تازہ ترین

"تم پر بدترین حاکم مقرر کیے جائیں گے" حدیث، ترجمہ، اور دلیل

📅 06-12-2024 👁 1 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
امت مسلمہ کے حالات

<p>حدیثرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"کما تکونون کذٰلک یُوَلّٰی علیکم"(شعب الإيمان للبيهقي، حدیث: ٧٤٨٧)ترجمہ:"جیسے تم ہوگے، ویسے ہی تم پر حکمران مقرر کیے جائیں گے۔"دلیلیہ حدیث ہمیں یہ اصول سکھاتی ہے کہ قوم کے اعمال حکمرانوں کی نوعیت پر اثر ڈالتے ہیں۔ جب لوگ نیکوکار ہوں، حق پر قائم ہوں اور اجتماعی بھلائی کے لیے کام کریں تو ان پر اللہ نیک حکمران مسلط کرتا ہے، لیکن جب وہ اخلاقی زوال، فتنہ و فساد، اور دین سے دوری میں مبتلا ہوں تو ان پر بدترین حکمران مسلط کیے جاتے ہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"إِنَّ اللَّهَ لا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ"(سورة الرعد: 11)ترجمہ: "بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل ڈالے۔"</p>
<p>مضمون: موجودہ حالات پر غور و فکرآج کا زمانہ آزمائشوں اور فتنوں کا ہے۔ ہمارے شہر، گاؤں، اور یہاں تک کہ ہمارے روحانی مراکز تک ان فتنے اور کشیدگیاں پہنچ چکی ہیں۔ دہلی، کاشی، متھرا، جامع مسجد، بہرائچ، اور اجمیر جیسے مقامات، جو کبھی امن و سکون کے مراکز تھے، آج نفرت، فتنہ، اور زوال کے نشانے پر ہیں۔دہلی، کاشی، اور متھرا:یہ وہ جگہیں ہیں جہاں اسلامی تہذیب کی روشنی پھیلی، لیکن آج ان پر ظلم و زیادتی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ جامع مسجد دہلی، جو اتحاد اور عقیدے کی علامت تھی، فرقہ وارانہ سیاست کا شکار ہے۔ کاشی اور متھرا کے تنازعات ہمارے مقدس مقامات کو مزید کشیدگی میں دھکیل رہے ہیں۔بہرائچ کا افسوسناک واقعہبہرائچ، جو سید سالار مسعود غازی رحمۃ اللہ علیہ کی برکتوں سے منسوب ہے، ایک افسوسناک واقعے کا شکار ہوا۔ وسرجن کے دوران ایک تنازع کھڑا ہوا، جب کچھ افراد نے ایک گھر کی چھت پر چڑھ کر وہاں کا جھنڈا اکھاڑا اور اپنا جھنڈا لہرا دیا۔ یہ عمل نہ صرف اشتعال انگیز تھا بلکہ امن و امان کے لیے ایک چیلنج بھی تھا۔ نتیجتاً، ایک نوجوان کی جان چلی گئی، اور پورے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔لیکن وہاں کے حالات ہمیں ہماری کوتاہیوں کا احساس دلاتی ہےاور اجمیر شریفخواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا دربار، جو ہمیشہ انسانیت، امن، اور محبت کا مرکز رہا، آج حملوں اور فتنوں کا شکار ہے۔ یہ مقام، جو ہر مذہب اور ہر قوم کے لوگوں کے لیے امن کا پیغام لے کر آیا، آج خود نفرت کے تیر کا نشانہ بن رہا ہے۔ہماری کوتاہیاں:یہ سب کچھ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔ جب ہم نے دین سے غفلت برتی، آپسی اختلافات کو ہوا دی، اور دنیاوی لذتوں کو دین پر فوقیت دی، تو ان مقدس مقامات کو نشانہ بنایا جانے لگا۔</p>
<p>راستہ اصلاح کا:</p>
<p>رجوع الی اللہ: ہمیں اپنے گناہوں پر توبہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔</p>
<p>دین کا شعور: دین کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور نوجوانوں کو دین کی اہمیت سے روشناس کرائیں۔</p>
<p>اتحاد: آپس کے اختلافات کو ختم کرکے اجتماعی طور پر ظلم و زیادتی کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔</p>
<p>علم اور عمل: علم کو فروغ دیں اور عملی اقدامات کریں تاکہ ان مقدس مقامات کا تحفظ ممکن ہو سکے۔</p>
<p>ہمارے مقدس آستانوں پر حملے ایک اشارہ ہیں کہ ہم نے محبت اور امن کے اس بے مثال پیغام کو نظرانداز کیا ہے۔"</p>
<p>خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے محبت، امن، اور صلح کا درس دیا تھا، اور آج ان کے آستانے پر حملے اس بات کی علامت ہیں کہ ہم ان کے پیغام کو بھول گئے ہیں۔ اگر ہم نے اپنی اصلاح نہ کی تو مزید آزمائشیں ہمارا مقدر بنیں گی۔ ہمیں اپنی حالت بدلنی ہوگی تاکہ اللہ ہماری تقدیر بدل دے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دین پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے مقدس مقامات کی حفاظت کرے۔ آمین۔</p>
<p>از: نورعین سلیمانیسکونت: افسانہ روڈ بہادر گنج</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 1374 قارئین📊 0.3 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

ایران - اسرائیل جنگ (3)

خدا کے لئے مسلمانوں اپنے بچوں کو پہلے دین پڑھاؤ!

بابری مسجد کی شہادت سے سبق

مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ

👁 78 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 53 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)

👁 47 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ

👁 45 ویوز

حضور اقدسﷺ کا اسوہ دونوں جہاں میں کامیاب بناتا ہے۔

👁 43 ویوز