور و تکبر نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے انسانیت کو رحم، محبت، عدل، امانت، وفا، حسنِ اخلاق اور حقوق العباد کی ادائیگی کا درس دیا۔
لہٰذا جو مسلمان عبادات کا اہتمام تو کرتا ہے، لیکن لوگوں کے حقوق پامال کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، وعدہ خلافی کرتا ہے، دوسروں کی عزت اچھالتا ہے یا اپنے ماتحتوں پر ظلم کرتا ہے، اسے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔
یاد رہے! اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ بندوں کے حقوق کی ادائیگی بھی نہایت اہم ہے۔ ایک صالح مسلمان وہ ہے جس کی عبادت اس کے کردار میں نظر آئے، جس کا علم اس کے عمل کی اصلاح کرے اور جس کی دینداری اس کے معاملات میں دیانت و امانت پیدا کرے۔
مقصدِ حیات کے حصول کے لیے عملی لائحۂ عمل:
زندگی کے اصل مقصد کو سمجھ لینا یقیناً ضروری ہے، لیکن فقط مقصد کو جان لینا کافی نہیں، جب تک انسان اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہ کرے۔ اصلاحِ زندگی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات اور روزمرہ معمولات کا جائزہ لیں اور ان میں بہتری لانے کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔
۱۔ ایمان و عقیدے کی اصلاح:
سب سے پہلے اپنے ایمان کو مضبوط بنائیں، اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کریں، اس کی قدرت و عظمت پر غور کریں اور اپنے دل میں یہ یقین راسخ کریں کہ ہماری زندگی اسی کی عطا کردہ ہے اور بالآخر ہمیں اسی کے حضور جواب دہ ہونا ہے۔ قرآنِ مجید کی تلاوت، اس کے معانی میں تدبر اور دینی علم حاصل کرنے کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنائیں۔
۲۔ نماز اور فرائض کی پابندی:
پانچوں وقت کی نمازوں کی پابندی کو اپنی زندگی کا بنیادی اصول بنائیں۔ نماز کو صرف ایک رسمی فریضہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ سمجھیں۔ رمضان کے روزوں، زکوٰۃ اور دیگر فرائض کی ادائیگی کا اہتمام کریں اور اپنی عبادات کو اخلاص و خشوع و خضوع سے آراستہ کرنے کی کوشش کریں۔
۳۔ حلال و حرام کی تمیز:
اپنی آمدنی، تجارت، ملازمت اور تمام مالی معاملات کا جائزہ لیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ رزق حلال ذرائع سے حاصل ہو، کسی کا حق نہ مارا جائے، جھوٹ، دھوکا، خیانت اور ناجائز منفعت سے بچا جائے۔ یاد رکھیے! حلال رزق کی تلاش بھی دینی ذمہ داری ہے اور دیانت دارانہ زندگی بندگیِ الٰہی کا اہم تقاضا ہے۔
۴۔ حقوق العباد کی ادائیگی:
اپنے والدین، اہل و عیال، رشتہ داروں، پڑوسیوں، ماتحتوں اور معاشرے کے دوسرے افراد کے حقوق ادا کرنے کی فکر کریں۔ اگر کسی کا حق دبایا ہے تو اسے واپس کرنے کی کوشش کریں، کسی کو تکلیف پہنچائی ہے تو معذرت کریں اور کسی کے ساتھ زیادتی کی ہے تو اس کی تلافی کریں۔ محض عبادتوں کی کثرت پر اکتفا نہ کریں، بلکہ اپنے اخلاق اور معاملات کو بھی درست بنائیں۔
۵۔ روزانہ محاسبۂ نفس:
ہر رات سونے سے پہلے چند منٹ اپنے دن کے اعمال کا جائزہ لینے کے لیے مخصوص کریں۔ خود سے پوچھیں کہ آج کون سا نیک کام کیا، کہاں غلطی ہوئی، کس کا دل دکھایا، کون سا فرض ادا کرنے میں کوتاہی کی اور کل اپنی اصلاح کے لیے کیا قدم اٹھانا ہے؟ اس محاسبے کے بعد اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں اور آئندہ بہتر زندگی گزارنے کا عزم کریں۔
۶۔ وقت اور صلاحیتوں کا درست استعمال:
اپنے وقت کو بے مقصد سرگرمیوں، فضول گفتگو اور غیر ضروری مصروفیات میں ضائع کرنے سے بچیں۔ تعلیم، مطالعہ، روزگار، اہل و عیال کی تربیت، عبادت اور خدمتِ خلق کے لیے مناسب وقت مقرر کریں۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے استعمال میں اعتدال اختیار کریں اور یہ دیکھیں کہ ہماری مصروفیات ہمیں اپنے مقصدِ حیات کے قریب لے جارہی ہیں یا اس سے دور کررہی ہیں۔
۷۔ اخلاق و کردار کی تعمیر:
سچائی، امانت، وعدے کی پابندی، صبر، تواضع، عفو و درگزر اور حسنِ سلوک کو اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں۔ غیبت، چغلی، حسد، تکبر اور بدگمانی سے بچنے کی کوشش کریں۔ اگر کسی کی کامیابی دیکھیں تو حسد کے بجائے اس کے لیے خیر کی دعا کریں، اور اگر کسی سے اختلاف ہو تو بدزبانی کے بجائے شائستگی اور انصاف کا راستہ اختیار کریں۔
