تازہ ترین

علمائے حق اور تحریکِ آزادی کا سنہرا باب

سیرت و شخصیات ← مجاہدین آزادی
📅 15-08-2025 👁 5 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>15 اگست 1947ء کا دن ہندوستان کی تاریخ کا ایک عظیم اور یادگار دن ہے۔ یہ وہ دن تھا جب ہمارا وطن صدیوں کی غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی صبح کا پہلا سانس لے سکا۔ یہ آزادی ہمیں کسی تحفے کے طور پر نہیں ملی، بلکہ یہ لاکھوں شہدا کے خون، جانثار مجاہدین کی قربانیوں اور علمائے دین کی انتھک جدوجہد کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>تحریکِ آزادی میں علمائے اہلِ سنت کا کردار تاریخ کے روشن ابواب میں سے ہے۔ یہ وہ مقدس ہستیاں تھیں جنہوں نے دین و ایمان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ وطنِ عزیز کی آزادی کو بھی اپنا مشن بنایا۔ ان کی قربانیاں آج بھی ہماری نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔یقیناً وطنِ عزیز کی آزادی کے لیے علمائے کرام نے ایسی خدمات پیش کیں جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ انگریزوں کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے بے شمار علمائے کرام نے حصہ لیا اور کلیدی کردار ادا کیا۔ ذیل میں چند جلیل القدر علما کا تذکرہ پیش ہے:</p>
<p>علامہ فضلِ حق خیرآبادی رحمہ اللہ1857ء کی جنگِ آزادی کے فکری رہنما اور برصغیر کے ممتاز عالمِ دین تھے۔ علومِ عقلیہ و نقلیہ میں آپ کو امامت کا درجہ حاصل تھا۔ جب انگریز ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہے تھے اور بعض لوگ ان کی وفاداری کے فتوے جاری کر رہے تھے، اس وقت دہلی کی جامع مسجد سے جہاد کا پہلا فتویٰ آپ ہی کی زبانِ حق ترجمان سے جاری ہوا۔یہ فتویٰ پورے ملک میں گونج اٹھا، مجاہدین کے حوصلے بلند ہوئے اور دہلی میں ہزاروں سپاہی جمع ہو گئے۔ مگر صفوں میں موجود غداروں نے آپ کی سرگرمیوں کی خبر انگریزوں تک پہنچا دی۔ آپ گرفتار ہوئے اور انڈمان کے جزیرۂ کالا پانی جلاوطن کر دیے گئے، جہاں 1861ء میں اسی جلاوطنی کے عالم میں وفات پائی۔</p>
<p>مفتی صدر الدین آزردہ دہلوی رحمہ اللہدہلی کے مفتیِ اعظم، جلیل القدر فقیہ، شاعر اور مصلح تھے۔ اگرچہ براہِ راست میدانِ جنگ میں شریک نہ تھے، مگر علمی رہنمائی، فکری بیداری اور مجاہدین کی اخلاقی پشت پناہی میں پیش پیش رہے۔ آپ کا گھر انقلابی مشاورت کا مرکز تھا۔قلم و زبان دونوں سے انگریزوں کے خلاف جہاد کیا۔ آپ کی ولولہ انگیز تقریریں عوام اور سپاہیوں میں جوش و خروش پیدا کر دیتی تھیں۔ انگریز آپ کے اثر و رسوخ سے خوف زدہ ہو گئے، چنانچہ آپ کو عہدے سے برطرف کر کے نظر بند کر دیا، لیکن آپ نے سرِ تسلیم خم نہ کیا۔</p>
<p>علامہ احمد اللہ مدراسی رحمہ اللہبلند پایہ عالمِ دین، شیخِ طریقت اور نڈر مجاہد تھے۔ جب آپ نے انگریزوں کو ہندوستانی عوام کی عزت و حرمت سے کھیلتے دیکھا تو مریدوں اور رفقا کی ایک مضبوط جماعت تیار کی اور علمِ جہاد بلند کیا۔آپ کی قیادت میں حریت پسندوں کے حوصلے آسمان کو چھونے لگے، مگر ایک بدعہد شخص کی غداری نے تمام منصوبے خاک میں ملا دیے اور آپ شہید کر دیے گئے۔ آپ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آزادی کی تحریک کو صرف مسلمانوں تک محدود نہ رکھا، بلکہ ہندو رہنماؤں کو بھی شریک کیا تاکہ یہ جدوجہد پورے ہندوستان کی مشترکہ آواز بن سکے۔</p>
<p>علامہ عنایت احمد کاکوری رحمہ اللہانگریزوں کے تعلیمی اور مذہبی نظام کی تباہ کن سازشوں کو بھانپ کر ان کے خلاف بھرپور آواز بلند کی۔ وعظ و نصیحت، تحریر و تقریر اور عوامی رابطے کے ذریعے سیاسی و مذہبی بیداری پیدا کی۔ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ ایمان کی حفاظت اور وطن کی آزادی دونوں یکساں اہم ہیں۔</p>
<p>مفتی سید کفایت علی کافی مرادآبادی رحمہ اللہچشم و چراغِ خاندانِ رسالت، قادرالکلام شاعر، جید عالم اور شجاع مجاہد تھے۔ آپ کے ولولہ انگیز اشعار نے عوام میں جوش اور بیداری کی لہر دوڑا دی۔1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران گرفتار ہوئے، قید میں سخت اذیتیں برداشت کیں، مگر استقلال پر قائم رہے۔ آخرکار مرادآباد کے ایک چوراہے پر تختۂ دار پر لٹکا دیے گئے۔ اس وقت چہرے پر مسکراہٹ تھی اور زبان پر یہ اشعار جاری تھے:</p>
<p>کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گاپر رسول اللہ ﷺ کا دین حسن رہ جائے گاسب فنا ہو جائیں گے کافیؔ و لیکن حشر تکنعت حضرت کا زبانوں پر سخن رہ جائے گا۔</p>
<p>علامہ سید کفایت علی کافیؔ مرادآبادی رحمہ اللہ اتنے بڑے عاشقِ رسول تھے کہ تختۂ دار بھی آتشِ عشق سرد نہ کرسکا۔ یہ اشعار آپ کی رسولِ کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم سے والہانہ محبت و عقیدت کی گواہی دیتے ہیں۔</p>
<p>پیغامِ آزادی اور عہدِ وفایومِ آزادی محض خوشی کا دن نہیں، بلکہ یہ اس عہد کی تجدید کا لمحہ ہے کہ ہم اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد رکھیں اور ان کی امانت کی حفاظت کریں۔ یہ وطن علما، شہداء اور مجاہدین کے خون سے سینچا گیا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ اس آزادی کی قدر کریں، اتحاد و اتفاق کو فروغ دیں اور علمائے اہلِ سنت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر دین و وطن دونوں کی خدمت کریں۔</p>
<p>ازقلم: محمد مقتدر اشرف فریدی ضیائی، اتر دیناج پور، بنگال</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 1453 قارئین📊 0.3 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

وہ امام فلسفہ وہ نازش علم و سخن

ملک کی آزادی میں غیروں سے کہیں زیادہ لہوہم نے بہایاہے

قائد انقلاب 1857ء مفتی صدرالدین خاں آزردہؔ دہلوی

مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ

👁 83 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 54 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)

👁 48 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ

👁 47 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 46 ویوز