علم و قلم کا ایک روشن چراغ گل ہو گیا
<p>إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَجامعہ اشرفیہ مبارک پور، ضلع اعظم گڑھ کے ممتاز استاذ، ماہنامہ اشرفیہ کے مدیر، تنظیم ابنائے اشرفیہ کے روحِ رواں، حضرت علامہ مولانا محمد مبارک حسین مصباحی صاحب کا رات گیارہ بج کر پینتالیس منٹ پر انتقال فرما جانا علمی، ادبی اور تنظیمی حلقوں کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔ آپ کی رحلت کی خبر بجلی بن کر گری اور اہلِ علم و دانش کو سوگوار کر گئی۔مولانا مرحوم ان خوش نصیب شخصیات میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے علم و قلم دونوں کی دولت سے نوازا تھا۔ آپ بلاشبہ قلم کے بے تاج بادشاہ تھے۔ آپ کی تحریروں میں فکر کی گہرائی، زبان کی شائستگی، دل کی سوزش اور قلم کی روانی یکجا نظر آتی تھی۔ ماہنامہ اشرفیہ کی ادارت نے آپ کو ایک منفرد شناخت عطا کی اور آپ کی تحریریں اہلِ علم کے لیے رہنمائی کا چراغ بن گئیں۔خطابت کے میدان میں بھی آپ کا انداز نرالا تھا۔ آپ جب منبر پر جلوہ افروز ہوتے تو الفاظ گویا موتیوں کی صورت بکھرتے، دلوں پر دستک دیتے اور سامعین کے قلوب کو گرما دیتے۔ آپ کی گفتگو میں علم بھی تھا، حکمت بھی اور اخلاص کی خوشبو بھی۔تنظیم ابنائے اشرفیہ کی خدمات میں آپ کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ آپ اس قافلۂ علم و عمل کے ایسے رہنما تھے جو خود چلتے بھی تھے اور دوسروں کو بھی منزل کا راستہ دکھاتے تھے۔ آپ کی زندگی اس چراغ کی مانند تھی جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔اخلاق و کردار کے اعتبار سے آپ ایک مکمل انسان تھے۔ خوش اخلاقی، خندہ پیشانی، ملنساری اور مہمان نوازی آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ جو ایک بار آپ سے ملتا وہ آپ کا گرویدہ ہو جاتا۔ آپ کے چہرے کی مسکراہٹ دلوں کی تھکن دور کر دیتی تھی اور آپ کی محبت بھری گفتگو اپنائیت کا احساس دلاتی تھی۔راقم کو آج بھی وہ منظر یاد ہے جب ایک سفر کے دوران گاڑی خراب ہو جانے کی وجہ سے جامعہ اشرفیہ مبارک پور رات تقریباً ایک بجے پہنچنا ہوا۔ اس دیر گئے وقت میں بھی حضرت مولانا محمد مبارک حسین مصباحی صاحب منتظر تھے۔ یہ انتظار محض رسمی نہیں تھا بلکہ ان کے خلوص، محبت اور مہمان نوازی کا زندہ ثبوت تھا۔ ایسی صفات کتابوں میں نہیں ملتیں بلکہ بڑے لوگوں کی زندگیوں میں نظر آتی ہیں۔رات میں مفتی اعظم ہالینڈ، حضرت علامہ شفیق الرحمن مصباحی عزیزی حفظہ اللہ کا واٹس ایپ پیغام موصول ہوا تو ابتدا میں یقین نہ آیا، لیکن جب مختلف گروپس میں مسلسل تعزیتی پیغامات دیکھے تو دل نے اس تلخ حقیقت کو تسلیم کیا کہ واقعی علم و ادب کا ایک درخشاں ستارہ افقِ حیات سے غروب ہو چکا ہے۔آج ماہنامہ اشرفیہ اپنے مدیر سے محروم ہے، جامعہ اشرفیہ اپنے مخلص استاذ سے محروم ہے، تنظیم ابنائے اشرفیہ اپنے روحِ رواں سے محروم ہے اور اہلِ علم ایک ایسے قلمکار سے محروم ہو گئے ہیں جس کی تحریریں مدتوں یاد رکھی جائیں گی۔اللہ تعالیٰ حضرت علامہ مولانا محمد مبارک حسین مصباحی صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے اور پسماندگان، متعلقین، شاگردوں اور عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ان کی زندگی کا ہر ورق علم کی خوشبو سے معطر تھا، اور ان کی یادیں مدتوں اہلِ علم کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ ؎</p>
<p>چلے گئے ہیں مگر روشنی چھوڑ گئےوہ اپنے علم کے چراغوں کی لڑی چھوڑ گئے</p>
<p>✍ محمد عباس مصباحی ازہریخادم التدریس، دار العلوم اہل سنت فیض النبیکپتان گنج، بستی، اتر پردیش</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 84 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع
👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 57 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 51 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 48 ویوز
