تازہ ترین

شہ بطحا کا جود و سخا اور فاضل بریلوی کا یہ شعر

انبیاے کرام ← نبی کریمﷺ
📅 05-04-2022 👁 1 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہما اکبر آفرین badge

<p>ازقلم: سعدیہ بتول اشرفی (سبا)</p>
<p>واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرانہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا</p>
<p>📎مشکل الفاظ کے معنیجود: سخاوتکرم : مہربانیشہ : بادشاہبطحا : مکہ مکرمہ</p>
<p>مطلبِ شعرائے مکی شہنشاہ، ائے مکی بادشاہ آپ کی جود و سخا کا کیا کہنا آپ کے کرم و مہربانی کا کیا کہنا کہ جب کوئ منگتا آیا آپ نے عطا فرمایامیری عزیز بہنو! آئیے ماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھتے ہیں کہ یا ام المؤمنین آپ نے حضور پاک ﷺ کے صبح و شام کو دیکھا ہے اندازِ لطف و کرم دیکھا ہے ہمیں بتائیے کہ ہمارے حضور کی سخاوت کا عالم کیا تھا آپ کی لطف و عطا کیسی تھی آپ کا کرم کیسا تھااماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : "نبئ پاکﷺ تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے آپ کی سخاوت تیز آندھی سے بھی زیادہ جاری تھی آپ نے کبھی کسی سوالی کو خالی واپس نہ لوٹایا یعنی "لا " نہیں فرمایاکہ جاؤ میرے پاس نہیں ہےاگر موجود ہوتا تو دے دیتے ورنہ فرماتے میرا نام لے کر جو چاہے ادھار لے لو میں قیمت چکا دوں گا۔ (شمائل ترمذی)</p>
<p>سبحان اللہ ! اسی مضمون کو ایک اورصحابئ رسولﷺحضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ یوں بیان فرماتے ہیں کہحضور اکرم ﷺ نے کسی سائل کے جواب میں خواہ وہ کتنی ہی بڑی چیز کا سوال کیوں نہ کرے آپ نے "لا(نہیں)" کا لفظ نہیں فرمایا</p>
<p>"منگتےخالی ہاتھ نہ لوٹے کتنی ملی خیرات نہ پوچھوان کا کرم پھر ان کا کرم ہے ان کے کرم کی بات نہ پوچھو"</p>
<p>(سیرت مصطفی ص ۴۶۵،شفا شریف جلد ۱ ص۶۵)</p>
<p>میری پیاری بہنو! آقاﷺ کا در پاک وہ در ہے جہاں سے کوئ خالی نہیں جاتا لہذا انہی کے درِ جود سے اپنی لَو لگاؤ اور جو چاۂیے انہی سے مانگو ، وہ ایسے سخی ہیں کہ ان کے در پر جتنی مرتبہ مانگو گے پاؤگےکیوں کہ یہسرکار کا در ہے درِ شاہا تو نہیں ہےجو مانگ لیا مانگ لیا ، اور بھی کچھ مانگ</p>
<p>اورصرف مانگنے والوں کو ہی نہیںبلکہ بے مانگے بھی آپ نےلوگوں کو عطا فرمایا چنانچہ آپ کے بہت بڑے دشمن امیہ بن خلف کا کافر بیٹا صفوان بن امیہ جب مقام "جعرانہ" میں حاضر دربار ہوا تو آپ نے اس کو اتنی کثیر تعداد میں اونٹوں اور بکریوں کا ریوڑ عطا فرمایا کہ دو پہاڑوں کے درمیان کا میدان بھر گیاصفوان مکہ جاکر چلا چلا کر اپنی قوم سے کہنے لگا کہ" ائے لوگو! دامن اسلام میں آجاؤ محمدﷺ اس قدر زیادہ مال عطا فرماتے ہیں کہ فقیری کا کوئ اندیشہ ہی باقی نہیں رہ جاتا ۔ اس کے بعد صفوان پھر خود بھی مسلمان ہوگئے رضی اللہ عنہ</p>
<p>(سیرت مصطفی ص ۴۶۵زرقانی جلد ۴ ص ۲۹۵)</p>
<p>"کون دیتا ہے دینے کو منہ چاۂیےدینے والا ہے سچا ہمارا نبیﷺ</p>
<p>حضور اکرم ﷺ جب دیتے ہیں جب عطا فرماتے ھیں تو کیسے عطا فرماتے ہیں سبحان اللہ ! غارِ ثور میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کی مجھے سانپ نے کاٹ لیا آپ نے اپنا مبارک لعابِ دہن لگا کر زہر کے اثر کو دور فرمایا</p>
<p>دودھ کے ایک ہی پیالے سے ستر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سیراب فرمایایہ دیکھ کر بریلی کے امام پکار اٹھے"کیوں جناب بو ہریرہ تھا وہ کیسا جام شیرجس سے ستر صاحبوں کا دودھ سے منہ پھر گیا"اور" انگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کرندیاں پنج اب رحمت کی ہیں جاری واہ واہ"سبحان اللہ انگلیوں سے پانی کے چشمے بہادئیے</p>
<p>اور جب حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی آنکھ نکل کر کے آئ اس کو لعاب دہن لگا کر ٹھیک فرمادیا</p>
<p>اورصرف انسانوں ہی کو عطا نہیں فرمایابلکہ جس کو جو کچھ ملا انہی کے در سے ملاچاند و سورج کو روشنی اگر ملی ہے تو انہی کے در سے ملیدریا کو روانی اگر ملی تو انہی کے در سے ملیپھولوں کو خوشبو ، ہواؤں کو پاکیزگی ، تاروں کو چمک ، آسمان کو بلندی ، بادشاہوں کو سلطانی الغرض جس کو جو ملا انہی کے در سے ملا</p>
<p>یہیں پر چڑیاں اور ہرن فریاد کریں آکیوں کہ یہ بھی جانتی ہیں کہ یہاں سے کوئ واپس لوٹایا نہیں جاتا</p>
<p>" ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد یہیں سے چاہتی ہے ہرنی داداسی در پر شتران ناشاد گلۂ رنج و عنا کرتے ہیں"کہ یہاں پر اونٹ اپنی تکلیف بیان کرتا ہے تو اس کی تکلیف دور کردی جاتی ہے یہ وہ در ہے کہ جس نے جو مانگا پالیاچنانچہ ایک کجھور کے تنے نے عرض کی مجھے جنت میں بو دیا جائے تو آقاﷺ نے اسے جنت میں بودیا</p>
