نظم: پاک چہرہ
<p>ازقلم: شیبا کوثر، آرہ (بہار) انڈیا</p>
<p>عجب تھی چاہت عجب سی الفتنور سی رنگت بلا کی شفقتدھلا دھلایا سا پاک چہرہبے داغ سا وہ نم ناك چہرہغم اس کے چہرے پر کچھ نہیں تھادوست بھی وہ میرا نہیں تھامگر ملا وہ مجھ سے ایسےبر سو ں کی شنا سائ ہو جیسےپل بھر میں دل میں سما گیا وہمیری شخصیت پر چھا گیا وہزباں ایسی جیسے شہد کا قطرہکلام اس کا تھا ایک فطرہدل جلوں کی نظر پڑی توحسرتوں سے ہوا خاک چہرہمگر ہمارے لئے تو تھا وہمعصوم سا ایک پاک چہرہ ۔۔۔۔!!</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Senior Writer
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید
مقبول ترین پوسٹس

حمد باری تعالیٰ
👁 78 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش
👁 53 ویوز

قطب الاقطاب شاہ عبد اللطیف ستھنوی شریعت وطریقت کےحسین سنگم تھے: علامہ غلام عبد القادر علوی (سجادہ نشین)
👁 47 ویوز

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
👁 45 ویوز

حضور اقدسﷺ کا اسوہ دونوں جہاں میں کامیاب بناتا ہے۔
👁 43 ویوز