۸۔ اصلاحِ معاشرہ اور خدمتِ خلق:
اپنی ذات کی اصلاح کے ساتھ اپنے گھر، خاندان اور معاشرے کی بہتری میں بھی کردار ادا کریں۔ ضرورت مندوں کی مدد کریں، بیماروں کی عیادت کریں، پریشان حال لوگوں کی دل جوئی کریں، بچوں کی تعلیم و تربیت میں تعاون کریں اور لوگوں کو حکمت و نرمی کے ساتھ نیکی کی ترغیب دیں۔ ہر مسلمان کو اپنی استطاعت کے مطابق خیر کا ذریعہ بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
۹۔ توبہ اور اصلاح کا مسلسل عزم:
انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں، لیکن کامیابی اس میں ہے کہ وہ اپنی غلطیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ان سے سبق سیکھے۔ اگر کسی گناہ میں مبتلا ہوں تو مایوس ہونے کے بجائے سچی توبہ کریں، گناہ چھوڑنے کا عزم کریں اور دوبارہ اس سے بچنے کے لیے عملی تدابیر اختیار کریں۔ اگر کسی بندے کا حق متعلق ہو تو اس کی ادائیگی یا تلافی کی کوشش بھی کریں۔
۱۰۔ آخرت کی تیاری کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں:
روزانہ کچھ وقت قرآنِ مجید کی تلاوت، ذکر و دعا، دینی مطالعے اور اپنے اعمال کی اصلاح کے لیے نکالیں۔ موت کو یاد رکھیں، لیکن اس یاد کو مایوسی کا نہیں، بلکہ نیک عمل، ذمہ داری اور بامقصد زندگی کا محرک بنائیں۔ اپنے ہر اہم فیصلے میں یہ سوال ضرور شامل کریں کہ کیا یہ کام اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے مطابق ہے؟
۱۱۔ اپنی زندگی کے مقاصد کو واضح رکھیں:
اپنے وقت، قوت، صلاحیت اور وسائل کو صحیح سمت میں استعمال کرنے کے لیے زندگی کی ترجیحات واضح رکھیں۔ تعلیم حاصل کرنی ہے تو علمِ نافع کے حصول کو مقصد بنائیں، کاروبار کرنا ہے تو حلال روزی اور دیانت داری کو پیشِ نظر رکھیں، اولاد کی تربیت کرنی ہے تو اسے اچھا انسان اور نیک مسلمان بنانے کی فکر کریں، اور معاشرے میں کوئی کردار ادا کرنا ہے تو اسے خدمتِ خلق اور خیر کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔
زندگی کے چھوٹے چھوٹے اہداف اسی وقت بامعنی بنتے ہیں جب وہ ہمارے بڑے مقصد، یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی، کے تابع ہوں۔
ضروری نہیں کہ انسان ایک ہی دن میں اپنی تمام کمزوریوں پر قابو پالے، لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی اصلاح کی سمت میں مسلسل قدم بڑھاتا رہے۔
وقت کی قدر اور موت کی تیاری:
زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ اس کی مہلت محدود ہے، مگر اس کے اعمال کا حساب باقی ہے۔ انسان دنیا میں آتا ہے، اپنے شب و روز گزارتا ہے اور بالآخر اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوجاتا ہے۔ اس لیے عقل مند وہ نہیں جو صرف مستقبل کے خواب دیکھتا رہے، بلکہ وہ ہے جو اپنے آج کو بہتر بنائے اور ہر گزرتے لمحے کو نیکی کا ذریعہ بنائے۔
ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے: کیا ہماری نمازیں درست ہیں؟ کیا ہمارے معاملات پاکیزہ ہیں؟ کیا ہمارے والدین ہم سے راضی ہیں؟ کیا ہم اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کررہے ہیں؟ کیا ہمارے علم اور صلاحیتوں سے مخلوقِ خدا کو فائدہ پہنچ رہا ہے؟ اور اگر آج زندگی کی مہلت ختم ہوجائے تو کیا ہم اپنے اعمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہیں؟
یہ سوالات محض غور و فکر کے لیے نہیں، بلکہ اپنی زندگی کا رخ درست کرنے کے لیے ہیں۔ موت کا خیال ہمیں زندگی سے مایوس کرنے کے لیے نہیں، بلکہ زندگی کو بامقصد بنانے، ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں ادا کرنے اور نیکیوں میں سبقت حاصل کرنے کے لیے ہے۔
یاد رکھیے! زندگی کا ہر گزرتا ہوا لمحہ ہمیں اپنی آخری منزل کے قریب کررہا ہے۔ جو وقت گزر گیا، وہ واپس نہیں آسکتا؛ جو فرصت آج میسر ہے، ممکن ہے کل میسر نہ ہو؛ جو نیکی آج انجام دی جاسکتی ہے، ممکن ہے کل اس کا موقع نہ ملے۔
اس لیے دانش مندی اسی میں ہے کہ ہم اپنی باقی ماندہ عمر کو غفلت میں گزارنے کے بجائے اپنے مقصدِ حیات کی تکمیل کے لیے استعمال کریں۔
آخری بات!
ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا سچا بندہ، رسول اللہ ﷺ کا سچا غلام، اپنے کردار کا سچا محافظ، اپنے فرائض کا سچا ادا کرنے والا اور مخلوقِ خدا کے لیے خیر و بھلائی کا ذریعہ بنے۔ اس کی زندگی ایمان و عملِ صالح سے مزین ہو، اس کے دل میں خوفِ خدا اور محبتِ رسول ﷺ ہو، اس کے اخلاق میں نرمی اور معاملات میں پاکیزگی ہو، اور اس کی نگاہ ہمیشہ آخرت کی کامیابی پر مرکوز رہے۔
دنیا کی کامیابی حاصل کرنا بری بات نہیں، لیکن دنیا کی کامیابی کو ہی زندگی کی آخری منزل سمجھ لینا بڑی بھول ہے۔ اصل کامیاب انسان وہ ہے جو دنیا میں عزت کے ساتھ زندگی گزارے، اپنے فرائض ادا کرے، نیکیوں کا سرمایہ جمع کرے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و رضا کا امیدوار بنے۔
ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ زندگی کے دن مسلسل کم ہورہے ہیں اور ہر گزرتا ہوا لمحہ ہمیں ہماری آخری منزل کے قریب کررہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کی فکر کریں، اپنے ظاہر کے ساتھ اپنے باطن کو بھی سنواریں اور اپنی زندگی کو صرف خواہشات کی تکمیل کے بجائے رضائے الٰہی کے حصول کا ذریعہ بنائیں۔
آئیے! اپنی زندگی کا محاسبہ کریں، اپنے مقصدِ حیات کو پہچانیں اور اپنی باقی ماندہ عمر کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رسول اللہ ﷺ کی محبت و اتباع، خدمتِ خلق اور آخرت کی تیاری میں صرف کرنے کا عزم کریں۔
ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا میں ہماری اصل قدر فقط اس بات سے متعین نہیں ہوتی کہ ہمارے پاس کتنا مال ہے، ہمارا عہدہ کتنا بلند ہے یا ہماری شہرت کتنی دور تک پہنچی ہوئی ہے، بلکہ ہماری کامیابی کا حقیقی تعلق اس بات سے ہے کہ ہم اپنے خالق کے کتنے فرمانبردار ہیں، اپنے فرائض کس قدر ادا کرتے ہیں اور اپنے اعمال کے ذریعے آخرت کے لیے کیا سرمایہ جمع کررہے ہیں۔
زندگی کا مقصد پورا کرنے والا انسان اپنی زندگی کو بامعنی بناتا ہے، اپنی صلاحیتوں کو صحیح رخ دیتا ہے اور اپنے وقت کو قیمتی بناتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے مقصدِ حیات کو بھلا بیٹھتا ہے، وہ بسا اوقات دنیا کی بہت سی کامیابیوں کے باوجود اپنی زندگی کی اصل منزل سے دور رہ جاتا ہے۔
ہمیں زندگی اس لیے نہیں ملی کہ ہم صرف دنیا بنائیں، بلکہ اس لیے ملی ہے کہ ہم دنیا میں رہتے ہوئے اپنے رب کو راضی کریں، اپنے اعمال سنواریں اور آخرت کی کامیابی حاصل کریں۔
کیوں کہ زندگی کی حقیقی کامیابی لمبی عمر، بے شمار دولت یا بلند مرتبے میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ جب ہم دنیا سے رخصت ہوں تو ہمارا ایمان سلامت ہو، ہمارا دامن نیکیوں سے بھرا ہو اور ہمارا رب ہم سے راضی ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مقصدِ حیات کو سمجھنے، اس کے تقاضوں پر عمل کرنے، اپنی زندگی کا صحیح محاسبہ کرنے اور ایمان و عافیت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
از:مولانا محمد شمیم احمد نوری مصباحی
ناظم تعلیمات:دارالعلوم انوارِمصطفیٰ سہلاؤشریف، باڑمیر( راجستھان)
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

سیرت حسینیؓ :حق پر استقامت اور کردارِ مومن کی معراج

دین کا کام اور دین پر چلنے کی حقیقت:قولِ امام ربانی کی روشنی میں ایک اصلاحی تجزیہ

دنيا كی حقیقت اور قرآنی مثالیں
مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!
👁 106 ویوز

حمد باری تعالیٰ
👁 91 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 71 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 68 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 65 ویوز