<p>نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرااور واہ کیا جود و کرمسبحان اللہ! کیسا کرم کہ خالقِ کائنات ارشاد فرماتا ہے</p>
<p>لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸)</p>
<p>بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان ۔</p>
<p>پیارے آقاﷺ ہم پر ایسے کریم و رحیم ہیں کہ آپ پر ہمارا مشقت میں پڑنا گراں ہے اور ہماری بھلائ کےنہایت چاہنے والے ہیں کہ دنیا میں بھی کرم فرمانے والے ہیں اور آخرت میں بھیچنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں آقا ﷺ نے قرآن پاک میں سے حضرت ابراھیم علیہ السلام کے اس قول کی تلاوت فرمائی</p>
<p>رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۶)</p>
<p>اے میرے رب! بیشک بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا تو جو میرے پیچھے چلے تو بیشک وہ میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے۔</p>
<p>اور وہ آیت تلاوت فرمائی جس میں حضرت عیسی علیہ السلام کا یہ قول ہےاِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱۱۸)</p>
<p>اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی غلبے والا، حکمت والا ہے۔</p>
<p>تو حضورﷺ پر گریہ طاری ہوگیا اور اپنے دست اقدس اٹھا کر دعا کی ۔ ائے اللہ عزوجل میری امت میری امت _اللہ پاک نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: ائے جبرائیل! میرے محبوب کی بارگاہ میں جاؤ اور ان سے پوچھو (حالانکہ تمہارا رب خوب جانتا ہےمگر ان سے پوچھو) کہ انہیں کیا چیز رلارہی ھے ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام آقاﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور پوچھا تو انہیں آقاﷺ نے اپنی عرض معروض کی خبر دی ۔اللہ پاک نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: تم میرے حبیبﷺ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ " آپ کی امت کی بخشش کے معاملے میں ہم آپ کو راضی کردیں گے اور آپ کو غمگین نہ کریں گے ۔</p>
<p>( تفسیر صراط الجنان،مسلم شریف ، کتاب الایمان)</p>
<p>سبحان اللہ</p>
<p>عزیز بہنو! نبئ کریم ﷺ کے جود و سخا کے بے شمار واقعات ہیں ایک اور جھلک ملاحظہ فرمائیںایک مرتبہ حضور پاکﷺ کے دربار میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ قرضہ بہت زیادہ ہوگیا ہے آپ کچھ عطا فرمائیے آقاﷺ کے قریب میں سونے اور چاندی کی ڈھیری لگی ہوئ تھی حضور پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ یہ سونا اور چاندی موجود ہیں چاہیں تو لے لیں نبئ کریمﷺ کے اس فرمان کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر کو بچھایا پھر اس کے اندر سونا چاندی اٹھا آاٹھا کر رکھنے لگے یہاں تک کہ وہ ایک بہت بھاری گھٹری بن گئ حدیث پاک میں آیا کہ جب حضرت عباس رضی اللہ عنہ اٹھانے لگے تو وہ اتنی وزنی تھی کہ آپ اس کو اٹھا نہیں سکےپھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نےکچھ سونا چاندی کو گھٹری میں سے نکال دیا پھر اٹھایا تو بامشقت اٹھائ گئ مشکل سے اٹھائ گئ پھر آپ نے اپنا قرض اس سے ادا فرمایاسبحان اللہ!حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی پاک ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر سوال کیا تو آپ نے اس کو نصف وسق یعنی تیس صاع عطا فرمائےایک اور شخص نے ایک آکر تقاضہ کیا آپ نے اس کو ایک وسق یعنی ساٹھ صاع دئیے اور فرمایا : نصف تیرے قرضے میں اور نصف تجھ کو بخشش میں __</p>
<p>سبحان اللہ سبحان اللہ!</p>
<p>جو گدا آگیا لے کر گیا باڑا تیراہر گھڑی فیض سخاوت پہ ھے دریا تیرارشک حاتم ہوا جو پاگیا ٹکڑا تیراواہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرانہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Senior Writer ★★★★★
ہ

ہما اکبر آفرین

📍 Faizabad

📰 187 پوسٹ👁 58 قارئین📊 0.3 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

''جوامع الکلم'' حضور علیہ السلام کا ایک عظیم الشان معجزہ

غیب داں نبی کی غیبی باتیں

دنیائے گفتار کے مالک

مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ

👁 82 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 53 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)

👁 47 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 46 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ

👁 45 ویوز