Hamari Aawaz

پاگل

مضامین و مقالات ← اصلاح معاشرہ
📅 28-12-2020 👁 1 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہما اکبر آفرین badge

<p>بنت مفتی عبد المالک مصباحی، جمشیدپور</p>
<p>سردی کے موسم میں جہاں ہر طرف لوگ کام کاج سے فارغ ہو کر جلدی جلدی اپنے گھروں کی جانب چل پڑتے ہیں اور آرام گاہ کو چہار جانب سے بند کر کے سردی سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں؛ وہیں__ اس موسم میں ہماری ہی طرح جسم و جسامت والے کچھ لوگ گھروں کے چین و سکون کو چھوڑ کر گلی کوچے، نالے پرنالے اور نہ جانے کہاں کہاں کی ٹھوکریں کھاتے ہیں؛ جنھیں ہم "پاگل" کے نام سے جانتے ہیں -</p>
<p>اللہ اکبر! انھیں دیکھ کر واقعی آنکھیں نم ناک ہو جاتی ہیں کہ اللہ رب العزت جس کی بے شمار نعمتوں کو ہم ہر لمحہ استعمال کرتے ہیں اس کے باوجود اس کا شکر ادا کرنے کی طرف ہم اسی وقت مائل ہوتے ہیں جب ہماری سمجھ سے ہمیں کوئی خاص (بڑی) نعمت ملتی ہے؛ واقعی اگر کچھ اور نہ بھی ہو مگر "عقل" ہو تو ہم اپنی زندگی کا لطف لے سکتے ہیں کہ بہت سی مثالیں ہمارے سامنے ہے کہ آنکھ کان، ہاتھ پیر اور دوسرے ظاہری اعضاء سے معذوری کے باوجود "عقل کی نعمت" کو استعمال کرتے ہوئے میں ان معذوروں نے وہ کچھ کر دکھایا جو کئی صحیح و سالم افراد بھی نہ کر سکے مگر اس کے برعکس جن کے پاس سب کچھ تھا لیکن "دولت عقل" کے لٹ جانے سے محلوں والے بھی اپنے گھر بار بلکہ شہر و علاقے کو چھوڑ کر لا پتا ہو گئے؛ تو کیا یہ عقل ہی کم بڑی نعمت ہے! مگر ہم اس عظیم نعمت پر شکر ادا کرنے کو کبھی سوچتے تک نہیں۔</p>
<p>اسی طرح کی دیگر تمام نعمتوں کا حال ہے؛ کہ ہم ان عظیم نعمتوں کو اہم نہیں سمجھتے اور شکر ادا کرنے کا سوچتے بھی نہیں؛ اسی کو امام غزالی رحمۃاللہ علیہ نے بڑی اچھی مثال سے واضح کیا ہے کہ__" ایسے لوگوں کی مثال اس جاہل اور برے غلام کی طرح ہے اور وہ اس لائق ہے کہ اسے ہر وقت مار پڑتی رہے؛ یہاں تک کہ ایک آن کے لیے مارنا بند کر دیا جائے تو وہ احسان مند ہوتا ہے اور شکر ادا کرتا ہے لیکن ہمیشہ کے لیے مار بند کر دی جائے تو اکڑنے لگتا ہے اور شکریہ ادا کرنا چھوڑ دیتا ہے تو لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اسی مال پر شکریہ ادا کرتے ہیں جو خاص ان کو حاصل ہو چاہے وہ زیادہ ہو یا تھوڑا؛ اور اللہ کی باقی تمام نعمتوں کو بھول جاتے ہیں -"(احیاء العلوم (مترجم)، حصہ چہارم، ص٢٨١، فاروقیہ بُک ڈپو)</p>
<p>یہ مثال واقعی سمجھداروں کے لیے بہت سے حجاب کو اٹھا کر شکر گزار بنانے کا کام کر سکتی ہے؛ کاش ہم رب کی عطا کردہ نعمتوں کے شکر گزار بن جائیں تاکہ پر سکون زندگی نصیب ہو اور جن نعَم سے محروم ہیں رب تعالیٰ اس شکر کے صدقے ان نعمتوں سے بھی مالا مال فرمائے - بس یہی آرزو اور دعا ہے کہ….جو ملے حیات خضر مجھے اور اسے میں صرف ثنا کروںتیرا شکر پھر بھی ادا نہ ہو تیرا شکر کیسے ادا کروں</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Senior Writer ★★★★★
ہ

ہما اکبر آفرین

📍 Faizabad

📰 187 پوسٹ👁 288 قارئین📊 1.5 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی: اسباب و علاج

مسلمان، مسلمانوں سے دور کیوں؟ایک لمحۂ فکریہ!

اہلِ علم میں حسد کی زیادتی: ایک فکری، روحانی و اصلاحی تجزیہ

مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ

👁 85 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 63 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 58 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)

👁 52 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ

👁 48 ویوز